جمعرات، 4 مئی، 2023

05 حضرت ایوب علیہ السلام Story of Prophet Ayoob


05 حضرت ایوب علیہ السلام

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 5

اللہ تعالیٰ دیکھنا چاہتا ہے کہ میں صبر کرتا ہوں یا نہیں 

اللہ تعالیٰ کی حضرت ایوب علیہ السلام پر آزمائش جاری تھی۔ اور آپ علیہ السلام انتہائی صبر و شکر سے اس عظیم آزمائش سے گزر رہے تھے۔ لیکن ابلیس شیطان سے آپ علیہ السلام کا صبر وہ شکر برداشت نہیں ہو رہا تھا۔ اور وہ آپ علیہ السلام کی کامیابی کو ناکامی میں بدلنا چاہتا تھا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ آپ علیہ السلام کے دو دوست اور دلی خیر خواہ فلسطین ( اُس وقت کا ملک کنعان) میں رہتے تھے۔ ابلیس شیطان نے انسانی شکل میں جا کر اُن دونوں کو خبر دی کہ تمہارا دوست سخت مصیبت میں مبتلا ہے۔ تم جاﺅ اور ان کی خبر گیری کرو اور اپنے یہاں سے شراب اپنے ساتھ لے جاﺅ۔ وہ اسے پلا دینا اور وہ تندرست اور اچھا ہو جائے گا۔ دونوں دوست حضرت ایوب علیہ السلام کے پاس آئے۔ اور آپ علیہ السلام کی حالت دیکھ کر بلبلا کر رونے لگے۔ آپ علیہ السلام نے دریافت فرمایا۔ تم دونوں کون ہو؟ انہوں نے یاد دلایا تو آپ علیہ السلام پرانے دوستوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور انہیں مرحبا( خوش آمدید) کہا۔ وہ دونوں کہنے لگے۔ اے دوست، آپ علیہ السلام شاید کوئی چھپاتے رہے ہوں گے اور ظاہر کے خلاف کر رہے ہوں گے؟ آپ علیہ السلام نے آسمان کی طرف دیکھ کر فرمایا۔ اللہ تعالٰ سب سے بہتر جانتا ہے کہ میں نے کیا چھپایا ہے اور کیا ظاہر کیا ہے۔ اور میرے رب نے مجھے اس آزمائش میں اس لئے مبتلا کیا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ میں صبر کرتا ہوں یا بے صبری کرتا ہوں ۔ وہ دونوں کہنے لگے۔ اچھا ہم آپ علیہ السلام کے لئے دو ا لائے ہیں۔ آپ یہ دوا پی لیں آپ علیہ السلام کی بیماری اچھی ہو جائے گی اور شفاءحاصل ہو گی۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ یہ کیا ہے؟ تو اُن دونوں نے جواب دیا۔ یہ وہ شراب ہے جو ہم اپنے علاقے سے لے کر آئے ہیں۔ یہ سن کر آپ علیہ السلام اُن دونوں پر بہت شدید ناراض ہو گئے اور فرمایا۔ تمہیں ابلیس شیطان خبیث لایا ہے اور تم دونون سے بات کرنا اور تمہارا لایا ہوا کھانا اور پینا مجھ پر حرام ہے۔ یہ سن کر وہ دونوں واپس چلے گئے۔

زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت گزاری

حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری کے دوران آپ علیہ السلام کی زوجہ محترمہ یعنی بیوی رضی اللہ عنہا دل و جان سے خدمت کرتی تھی۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ اس خوش قسمت خاتون رضی اللہ عنہا نے آپ علیہ السلام کا خوب ساتھ نبھایا۔ اور اُن کی شفقتوں اور گزرے ہوئے احسانات کی پوری پاسداری کی۔ وہ آپ علیہ السلام کو قضائے حاجت کے لئے جاتی تھیں۔ وہ آپ علیہ السلام کی بیماری میں آپ علیہ السلام کی مسلسل دیکھ بھال کرتی رہتی تھیں۔ اور ایک لمحہ کے لئے جدا نہیں ہوئیں۔ آپ علیہ السلام کے لئے راکھ اٹھا کر لاتیں اور دوسری ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرتیں۔ یہاں تک اس بے چاری کی بھی حالت نا گفتہ ہو گئی۔ ایک پھوٹی کوڑی بھی ہاتھ میں نہیں رہی۔ لیکن لوگوں کے گھروں میں اجرت پر کام کرکے اپنے شوہر کے لئے کھانے اور دوا کا بندو بست کرتی رہیں۔ مال و دولت چھن گیا تھا۔ اولاد ِ داغِ جدائی دے گئی۔ حضرت ایوب علیہ السلام بیماری سے لاچار ہو گئے۔ تمام غلام اور خدام ساتھ چھوڑ گئے۔ اپنوں نے منہ موڑلیا۔ لیکن سعادت مند اور صابر و شاکر اللہ کی بندی نے اپنے شوہر ، اللہ کے نبی علیہ السلام کا ساتھ نہیں چھوڑا ۔ بلکہ اُن کی زبان سے ایک ہی کلمہ نکلتا رہا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ کی طرف سے آئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

بیماری کے دوران بھی دوسروں کے حقوق کا خیال

حضرت ایوب علیہ السلام کی زوجہ محترمہ دوسروں کے گھروں میں کام کرتی تھیں اور بدلے میں وہ لوگ کھانا اور پیسے دے دیا کرتے تھے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ ایک دن حضرت ایوب علیہ السلام کی زوجہ محترمہ نے ایک گھر میں روٹیاں پکائیں تو جب وہ لوگ آپ رضی اللہ عنہا کوکھانا دینے لگے تو اس وقت اُن کا بیٹا سویا ہوا تھا۔ اسی لئے اُن لوگوں نے اس بچے کے حصے کی ٹکیا بھی آپ رضی اللہ عنہا کو دے دی۔ جب وہ اپنے شوہر کے پاس آئیں تو آپ علیہ السلام نے اس ٹکیا کے بارے میں دریافت فرمایا۔ انہوںنے پورا واقعہ بیان کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ابھی فوراً واپس جاﺅ۔ ممکن ہے بچہ جاگ گیا ہو اور اسی ٹکیا کے لئے ضد کر رہا ہو اور رو رو کر سارے گھر والوں کو پریشان کر رہا ہو۔ آپ رضی اللہ عنہا فوراً وہ ٹکیا لے کر واپس چلیں۔ اُس گھر والوں کی ڈیوڑھی پر ایک بکری بندھی ہوئی تھی تو اس نے زور سے آپ رضی اللہ عنہا کو ٹکر ماری ۔ تو آپ رضی اللہ عنہا کی زبان سے بے ساختہ نکل گیا ۔ اللہ تعالیٰ میرے شوہر پر رحم فرمائے۔ بلا وجہ مجھے تکلیف دی۔ پھر گھر کے اندر گئیں تو دیکھا کہ واقعی بچہ جاگا ہوا اور ٹکیا کے لئے مچل رہا ہے۔ اور گھر بھر کا ناک میں دم کر رکھا ہے۔ یہ دیکھ کر آپ رضی اللہ عنہا کی زبان سے بے ساختہ یہ نکلا۔ اللہ تعالیٰ میرے شوہر پر رحم فرمائے۔ انہوں نے اچھے موقع پر ٹکیہ واپس پہنچا کر حقدار کو اس کا حق ملنے میں مدد کی۔

زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا کے ذریعے بہکانا چاہا

حضرت ایوب علیہ السلام انتہائی صبر اور شکر سے اللہ کی آزمائش سے گزر رہے تھے۔ اور مسلسل اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر رہے تھے اور تکلیفوں پر صبر کر رہے تھے۔ ابلیس شیطان آپ علیہ السلام کا یہ صبر اور شکر اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ دیکھ کر چیخ پڑا اور روئے زمین پر موجود اپنے تمام چیلوں کو جمع کیا۔ انہوں نے پوچھا ۔ تم اتنے پریشان کیوں دکھائی دے رہے ہو؟ اُس مردود ملعون ابلیس نے کہا۔ مجھے تو اللہ کے اس بندے ( حضرت ایوب علیہ السلام ) نے عاجز کر دیا ہے۔ جس کا میں نے مال اور اولاد تباہ کر دیا۔ لیکن ہر تکلیف پر اس کے صبر اور شکر میں اضافہ ہوتا تھا۔ پھر مجھے اس کے جسم پر قابو دیا گیاتو میں نے اسے بہت زیادہ جسمانی تکلیف میں مبتلا کر دیا۔ لیکن اس کے بعد اس کا اللہ تعالیٰ پر توکل یعنی بھروسہ اور زیادہ بڑھ گیا۔ اور میں اپنی ہر کوشش کر کے بھی اس کے ، اللہ تعالیٰ کے بھروسے کو نہیں توڑ سکا۔ اور اس کے صبر کو نہیں توڑ سکا۔ اور یہ اس عالم میں بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر رہا ہے ۔ چیلوں نے کہا۔ تم وہ چال اور حیلہ سازیاں استعمال کیوں نہیں کر تے جن کی وجہ سے پچھلے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ ابلیس بولا میں اپنا ہر حربہ استعمال کر چکا ہوں۔ اب تم لوگ کوئی تدبیر سوچو۔ ایک چیلے نے کہا۔ تم عورت کے ذریعے انہیں بہکانے کی کوشش کر سکتے ہو۔ حضرت ایوب علیہ السلام کی زوجہ محترمہ اُن کی بہت خدمت کرتی ہے۔ اسی لئے وہ اس کی بات نہیں ٹالیں گے۔ ابلیس نے کہا ٹھیک ہے ۔ اور ایک طبیب( ہماری زبان میں ڈاکٹر) بن کر انسانی شکل میں آپ علیہ السلام کی زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور پوچھا ۔ اے اللہ کی بندی تیرے شوہر کہاں ہیں؟ انہوں نے جو اب دیا۔ یہ راکھ پر پڑے ہیں۔ یہی میرے شوہر ہیں۔ ابلیس مردود نے اُن کے دل میں وسوسہ پیدا کیا۔ اور پچھلی نعمتوں اور آرام و آسائش اور تندرستی کے جو حالات گزر چکے ہیں انہیں اس انداز میں اُن کے سامنے پیش کیا کہ وہ سنہرے دن اُن کی آنکھوں کے سامنے گزرنے لگے اور وہ رونے لگیں۔ ابلیس نے فوراً موقع دیکھ کر کہا کہ اپنے شوہر سے کہو کہ غیر اللہ کے نام پر اس بکری کو ( وہ اپنے ساتھ لایا تھا) ذبح کردیں تو تندرست ہو جائیں گے۔ انہوں نے بکری لی اور آپ علیہ السلام سے آکر گذارش کی کہ ایک طبیب نے کہا ہے کہ اسے غیر اللہ کے نام پر ذبح کر دیں آپ علیہ السلام تندرست ہو جائیں گے۔

اللہ تعالیٰ پر توکل ( بھروسہ)

حضرت ایوب علیہ السلام کی زوجہ محترمہ نے طبیب کی بات بتائی۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ ابلیس شیطان ایک طبیب کی شکل میں زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور بولا ۔ تمہارے شوہر برسوں سے اس تکلیف میں مبتلا ہیں ۔ اور تم بھی اتنی تکلیف اٹھا رہی ہو۔ اپنے شوہر سے کہو کہ فلاں بت کے نام پر ایک مکّھی مار دیں۔ وہ تندرست ہو جائیں گے ۔ آپ رضی اللہ عنہا اپنے شوہر کی خدمت میں آئیں اور طبیب کی بات عرض کی۔ حضرت ایوب علیہ السلام یہ سن کر غصے میں آگئے اور فرمایا۔ اے اللہ کی بندی، وہ ابلیس شیطان تھا۔اور تیرے ذریعے میرے صبر اور شکر کو توڑنا چاہتا تھا۔ حالانکہ تو یہ بات اچھی طرح جانتی ہے کہ مجھے اپنے اللہ تعالیٰ پر اتنا بھروسہ ہے کہ میں صرف ایک دعا کروں گا اور اللہ تعالیٰ فوراً میری تکلیف اور مصیبت ختم کر دے گا۔ لیکن میں بھی یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ مجھ سے کب تک صبر اور شکر ہو سکتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ بھی یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ میرا بندہ ایوب ( علیہ السلام ) میری آزمائش پر کتنا صبر اور شکر ادا کر سکتا ہے۔ اور میں قسم کھاتا ہوں کہ جب اللہ تعالیٰ مجھے تندرستی اور شفاءعطا فرمائے گا تو میں تجھے سو 100کوڑے ماروں گا۔ آپ علیہ السلام کی زوجہ محترمہ نے یہ گفتگو سنی تو سمجھ گئیں کہ ابلیس شیطان نے مجھے بہکایا ہے ۔ وہ فوراً توبہ کرنے لگیں۔

حضرت ایوب علیہ السلام کی دعا

اللہ تعالیٰ نے سورہ الانبیاءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ایوب ( علیہ السلام ) کی اُس حالت کو یاد کرو جب اُس نے اپنے رب ( اللہ تعالیٰ) کو پکارا۔ ( اے اللہ تعالیٰ) مجھے یہ بیماری لگ گئی ہے۔ اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ “ ( سورہ الانبیاءآیت نمبر83) اللہ تعالیٰ نے سورہ صٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہمارے بندے ایوب ( علیہ السلام ) کا ذکر کرو۔ جب اُ س نے اپنے رب ( اللہ تعالیٰ ) کو پکارا کہ شیطان نے مجھے رنج اور دکھ پہنچایا ہے۔“ ( سورہ ص ٓ آیت نمبر41) ان دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کی دعا کا ذکر فرمایا ہے۔ ان الفاظ پر غور کریں اور حضرت ایوب علیہ السلام کا اللہ تعالیٰ پر توکل یعنی بھروسہ کا اندازہ کریں ۔ سورہ الانبیاءکی آیت میں الفاظ ” مَسَّنی ِ الضُّرُّ “ ہے۔ یعنی تکیف نے مجھے چھو لیا ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ سے آپ علیہ السلام نے صرف اپنی تکلیف کا ذکر کیا اور اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان فرمائی۔ آپ علیہ السلام کو اتنا یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ ضرور میری تکلیف دور فرمائیں گے۔ اتنے برسوں تک بیماری میں مبتلا رہنے کے بعد آخر آپ علیہ السلام نے کیوں دعا مانگی اور کس تکلیف نے آپ علیہ السلام کے دل کو چھو لیا تھا۔ اس کی وجہ ایک واقعہ ہے۔

دعا مانگنے کی وجہ

حضرت ایوب علیہ السلام کی آزمائش جاری تھی۔ اور آپ علیہ السلام انتہائی صبر اور شکر سے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر رہے تھے۔ لیکن ایک واقعہ نے آپ علیہ السلام کےدل کو چھو لیا۔ آپ علیہ السلام اپنی زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا سے بہت محبت کرتے تھے۔ اور وہ بھی بے حد محبت کرتی تھیں۔ اور برسوں آپ علیہ السلام کی ایسے وقت میں خدمت کرتی رہیں ۔ آپ علیہ السلام کے پورے بدن پر پھوڑے تھے اور اُن سے مواد ( پیپ) بہتی رہتی تھی۔ اگر آپ علیہ السلام کی زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا ہاتھ پکڑ کر اٹھانے کی کوشش کرتیں تو پھوڑوں کی وجہ سے آپ علیہ السلام کو بہت شدید تکلیف ہوتی تھی اور اُن کی بیوی رضی اللہ عنہا کے ہاتھوں میں مواد بھر جاتی تھی۔ اسی لئے انہوں نے اس کاراستہ یہ نکالا کہ اُن کے بال بہت لمبے لمبے تھے وہ اپنے بالوں کو لٹکا کر آپ علیہ السلام پر جھک جاتی تھیں۔ حضرت ایوب علیہ السلام کی ہتھیلیاں اور تلوے کسی حد تک محفوظ تھے۔ اسی لئے حضرت ایوب علیہ السلام اپنی ہتھیلیوں سے مضبوطی سے اُن کے بالوں کو پکڑ لیتے تھے۔ اور ان کے سہارے اٹھ کر کھڑے ہوتے تھے۔ اور پیشاب اور پاخانے کے لئے جاتے تھے۔ پھر واپس آکر اسی طرح اپنی بیوی رضی اللہ عنہا کے بالوں کو پکڑ کر بیٹھتے یا لیٹے تھے۔ جب کئی برس گزر گئے تو ابلیس شیطان نے لوگوں کے دلوں میں وسوسے پیدا کرنا شروع کر دیاکہ حضرت ایوب علیہ السلام کی بیوی رضی الہ عنہا کو کام نہیں دیا جائے ۔ کہیں ایس انہ ہو کہ ان کے ذریعے حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری ہمارے اندر آجائے۔ اس طرح تمام بستی والوں نے آپ رضی اللہ عنہا کو کام نہیں دیا۔ اور بھوکوں مرنے کی حالت ہو گئی۔ کئی دنوں کی بھوکی آپ رضی اللہ عنہا لوگوں سے کام مانگ رہی تھیں کہ ایک امیر عورت نے کہا۔ تمہارے بال بہت خوب صورت ہیں۔ یہ مجھے دے دو تو میں تمہیں بہت سارا کھانا دوں گی۔ آپ رضی اللہ عنہا نے اپنا سر منڈوا کر سارے بال اسے دے دیئے۔ اور بدلے میں بہت سارا کھانا لے کر اپنے شوہر کے پاس آئیں۔ آپ علیہ السلام نے حیرانی سے دریافت فرمایا کہ اتنا سارا کھانا کہاں سے آیا تو آپ رضی اللہ عنہا خاموش رہیں۔ جب بہت اصرار کیا تو بتایا کہ اپنا سارا بال اس کھانے کے بدلے دے آئی ہوں۔ اور اپنا سر کھول کر دکھایا تو وہ منڈا ہوا تھا۔ آپ علیہ السلام نے اپنی پیاری بیوی کی یہ حالت دیکھی تو دل دکھ گیا اور پھر آپ علیہ السلام نے دعا فرمائی۔

اللہ تعالیٰ نے رحم فرمایا

حضرت ایوب علیہ السلام نے جب اپنی پیاری زوجہ محترمہ کو اس حال میں دیکھا تو بہت تکلیف ہوئی اور اس تکلیف نے آپ علیہ السلام کے دل کو چھو لیا۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ اے اللہ تعالیٰ، مجھے بیماری ہے اور تکلیف نے میرے دل کو چھو لیا ہے۔ اور شیطان نے مجھے بہت تکلیف پہنچائی ہے۔ اور اے اللہ تعالیٰ، آپ ہی سب سے زیادہ رحم کرنے والے ہیں۔ دیکھا آپ نے ، اگر ہم بیمار ہوتے ہیں تو پہلے تو اپنی تکلیف لوگوں کو بار بار بتاتے ہیں۔ اور پھر اس کے بعد بار بار اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگتے ہیں کہ وہ ہمیں اس بیماری اور تکلیف سے نجات دے۔ اور اب حضرت ایوب علیہ السلام کی دعا پر غور کریں۔ آپ علیہ السلام نے تو دنیا میں کسی سے اپنی تکلیف بیان نہیں فرمائی۔ اور جب اللہ تعالیٰ سے بھی عرض کیا تو بس اتنا ہی کہا کہ شیطان نے مجھے بہت دکھ اور تکلیف پہنچائی ہے۔ اور اب یہ درد میرے دل تک پہنچنے لگا ہے۔ اس کے بعد یہ دعا نہیں فرمائی کہ مجھے اس بیماری سے نجات دے۔ بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان فرمائی۔ یہ اللہ تعالیٰ پر آپ علیہ السلام کا مکمل یقین اور بھروسہ تھا کہ اللہ تعالیٰ ہی سب سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ بھی اپنے پیارے بندے کے انتظار میں تھا کہ میرا بندہ کب مجھے پکارے اور میں اس کے اوپر رحم کروں ۔ اور رحم بھی کر دیا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......! 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں