پیر، 15 مئی، 2023

05 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام Story of Prophet Moosa and Haroon


05 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام 

سلسلہ نمبر12

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 5

مدین کی طرف ہجرت

حضرت موسیٰ علیہ السلام اس نخلستان سے نکلے اور ایک طرف چل پڑے۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے راہنمائی کی دعا کو تو اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ بھیجا۔ جس نے آپ علیہ السلام کو راستہ بتایا اور لے کر چلا چلتے چلتے جب مدین کے قریب پہنچے تو وہ فرشتہ چلا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” پس موسیٰ وہاں سے ادھر اُدھر دیکھتے بھاگتے نکل کھڑے ہوئے ۔ کہنے لگے اے میرے رب، مجھے ظالموں کے گروہ سے بچا لے۔ اور جب مدین کی طرف متوجہ ہوئے تو کہنے لگے ۔ مجھے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھی راہ لے چلے گا۔ ( سورہ القصص آیت نمبر21اور 22) امام قرطبی لکھتے ہیں۔ فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تلاش میں آدمی بھیجے اور کہا۔ ان جگہوں پر اسے تلاش کرو جہاں سے پہاڑی راستے الگ ہوتے ہیں ۔ کیوں کہ آپ علیہ السلام سے واقف نہیں تھے۔ ایک فرشتہ آپ علیہ السلام کے پاس آیا اور بولا میرے ساتھ چلئے آپ علیہ السلام اس کے ساتھ چلتے رہے۔ درختوں کے پھل اور پتے کھاتے رہے چلتے چلتے جوتے گھس گئے اور موزے بھی چیتھڑے ہو گئے۔ پیروں میں چھالے آ گئے اور کئی دنوں کا سخت تکلیف دہ اور دشوار گزار سفر کر کے مدین کے قریب پہنچے۔ امام مقاتل اور امام سدی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو آپ علیہ السلام کے پاس بھیجا تھا۔ اور مصر سے مدین کا فاصلہ ( گھوڑے کی سواری پر ) آٹھ 8 دنوں کا ہے۔ یہ ابن جبیر کا قول ہے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایات میں ہے کہ مصر سے مدین کا فاصلہ آٹھ راتوں کا ہے ۔ گویا کہ کوفہ سے بصرہ تک کی مسافت ہے۔ آپ علیہ السلام کے پاس درختوںکے پتے کے علاوہ کھانے کا کوئی اور سامان موجود نہیں تھا۔ جب آپ علیہ السلام مدین کے قریب پہنچے تو آپ علیہ السلام کے پاﺅں پھٹ چکے تھے۔ 

مدین کے کنویں پر

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مدین کے قریب چھوڑ کر وہ فرشتہ چلا گیا۔ آپ علیہ السلام پانی کی تلاش کرتے ہوئے مدین کے کنویں پر پہنچے۔ آپ علیہ السلام کے پیر مبارک چلتے چلتے پھٹ گئے تھے۔ اور خون نکل رہا تھا۔ کنویں کے قریب جا کر آپ علیہ السلام نے دیکھا کہ دو لڑکیاں اپنی بکریوں کو لے کر کھڑی تھیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا ۔ ترجمہ ” مدین کے پانی پر جب آپ علیہ السلام پہنچے تو دیکھا کہ لوگوں کی ایک جماعت وہاں پانی پلا رہی ہے اور دو لڑکیاں الگ کھڑی اپنے ( بکریوں کو ) روکتی ہوئی دکھائی دیں۔ پوچھا کہ تمہارا کیا حال ہے؟ وہ بولیں کہ جب تک یہ چرواہے واپس نہ لوٹ جائیں ہم پانی نہیں پلاتیں اور ہمارے والد محترم بڑی عمر کے بوڑھے ہیں۔ “ پس آپ (علیہ السلام ) نے خود اُن جانوروں کو پانی پلا دیا۔ پھر سائے کی طرف ہٹ آئے اور فرمایا۔ اے میرے رب، جو کچھ بھی بھلائی تو میری طرف اتارے میں اس کا محتاج ہوں۔ ( سورہ القصص آیت نمبر23اور 24) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آپ علیہ السلام مدین کے کنویں پر پہنچے تو وہاں اچھے خاصے چرواہے اپنے جانوروں کو باری باری پانی پلا رہے تھے۔ اور دو لڑکیاں اپنی بکریوں کو ( پانی پینے سے ) روک رہی تھیں۔ آپ علیہ السلام نے ان سے دریافت فرمایا ۔ تم دونوں اپنی بکریوں کو پانی کیوں نہیں پلا رہی ہو؟ دونوں نے کہا۔ جب یہ تمام چرواہے اپنے جانوروں کو پانی پلا کر چلے جائیں گے تب ہم اپنی بکریوں کو پانی پلائیں گے۔ آپ علیہ السلام نے دریافت فرمایا۔ کیا تمہارے گھر میں کوئی مرد نہیں ہے؟ جو تم یہ بکریاں چرانے آئی ہو۔ دونوں نے جواب دیا۔ صرف ہمارے والد محترم ہیں اور وہ اتنے بوڑھے ہو چکے ہیں کہ بکریاں نہیں چر اسکتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا ۔ کیا تمہارے گھر کے قریب بھی کوئی کنواں ہے؟ دونوں نے جواب دیا۔ اتنا بڑا کنواں تو نہیں ہے بلکہ ایک چھوٹی سے باوڑی( چھوٹا کنواں) ہے ۔ جس پر ایک پتھر ہے اور اس پتھر نے کنویں کو ڈھانپ رکھا ہے۔ اور یہ اتنا وزنی ہے کہ کئی آدمی مل کر ہی اسے اٹھا سکتے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ دونوں چلو اور مجھے دکھاﺅ۔ دونوں اپنی بکریوں اور آپ علیہ السلام کو لے کر اس چھوٹے کنویں پر آئیں۔ اور یہ دیکھ کر حیران رہ گئیں کہ جس پتھر کو کئی لوگ مل کر اٹھاتے تھے اسے آپ علیہ السلام نے اکیلے اٹھا لیا اور تمام بکریوں کو پانی پلایا اور خود بھی پانی پیا۔ پھر دوبارہ پتھر کو اٹھا کر وہیں رکھ دیا۔ پھر سائے میں جا کر بیٹھ گئے اور فرمایا۔ اے میرے رب، تو جو بھی خیر و برکت میری طرف اتارے میں اس کا محتاج ہوں ۔ دونوں لڑکیوں نے آپ علیہ السلام کے الفاظ سنے اور بکریوں کو لے کر چلی گئیں۔ تاریخ طبری اور دوسری تفاسیر میں کچھ الفاظ کے فرق سے یہ واقعہ درج ہے کہ اسی کنویں کا پتھر ہٹایا تھا جہاں ملاقات ہوئی تھی۔ 

حضرت شعیب علیہ السلام کے گھر

اس سے پہلے ہم آپ کو پچھلی کتاب ( حضرت شعیب علیہ السلام سلسلہ نمبر9) میں حضرت شعیب علیہ السلام کاتفصیلی ذکر کر چکے ہیں۔اور اس میں ہم نے بتایا تھاکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذکرمیں بھی آپ علیہ السلام کا ذکر آئے گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جس نخلستان میں تشریف فرما تھے۔ وہ حضرت شعیب علیہ السلام کا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں۔دونوں لڑکیاں اپنے گھر والد محترم کے پاس پہنچیں تو انہوںنے حیرانی سے فرمایا۔ ارے آج تم دونوں اتنی جلدی آگئیں؟ تو انہوںنے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بتایا اور پورا واقعہ سنادیا۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا۔ اُسے بلا لاﺅ۔ میں اسے کچھ انعام دوں گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اُسی نخلستان میں سائے میں آرام فرما رہے تھے کہ دیکھا کہ اُن دونوں لڑکیوں میں سے ایک لڑکی شرماتی ، لجّاتی ، اور چادر کے اندر اپنے آپ کو سمیٹتی ہوئی آئی اور کہا۔ میرے والد محترم آپ (علیہ السلام )کو بلا رہے ہیں ۔ آپ نے جو ہماری بکریوں کو پانی پلایا ہے ہو سکتا ہے اس پر آپ ( علیہ السلام )کو کوئی اجرت دیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ٹھیک ہے چلو۔ وہ لڑکی آگے چلنے لگی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تم ایسا کرو ، میرے پیچھے چلو اور پیچھے سے مجھے راستہ بتاتی رہو۔ کیوں کہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے ہوں ۔ اور اُن کی شریعت کے مطابق تمہیں دیکھنا میرے لئے اللہ تعالیٰ نے حرام کردیا ہے۔ اس طرح آپ علیہ السلام آگے آگے اور وہ لڑکی پیچھے پیچھے چلتے ہوئے حضرت شعیب علیہ السلام کے گھر پہنچے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” اتنے میں اُن دونوں لڑکیوں میں سے ایک اُن کی طرف شرم و حیا سے چلتی ہوئی آئی اور بولی۔ میرے والد محترم آپ (علیہ السلام )کو بلا رہے ہیں۔ تا کہ آپ ( علیہ السلام )نے ہماری ( بکریوں ) کو جو پانی پلایا ہے اس کی اُجرت دیں۔“ ( سورہ القصص آیت نمبر25)

حضرت شعیب علیہ السلام سے ملاقات

حضرت موسیٰ علیہ السلام اس لڑکی کی راہ نمائی میں اس کے گھر پہنچے ۔ حضرت شعیب علیہ السلام برآمدے میں بیٹھے انتظار کر رہے تھے ۔ دونوں کو آتا دیکھ کر آگے بڑھے اور آپ علیہ السلام کا استقبال کیا۔ اور چار پائی پر ساتھ میں لے کر بیٹھے اور تمام حالات دریافت کرنے لگے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے تمام حالات تفصیل سے بتائے اور یہ بتایا کہ فرعون میری جان کا دشمن بن گیا ہے۔ اورمیرے قتل کا حکم ( انکاﺅنٹر آرڈر) دے دیا ہے۔ اس لئے میں ہجرت کر کے یہاں آگیا ہوں۔ حضرت شعیب علیہ السلام کا علاقہ مدین فرعون کی حکومت کی حدود سے باہر تھا۔ اسی لئے انہوںنے فرمایا۔ یہ تم نے اچھا کیا کہ اس ظالم کے علاقے سے چلے آئے۔ اسی دوران میں دونوں لڑکیوں نے کھانا لگا دیا۔ اور حضرت شعیب علیہ السلام نے آپ علیہ السلام کو کھانے کی دعوت دی اور ساتھ میں لے کر کھانا کھانے بیٹھے اور دونوں لڑکیاں کھانا ضرورت کے مطابق لا کر دے رہی تھیں۔ کھانے کے دوران حضرت شعیب علیہ السلام نے پوچھا۔ اب آگے کیا اراد ہے؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ جو بہتر سمجھے گا کرے گا۔ اسی دوران وہ لڑکی جس نے آپ علیہ السلام کو گھر تک راہنمائی کی تھی ۔ اس نے کہا۔ ابا جان، یہ بہت طاقت ور ، نیک ، شریف اور امانت دار ہیں۔ اگر آپ انہیں اجرت پر بکریاں چرانے کے لئے رکھ لیں تو ان کا رہنے کھانے کا ٹھکانہ بھی ہو جائے گا اور ہمیں بکریاں چرانے کے لئے بھی نہیں جانا پڑے گا۔ اور یہ اپنا کام پوری ذمہ داری اور ایمانداری سے بھی کریں گے۔ اس لڑکی کا نام سیدہ صفورہ رضی اللہ عنہا تھا۔ اور دوسری لڑکی کا نام سیدہ شرفا رضی اللہ عنہا تھا۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے بیٹی کے مشورے کو قبول کر لیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام )اُن کے پاس پہنچے اور اُن سے سارا حال بیان کیا تو وہ کہنے لگے کہ اب ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔ تم نے ظالم قوم سے نجات پالی ہے۔ ان دونوں ( لڑکیوں ) میں سے ایک نے کہا۔ ابا جان، آپ (علیہ السلام )انہیں مزدوری پر ( یعنی اجرت پر) رکھ لیں۔ کیوں کہ جنہیں آپ ( علیہ السلام )اجرت پر رکھیں گے ان میں سے سب سے بہتر یہ ہیں۔ اور یہ مضبوط ( طاقتور) اور امانت دار ہیں۔“(سورہ القصص آیت نمبر25اور 26)

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نکاح

حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی بیٹی سیدہ صفورہ رضی اللہ عنہا کے مشورے کو قبول کر لیا ۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نوکری پر رکھ لیا۔ کچھ دنوں بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میں چاہتا ہوں کہ اپنی بیٹی صفورہ رضی اللہ عنہا کا نکاح تم سے کر دوں ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ وہ تو ٹھیک ہے لیکن میرے پاس مہر ادا کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ تو انہوںنے فرمایا کہ آٹھ سال میری بکریاں چرادیان۔ یہی مہر ہو گا اور اگر تم دس سال چرا دو تو یہ تمہارا مجھ پر احسان ہو گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام راضی ہو گئے اور آپ علیہ السلام کا نکاح سیدہ صفورہ رضی اللہ عنہا سے کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” انہوں نے ( حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا ) میں اپنی ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک کو آپ ( علیہ السلام ) کے نکاح میں دینا چاہتا ہوں۔ اس ( مہر پر ) کہ آپ ( علیہ السلام )آٹھ سال تک میر ا کام کاج کریں۔ ہاں اگر آپ ( علیہ السلام ) دس سال پورے کریں تو یہ آپ (علیہ السلام )کی طرف سے احسا ن ہوگا۔ میں ہرگز نہیں چاہتا کہ آپ ( علیہ السلام )کو کسی مشقت میں ڈالوں۔ اللہ کو منظور ہوگا تو آپ مجھے بھلا آدمی پائیں گے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ خیر تو یہ بات میرے اور آپ علیہ السلام کے درمیان پختہ ہو گئی۔ اور میں ان دونوں مدتوں میں سے جسے چاہوں پورا کروں اور یہ مجھ پر زیادتی نہیں ہوگی۔ اور ہم یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس اللہ تعالیٰ( گواہ اور ) کا ر ساز ہے۔ ( سورہ القصص آیت نمبر27) اس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام وہیں رہنے لگے۔ اور حضرت شعیب علیہ السلام کی بکریاں چرانے لگے۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے انہیں اپنا عَصا دے دیا اُسی عصا سے آپ علیہ السلام بکریوں کے لئے درختوں سے پتے توڑتے تھے اور راستہ بناتے تھے اور بکریوں کو ہنکاتے تھے۔ اور پورے دس سال بکریاں چرائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب پوچھا گیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آٹھ سال بکریاں چرائیں تھیں یا دس سال تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو سب سے مکمل اور کامل مدت تھی اُتنی مدت بکریاں چرائیں۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......! 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں