ہفتہ، 27 مئی، 2023

05 حضرت سلیمان علیہ السلام Story of Prophet Suleman


05 حضرت سلیمان علیہ السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 15

ایک عظمت والا خط آیا ہے

اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” وہ ( ملکہ سبا ) کہنے لگی۔ اے سردار، میری طرف ایک عظمت والا باوقعت خط آیا ہے۔ جو سلیمان (علیہ السلام )کی طرف سے ہے۔ جو بخشش کرنے والے مہربان اللہ کے نام سے شروع ہوا ہے۔ ( یعنی اس کا مضمون اس طرح شروع ہوا ہے کہ اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بہت مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ اس کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام نے لکھا ہے کہ ) یہ کہ تم میرے سامنے سر کشی نہ کرو اور مسلمان بن کر میرے پاس آﺅ۔ اس نے ( ملکہ سبا نے آگے ) کہا۔ اے میرے سردارو، تم میرے معاملے میں مجھے مشورہ دو۔ میں کسی بھی اہم کام کا فیصلہ تمہاری موجودگی اور رائے کے بغیر نہیں کرتی ہوں۔ ان سب نے جواب دیا کہ ہم طاقت اور قوت والے اور سخت لڑنے بھڑنے والے ہیں۔ آگے آپ کو اختیار ہے۔ آپ خود سوچ سمجھ لیں کہ ہمیں کیا حکم فرماتی ہیں۔ اس نے ( ملکہ سبا نے ) کہا کہ بادشاہ جب کسی بستی میں گھستے ہیں تو اسے اجاڑ دیتے ہیں۔ اور وہاں کے باعزت لوگوں کو ذلیل کر دیتے ہیں۔ اور یہ لوگ بھی ایسا ہی کریں گے۔ میں انہیں ہدیہ بھیجنے والی ہوں پھر دیکھوں گی کہ قاصد کیا جواب لے کر لوٹتے ہیں۔ “(سورہ النمل آیت نمبر 29سے 35تک)

ملکۂ سبا کو اسلام کی دعوت

حضرت سلیمان علیہ السلام کا خط پڑھ کر ملکہ ¿ سبا بلقیس نے کافی دیر تک غور و فکر کیا۔ پھر اس نے دربار لگانے کا حکم دیا۔ جب سب درباری اور امراءاور وزراءاور سپہ سالار حاضر ہو گئے تو اس نے کہا۔ میرے پاس ایک بادشاہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف سے بہت عزت والا اور عظمت والا خط آیا ہے۔ جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اللہ کے نبی ہیں۔ اور اللہ نے انہیں بادشاہ مقرر کیا ہے۔ انہوں نے خط میں لکھا ہے کہ اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بہت مہربان اور بہت زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم اور تمہاری قوم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرتے ہو۔ اس کے بعد ملکہ سبا نے آگے خط پڑھ کر سنایا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام آگے لکھتے ہیں کہ میں تمہیں اور تمہاری قوم کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔ تم لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے سر کشی اختیار مت کرو۔ اور غرور اور تکبر نہیں کرتے ہوئے دوسروں کی عبادت چھوڑ کر صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ اور اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار بن کر میرے پاس چلے آﺅ۔ اور اگر تم اور تمہاری قوم ایسا نہیں کریں گے تو پھر مجھ سے جنگ کرنے کے لئے تیار ہو جاﺅ ۔ خط مکمل ہونے کے بعد ملکہ سبا بلقیس سے کہا۔ اے میرے درباریو، وزیروں اور سپہ سالارو ، مجھے اس بارے میں مشورہ دو کہ میں کیا کروں؟ انہوں نے جواب دیا کہ اگر حضرت سلیمان علیہ السلام جنگ کی دعوت دے رہے ہیں تو ہم بھی بڑے طاقت ور اور جنگجو ہیں اور جنگ کے لئے تیار ہیں۔ بہر حال آخری فیصلہ تو تمہیں ہی کرنا ہے۔ اس لئے تم جو بھی حکم دو گی ہم اس پر عمل کریں گے۔ ملکہ سبا نے کہا۔ جب جنگ ہوتی ہے تو دونوں طرف کے سپاہی مارے جاتے ہیں۔ اور نقصان فاتح اور مفتوح دونوں کا ہوتا ہے۔ اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت کے بارے میں مشہور ہے کہ انسانوں کے ساتھ ساتھ جناتوں پر بھی ان کی حکومت ہے۔ اور غالب گمان ہے کہ فتح ان کی ہی ہوگی۔

خط کس زبان میں تھا

حضرت سلیمان علیہ السلام عبرانی زبان بولتے تھے۔ اور بنی اسرائیل کی زبان بھی عبرانی تھی۔ ایک روایت میں سریانی زبان کا بھی آیا ہے۔ ایک غالب گمان یہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو بہت ساری زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ کیوں کہ جب اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو جناتوں، جانوروں ، پرندوں اور کیڑوں مکوڑوں کی زبان سکھا دی تھی تو یقینا انسانوں کی زبان بھی سکھلا دی ہو گی۔ ملکہ ¿ سبا یمن میں بھی اور اس علاقے کی زبان عربی تھی۔ اسی لئے غالب گمان یہی ہے کہ آپ علیہ السلام نے خط عربی میں لکھا ہو گا۔ اور خط کے مضمون میں ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ کا لکھا ہونا عربی کی طرف ہی اشارہ ہے۔ مولانا مفتی محد شفیع تفسیر روح المعانی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام حالانکہ عربی بولنے والے نہیں تھے لیکن عربی زبان جاننا اور سمجھنا آپ علیہ السلام سے کوئی بعید بھی نہیں ہے۔ کیوں کہ جب آپ علیہ السلام پرندوں تک کی زبان جانتے تھے ۔یہ بات ہر کوئی جانتا ہے کہ عربی زبان تمام زبانوں میں سب سے افضل اور اشرف زبان ہے۔ لہٰذا ہو سکتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے خط عربی زبان میں لکھا ہوگا۔ کیوں کہ ملکہ سبا اور اس کی قوم عربی النسل تھی۔ اس نے خط کو پڑھا بھی اور سمجھا بھی۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنی زبان میں خط لکھا ہو۔ اور بلقیس کے پاس آپ علیہ السلام کی زبان کا ترجمان ہو جس نے خط کو پڑھ کر سنایا ہو اور سمجھایا ہو۔

تحائف بھیج کر تحقیق کی

حضرت سلیمان علیہ السلام کے خط کے جواب میں بلقیس کے وزراءاور سپہ سالاروں نے جو جواب دیا اس کے بعد بلقیس نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ ہم لوگ بڑے طاقتور اور جنگجو ہیں۔ لیکن اس پر بھی غور کرو کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے جس طرح جنگ کی دعوت دی ہے اور اس سے پہلے اسلام کی دعوت دی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ بادشاہ ہونے کے ساتھ ساتھ کچھ اور بھی ہیں۔ اس لئے ہم تحقیق کرتے ہیں۔ میں انہیں قیمتی تحفے بھیجتی ہوں اور پھر دیکھتی ہوں کہ ان کا جواب کیا ہوتا ہے۔ اگر وہ صرف بادشاہ ہوں گے تو تحفے کو قبول کر لیں گے۔ تب ہم انہیں جنگ کے لئے للکاریں گے۔ اور اگر وہ بادشاہ کے علاوہ کچھ اور بھی ہیں تو تحفے واپس کر دیں گے۔ اور تب ہم ان کے بارے میں غور و فکر کریں گے۔ اس کے بعد اس نے بہت سے قیمتی تحائف اپنے قاصد کے ذریعے بھیجے اور اس میں ایک بہت ہی قیمتی لکڑی کی لاٹھی بھی تھی۔ مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں کہ ملکہ سبا بلقیس نے خود ہی ایک رائے قائم کی جس کا حاصل یہ ہے کہ وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا امتحان لے اور تحقیق کرے کہ وہ واقعی اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول ہیں یا نہیں ۔ اور جو کچھ حکم وہ دے رہے ہیں وہ اللہ کے حکم کے تعمیل ہے یا پھر وہ ایک ملک گیر ی کے خواہشمند بادشاہ ہیں۔ اس امتحان اور تحقیق سے مقصد یہ تھا کہ اگر وہ واقعی اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول ہیں تو ان کے حکم کا اتباع کیا جائے ۔ اور مخالفت کی کوئی صورت اختیار نہیں کی جائے۔ اور اگر بادشاہ ہیں اور ملک گیری کی ہوس میں ہمیں اپنا غلام بنانا چاہتے ہیں تو پھر غور کیا جائے گا کہ ان کا مقابلہ کس طرح کیا جائے۔ اس تحقیق کا طریقہ یہ تجویز کیا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں کچھ ہدیے اور تحفے بھیجے۔ اگر انہوں نے تحفوں کو قبول کر لیا تو وہ ایک بادشاہ ہی ہیں اور اگر وہ واقعی نبی ہیں تو وہ اسلام اور ایمان کے بغیر کسی چیز پر راضی نہیں ہوں گے۔

تحائف واپس کر دیئے

اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” پس جب قاصد حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس پہنچا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا ۔ کیا تم مال سے مجھے مدد دینا چاہتے ہو؟ (سنو) میرے رب نے تو مجھے اس سے بہت بہتر دے رکھا ہے۔ جو اس نے تمہیں دے رکھا ہے۔ اور تم ہی اپنے تحفے سے خوش رہو۔ جاﺅ۔ اور ان کی طرف واپس لوٹ جاﺅ۔ ( اور ان سے کہہ دو کہ ) ہم ان کے مقابلہ پر وہ لشکر لائیں گے جن کا سامنا کرنے کی ان میں طاقت نہیں ہے۔ اور ہم انہیں ذلیل و پست کر کے وہاں سے نکال باہر کر یں گے۔“ (سورہ النمل آیت نمبر36اور37) ملکہ سبا کا قاصد تمام تحفے اور لاٹھی لے کر حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے دیکھا کہ آپ علیہ السلام کا حکم انسانوں اور جناتوں کے علاوہ وحشی جانور اور پرندے وغیرہ بھی مانتے ہیں۔ اور آپ علیہ السلام کے ہر حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہوا بھی آپ علیہ السلام کا حکم مانتی ہے تو وہ سمجھ گیا کہ ہم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے ہیں۔ اس نے ڈرتے ڈرتے تمام قیمتی تحائف آپ علیہ السلام کی خدمت میں پیش کئے۔ آپ علیہ السلام نے تمام تحفوں کو دیکھا اور فرمایا۔ اپنی ملکہ کے یہ تحائف واپس لے کر جاﺅ۔ اور اس سے کہنا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام صرف بادشاہ نہیں ہیں۔ بلکہ اللہ کے نبی ہیں۔ اور نبی کو دنیاوی تحفوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اور اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسی ایسی نعمتیں اور حکومت عطا فرمائی ہے جس کا تم اور تمہاری ملکہ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اور ثبوت کے طور پر تمہاری ملکہ کی طرف سے بھیجی ہوئی یہ لاٹھی بتا دینا۔ اتنا فرما کر آپ علیہ السلام نے دیمک کو حکم دیا کہ اس لاٹھی میں سوراخ کر دو۔ دیمک نے حکم سن کر لاٹھی کو کھانا شروع کر دیا اور اسمیں سوراخ کر دیا۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اب یہ سب لے جا کر اپنی ملکہ کو دے دو اور اس سے کہنا کہ اگر اس نے جنگ کا فیصلہ کیا تو اس کا سامنا ایسے لشکر سے ہوگا جس کا مقابلہ کرنے کی طاقت اس کے لشکر میں نہیں ہوگی۔ اور تمہیں ذلت اٹھانی پڑے گی۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں ملکۂ سبا کی روانگی

حضرت سلیمان علیہ السلام کا جواب لے کر قاصد ملکہ سبا بلقیس کے پاس آیا۔ اور بتایا کہ جس طرح کا عام بادشاہ ہم حضرت سلیمان علیہ السلام کو سمجھتے تھے وہ اس طرح کے نہیں ہیں بلکہ وہ سچ مچ اللہ کے نبی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی بادشاہت عطا فرمائی ہے۔ جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ ان کی حکومت صرف انسانوں پر نہیں ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر جناتوں پر بھی ہے اور جانوروں اور پرندوں اور کیڑوں مکوڑوں پر بھی ہے۔ یہاں تک کہ ہوا پر بھی ان کی حکومت ہے۔ اور کیڑے مکوڑوں پر حکومت کا ثبوت یہ لاٹھی ہے۔ جب تم نے یہ لاٹھی دی تھی تو اس میں سوراخ نہیں تھا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے دیمک کو حکم دیا کہ وہ اس میں سوراخ کرے اور دیکھتے ہی دیکھتے دیمک نے اس لاٹھی کو کھا کر اس میں سوراخ کر دیا۔ اتنا کہنے کے بعد قاصد نے بلقیس کی خدمت میں لاٹھی دے دی۔ اس نے اور تمام وزیروں اور سپہ سالاروں نے حیرت سے لاٹھی کے سوراخ کو دیکھا۔ اور سمجھ گئے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام اللہ کے نبی ہیں۔ اور بلقیس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر یہ فیصلہ کیا کہ آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر دیکھیں گے۔ پھر فیصلہ کریں گے کہ کیا کرنا ہے۔ اس کے بعد بلقیس نے اپنے وزیروں اور سپہ سالاروں کو لشکر سمیت آپ علیہ السلام کی طرف روانگی کا حکم دیا۔

حضرت سلیمان علیہ السلام نے تخت منگوایا

اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” آپ (علیہ السلام )نے فرمایا۔ اے سردارو، تم میں سے کون ہے جو ان کے مسلمان ہو کر پہنچنے سے پہلے ہی اس کا تخت مجھے لا دے۔ ایک قوی ہیکل جنات نے کہا۔ آپ علیہ السلام کے اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے ہی میں لا سکتا ہوں۔ یقین مانئے کہ میں اس پر قادر ہوں اور امانت دار بھی ہوں۔ جس کے پاس کتاب کا علم تھا ، وہ بول اٹھا کہ آپ علیہ السلام کے پلک جھپکنے سے پہلے میں اسے آپ علیہ السلام کے پاس پہنچا سکتا ہوں۔ جب آپ علیہ السلام نے اسے ( تخت کو) اپنے پاس موجود پایا تو فرمانے لگے۔ یہ میرے رب کا فضل ہے ، تا کہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر گزاری کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں۔ اور شکر گزار اپنے ہی نفع کے لئے شکر گزاری کرتا ہے۔ اور جو شکری کرے تو میرا پروردگار ( بے پرواہ اور بزرگ) غنی اور کریم ہے ( اس کے بعد) حکم دیا کہ اس کے تخت میں کچھ پھیر بدل کر دو تا کہ معلوم ہو جائے کہ وہ راہ پالیتی ہے یا ان میں سے ہو جاتی ہے جو راہ نہیں پاتے ہیں۔“(سورہ نمل آیت نمبر38سے41تک) اُدھر یمن کے ملک سبا سے ملکہ سبا بلقیس اپنے وزیروں اور سپہ سالاروں کے ساتھ حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے روانہ ہو گئی۔ مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں ۔ ملکہ بلقیس جنوبی عرب کی مشہور تجارت پیشہ ، ترقی یافتہ اور مالدار قوم سبا کی حکمراں تھی۔ اس قوم سبانے ایک ہزار سال تک دنیا پر حکمرانی کی۔ اور دنیاوی وسائل میں بہت مشہور تھی۔ اس نے پانی کو روکنے اور تقسیم کرنے کے لئے ایسے بہترین بند باند ھ رکھے تھے کہ جس سے یہ ملک سر سبز و شاداب نظر آتا تھا۔ اب اسی عظیم ملک کی ملکہ ، حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضری لگانے آرہی تھی۔

ملکۂ سبا بلقیس کا لشکر

حضرت سلیمان علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہو نے کے لئے ملکہ سبا بلقیس اپنے وزیروں ، سپہ سالار وں اور لشکر کے ساتھ رواں دواں تھی۔ ملکہ سبا بلقیس کے پاس ایک ہزار قیل( سردار یا سپہ سالار ) تھے۔ ملکہ سبا کی حکومت ملک یمن پر تھی اور یمن میں سردار یا سپہ سالار کو قیل کہا جاتا تھا۔ ان ایک ہزار سرداروں میں سے ہر ایک سردار دس ہزار افراد کا سردار یا سپہ سالار ہوتا تھا۔ حضرت مجاہد ( جلیل القدر تابعی اور مفسر) رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ملکہ سبا بلقیس کے زیر نگیں بارہ ہزار چھوٹے بادشاہ تھے۔ اور ہر ایک بادشاہ کی قیادت میں ایک لاکھ سپاہی تھے۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم طاقت اور قوت والے ہیں۔ حضرت قتادہ ( جلیل القدر تابعی اور مفسر) رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ملکہ سبا بلقیس کا پہلا مشورہ تین سو بارہ افراد سے تھا۔ ان میں سے ہر ایک فرد دس ہزار افراد کا قائد تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیںکہ ان میں سے تین سو سرداروں یا سپہ سالاروں کو لے کر ملکہ سبا بلقیس روانہ ہوئی تھی۔ اور ہر سردار کے ساتھ ایک ہزار کا لشکر تھا۔ اس طرح اس کے ساتھ تین لاکھ کا لشکر تھا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........! 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں