پیر، 15 مئی، 2023

06 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام Story of Prophet Moosa and Haroon


06 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام 

سلسلہ نمبر12

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 6

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی واپسی

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب اپنی مدت پوری کر لی تو حضرت شعیب علیہ السلام سے عرض کیا کہ میں نے اپنی مدت پوری کر لی ہے۔ اب مجھے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ مصر واپس جانے کی اجازت دیں۔ اس دوران آپ علیہ السلام کے بچے بھی پیدا ہو گئے تھے۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے واپس جانے کی اجازت دے دی۔ اللہ تعالیٰ نے اس مدت کے درمیان آپ علیہ السلام کی بکریوں ، گھوڑوں ، اونٹوں اور مویشیوں میں اچھی خاصی برکت دے دی تھی۔ اور یہ سب بے شمارتعداد میں ہو چکے تھے۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے انہیں زادِ راہ کے طور پر اچھے خاصے گھوڑے ، اونٹ ، مویشی اور بکریاں دے دیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام انکار کرتے رہے لیکن انہوں نے زبر دستی یہ سب انہیں دے دیا۔ آخر کار یہ سب لے کر آپ علیہ السلام مصر کی طرف روانہ ہوئے۔ سفر سات اور آٹھ راتوں کا تھا۔ راستے میں پہاڑی علاقے بھی تھے اور صحرا ( ریت یعنی بالو کے وسیع میدان) بھی تھے۔ ان علاقوں میں دن میں بہت گرمی پڑتی تھی اور رات میں بہت سردی پڑتی تھی۔ آتے وقت تو فرشتے کی راہ نمائی میں آگئے تھے لیکن واپسی میں راستہ بھولنے کا اندیشہ تھا۔ 

کوہِ طور پر آگ

حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے بیوی بچوں کے ساتھ مصر کی طرف سفر کر رہے تھے ۔ مولانا مفتی محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں حضر ت شعیب علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے درمیان آٹھ دس سال تک خدمت کرنے کا جب معاہدہ پورا ہو گیا تو آپ علیہ السلام اپنی بیوی اور دو بچوں کو لے کر مصر کی طرف روانہ ہو گئے تا کہ اپنی والدہ محترمہ ، بھائی حضرت ہارون علیہ السلام اور دوسرے رشتہ داروں نے ملاقات کر سکیں۔ اس کے بعد آگے لکھتے ہیں کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام مدین سے مصر کی طر ف روانہ ہو نے لگے تو حضرت شعیب نے آپ علیہ السلام کے ساتھ کچھ بکریاں بھی کر دیں تا کہ راستے میں ان سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ سردی کا زمانہ تھا اور چلتے چلتے آپ علیہ السلام راستہ بھی بھول گئے۔ اس اندھیری رات میں آپ علیہ السلام کو دور سے ایک روشنی نظر آئی۔ آپ علیہ السلام نے گھر والوں سے فرمایا۔ تم یہیں رکو، میں ذرا جا کر دیکھتا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ وہاں سے آگ لا سکوں تا کہ تم سردی اور ٹھنڈک سے بچنے کے لئے اپنے جسم کو تاپ سکو۔ اور راستہ بھی پوچھ لوں گا۔ تا کہ اس صحرا میں ہم بھٹک نہ جائیں۔ آپ علیہ السلام اس آگ کی طرف روانہ ہوئے جو کوہِ طور کے داہنی جانب روشنی تھی۔اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا ۔ ترجمہ ” جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مدت پوری کر لی اور اپنے گھر والوں کو لے کر چلے تو کوہِ طور کی طرف آگ دیکھی۔ اپنی بیوی سے کہنے لگے ۔ ٹھہرو ، میں نے آگ دیکھی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ میں وہاں سے کوئی خبر لاﺅں یا آگ کا کوئی انگارہ لاﺅں تاکہ تم سینک لو۔ ( سورہ القصص آیت نمبر 29) اللہ تعالیٰ نے سورہ النمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” جب موسیٰ (علیہ السلام )نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں نے آگ دیکھی ہے ۔ میں وہاں سے کوئی خبر لے کر یا آگ کا کوئی سلگتا ہوا انگارہ لے کر ابھی تمہارے پاس آجاﺅں گا ۔ تا کہ تم سینک ( تاپ ) سکو۔ “( سورہ النمل آیت نمبر 7) اللہ تعالیٰ نے سورہ طہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” تمہیں موسیٰ (علیہ السلام )کا قصہ معلوم ہے؟ جب اس نے آگ دیکھ کر اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم ذرا سی دیر ٹھہر جاﺅ، مجھے آگ دکھائی دے رہی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ میں اس کا کوئی انگارہ تمہارے پاس لاﺅں یا آگ کے پاس سے راستے کی اطلاع پاﺅں ۔“ ( سورہ طٰہٰ آیت نمبر9اور 10)

حضرت موسیٰ علیہ السلام نبوت سے سر فراز 

حضرت موسیٰ علیہ السلام آگ کو دیکھتے ہوئے کوہ طور پر چرھنے لگے اور جب آگ کے قریب پہنچے تو یہ دیکھ کر حیران ہو گئے کہ ایک ہرے بھرے درخت میں آگ لگی ہوئی ہے۔ آگ بہت تیزی سے بھڑک رہی تھی۔ لیکن درخت کی شاخیں اور پتیاں ویسی ہی ہری بھری ہیں۔ آپ علیہ السلام حیرانی سے کھڑے اس منظرکو دیکھ رہے تھے کہ آواز آئی۔ اے موسیٰ (علیہ السلام )بے شک میں تمہارا رب ہوں ۔ تم اپنے جوتے اتار دو۔ کیوں کہ تم مقدس وادی¿ طویٰ میں ہو۔ اور میں نے تمہیں ( اپنی نبوت اور رسالت کے لئے ) چن لیا ہے۔ میں ہی اللہ وں اور میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ پس تم میری عبادت کرو۔ اور مجھے یاد کرنے کے لئے نماز قائم کرو۔ بے شک قیامت آئے گی تا کہ ہر کسی کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جا سکے۔ اور کب آئے گی یہ صرف میں جانتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ القصص میں فرمایا۔ ترجمہ ” پس جب وہاں پہنچے تو اس بابرکت زمین کے دائیں کنارے کے درخت میں سے آواز دیئے گئے ۔ کہ اے موسیٰ (علیہ السلام ) بے شک میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پرودگار ۔“ ( سورہ القصص آیت نمبر30) اللہ تعالیٰ نے سورہ النمل میں فرمایا۔ ترجمہ ”جب وہاں پہنچے تو آواز دی گئی کہ بابرکت ہے وہ جو آگ میں ہے اور برکت دیا گیا ہے وہ جو اس کے آس پاس ہے۔ اور پاک ہے اللہ جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے۔ اے موسیٰ (علیہ السلام )سن بات یہ ہے کہ میں ہی اللہ ہوں ،غالب ہوں اور حکمت والا ہوں۔“(سورہ النمل آیت نمبر8اور 9) اللہ تعالیٰ نے سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” جب وہ وہاں پہنچے تو آواز دی گئی ۔ اے موسیٰ ( علیہ السلام ) ، بے شک میں ہی تمہارا رب ہوں ۔ تم اپنی جوتیاں اتار دو۔ کیوں کہ تم پاک میدان طویٰ میں ہو۔ اور میں نے تمہیں منتخب کر لیا ہے۔ اب جو وحی کی جائے اسے کان لگا کر سنو ۔ بے شک میں ہی اللہ ہوں۔ میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ پس تم میری عبادت کرو۔ اور میری یاد کے لئے نماز قائم کرو۔ قیامت یقینا آنے والی ہے۔ جسے میں پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں۔ تا کہ ہر شخص کو وہ بدلہ دیاجائے جس کے لئے اس نے کوشش کی ہو۔ ( سورہ طٰہٰ آیت نمبر11سے 15تک)

عَصا خوف ناک اژدھا بن گیا

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فوراً جوتے اتارے اور آگے بڑھکر حیرانی سے وہ آواز سن رہے تھے۔ اور اس درخت پر چمکتے ہوئے آگ نما ( آگ کے جیسا ) نور کو دیکھ رہے تھے۔ کہ پھر آواز آئی اے موسیٰ ( علیہ السلام )، یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے؟ ( حالانکہ اللہ تعالیٰ سب جانتے ہیں لیکن یہ صرف حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تسلی کے لئے پوچھا) آپ علیہ السلام نے عرض کیا۔ یہ میرا عَصا ہے۔ ( عصا اس لاٹھی کو کہتے ہیں جو عام طور سے چرواہے لئے رہتے ہیں ۔تاکہ اس سے جانوروں کو ہانکیں اور جانوروں کے لئے اونچے درختوں سے پتیاں توڑ کر دیں۔ اس کے لئے اس کے اوپری سرے پر کنیاری کیطرح دو چھوٹی شاخیں ہوتی ہیں۔ جس سے درختوں کے پتے اور نرم شاخیں توڑی جاتی ہیں۔ یہ بہت مضبوط ہوتا ہے ) آپ علیہ السلام نے عرض کیا۔ یہ میرا عصا ہے ۔میں اس سے ٹیک لگا تا ہوں اور اپنے جانوروں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا۔ اے موسیٰ (علیہ السلام )اسے زمین پر ڈال دو۔ جیسے ہی آپ علیہ السلام نے عَصا زمین پر ڈالا۔ وہ عصا اژدھا بن کر دوڑنے لگا۔ اژدھے کو دیکھ کر آپ علیہ السلام فطری طور سے خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ( اللہ تعالیٰ نے فرمایا) اپنا عَصا زمین پر ڈال دو۔ پھر جب اسے دیکھا کہ وہ اژدھا کی طرح پھن پھنا رہی ہے تو پیچھے ہٹ گئے اور رخ موڑ لیا۔ ہم نے کہا۔ اے موسیٰ ( علیہ السلام ) آگے آﺅ اور خوفزدہ مت ہو۔ یقینا تم ہر طرح سے امن میں ہو۔ “ ( سورہ القصص آیت نمبر31) اللہ تعالیٰ نے سورہ النمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( اللہ تعالیٰ نے فرمایا) تم اپنی لاٹھی ( زمین پر ) ڈال دو۔ موسیٰ ( علیہ السلام )خوفزدہ نہ ہو۔ میری بارگاہ میں رسول خوفزدہ نہیںہوتے ہیں۔ “(سورہ النمل آیت نمبر10)اللہ تعالیٰ نے سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( اللہ تعالیٰ نے فرمایا ) اے موسیٰ ( علیہ السلام ) تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟ عرض کیا ۔ یہ میر اعصا ہے جس پر میں ٹیک لگاتا ہوں اور جس سے میں اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑ لیا کرتا ہوں اور بھی اس میں میرے لئے بہت فائدے ہیں۔ فرمایا اے موسیٰ اسے اپنے ہاتھ سے نیچے ( زمین پر ) ڈال دے۔ ( زمین پر ) ڈالتے ہی وہ سانپ یا اژدھا بن کر دوڑنے لگی۔ ( اللہ تعالیٰ نے ) فرمایا۔ بے خوف ہو کر اسے پکڑ لو۔ ہم اسے اسی پہلی صورت میں کر دیں گے۔ “ ( سورہ طٰہٰ آیت نمبر17 سے 21تک)

فرعون اور ا س کی قوم کو اسلام کی دعوت دینے کا حکم 

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جیسے ہی عصا زمین پر ڈالا تو اسی وقت وہ خوف ناک اژدھا بن کر دوڑنے لگا۔ یہ اتنا اچانک ہوا کہ وقتی طور سے آپ علیہ السلام گھبراہت کا شکار ہو گئے اور لاشعوری طور سے کئی قدم پیچھے ہٹ گئے اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے موسیٰ ( علیہ السلام )خوف نہ کھاﺅ اور اژدھے کو پکڑ لو۔ آپ علیہ السلام نے اژدھے کو پکڑ لیا تو فوراً وہ عصا بن گیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو۔ آپ علیہ السلام نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالا ۔ اس کے حکم ہوا کہ باہر نکالو۔ آپ علیہ السلام نے ہاتھ باہر نکالا تو وہ چاند کی طرح چمک رہا تھا۔ اور کوئی تکلیف بھی نہیں ہو رہی تھی اور نہ ہو کوئی داغ تھا۔ بلکہ نور کی طرح چمک رہا تھا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ یہ معجزات لے کر فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاﺅ اور انہیں اسلام کی دعوت دو۔ بے شک وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں۔ ان لوگوں نے میری عبادت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اور کفر کرنے لگے ہیں۔ میں نے انہیں مہلت دی تھی اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ میں اُن کی طرف سے غافل ہو گیا ہوں ۔ اب اُن کی مہلت کا وقت پورا ہونے والا ہے۔ اسی لئے تم جا کر اُن لوگوں کو سمجھاﺅ۔ اگر انہوں نے تمہاری بات مان لی اور اسلام قبول کر لیا تو ٹھیک ہے۔ ورنہ وہ لوگ تباہ و برباد کر دیئے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( اللہ تعالیٰ نے فرمایا) اپنے ہاتھ کو اپنے گریبان میں ڈال ، وہ بغیر کسی روک ( مرض یا بیماری ) کے چمکتا ہوا نکلے گا بالکل سفید ، پس یہ دونوں معجزے تمہارے رب کی طرف سے ( تمہیں دیئے گئے ہیں فرعون اور اس کی جماعت کی طرف ( یعنی اُن کو سمجھانے کے لئے ) یقینا وہ سب کے سب بے حکم اور نافرمان لوگ ہیں۔ “( سورہ القصص آیت نمبر32) اللہ تعالیٰ نے سورہ النمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( اللہ تعالیٰ نے فرمایا) اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال ، وہ سفید چمکیلا ہو کر نکلے گا۔ بغیر کسی عیب کے ۔ تو نو نشانیاں لے کر فرعون اور اسکی قوم کی طر ف جاﺅ۔ یقینا وہ بدکاروں کا گروہ ہے۔ “ ( سورہ النمل آیت نمبر12) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعرا ءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” اور جب آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے رب نے موسیٰ (علیہ السلام ) کو دی کہ ظالم قوم کے پاس جا، قوم ِ فرعون کے پا س۔ کیا وہ پرہیز نہیں کریں گے۔ “ ( سورہ الشعراءآیت نمبر10اور 11) اللہ تعالیٰ نے سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( اللہ تعالیٰ نے فرمایا) اور اپنا ہاتھ اپنی بغل میں ڈالے لے وہ سفید چمکتا ہوا ہو کر نکلے گا۔ لیکن بغیر کسی عیب ( اور روگ ) کے۔ یہ دوسرا معجزہ ہے۔ یہ اس لئے کہ ہم تمہیں اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھانا چاہتے ہیں۔ اب تم فرعون کے پاس جاﺅ۔ اس نے سر کشی مچا رکھی ہے۔ “ ( سورہ طٰہٰ آیت نمبر22سے 24تک) 

حضرت ہارون علیہ السلام نبوت سے سر فراز

اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ فرعون اور اس کی قوم کے پا س جا کر اسلام کی دعوت دو۔ اگر وہ اور اس کی قوم مان جائے تو ٹھیک ہے اور اگر نہیں مانے اور کفر پر اڑے رہے تو ان سے کہنا کہ بنی اسرائیل کو آزاد کر دے اور تمہارے ساتھ مصر سے نکل جانے دے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرے بڑے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام بہت اچھی تبلیغ کر لیں گے۔ انہیں بھی میری مدد کرنے کے لئے تیار کر دے۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” موسیٰ (علیہ السلام )نے عرض کیا۔ اے میرے رب ( پروردگار ) ، میرا سینہ کھول دے۔ اور میرے کام کو آسان کر دے۔ اور میری زبان کی گِرہ کو بھی کھول دے تا کہ میری بات کو اچھی طرح سمجھ سکیں۔ اور میرا وزیر میرے کنبے میں سے کر دے۔ یعنی میرے بھائی ہارون (علیہ السلام )کو ( اے اللہ تعالیٰ ) تو اس سے میری کمر کس دے( یعنی مضبوط کر دے) اور اسے میرا شریک کار کردے۔ تا کہ ہم دونوں کثرت سے تیسری تسبیح بیان کریں ۔ اور کثرت سے تیری یاد کریں۔ بے شک تو ہمیں خوب دیکھنے بھالنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے موسیٰ ( علیہ السلام ) تیرے تمام سوالات پورے کر دیئے گئے ۔ ہم نے تو تجھ پر ایک بار اور بھی بڑا احسان کیا ہے۔ جب ہم نے تیری والدہ محترمہ کو وہ الہام کیا تھا جس کا ذکر اب کیا جا رہا ہے۔ کہ تو اسے صندوق میں بند کر کے دریا میں چھوڑ دے۔ پس دریا اسے کنارے لا ڈالے گا۔ اور میرا اور خود اس کا دشمن اسے لے لے گا۔ اور میں نے اپنی طرف سے خاص محبت و مقبولیت تجھ پر ڈال دی ۔ تا کہ تیری پرورش میری آنکھوں کے سامنے کی جائے۔ جب تیری بہن چل رہی تھی اور کہہ رہی تھی کہ اگر تم کہو تو میں اسے بتا دوں جو اس کی نگہبانی کر ے۔ اس تدبیر سے ہم نے تجھے پھر تیری والدہ محترمہ کے پاس پہنچایا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ غمگین نہ ہو ۔ اور تو نے ایک شخص کو مارڈالا تھا۔ اس پر بھی ہم نے تجھے غم سے بچا لیا۔ غرض کہ ہم نے تجھے اچھی طرح آزمالیا۔ پھر تو کئی سال مدین کے لوگوں میں ٹھہرا رہا ۔ پھر تقدیر الہٰی کے مطابق اے موسیٰ ( علیہ السلام ) تو آیا۔ اور میں نے تجھے خاص اپنی ذات کے لئے پسند فر ما لیا۔ اب تو اپنے بھائی کو لے کر میری نشانیاں ساتھ لئے ہوئے جا۔ اور خبر دار میرے ذکر میں سستی نہ کرنا۔ تم دونوں فرعون کے پا س جاﺅ۔ اس نے بڑی سر کشی کی ہے۔ اسے نرمی سے سمجھاﺅ کہ شاید وہ سمجھ لے یا ڈر جائے۔ ( سورہ طٰہٰ آیت نمبر25سے 44تک) اللہ تعالیٰ نے سورہ الفرقان میں فرمایا۔ اور بلا شبہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام ) کو کتاب دی اور ان کے ہمراہ انکے بھائی ہارون کو ان کا وزیر بنا دیا۔ اور کہہ دیا کہ تم دونوں ان لوگوں کی طرف جاﺅجو تمہاری آیتوں کو جھٹلا رہے ہیں ۔ پھر ہم نے انہیں ( فرعون اور اس کے ساتھیوں کو) بالکل ہی پامال کر دیا۔ ( سورہ الفرقان آیت نمبر35اور36) اللہ تعالیٰ نے سورہ القصص میں فرمایا۔ ترجمہ ” موسیٰ (علیہ السلام )نے عرض کیا۔ اے میرے رب (پروردگار) میں نے ان کا ایک آدمی قتل کر دیا تھا۔ اب مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے بھی قتل کر ڈالیں۔ اور میرا بھائی ہارون ( علیہ السلام )مجھ سے بہت زیادہ فصیح زبان والا ہے۔ تو اسے بھی میرا مدد گار بنا کر میرے ساتھ بھیج دے کہ وہ ( لوگ) مجھے سچا مانیں۔ مجھے تو خوف ہے کہ وہ سب مجھے جھٹلا دیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ کہ ہم تیرے بھائی کے ساتھ تیرا بازو مضبوط کر دیں گے۔ اور تم دونوں کو غلبہ دیں گے۔ فرعونی تم تک پہنچ ہی نہیں سکیں گے۔ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں اور تمہاری تابعداری کرنے والے ہی غالب رہیں گے۔ ( سورہ القصص آیت نمبر33سے 35تک) ۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ”موسیٰ ( علیہ السلام ) نے عرض کیا۔ اے میرے رب، مجھے تو خوف ہے کہ کہیں وہ مجھے جھٹلا ( نہ ) دیں۔ اور میرا سینہ تنگ ہو رہا ہو۔ میری زبان چل نہیں رہی ہے۔ پس تو ہارون ( علیہ السلام )کی طرف بھی( وحی) بھیج دے۔ اور ان کا مجھ پر میرے ایک قصور کا ( دعویٰ) بھی ہے ۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے مار نہ ڈالیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ہرگز ایسا نہیں ہو گا۔ تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاﺅ۔ ہم خود سننے والے تمہارے ساتھ ہیں۔ تم دونوں فرعون کے پاس جا کر کہو بلا شبہ ہم رب العالمین کے بھیجے ہوئے ہیں۔ ( یا تو تم لوگ اسلام قبول کر لو یا پھر) ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو روانہ کردو۔ ( سورہ الشعراءآیت نمبر13سے 17تک)

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........! 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں