05 حضرت شموئیل اور حضرت داﺅد علیہما السلام
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر14
قسط نمبر 5
طالوت کی بیٹی سے نکاح
حضرت داﺅ د علیہ السلام نے جالوت کو قتل کردیا۔ حضرت طالوت نے اعلان کیا تھا کہ جو بھی شخص جالوت کو قتل کر ے گا میں اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کردوں گا۔ اسی وعدہ کو طالوت نے پورا کیا اور حضرت داﺅد علیہ السلام کو اپنا داماد بنالیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے آپ علیہ السلام کو اپنا سپہ سالار بھی بنا لیا۔ اس کے بعد حضرت داﺅد علیہ السلام اور طالوت نے مل کر آس پاس کی کافر قوموں سے جنگ کی اور انہیں شکست دی۔ اور اسلامی حکومت کو مستحکم کیا۔ دونوں حضرات نے مل کر بنی اسرائیل کے لئے بہت سے رفاعی کام کئے اور ہر طرف عوام آرام اور چین سے زندگی گزارنے لگی۔ اس طرح لگ بھگ بیس20سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا اور طالوت کی بادشاہت میں بنی اسرائیل کو بہت استحکام نصیب ہوا۔ طالوت ملک کے اندرونی حالات کو کنٹرول میں رکھے ہوئے تھا اور حضرت داﺅد علیہ السلام بیرونی ملک اور فوج کے حالات کو سنبھالے ہوئے تھے۔
حضرت طالوت کی شہادت
حضرت داﺅد علیہ السلام بنی اسرائیل کی فوج کے ساتھ عمالقیوں اور فلسطینیوں کے کافروں سے جنگ کرتے تھے۔ اور ضرورت پڑنے پر طالوت بھی جنگ میں شامل ہو تے تھے۔ حضرت داﺅد علیہ السلام اور طالوت کے بارے میں بائیبل میں بہت زیادہ گستاخیاں کی گئی ہیں۔ اور دونوں حضرات پر طرح طرح کے الزامات لگائے گئے ہیں کہ ( نعوذ باللہ ) طالوت ، حضرت داﺅد علیہ السلام سے حسد کرنے لگے تھے۔ اور آپ علیہ السلام کو (نعوذ باللہ) قتل کرنے کی کوشش کی اور آپ علیہ السلام خوش قسمتی سے بچ سکے۔ اور پھر ( نعوذ باللہ) طالوت نے خود کشی کر لی۔ یہ سب ان نیک بندوں پر بے جا الزامات ہیں۔ (حضر ت داﺅد علیہ السلام پر الزامات کا ذکر آگے آئے گا) حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کے بہت ہی نیک اور مخلص بندے تھے۔ اور اس کا ثبوت قرآن پاک کی آیات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے انہیں نیک اور مخلص ہونے کی گواہی دی ہے۔ بائیبل میں یہ غلط بات بھی لکھی ہے کہ طالوت نبی تھے ۔ لیکن قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے طالوت کو ایک حکمراں یا بادشاہ بتا یا ہے۔ جب کہ بد بخت یہود و نصاریٰ ( بنی اسرائیل اور عیسائی) نے حضرت داﺅد علیہ السلام پر یہ الزام لگایا کہ وہ ( نعوذ باللہ ) نبی نہیں تھے۔ اور صرف حکمراں یا بادشاہ تھے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بتایا کہ آپ علیہ السلام بنی بھی تھے اور بادشاہ یا حکمراں بھی تھے۔ دونوں حضرات مل کر اسلامی حکومت چلا رہے تھے۔ اور اسی دوران اللہ تعالیٰ نے حضرت شموئیل علیہ السلام کو اپنی جوارِ رحمت میں بلا لیا۔ اور طالوت نے خودکشی نہیں کی بلکہ ایک جنگ میں بہادری کے جوہر دکھاتے ہوئے وہ شہید ہو گئے۔ ایک روایت میں ہے کہ طالوت نے بنی اسرائیل پر 20برس سے کچھ زیادہ عرصہ حکومت کی ۔ اور دوسری روایت کے مطابق 40برس تک حکومت کی۔ اب حقیقت کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔
حضرت داﺅد علیہ السلام نبوت اور بادشاہت سے سر فراز
اللہ تعالیٰ نے سورہ نساءمیں فرمایا ۔ ترجمہ ” اور ہم نے داﺅد ( علیہ السلام ) کو زبور عطافرمائی۔ (سورہ النساءا ٓیت نمبر164) سورہ سباءمیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ”اور ہم نے داﺅد ( علیہ السلام ) پر اپنا فضل کیا۔ “ ( سورہ السباءآیت نمبر10) اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ان (کافروں) کی باتوں پر صبر کریں اور ہمارے بندے داﺅد علیہ السلام کو یاد کریں۔ جو بڑی قوت والا تھا اور بے شک وہ بہت رجو ع کرنے والا تھا۔ (سورہ ص ٓ آیت نمبر17) اسی سورہ میں آیت نمبر20میں فرمایا۔ ترجمہ ” اورہم نے اسکی ( حضرت داﺅد علیہ السلام کی) سلطنت کو مضبوط کر دیا تھا اور اسے حکمت عطا فرمائی تھی اور بات کا فیصلہ کرنا ( سکھایا تھا) “ اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے یقینا داﺅد (علیہ السلام )اور سلیمان (علیہ السلام ) کو علم دے رکھا تھا۔ اور دونوںنے کہا۔ تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے ایماندار بندوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔“ (سورہ النمل آیت نمبر15) اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اے داﺅد (علیہ السلام )ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنا دیا ہے اب تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو۔“ (سورہ ص ٓ آیت نمبر26) ان آیات سے یہ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام کو نبوت سے سرفرازفرمایا اور ساتھ ساتھ کتاب (زبور) بھی عطا فرمائی۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو حکومت یعنی سلطنت بھی عطا فرمائی ۔ اس طرح حضرت داﺅد علیہ السلام بنی اسرائیل کے پہلے نبی ہیں۔ جنہیں نبوت کے ساتھ ساتھ بادشاہت بھی عطا فرمائی۔ آپ علیہ السلام سے پہلے بنی اسرائیل میں بادشاہ الگ ہوتے تھے اور نبی الگ ہوتے تھے۔ ہاں حضرت یوسف علیہ السلام نبی بھی تھے اور بادشاہ بھی تھے۔ لیکن بنی اسرائیل اس وقت وجود میں نہیں آئے تھے۔
بنی اسرائیل میں ہر دل عزیز
حضرت داﺅد علیہ السلام بنی اسرائیل میں ہر دلعزیز اسی وقت ہو گئے تھے۔ جب آپ علیہ السلام نے جالوت کو قتل کیا تھا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام نے جالوت کو قتل کیا۔ امام ابن عسا کر کے قول کے مطابق یہ قتل ام حکیم کے محل کی جگہ مرج الصفر کے قریب واقع ہوا۔ اس بہادری اور معجزانہ قوت کی وجہ سے نبی اسرائیل آپ علیہ السلام کے شیدائی بن گئے۔ اور ان تمام کا میلان آپ علیہ السلام کی طرف ہو گیا تھا۔ اسی لئے تمام بنی اسرائیل نے متفقہ طور سے حضرت داﺅد علیہ السلام کو اپنا حکمراں تسلیم کر لیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو دنیاﺅں اور اُخروی دونوں نعمتوں سے نوازا تھا۔ آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کے نبی بھی تھے۔ اور بادشاہ بھی تھے۔ جب کہ اس سے پہلے بادشاہ ایک نسل سے ہوتا تھا تو نبی دوسری نسل سے ہوتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام میں بادشاہت اور نبوت دونوں جمع فرمادیں۔
حضرت داﺅد علیہ السلام کی فتوحات
حضرت داﺅد علیہ السلام نے حکمراں بنتے ہی اللہ کے قانون کو نافذ فرمایا اور اسلامی حکومت کو مستحکم کیا۔ آپ علیہ السلام کے دور ِ نبوت اور حکومت میںپورے ملک کنعان میں اسلامی حکومت قائم ہو گئی۔ اور آس پاس کے مشرکوں نے بھی اطاعت قبول کر کے خراج دینا منظور کر لیا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام مستقل طور سے بنی اسرائیل پر حکومت کرنے لگے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے بنو کنعان سے لڑے اور ان پر غالب آئے۔ اس کے بعد بنو فلسطین سے مدتوں معرکہ آرائیاں کرتے رہے اور ان کے اکثر شہروں پر قبضہ کر لیا اور ان پر سالانہ خراج مقررکیا۔ اس کے بعد بنو موآب اور بنو عمون سے جنگ کی اور انہیں زیر و زبر کر کے ان پر جزیہ قائم کیا۔ اس کے بعد آگے بڑھ کر دمشق اور حلب میں آرمینیوں پر جزیہ قائم کیا۔ اور آپ علیہ السلام کے مقرر کئے ہوئے افسران سالانہ جزیہ وصول کرتے تھے۔ آپ علیہ السلام کی سلطنت و حکومت کی ہیبت آس پاس کے علاقوں سے نکل کر کافی دور تک پھیل گئی۔ یہاں تک کہ انطاکیہ کے حکمراں نے بھی خراج دینا قبول کر لیا۔ اور ہدیے اور تحفے بھیجے۔ مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام نے زبردست عزم و حوصلے سے قوم بنی اسرائیل کو ایک نئے جذبے سے سر شار کر دیا۔ جس سے ان کے قدم آگے بڑھتے چلے گئے۔ آپ علیہ السلام نے یروشلم کو فتح کر کے اسے سلطنت بنی اسرائیل کا مرکزی شہر ( راجدھانی) بنا دیا۔ اس طرح آپ علیہ السلام کی (اسلامی) حکومت خلیج عقبہ سے دریائے فرات کے کناروں تک پھیل کر عدل و انصاف ، امن سکون اور خوش حالی کا گہوارہ بن گئی۔ لیکن اتنی زبردست سلطنت کے بادشاہ ہونے کے باوجود آپ علیہ السلام اپنے ہاتھ کی کمائی سے اپنا گزر بسر کرتے تھے۔
حضرت داﺅد علیہ السلام کی عبادات
حضرت داﺅد علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے نبوت اور حکومت کی دوہری ذمہ داری عطا فرمائی ۔ اور آپ علیہ السلام نے اس ذمہ داری کو بہت خوبی سے نبھایا۔ مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں کہ حضر ت داﺅد علیہ السلام راتوں کو خاموشی سے سلطنت کے لوگوں کے حالات معلوم کرنے کے لئے گشت کرتے ۔ تاکہ کوئی حاکم ( گورنر ، عمّال) کسی مظلوم پر کسی طرح کا ظلم و زیادتی نہیںکر سکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت داﺅد علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ انسان کا بہترین رزق اس کے اپنے ہاتھ کی کمائی سے حاصل ہونے والا رزق ہے۔ اور بلا شبہ حضرت داﺅد علیہ السلام اپنے ہاتھ کی کمائی سے اپنا اور اپنے بچوں کا گزارہ کر تے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری جگہ فرمایا کہ نمازوں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ نماز حضرت داﺅد علیہ السلام کی ہے جو آدھی رات سوتے تھے پھر ایک تہائی رات میں اللہ تعالیٰ کی بندگی و عبادت کرتے تھے اور رات کے آخری حصے میں آرام فرمایا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ سب روزوں میں محبوب ترین اللہ تعالیٰ کے نزدیک حضرت داﺅد علیہ السلام کے روزے ہیں ، جو ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن نہیں رکھتے تھے۔ (قرطبی) آپ علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ کا یہ خاص فضل و کرم تھا کہ اللہ تعالیٰ نے علم و حکمت عدل و انصاف اور عام لوگوں کی خدمت کا ایک عظیم جذبہ عطا فرما یا تھا۔
لوہا نرم ہو جانے کا معجزہ
اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام کو نبوت کے ساتھ ساتھ بادشاہت بھی عطا فرمائی تھی ۔ا ور اس کے علاوہ کئی معجزات بھی عطا فرمائے تھے۔ ان میں سے ایک معجزہ لوہے کا نرم ہوجانا تھا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ لوہا رکس طرح لوہے کو بھٹی میں پگھلا کر نرم کرتا ہے۔ اور پھر اس پگھلے ہوئے لوہے کو اپنی مرضی کے مطابق پیٹ پیٹ موڑتا یا ڈھالتا ہے۔ اور ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ گھروں میں ہماری والدہ اور بہنیں آٹے کو گوندھتی ہیں اور اس آٹے کو اپنی مرضی کے مطابق موڑ کر بیل کر روٹیاں پکاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام کو ایسا معجزہ عطا فرمایا تھا کہ لوہا جیسے ہی آپ علیہ السلام کے ہاتھوں میں آتا تو آٹے کی طرح نرم ہو جاتا تھا۔ اور آپ علیہ السلام بہت ہی آسانی سے اسے اپنی مرضی کے مطابق موڑ لیا کرتے تھے۔ یا ڈھال لیا کرتے تھے۔ بادشاہ بننے کے بعد آپ علیہ السلام لوہے کی زرہیں بنا کر فروخت کرتے تھے۔ اور اسی پر آپ علیہ السلام کا گھر چلتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ سبا میں فرمایا۔ ترجمہ ” بے شک ہم نے داﺅد ( علیہ السلام ) کو اپنی طرف سے فضیلت بخشی( اور پہاڑوں کو حکم دیا کہ ) اے پہاڑو، اُن کے ساتھ تسبیح کرو اور پرندوں کو بھی یہی حکم دیا۔ اور ہم نے لوہے کو ان کے لئے نرم کر دیا۔ ( اور فرمایا) کشادہ زرہیں بناﺅ اور ( ان کی جالیوں کے ) حلقے جوڑنے میں مناسب اندازے کا خیال رکھو۔ اور ( اے آل داﺅد عمل صالح پر جمے رہو۔ بے شک اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔“(سورہ السباءآیت نمبر10اور 11)
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں