05 حضرت شعیب علیہ السلام
سلسلہ نمبر 11
تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 5
ہم راستوں پر بیٹھ کر کیا کرتے ہیں
حضرت شعیب علیہ السلام اور ان کے قوم کے حالات آج ہم لگ بھگ ساڑھے تین یا چار ہزار سال بعد پڑھ رہے ہیں۔ یہاں ذرا سا رُک کر ہم یہ غور کریں کہ آج ہم کیا کرتے ہیں۔ ہم راستوں میں ہوٹلوں پر ، چوک چوراہوں پر راستوں کے کنارے گھروں اور دکانوں ،پٹریوں اور پینتریوں پر بیٹھ جاتے ہیں۔ اور ہر آنے جانے والے شخص اور خصوصاً خواتین کو آتے جاتے گھورتے رہتے ہیں۔ اور ان کے بارے میں تبصر ے کرتے رہتے ہیں۔ ان آنے جانے والوں میں وہ مسلم خواتین بھی ہوتی ہیں جو پانی بھرتی ہیں اور سرکاری بیت الخلاءمیں رفع حاجت کرنے جاتی ہیں۔ اُن بے چاری خواتین کی مجبوری ہوتی ہے ۔ کیا کبھی ہم نے غور کیا ہے کہ ہم نے خود اپنی قوم کی بیٹیوں کو بے حیا بنا رہے ہیں۔ وہ بے چاری شرماتی ہوئی ، گھبراتی ہوئی اُن راستوں کی جگہوں سے گزرتی ہیں۔ جہاں ہم بڑی شان سے تشریف فرما ہوتے ہیں۔ اور انہیں گھورتے رہتے ہیں۔ دھیرے دھیرے ہماری وجہ سے قوم کی بیٹیاں بے حیائی میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔
قوم کی دھمکی
اللہ کے حکم سے حضرت شعیب علیہ السلام اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دے رہے تھے اور سمجھا رہے تھے ۔ لیکن قوم کی اکثریت پر ابلیس شیطان سوار تھا۔ اور وہ بد بخت لوگ آپ علیہ السلام کی دعوت کو سمجھنے کے بجائے الٹا آپ علیہ السلام کے دشمن بن گئے اور آپ علیہ السلام کو دھمکیاں دینے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” انہوں نے ( حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم نے ) کہا۔ اے شعیب (علیہ السلام )، تمہاری اکثر باتیں تو ہماری سمجھ میں ہی نہیں آرہی ہیں۔ اور ہم تو تمہیں اپنے اندر بہت کمزور پاتے ہیں۔ اگر تمہارے قبیلے والوں کا خیال نہیں ہوتا تو ہم تمہیں سنگسار ( پتھر مار مار کر مار ڈالتے) کر دیتے۔ اور ہم تم کو کوئی حیثیت والی ہستی سمجھتے ہی نہیں ہیں۔ “ (سورہ ہود آیت نمبر91)مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں ۔ حضرت شعیب علیہ السلام جو تما م انبیائے کرام میں بہترین خطیب تھے۔ جب اپنی بات سے فارغ ہو گئے تو قوم کے سردار کہنے لگے کہ اے شعیب ( علیہ السلام ) تمہاری باتیں ہماری سمجھ سے باہر ہیں ہماری سمجھ میں نہیں آرہی ہیں۔ اور کہنے لگے اے شعیب (علیہ السلام ) تمہارے خاندان کا لحاظ آڑے آجاتا ہے۔ ورنہ تمہاری ان باتوں پر جی چاہتا ہے کہ تمہیں پتھروں سے کچل دیا جاائے۔ اور پتھر برسائے جائیں۔ اور ہمارے لئے ایسا کرنے میں کوئی دشواری بھی نہیں ہے۔ لیکن تمہارے خاندان کا خیال آجا تا ہے۔ مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی لکھتے ہیں۔ حضرت شعیب علیہ السلام کی دعوت برابر جاری رہی۔ قوم کی اصلاح کی کوشش کرتے رہے لیکن وہ لوگ اپنے کفر و شرک پر جمے رہے۔ انہوں نے آپ علیہ السلام کو جو جواب دیئے اُن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ تمہاری بارتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں ہیں۔ یہ بات انہوں نے استہزاءً یا تحقیراً کہی۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ تمہاری باتیں سمجھنے کے قابل ہی نہیں ہیں۔ اپنی اس بے ہودہ بات کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ تم ہماری جماعت کے سامنے کمزور آدمی ہو۔ لیکن تمہارے خاندان کے لوگ جو ہمارے ہم مذہب ہیں ان کے پاسداری کر رہے ہیں۔ اگر ان کا پاس نہ ہوتا تو ہم تمہیں سنگسار کر دیتے ۔ یعنی پتھر مار مار کر ہلاک کر دیتے۔ گو کہ ہمارے نزدیک تمہاری کچھ عزت اور وقعت نہیں ہے۔ بس تمہارے خاندان کا خیال ہے جس کی وجہ سے ہم حملہ کرنے سے رکے ہوئے ہیں۔
پچھلی قوموں پر اللہ کے عذاب سے سبق سیکھو
اللہ تعالیٰ نے سورہ ہود میں فرمایا۔ (حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا) اے میری قوم کے لوگو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کو میری مخالفت ان عذابوں کا باعث ( مستحق) بنادے جو قوم نوح اور قوم ہود او ر قوم صالح کو پہنچے ہیں۔ اور قوم لوط کا عذاب تو تم سے کچھ دو ر نہیں ہے۔ تم اپنے رب ( اللہ تعالیٰ) سے استغفار کرو اور اس کی طرف توجہ کرو۔ یقین مانو کہ میر ارب بڑی مہربانی والا اور محبت کرنے والا ہے۔“ ( سورہ ہود آیت نمبر90) مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں۔ اس پندو نصیحت کے بعد پھر اُن کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا کہ تم سوچو سمجھو۔ ایسا نہ ہو کہ میری مخالفت اور عداوت تم پر کوئی ایسا عذاب لا ڈالے جیسا تم سے پہلے قوم نوح، قوم ہود ، قوم صالح پر آچکا ہے۔ اور حضرت لوط علیہ السلام کی قوم اور ان کا عبرتناک عذاب تو تم سے کچھ دو ربھی نہیں ہے۔ یعنی مقامی اعتبار سے بھی قوم لوط کی الٹی ہوئی بستیاں مدین کے قریب ہی ہیں اور زمانہ کے اعتبار سے بھی ۔ تم سے بہت قریب زمانہ میں ان پر عذاب آیا ہے۔ اس سے عبرت حاصل کرو اور اپنی ضد سے باز آجاﺅ۔ مولانا مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔ ( حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا) اے میری قوم کہیں تم پر ویسا عذاب نہ آجائے۔ جیسا قوم نوح کے غرق ہونے کا، قوم ہود کو آندھی کا او ر قوم صالح کو زلزلے اور چیخ کا عذاب دیا گیا تھا۔ ان تاریخی واقعات کو تو تم جانتے ہی ہو اور تم نے اپنے بڑوں سے سب کچھ سن رکھا ہے۔ اور اب میں تم کو سنا رہا ہوں۔ اور قوم لوط کے عذاب اور ہلاکت کا واقعہ تو تم سے کچھ دور بھی نہیں ہے۔ نہ تو اُن کے عذاب کو زیادہ زمانہ گزرا ہے اور نہ ہی اس بستی کے کھنڈرات تم سے زیادہ دور ہیں۔ اور اس تباہ شدہ اجڑتی بستی کو تم دن رات آتے جاتے اپنے سفروں میں دیکھتے بھی ہو۔ اس لئے ان سے عبرت پکڑلو۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتےہیں کہ حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا۔ اے میری قوم، میرا بغض اور مجھ سے عداوت اور میرے دین سے نفرت تمہیں اس پر نہ ابھار دے کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر اور بت پرستی اور ناپ تول میں کمی کرنے اور توبہ اور استغفار کو ترک کر دینے پر جمے رہو اور ڈٹے رہو۔ یہاں تک کہ تم بھی ایسا عذاب آجائے جو تم کو جڑ سے اکھاڑ کر ملیا میٹ کر دے۔ جیسا کہ قوم نوح پر پانی کے طوفان میں غرق کرنے کا عذاب آیا۔ اور قوم ہود پر ایک سخت اور زبردست آندھی کا عذاب آیا اور قوم صالح پر زلزلہ اور چنگھاڑ کا عذاب آیا۔ اور قوم لوط کے اوپر ان کی زمین کو پلٹ دیا گیا۔ اور فرمایا کہ قوم لوط تو تم سے زیادہ دور بھی نہیں ہے۔ اسی لئے تم ان کے حالات سے عبرت پکڑو اور سبق سیکھو اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے سے گریز کرو۔ ورنہ تم پر بھی پچھلی قوموں کی طرح عذاب آجائے گا۔ مولانا مودودی لکھتے ہیں۔ یعنی قوم لوط کا واقعہ تو ابھی تازہ ہی ہے۔ اور تمہارے قریب ہی کے علاقے میں پیش آچکا ہے۔ غالباً اس وقت قوم لوط کی تباہی پر چھ سات سو برس سے زیادہ نہیں گزرے تھے اور جغرافیائی لحاظ سے بھی قوم شعیب کا ملک اس علاقے سے بالکل متصل واقع تھاجہاں قوم لوط رہتی تھی۔
قوم کے متکبر سرداروں کا جواب
حضرت شعیب علیہ السلام اپنی قوم کو بڑی محبت سے سمجھاتے رہے لیکن اُن کی بد بختی کہ وہ بدستور کفر و شرک پر اڑے رہے اور برائیوں میں مبتلا رہے۔ بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر آپ علیہ السلام کی شان میں گستاخیاں بھی کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” اُن کو ( حضرت شعیب علیہ السلام کی) قوم کے متکبر سرداروں نے کہا۔ اے شعیب ( علیہ السلام )ہم آپ کو اور جو آپ کے اوپر ایمان لائے ہیں اُن کو بھی اپنی بستی سے نکال دیں گے۔ یا پھر یہ کہ تم ہمارے مذہب میں پھر آجاﺅ۔ “ ( سورہ الاعراف آیت نمبر88) جس طرح سے ہر قوم کا کنٹرول اُس قوم کے حکمرانوں ، سرداروں ، مذہبی پیشواﺅں ، بیوپاریو ں اور سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔ اسی طرح قوم شعیب پر بھی اسی قسم کے لوگ حاوی تھے۔ اور حضرت شعیب علیہ السلام کے سب سے بڑے دشمن بھی یہی لوگ تھے۔ ان بد بختوں نے کھلے عام آپ علیہ السلام کو دھمکیاں دینی شروع کر دیں۔ اور اپنی قوم کے عام لوگوں کو بھی آپ علیہ السلام کے خلاف بھڑکانا شروع کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور اُن کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا کہ اگر تم شعیب ( علیہ السلام ) کی راہ پر چلو گے تو بے شک بڑا نقصان اٹھاﺅ گے۔ “ (سورہ الاعراف آیت نمبر90) ان بد بخت کافر سرداروں نے عوام کو آپ علیہ السلام کی دعوت کو قبول کرنے سے ہر ممکن طریقے سے روک دیا۔ اور اسی پر بس نہیں کیا بلکہ آپ علیہ السلام کو دھمکی دی کہ تم اپنے ساتھ عوام کو لے کر ہماری بستی سے نکل جاﺅ۔ یا پھر اپنی اسلام کی دعوت دینا چھوڑ دو۔ اور اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو ہم لوگ تمہیں اور تمہارے ساتھ ایمان والوں کو ہلاک کر دیں گے۔ لیکن تمہارے قبیلے اور خاندان والے ہمارے ساتھی ہیں اسی لئے ابھی تک تمہیں چھوٹ دے رکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں سورہ ہود میں فرماتے ہیں ۔ترجمہ ” انہوں نے کہا۔ اے شعیب علیہ السلام ، تمہاری اکثر باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتی ہیں۔ اور ہم تو تمہیں ہمارے درمیان بہت کمزور پاتے ہیں۔ اگر ہمیں تمہارے قبیلے کا خیال نہیں ہوتا تو ہم تمہیں سنگسار کر دیتے اور ہم تمہیں کو حیثیت والی ہستی سمجھتے ہی نہیں ہیں۔“ ( سورہ ہود آیت نمبر91)
میرا بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ پر ہے
حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے بڑے بڑے کافر سردار آپ علیہ السلام سے کھل کر دشمنی کر نے لگے۔ اور ایمان والوں کو بھی ستانے لگے۔ جب قوم کے متکبر سرداروں نے بستی چھوڑ دینے یا پھر دوبارہ ( نعوذ باللہ ) کا فر ہوجانے کے بارے میں کہا تو آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو بہت سخت جواب دیا ۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا۔ ہم تمہارے مذہب کو بہت ہی مکروہ سمجھتے ہیں۔ ( اس کے باوجود تم چاہتے ہو کہ ) ہم تمہارے مذہب میں آجائیں اگر ہم تمہارے دین میں آجائیں گے تو ہم اللہ تعالیٰ پر بڑی جھوٹی تہمت لگانے والے ہو ں جائیں گے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو اس ( تمہارے مذہب ) سے نجات دلائی ہے۔ اور یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ہم تمہارے مذہب میں آجائیں۔ لیکن ہاں یہ کہ اللہ ہی نے جو ہمارا مالک ہے مقدر کیا ہو۔ ہمارے رب کا علم ہر چیز پر محیط ہے۔ ہم اللہ پر ہی بھروسہ رکھتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار، ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے موافق فیصلہ کر دے اور تو سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا ہے۔ ( سورہ الاعراف آیت نمبر88اور 89) حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کے متکبر سرداروں کو صاف صاف فرما دیا کہ میرا اور ایمان والوں کا صرف اللہ تعالیٰ پر ہی بھروسہ ہے۔ اور ہم اسلام پر سختی سے قائم رہیں گے۔ اور جو قوم کے سرداروں نے کہا کہ ہم ہم تمہارے قبیلے والوں اور خاندان والوں کا لحاظ کر رہے ہیں ا سکے جواب میں آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے میرے قبیلے والوں اور خاندان والوں کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔ اور تم لوگ اتنے کم عقل ہو کہ اللہ تعالیٰ کی طاقت کو نہیں سمجھ پا رہے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ ہود میں اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” انہوں نے ( حضرت شعیب علیہ السلام نے ) جواب دیا۔ اے میری قوم کے لوگو، کیا تمہارے نزدیک میرے قبیلے کے لوگ اللہ تعالیٰ سے بھی زیادہ عزت والے ہیں؟ کہ تم نے اسے ( اللہ کو) پس پشت ڈال دیا ہے۔ یقینا میر ارب اللہ تعالیٰ ہر اُس چیز اور عمل کو گھیرے ہوئے ہے جو کچھ تم کر رہے ہو۔ “(سورہ ہود آیت نمبر92)
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں