جمعرات، 4 مئی، 2023

06 حضرت ایوب علیہ السلام Story of Prophet Ayoob




06 حضرت ایوب علیہ السلام

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 6

مَسَّنِی الضُّرُُّّ ( تکلیف نے میرے دل کو چھو لیا ہے ) 

اللہ تعالیٰ نے سورہ الانبیاءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ایوب ( علیہ السلام ) کی حالت کو یاد کرو جب اس نے اپنے رب ( اللہ تعالیٰ ) کو پکارا ۔ کہ مجھے بیماری لگ گئی ہے۔ ( تکلیف نے میرے دل کو چھو لیا ہے) اور تو سب سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔ یا تو سب رحم کرنے والوں میں سے سب سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔“ (سورہ الانبیاءآیت نمبر83) حضر ت ایوب علیہ السلام کی اس دعا کے بارے میں بہت سی روایات ہیں۔ ان میں سے سترہ یا اٹھارہ روایتیں امام قرطبی نے اپنی تفسیر میں لکھی ہیں۔ اُن میں سے چند ہم آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ امام قرطبی لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ حضرت ایوب علیہ السلام کو ایوب اس لئے کہا جاتا ہے کیوں کہ وہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی طرف ہی رجوع کرنے والے تھے۔ حضرت ایوب علیہ السلام کے قول ” مَسَّنِی الضُّرُّ“کے بارے میں تو علمائے کرام کے پندرہ اقوال ہیں اور مجھے ( امام قرطبی کو) تحقیق کے بعد دو اقوال معلوم ہوئے ہیں۔ 

مَسَّنِی الضُّرُّکے بارے میں اقوال

حضرت ایوب علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ تکلیف نے میرے دل کو چھو لیا ہے۔ امام قرطبی لکھتے ہیں اس بارے میں یہ اقوال ہیں۔ 1) حضرت ایوب علیہ السلام نماز پڑھنے کے لئے اٹھے تو آپ علیہ السلام اٹھ نہیں سکے تو اللہ تعالیٰ سے عرض کیامَسَّنِی الضُّرُّ۔ 2) یہ عجز کا اقرار ہے اور صبر کے منافی نہیں ہے۔ 3) اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی زبان سے یہ الفاظ جاری کروائے۔ تا کہ آزمائش میں مبتلا ہونے والے لوگوں کے لئے حجت بن جائے۔ 4) حضرت ایوب علیہ السلام پر چالیس دن تک وحی کا سلسلہ منقطع رہا۔ آپ علیہ السلام کو خوف ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے کہیں آپ علیہ السلام کو چھوڑ تو نہیں دیا۔ اسی لئے فرمایامَسَّنِی الضُّرُّ۔ 5) اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی زبان پر یہ کلمہ اس لئے جاری کروایا کہ انسان تکلیف برداشت کرنے میں ضعیف اور کمزور ہے۔ اسی لئے تمام انسانوں پر اپنی مہربانی کرنے کے لئے آپ علیہ السلام سے کہلوایامَسَّنِی الضُّرُّ۔ 6) آپ علیہ السلام کو کیڑے کھاتے رہے تو آپ علیہ السلا م صبر کرتے رہے۔ یہاں تک کہ جب ایک کیڑے نے دل پر حملہ کیا اور دوسرے کیڑے نے زبان پر حملہ کیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایامَسَّنِی الضُّرُّ۔ تاکہ آپ اللہ کے ذکر سے محروم نہ ہو جائیں۔ 7) جب لوگوں نے آپ علیہ السلام کی بیوی رضی اللہ عنہا کو کام نہیں دیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایامَسَّنِی الضُّرُّ۔ 8) دو شخصوں نے کہا کہ ( نعوذ باللہ ) آپ علیہ السلام کی کسی غلطی کی سزا ہے تو آپ علیہ السلام نے فرمایامَسَّنِی الضُّرُّ۔ 9) حضرت ایوب علیہ السلام کی بیوی رضی اللہ عنہا کو جب کسی نے کام نہیں دیا تو انہوں نے اپنے بالوں کو بیچ دیا۔ اور کھانا لے کر آئیں ۔ آپ علیہ السلام اپنی زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا کے بالوں کا سہارا لے کر اٹھتے بیٹھتے تھے جب بالوں کو نہیں پایا تو حرکت نہیں کر سکے تو فرمایا مَسَّنِی الضُّرُّ۔

اپنے پیر کو زمین پر مارو

اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( حضرت ایوب علیہ السلام سے فرمایا) اپنا پاﺅں زمین پر مارو ۔ یہ نہانے کا ٹھنڈا اور پینے کا پانی ہے “ ( سورہ ص ٓ آیت نمبر42) اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو حکم دیا کہ زمین پر اپنا پیر مارو۔ آپ علیہ السلام نے اپنا پیر مارا تو زمین میں گڑھا ہو گیا اور اس میں سے پانی نکلنے لگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ یہ ٹھنڈا اور میٹھا پانی ہے۔ اسے پیﺅ اور اس سے نہاﺅ۔ آپ علیہ السلام کی زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا اس وقت کہیں کام کی تلاش میں گئی ہوئی تھیں۔ آپ علیہ السلام نے اس پانی کو پیا اور اس سے غسل کیا۔ غسل کرتے ہی آپ علیہ السلام کی بیماری اچھی ہو گئی۔ اور پورے بدن کے زخم اچھے ہو گئے اور ان کا نام و نشان بھی مٹ گئے۔ اور آپ علیہ السلام کا بدن مبارک اور چہرہ مبارک اور زیادہ خوب صور ت ہو گئے۔ علامہ عبدالرزاق بھترالوی لکھتے ہیں۔ آپ علیہ السلام کو حکم ہو ا کہ اپنا پاﺅں زمین پر ماریں تو اس سے چشمہ جاری ہو گا اس پانی کو پیﺅ اور اس سے غسل کرو۔ آپ علیہ السلام نے غسل کیا تو جسم مبارک کی تمام ظاہری بیماری اچھی ہو گئی۔ اور پینے سے اندرونی طور پر شفاءحاصل ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو جنتی لباس پہنایا۔ اور آپ علیہ السلام وہاں سے کچھ دور پر بیٹھ گئے۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو حضرت ایوب علیہ السلام کی طرف بھیجا تو انہوں نے اپنا پیر زمین پر مارا تو گرم پانی کا چشمہ ظاہر ہوا۔ جبرئیل علیہ السلام نے آپ علیہ السلام کا ہاتھ پکڑا اور اسے جھاڑا تو تمام کیڑے گر گئے۔ اور آپ علیہ السلام کو پانی میں داخل کر دیاتو گوشت پیدا ہو گیا اور آپ علیہ السلام اپنی جگہ واپس لو ٹ آئے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ حضرت ایوب علیہ السلام نے زمین پر پاﺅں مارا تو پانی کا چشمہ جاری ہو گیا۔ آپ علیہ السلام نے اس سے غسل فرمایا تو جسم مبارک پر بیماری کا کوئی نشان نہیں رہا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی ہر تکلیف اور ہر بیماری دور فرما دی اور آپ کا حسن و شباب پہلے سے کہیں زیادہ نکھر کر آگیا۔ پھر آپ علیہ السلام نے ایک قیمتی جوڑا زیب تن کیا۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام ایک بلند جگہ پر بیٹھ گئے۔

٭ زوجہ محترمہ ( بیوی) رضی اللہ عنہا پہچان نہیں سکیں

 اللہ تعالیٰ نے جس وقت حضرت ایوب علیہ السلام کو مکمل شفاءاور خوب صورتی عطا فرمائی تو اس وقت آپ علیہ السلام کی زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا کام کی تلاش میں گئی ہوئی تھیں۔ جب آپ رضی اللہ عنہا کو کام نہیں ملا تو خالی ہاتھ واپس اپنے شوہر کے پاس آئیں۔ تو دیکھا جس راکھ کے بستر پر ان کے شوہر لیٹے رہتے تھے وہ خالی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا پریشان ہو گئیں اور حیرانی اور پریشانی کے عالم میں بے تابی سے اپنے شوہر کو تلاش کررہی تھیں ۔ انہوں نے دیکھا کہ کچھ دور پر ایک انتہائی خوب صورت شخص بہترین لباس میں بیٹھا ان کی طرف دیکھ رہا ہے۔ آپ علیہ السلام اپنی زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا کی بے تابی اور پریشانی مسکراتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ آکر کار وہ آپ علیہ السلام کے پاس آئیں لیکن پہچان نہیں سکیں اور پوچھنے لگیں ۔ اے اللہ کے نیک بندے، یہاں ایک بیمار شخص تھے۔ تم جانتے ہو وہ کہاں گئے ہیں۔ کہیں بھیڑ یا تو نہیں اٹھا لے گیا۔ بار بار پریشانی سے آپ رضی اللہ عنہا پوچھ رہی تھیں۔ حضرت ایوب علیہ السلام مسکراتے ہوئے اسے دیکھتے رہے۔ پھر ان کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا۔ اری نیک بخت اللہ تجھ پر رحم فرمائے، میں ہی ایوب ( علیہ السلام ) ہوں اور اللہ تعالیٰ نے مجھے شفاءعطا فرمائی ہے۔

پہلے سے زیادہ مل گئے

اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے اسے ( حضرت ایوب علیہ السلام کو ) اس کا پورا کنبہ عطا فرمایا۔ بلکہ اتنا ہی اور بھی عطا فرمایا۔ اسی کے ساتھ اپنی خاص رحمت بھی عطا فرمائی۔ اور یہ عقل مندوں کے لئے نصیحت ہے۔ “ (سورہ ص ٓ آیت نمبر43) اس کی تفسیر میں تفسیر انوار البیان میں لکھا ہے کہ یہ جو فرمایا کہ ہم نے اُن کا کنبہ واپس کر دیا اور اُن جیسے اور بھی دیئے۔ اس کے بارے میں مفسرین نے دونوں احتمال لکھے ہیں۔ کہ صحت و عافیت کے بعد یا تو اُن کو اتنی گمشدہ اولاد واپس کر دی گئی جو اُن سے جدا ہو گئی تھی۔ اور اگر وفات پا گئی تو اتنے ہی اُن کی جگہ اللہ تعالیٰ نے پیدا فرما دیئے۔ علامہ ابن کثیر اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ مروی ہے کہ آپ علیہ السلام سے فرمایا گیا کہ تمہارے سب آل اولاد جنت میں ہیں ۔ تم کہو تو ان سب کو دنیا میں لا دیا جائے اور اگر کہو تو وہیں جنت میں رہنے دیا جائے۔ اور دنیا میں تمہیں ان کا عوض عطا فرما دیا جائے۔ آپ علیہ السلام نے دوسری بات پسند فرمائی۔ پس آخرت کا اجر اور دنیا کا بدلہ دونوں آپ علیہ السلام کو ملا۔

مال و دولت بھی زیادہ عطا کر دیئے گئے

اللہ تعالیٰ نے جب حضرت ایوب علیہ السلام کو شفا عطا فرمائی تو اولاد کے ساتھ ساتھ مال و دولت سے بھی نواز۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ روایت میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کو شفا و عافیت عطا فرمائی تو آسمان سے اُن کے اوپر سونے کی ٹڈیاں برسائیں۔ جنہیں لے کر آپ علیہ السلام نے اپنے کپڑے میں جمع کرنی شروع کر دی۔ تو آواز آئی۔ اے ایوب (علیہ السلام ) کیا تم آسودہ نہیں ہوئے؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اے اللہ تعالیٰ ، تیری رحمت سے کون آسودہ حال ہو سکتا ہے؟ علامہ عبدالرزاق لکھتے ہیں کہ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ نے سونے کی مکڑیوں کی بارش کی۔ آپ علیہ السلام پکڑ پکڑ کر اپنے کپڑے میں رکھتے رہے۔ پھر آپ علیہ السلام نے اپنی چادر بچھادی اور اس میں جمع کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے ایوب ( علیہ السلام ) ، تم سیر نہیں ہوئے؟ تو انہوں نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، تیرے فضل سے کون سیر ہو سکتا ہے؟ قاضی ثناءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں کہ جس پانی سے آپ علیہ السلام نے غسل فرمایا تھا اس کے چھینٹوں سینے پر سونے کی مکڑیاں اڑنے لگیں اور آپ علیہ السلام نے انہیں جمع کر کے رکھنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی۔ اے ایوب علیہ السلام ، کیا میں نے تجھے غنی نہیں کر دیا؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ کیوں نہیں ۔ لیکن اے اللہ تعالیٰ یہ تیری رحمت اور برکت ہے اور تیری رحمت اور برکت سے کون سیر ہو سکتا ہے؟

بیماری کا عرصہ 

حضرت ایوب علیہ السلام کتنے عرصہ بیماری میں مبتلا رہے؟ اس کے بارے میں علمائے کرام کی مختلف روایات ہیں۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں۔ کہ امام بغوی فرماتے ہیں کہ ابن شہاب ( جلیل القدر تابعی اور مفسر) نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث نقل فرمائی ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام اٹھارہ 18سال مصیبت میں مبتلا رہے۔ حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام پورے تین3سال مصیبت میں گرفتار رہے۔ ایک دن بھی زائد نہیں تھا۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آپ علیہ السلام سات7سال مصیبت میں مبتلا رہے۔ بعض علمائے کرام نے لکھا ہے کہ سات سال ، سات مہینے اور سات دن مصیبت میں مبتلا رہے۔ امام قرطبی لکھتے ہیں ۔ حضرت ایوب علیہ السلام کتنی مدت آزمائش میں مبتلا رہے اس میں اختلاف ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ آزمائش کی مدت سات سال ، سات مہینے، سات دن اور سات راتیں تھیں۔ حضرت وہب بن عنبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تیس سال آزمائش میں مبتلا رہے۔ امام حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سات سال چھ مہینے آزمائش میں مبتلا رہے۔ میں (امام قرطبی) کہتا ہوں ان میں اصح، اٹھارہ سال ہے جو امام ابن شہاب رحمتہ اللہ علیہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ اور امام عبداللہ بن مبارک رحمتہ اللہ علیہ نے بھی اسی کو روایت کیا ہے۔

قسم پوری کرنے کا حکم

اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور اپنے ہاتھ میں تنکوں کا ایک مٹھا ( جھاڑو) لے کر ماردو اور اپنی قسم پوری کرو ۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم نے اسے ( حضرت ایوب علیہ السلام کو) بڑا صابر بندہ پایا۔ وہ بڑا نیک اور رغبت رکھنے والا بندہ تھا۔ “ (سورہ ص ٓ آیت نمبر44) آپ کو یاد ہو گا کہ حضرت ایوب علیہ السلام نے قسم کھائی تھی کہ وہ اپنی زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا کو سو 100کوڑے ماریں گے۔ جب آپ علیہ السلام کی آزمائش ختم ہو گئی تو یہ فکر ہوئی کہ قسم کو پوری کیا جائے۔ لیکن آپ علیہ السلام کی بیوی رضی اللہ عنہا نے اتنی زیادہ تکلیفیں اور مصیبتیں آپ علیہ السلام کے ساتھ اٹھائی تھیں اسی لئے اللہ تعالیٰ نے سزا میں تخفیف کا حکم فرمایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کی بیوی رحمت پر رحم فرمایا۔ کیوں کہ انہوں نے تکلیف کے وقت آپ علیہ السلام کے ساتھ صبر کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے حکم میں تخفیف فرما دی۔ اور حضرت ایوب علیہ السلام کو قسم پوری کرنے کی یہ تدبیر بتائی کہ چھوٹی چھوٹی لکڑیوں کا گٹھا لو اور اس سے مارو۔ یہ سب کچھ اس لئے تھا کہ انہوں نے آپ علیہ السلام کا آزمائش میں ساتھ دیا تھا اور صبر کیا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو حکم دیا کہ ایک گھاس کا گٹھا لو جس میں سو100شاخیں ہوں تو آپ علیہ السلام نے ایک شاخ لی جس میں سو باریک شاخیں تھیں۔ اس سے اپنی بیوی محترمہ رضی اللہ عنہا کو ایک دفعہ مارا۔ تو قسم پوری ہو گئی۔ اس بارے میں کئی روایات ہے کہ گھاس کے گٹھے سے مارا۔ سو 100تنکے والی لمبی جھاڑو سے مارا۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔

حضرت ایوب علیہ السلام کی شان میں بائیبل میں گستاخیاں

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں حضرت ایوب علیہ السلام کو اپنا ایک انتہائی صابر اور شاکر بندہ بتایا ہے۔ اور آزمائش میں آپ علیہ السلام نے ایک ایسے صابر اور شاکر شخص کی سیرت پیش کی ہے جس میں ہر نیک اور اچھے انسان کے لئے نمونہ ہے۔ اس کے الٹ بائیبل میں آپ علیہ السلام کو ایک ایسا انسان بتایا گیا ہے جس میں آپ علیہ السلام کی شان میں گستاخیاں کی گئی ہیں۔ مولانا سید ابو اعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔ اس قصے میں قرآن مجید حضرت ایوب علیہ السلام کو اس شان سے پیش کرتا ہے کہ آپ علیہ السلام صبر کی تصویر نظر آتے ہیں۔ اور پھر کہتا ہے کہ ان کی زندگی نیک لوگوں اور عبادت گزاروں کے لئے نمونہ ہے۔ لیکن دوسری طرف بائیبل ی سفرِ ایوب پڑھیئے تو وہاں آپ کو ایک ایسے شخص کی تصویر نظر آئے گی جو ( نعوذ باللہ ) اللہ تعالیٰ کے خلاف مجسم شکایت اور عیسائیوں یعنی نصاریٰ نے توریت اور انجیل ( ان کے مجموعہ کو بائیبل کہا جاتا ہے ) میں بہت سی ملاوٹ کر دی ہے۔ اور خاص طور سے انبیائے کرام علیہم السلام کی شان میں ایسی ایسی گستاخیاں کی ہیں کہ قلم اُن گستاخیوں کو لکھنے سے قاصر ہے۔ اور روح کانپ جاتی ہے۔

صبر اور شکر کرنے سے اللہ تعالیٰ اجر عطا فرماتا ہے

 اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ کی آیت نمبر43کے آخر میں فرمایا۔ کہ( ترجمہ )”ا س میں (حضرت ایوب علیہ السلام کے واقعہ میں) عقل مندوں کے لئے نصیحت ہے۔ “ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ میں بتایا کہ حضرت ایوب علیہ السلام نے کس طرح صبر اور شکر ادا کر کے ابلیس شیطان کے حربوں کو ناکام بنایا ہے۔ اور آزمائش پر پورے اترے ہیں۔ اسی طرح جب بھی اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کا امتحان اور آزمائش لے گا اور وہ شخص حضرت ایوب علیہ السلام کی طرح اللہ کی رضا کے لئے صبر کرے گا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا رہے گا اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھے گا تو بدلے میں اللہ تعالیٰ اس بندے سے بہت خوش ہوگا۔ اور اسے دنیا میں بھی عطا فرمائے گا اور آخرت میں بھی عطا فرمائے گا۔ اسی لئے ہر عقل مند شخص اس واقعہ سے نصیحت حاصل کرے گا۔ اور بے وقوف قصہ کہانی سمجھ کر پڑھے گا اور گزر جائے گا۔

اگلی کتاب

قارئین کرام ، حضرت ایوب علیہ السلام کا ذکر مکمل ہوا

اب انشاءاللہ آپ کی خدمت میں حضرت شعیب علیہ السلام کے حالات پیش کریں گے۔

  ٭........٭........٭

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں