05 حضرت یوشع علیہ السلام
شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر13
قسط نمبر 5
اسلامی حکومت کا قیام
حضرت یوشع علیہ السلام نے بیت المقدس اور اریحا کی فتح کے بعد اسلامی حکومت قائم کی۔ اور توریت کے قوانین کے مطابق بنی اسرائیل کو زندگی گزارنے اور دنیا اور آخرت کے لئے اعمال کرنے کے طریقے بتائے۔ اسکے بعد آپ علیہ السلا م نے اسلامی حکومت کی توسیع کی طرف توجہ دی ۔ کیوں کہ بنی اسرائیل کی تعداد زیادہ تھی اور یہ دو شہر کم پڑ رہے تھے۔ اس کے علاوہ اس وقت کے ملک کنعان اور آج کے فلسطین میں دوسروں کی حکومت تھی۔ اور اسلامی حکومت کے چاروں طرف کافروں کی حکومت تھی۔ اس لئے ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا تھا کہ کہیں کوئی کافر بادشاہ اچانک حملہ نہ کر دے۔ اور چونکہ اسلامی حکومت اس وقت بہت کمزور تھی اس لئے اس کے استحکام کے لئے حضرت یوشع علیہ السلام جدو جہد شروع کر دی۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ جس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام کا وصال ہوا اس وقت حضرت یوشع علیہ السلام کی عمر مبارک ننانوے 99سال تھی۔ اللہ کا قانون نافذ کرنے کے بعد حضرت یوشع علیہ السلام آس پاس کے علاقوں کی طرف متوجہ ہوئے۔ اور قریبی شہر ”عی“ کی طرف اپنے جاسوس بھیجے۔
بنی اسرائیل کی شکست
حضرت یوشع علیہ السلام نے عی شہر طر ف اپنے جاسوس بھیجے تا کہ وہ وہاں کے حالات کا جائزہ لے کر آئیں اور اس کے مطابق جنگ کا لائحہ عمل بنایا جائے۔ یہ علاقہ بیت ِ ایل کے مشرق میں اور بیت آون کے قریب واقع ہے۔ جاسوس عی کا جائزہ لے کر آئے اور آپ علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ بنی اسرائیل کے پورے لشکر کو عی جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف دو یا تین ہزار کا لشکر بھیجیں۔ وہی ان کےلئے کافی ہو جائے گا۔ کیوں کہ وہاں بہت تھوڑے لوگ ہیں اور وہاں فتح حاصل کرنا کوئی مشکل نہیں ہوگا۔ آپ علیہ السلام نے تین ہزار کا بنی اسرائیل کا لشکر بھیج دیا۔ اس لشکر نے عی شہر پر حملہ کیا۔ اس شہر میں عماق آباد تھے۔ اور وہ بہت جنگجو تھے۔ یہ شہر اونچی جگہ پر واقع تھا اور شہر کے اطراف ڈھلانیں تھیں۔ اس طرح وہ لوگ کافی محفوظ جگہ پر تھے۔ اور ان کے تیر نیچے بنی اسرائیل کے لشکر پر نشانے پر لگ رہے تھے۔ اس کے مقابلے میں بنی اسرائیل کے لشکر کے سامنے ڈھلانوں کو چڑھنے کی پریشانی تھی اور ان کے تیر عی کے سپاہیوں تک بلندی پر نہیں پہنچ پا رہے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بنی اسرائیل کے لشکر میں افر اتفری مچ گئی۔ اور شہر کے لوگ ان پر حاوی ہو گئے۔ اور بنی اسرائیل کو میدان چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ عی شہر کے لوگوںنے پیچھا کیا اور کچھ دور تک تعاقب کر کے حملہ کیا۔ بنی اسرائیل کے لشکر کے چھتیس36سپاہی قتل ہوئے۔ اور عی کے لوگوں نے شہر کے دروازے سے لے کر شریم کی وادی تک ڈھلوان مارتے چلے گئے۔ بنی اسرائیل کا شکست خوردہ لشکر حضرت یوشع علیہ السلام کی خدمت میں آیا اور تمام حالات بتائے۔
حضرت یوشع علیہ السلام کی جنگی حکمت عملی اور فتح
حضرت یوشع علیہ السلام نے شکست خوردہ لشکر کی تمام باتوں کی توجہ سے سنا۔ پھر اس کے بعد اپنی مجلس شوریٰ سے مشورہ کیا اور جنگی حکمت عملی تیار کی۔ آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے تیس ہزار 30000شپاہیوں کا انتخاب کیا۔ اور اس میں سے دس ہزار سپاہیوں کو رات کے اندھیرے میں روانہ کیا۔ اور حکم دیا کہ خاموشی سے جا کر عی شہر کے اطراف میں چھپ جاﺅ۔ اور آپ علیہ السلام دوسرے دن بیس ہزار کا لشکر صبح روانہ ہوئے۔ اور شبریم کی وادی میں پہاڑوں میں پانچ ہزار تیر اندازوں کو چھپا دیا۔ اور پانچ ہزار سپاہیوں کو ڈھلانوں کے دائیں بائیں بٹھا دیا۔ اور بقیہ دس ہزار کا لشکر لے کر عی شہر کے مقابل آئے۔ عی کے بادشاہ نے جب دیکھا کہ اس مرتبہ بنی اسرائیل زیادہ لشکر آئے ہیں تو اس نے پورے شہر کے مردوں کو بلالیا۔ اور بنی اسرائیل کے لشکر پر تیر اندازی شروع کر دی۔ حضرت یوشع علیہ السلام نے دس ہزار کے لشکر کو حکم دیا کہ کچھ دیر تک تیراندازی کرو اور پھر شبریم کی وادی کی طرف بھاگو۔ کچھ دیر تک تیر اندازی کرنے کے بعد آپ علیہ السلام نے لشکر کو اشارہ کیا تو سپاہی شبریم کی وادی کی طرف بھاگے۔ عی شہر کے بادشاہ نے انہیں واپس بھاگتے دیکھا تو تمام مردوں کو حکم دیا کہ ان کا پیچھا کرو اور قتل کردو۔ اور اپنا پورا لشکر لے کر شہر سے باہر آگیا۔ اس کے پورے لشکر کے باہر آتے ہیں شہر کے اطراف میں چھپے ہوئے دس ہزار بنی اسرائیل شہر میں داخل ہو گئے۔ وہاں صرف عورتیں اور بچے تھے۔ سپاہیوں نے گھروں میں آگ لگانی شروع کر دی۔ ادھر حضرت یوشع علیہ السلام شبریم کی وادی میں پہنچے اور جب عی کا بادشاہ اور ا س کا پورا لشکر وادی شبریم میں آگیا تو آپ علیہ السلام نے پلٹ کر ایک مخصوص اشارہ کیا تو پہاڑوں میں چھپے پانچ ہزار سپاہیوں نے عی کے لشکر پر تیر اندازی شروع کر دی۔ اس اچانک حملے سے عی کا بادشاہ اور سپاہی گھبرا گئے اور بد حواس ہو گئے۔ ادھر ڈھلوانوں کے اطراف لشکر نے ان پر پیچھے سے حملہ کر دیا اور بھاگنے والے بنی اسرائیل کے لشکر نے بھی پلٹ کر حملہ کر دیا۔ اسی طرح عی کا بادشاہ اور اس کا لشکر چاروں طرف سے بنی اسرائیل کے لشکر کے گھیرے میں آگیا۔ اور جب انہوںنے اپنے شہر کی طرف دیکھا تو ان کے حوصلے ٹوٹ گئے کیوں کہ شہر میں جگہ جگہ دھواں اٹھ رہا تھا۔ اور بنی اسرائیل کا جھنڈا شہر کے دروازہ پر لہرارہا تھا۔ بنی اسرائیل کے لشکر نے ان کا قتل عام کر دیا اور عی کا بادشاہ زندہ گرفتار کر لیا گیا اور تمام سپاہی مارے گئے۔ اس طرح عی شہر پر حضرت یوشع علیہ السلام کا قبضہ ہو گیا۔ اور بادشاہ کو سولی پر لٹا دیا گیا۔ ( بائیبل کتاب یشوع باب نمبر8) علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ حضرت یوشع علیہ السلام وہاں سے چل کر عائی ( عی) اور شعبہ کے بادشاہ کے پاس آئے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو ان سے جنگ کرنے کا حکم دیا تھا۔ آپ علیہ السلام نے اُن سے جنگ کرنے کے لئے کمین گاہ بنانے کا حکم دیا۔ اور پھر اس علاقے پر فتح حاصل کی۔ ان کی حکومت چھینی اور شہر میں آگ لگا دی اور وہاں کے بارہ ہزار آدمیوں کو قتل کیا۔
جبعون کے بادشاہ کی دھوکہ دہی
حضرت یوشع علیہ السلام نے عی( عائی) پر قبضہ کر لیا۔ ان کے پڑوسی ریاست جبعون کے باشندوں نے جب آپ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کی فتوحات کا حال سنا اور انہیں یہ معلوم ہو اکہ بنی اسرائیل کا پورے ملک کنعان پر قبضہ کر کے اس کے باشندوں کو قتل کر نے یا ملک بدر کرنے کا ارادہ ہے۔ تو انہوںنے ایک منصوبہ بنایا۔ انہوں نے ایک وفد تیار کیا۔ وفد کے لوگوں نے پھٹی جوتیاں اور پرانے کپڑے پہنے اور اپنی سواریوں پر پھٹی پرانی بوریاں لگائی اور پھپھوند ی لگی روٹیاں لے کر حضرت یوشع علیہ السلام کی خدمت میں آئے۔ اور کہا کہ ہم بہت دور کے ملک سے آئے ہیں۔ اور آپ علیہ السلام سے امن کا معاہد ہ کرنے آئے ہیں۔ بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں نے کہا۔ تم لوگ کچھ جانے پہچانے لگ رہے ہو۔اور ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے پڑوس میں آباد ہو۔ اس وفد کے لوگوں نے کہا کہ ہم آپ علیہ السلام کے خدمتگار ہیں۔ اور آپ لوگوں کی شہرت سن کر آئے ہیں۔ ہمارے لباس، سواریاں، جوتے اور کھانے دیکھئے ۔ یہ روٹیاں ہم تازی اور گر م گرم لے کر نکلے تھے اور آج اس پر پھپھوند لگی ہوئی ہے۔ آپ علیہ السلام اور بنی اسرائیل نے ان پر بھروسہ کر کے امن کا معاہدہ کر لیا اور ان ہیں امان دے دی۔ اس کے بعد جب حضرت یوشع علیہ السلام اپنا لشکر لے کر ریاست جبعون پہنچے اور آپ علیہ السلام کا ارادہ تھا کہ ریاست جبعون کے شہر کفیرہ ، بیروت ، قریت ، اور یزیم پر قبضہ کر لیں۔ تب ریاست جبعون کا وہ وفد خدمت میں حاضر ہوا اور معاہدے کا امان نامہ بتایا۔ بنی اسرائیل امراءنے ان کی اس دھوکہ دہی پر تمام لوگوں کو قتل کر دینے کا مشورہ دیا۔ تب ریاست جبعون کے لوگوں نے کہا کہ ہمیں یہ معلو م ہوا ہے کہ آپ علیہ السلام کا ارادہ ہے اس ملک کے لوگوں کو ملک بدر کدیں یا قتل کر دیں تو اس سے بچنے کے لئے ہم نے دھوکے سے معاہدہ کیا ہے۔ حضرت یوشع علیہ السلام نے فرمایا۔ چونکہ میں تمہیں امن دے چکا ہوں اس لئے اس معاہدے کے مطابق عمل کروں گا۔ اور تمہیں قتل نہیں کروں گا اور ملک بدر بھی نہیں کروں گا۔ لیکن تمہاری سزا یہ ہے کہ تم لوگ بنی اسرائیل کے لئے لکڑیاں کاٹ کر لاﺅ گے اور ان کے لئے پانی بھروگے۔ اس کے بعد جبعون کے باشندے مسلسل بنی اسرائیل کی خدمت کرتے رہے۔ ( بائیبل کتاب یشوع باب نمبر9) علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ اہل عماق اور اہل جبعون نے دھوکہ دینے کے ارادے سے پہلے امان طلب کی اور جب ان کی دھوکہ دہی ان پر ظاہر ہوئی تو اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یہ لکڑ ہارے اور مشکیزے اٹھانے والے ہو جائیں۔ چنانچہ وہ ویسے ہی ہو گئے۔
اُموری بادشاہوں کی شکست
حضرت یوشع علیہ السلام نے اہل جبعون کو امان دے دی۔ جب یروشلم کے بادشاہ ادونی صدق نے سنا کہ حضرت یوشع علیہ السلام نے عی( عائی) پر قبضہ کر لیا ہے اور اس کے باشندوں اور بادشاہ کے ساتھ بھی وہی سلوک کیاجو اریحا ( پریحو) کے باشندوں اور بادشاہ کے ساتھ کیا تھا۔ اور جبعون کے باشندوں نے آپ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے ساتھ صلح کا معاہدہ کر لیا ہے اور ان کے ساتھ آرام سے رہ رہے ہیں تو وہ اس کی رعایا بہت خوفزدہ ہوئے۔ کیونکہ جبعون ایک شاہی ریاست تھی اور عی ( عائی) سے بہت بڑی تھی۔ اسی لئے یروشلم کے بادشاہ ادونی صدق نے حبرون ( اس کا نام الخلیل بھی ہے ) کے بادشاہ ہوہام، یر موت کے بادشاہ پیرام ، لکیس کے بادشاہ یا فیع، عجلون کے بادشاہ دبیر کو یہ کہلا بھیجا کہ جبعون پر حملہ کر نے کے لئے فوج لے کر میری مد د کو آﺅ۔ کیوں کہ جبعون والوں نے حضرت یوشع علیہ السلام اور اسرائیلیوں سے صلح کر لی ہے۔ ان پانچوں بادشاہوں کی سرگرمیوں کی خبر تھی ۔ انہوں نے فوراً قاصد دوڑائے اور حضرت یوشع علیہ السلام سے عرض کیا کہ آپ علیہ السلام کے خادموں کا خیال رکھیں اور جلد ی پہنچ کر ہماری مدد فرمائیں۔ حضرت یوشع علیہ السلام رات میں بنی اسرائیل کا لشکر لے کر تیزی سے جبعون پہنچے۔ اور ان پانوں اموری بادشاہوں کے سنبھلنے سے پہلے ان پر ٹوٹ پڑے۔ اور انہیں زبردست شکست دے دی۔ اور فتح عظیم حاصل کی۔ وہ پانچوں بادشاہ جان بچا کر بھاگے۔ اور ان کے پیٹھ پھیر کر بھاگتے ہوئے سپاہیوں کا اسرائیلیوں نے بیت ِ حورون تک جانے والی سڑک پر ان کا تعاقب کیا اور عزیقاہ اور مقیدہ تک ان کو مارتے چلے گئے۔ اور اسی وقت اللہ تعالیٰ نے ان کے اوپر پتھروں کی بارش کر دی۔ اور پتھر سے مرنے والوں کی تعداد اسرائیلیوں کی تلوار سے قتل ہونے کی تعداد سے زیادہ تھی۔ ( بائیبل کتاب یشوع باب نمبر10)علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں ۔پھر ارمان کے بادشاہوں کو اطاعت کا پیغام بھیجا۔ ان کی تعداد پانچ تھی۔ انہوں نے اپنے میں سے ایک کو سردار بنایا اور جنگ کے لئے جمع ہو گئے۔ اہل جبعون نے حضرت یوشع علیہ السلام سے مدد مانگی۔ آپ علیہ السلام نے انکی مدد کی۔ اور ان سب سرداروں کو شکست دی۔ یہاں تک کہ ان کو حوران کی طرف اتار دیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان پر پتھروں کی بارش کی اور پتھروں سے قتل ہونے والوں کی تعداد تلوا ر سے قتل ہونے والوں سے زیادہ تھی۔ وہ پانچوں اموری بادشاہ مقیدہ کے پہاڑ کے ایک غار میں جا کر چھپ گئے آپ علیہ السلام نے ان پانچوں کو نکال کر قتل کر دیا۔ اور ان کے شہروں پر قبضہ کر لیا۔ اس طرح آپ علیہ السلام نے پورے جنوبی فلسطین ( جو اس وقت مل کنعان تھا ) کو فتح کر لیا۔
مغربی فلسطین اور شمالی فلسطین کی فتح
حضرت یوشع علیہ السلام نے جنوبی فلسطین کی فتح کے بعد مغربی فلسطین کی طرف متوجہ ہوئے۔ اور کنعانیوں کو شکست دے کر آگے بڑھے۔ اور فرزیوں پر حملہ کیا ان کے علاقو ں پر قبضہ کرنے کے بعد حوی کی طرف متوجہ ہوئے اور نہیں بھی شکست دی۔ اور ان کے تمام علاقوں پر قبضہ کر کے یبوسیوں پر حملہ کر دیا۔ یہ مغربی فلسطین کی آخری آبادی تھی۔ اور یہ لوگ مغربی کنارے پر آباد تھے۔ آپ علیہ السلام نے حملہ کر کے ان کے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ اس طرح پورا جنوبی اور مغربی فلسطین بنی اسرائیل کے قبضے میں آگیا۔ اب بنی اسرائیل کی حکومت بیت المقدس سے لے کر غزّہ ( غازہ) تک اور جُشن سے لے کر جبعون تک ہو چکی تھی۔ اس کے بعد حضرت یوشع علیہ السلام شمال فلسطین کی طرف متوجہ ہوئے۔ شمالی فلسطین میں حصور پر یابین کی حکومت تھی۔ مدون پر یوباب کی حکومت تھی۔ اور سمرون اور اکشاف کے بادشاہوں کی حکومت تھی۔ ان چاروں بادشاہوں کو آپ علیہ السلام نے یکے بعد دیگرے شکست دی۔ اور ان کے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ اس طرح آ پ علیہ السلام نے لگ بھگ پندرہ برسوں میں جنوبی ، مغربی اور شمالی فلسطین پر قبضہ کر لیا۔ اور اسلامی حکومت قائم کردی۔ اب صرف مشرقی فلسطین کا علاقہ باقی رہ گیا تھا۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں