بدھ، 17 مئی، 2023

04 حضرت یوشع علیہ السلام Story of Prophet Yosha



04 حضرت یوشع علیہ السلام

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر13

قسط نمبر 4

بلعام کا انکار اور پھر اقرار

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت یوشع علیہ السلام اور بنی اسرائیل اور لشکر کے خلاف دعا کرنے کے لئے بلعام کی قوم نے درخواست کی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ بلعام نے کہا۔ تمہاری ہلاکت ہو وہ تو اللہ کے رسول ہیں۔ اُن کے ساتھ فرشتے اور مومنین ہیں۔ میں کیسے چلوں اور ان کے لئے کیسے بد دعا کروں؟اور مجھے جو علم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے وہی میں جانتا ہوں ۔یہ کہہ کر اس نے صاف انکار کر دیا کہ اللہ کے رسول علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے خلاف دعا نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ وہ لوگ حق پر ہیں اور تم لوگ نا حق ہو۔ اور اگر میں نے اُن کے خلاف دعا کرنے کا سوچا بھی تو میرا اور تمہارا بہت بُرا حشر ہو گا۔اس لئے تمہارے لئے بہتر ہے کہ تم اس علاقے کو چھوڑ کر چلے جاﺅ۔ لیکن وہ علاقہ اتنا زرخیز اور ہرا بھرا سر سبز و شاداب تھا کہ اسے چھوڑنے کا بلعام کی قوم کا دل نہیں ہوتا تھا۔ اسی لئے قوم اس کے سامنے عاجزی کا اظہار کرنے لگی۔ اور کہنے لگی کہ ہمارا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔ اور آپ کی دعا قبول ہوتی ہے۔ اگر ان کے خلاف آپ دعا کریں تو ہم آپ کو سونے چاندی میں تول دیں گے اور آپ کو ہمارا حکمراں بنا لیں گے اور طرح طرح ملمع سازی کر کے بلعام کو اپنے جال میں پھنسا ہی لیا۔ اور وہ دنیا میں مبتلا ہو کر فتنہ میں مبتلا ہو گیا۔ اور بنی اسرائیل کے خلاف دعا مانگنے کے لئے تیار ہو گیا۔

 گدھی کے ذریعے سمجھایا

حضرت موسیٰ علیہ السلام ، حضرت یوشع علیہ السلام اور ان کے لشکر کے خلاف دعا کرنے کے لئے بلعام کی قوم نے اسے راضی کر لیا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور دوسرے مفسرین کا بیان ہے کہ بلعام ”اسم اعظم“ جانتا تھا۔ اس کی قوم نے مطالبہ کیا کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم ( بنی اسرائیل ) کے لئے بد دعا کرے اس نے انکار کر دیا۔ لیکن جب انہوںنے اصرار کیا تو وہ اپنی گدھی پر سوار ہو کر بنی اسرائیل کے پڑاﺅ کی طرف چل پڑا۔ لیکن جیسے ہی لشکر پر نگاہ پڑی تو گدھی بیٹھ گئی۔ بلعام نے گدھی کو مارا حتیٰ کہ وہ کھڑی ہو گئی اور کچھ دور چل کر پھر بیٹھ گئی۔ بلعام نے اس مرتبہ اور زیادہ مارا تب وہ اٹھی اور کچھ دور چل کر پھر بیٹھ گئی۔ تیسری مرتبہ اس نے پورا زور لگایا لیکن گدھی نہیں اٹھی۔ اللہ تعالیٰ نے اسے زبان دے دی اور اس نے کہا۔ اے بلعام، کہاں جانا چاہتا ہے؟ کیا تو دیکھ نہیں رہا ہے کہ میرے سامنے فرشتے ہیں جو مجھے آگے بڑھنے سے روک رہے ہیں۔ کیا تو اللہ کے رسول علیہ السلام اور ایمان والوں کے حق میں بد دعا کرنا چاہتا ہے؟لیکن اس کے باوجود بلعام گدھی سے نہیں اترا اور برابر اسے مارتا رہا۔ آخر گدھی بھی اٹھ کھڑی ہوئی اور اسے لے کر چل پڑی۔

بلعام کی دنیا اور آخرت دونوں برباد

اللہ تعالیٰ نے بلعام کو سمجھایا ۔ لیکن وہ دنیا میں مبتلا ہو کر فتنہ میں پڑ گیا تھا۔ اور شیطان اس پر حاوی ہو گیا تھا۔ اس لئے گدھی نے اسے سمجھایا کہ فرشتے ہمارا راستہ روک رہے ہیں پھر بھی وہ نہیں مانا۔ آخر کار گدھی اسے لے کر آگے بڑھی اور پہاڑ پر چرھنے لگی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ بلعام کی گدھی نے کہا۔ اے بلعام ، تیری ہلاکت ہو۔ تو کہاں جا رہا ہے؟ کیا تجھے نظر نہیں آرہا ہے کہ فرشتے میرے سامنے ہیں اور میر اچہرہ واپس پھیر رہے ہیں ۔ کیا تو اللہ کے رسول علیہ السلام اور مومنین کے خلاف بد دعا کرنے جا رہا ہے؟ لیکن بلعام مارنے سے باز نہیں آیا۔ جس وقت بلعام اس حد کو پہنچ گیا کہ اس پر اللہ کی حجت پوری ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو ہٹا دیا اور گدھی کی رسی کھلی چھوڑ دی۔ اور وہ اسے لے کر حسبان نام کے پہاڑ پر چرھی۔ بلعام نے بنی اسرائیل کے لئے بد دعا شروع کی۔ جب وہ بنی اسرائیل کے لئے دعا کرنا چاہتا تو اس کی قوم کے لئے بد دعا نکل جاتی تھی۔ اس طرح مسلسل اس نے کئی مرتبہ اپنی قوم کو بد دعا دی تو قوم نے کہا۔ اے بلعام ، آپ ہمیں بد دعا دے رہے ہیں اور بنی اسرائیل کو دعا دے رہے ہیں۔ بلعام بولا ۔ میں تو بنی اسرائیل کے لئے بد دعا کرنا چاہتا ہوں لیکن میرا بس نہیں چل رہا ہے۔ اتنا کہنے کے بعد ا کی زبان باہر نکل کر سینے تک لٹک گئی۔ اور اس نے کہا۔ میری دنیا اور آخرت دونوں برباد ہو گئی اور میرے پاس مکر و فریب کے سواکچھ نہیں رہا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام بیت المقدس کے قریب پہنچ گئے تھے

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وصال کے بارے میں بہت سے علمائے کرام فرماتے ہیں کہ وادی¿ تیہ میں حضرت ہارون علیہ السلام کے وصال کے دو سال بعد آپ علیہ السلام کا وصال ہوا۔ بہت سے علمائے کرام فرماتے ہیں کہ وادی¿ تیع سے نکلنے کے بعد راستے میں ہوا۔ اور کچھ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام نے ہی بیت المقدس فتح کیا ہے اور حضرت یوشع علیہ السلام لشکر کے اگلے حصے کی کمان سنبھالے ہوئے تھے۔ ان تمام روایتوں کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ بات سمجھ میں آئی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بیت المقدس میں داخل نہیں ہو سکے تھے۔ لیکن بہت قریب پہنچ گئے تھے اور حضرت یوش علیہ السلام کے ہاتھوں بیت المقدس فتح ہوا ہے۔ اور آپ علیہ السلام کا وصال فتح کو دیکھتے ہوئے ہو گیا۔ اب حقیقت کیا ہے؟اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ علامہ ابن کثر لکھتے ہیں ۔ بہر حال صورتِ حال جو بھی ہو جمہور علماءکا اتفاق ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام کا وصال وادی تیہ میں ہوا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وصال سے دو سال قبل ہوا۔ اور جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر آئے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا وصال بھی وادی تیہ میں ہوا تھا۔ لیکن آپ علیہ السلام نے یہ دعا کی تھی کہ انہیں بیت المقدس کے قریب کر دیا جائے اور اتنا قریب کر دیا جائے کہ اگر پتھر پھینکیں تو پہنچ سکے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی یہ دعا سن لی تھی۔ اور بیت المقدس کے قریب کر دیا۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سرخ پہاڑ کے دامن میں دفن کئے گئے۔

بنی اسرائیل کی فتح

حضرت یوشع علیہ السلام کے مقابلے میں بلعام بن باعورا بددعا کرنے میں ناکام رہا۔ ادھر حضرت یوشع علیہ السلام نے میدان میں حملے کی تیاری مکمل کر لی تھی۔ بس اسی انتظار میں تھے کہ دشمن شہر سے باہر آئیں اور مقابلہ ہو۔ لیکن کئی دن کے انتظار کے بعد بھی شہر کا دروازہ نہیں کھولا گیا۔ ( پہلے زمانے میں شہروں کے اطراف بہت اونچی دیوار ہوتی تھی اور ان میں بڑے بڑے دروازے بھی ہوتے تھے) ایک دن اچانک آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو نرسنگے ( قرن ، بگل) پھونکنے کا حکم دیا۔ اور بنی اسرائیل ایک فصیل پر ٹوٹ پڑے اور اسے گراکر شہر میں داخل ہو گئے۔ بلعام کی قوم نے مقابلہ کرنے کی کوشش کی لیکن شکست ہوئی۔ اور بنی اسرائیل کو فتح حاصل ہو گئی۔

اریحا کی فتح اور سورج کا ٹھہرنا

حضرت یوشع علیہ السلام بنی اسرائیل کے لشکر کو لے کر اریحا تک پہنچ گئے۔ بیت المقدس سے اریحا کا فاصلہ لگ بھگ چالیس پچاس میل یعنی سو100کلو میٹر کے آس پاس ہے۔ آپ علیہ السلام کے حکم سے بنی اسرائیل نے شہر کا محاصرہ کرلیا۔ اریحا( بائیبل میں پریحولکھا ہے) کی شہر پناہ بہت اونچی تھی۔ اور یہ کوئی عام شہر نہیں تھا۔ اس میں سینکڑوں جنگجو ہر وقت لڑائی کے لئے تیار رہتے تھے۔ حضرت یوشع بن نون علیہ السلام نے چھ مہینے تک اس محاصرہ کئے رکھا۔ آکر کار مجبور ہو کر شہر کے لوگ باہر آئے اور مقابلہ کرنے لگے۔ یہ مقابلہ کئی دنوں تک چلا ۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ یہ محاصرہ جمعہ کی عصر تک طویل ہو گیا تھا۔ جب سورج غروب ہو گیا یا غروب ہونے کے قریب تھا اور سبت ( سنیچر) کا دن شروع ہونے والا تھا۔ جس میں ان کے ( بنی اسرائیل کے ) لئے کوئی کام کرنا جائز نہیں تھا۔ تو حضرت یوشع علیہ السلام نے سورج سے فرمایا۔ اے سورج ، تو بھی اللہ کے حکم کا پابند ہے اور میں بھی ۔ پھر دعا کی۔ اے اللہ تعالیٰ، سورج کو غروب ہونے سے روک لے۔ اللہ تعالیٰ نے سورج کو روک دیا ۔ یہاں تک کہ اریحا ( پریحو) کا شہر فتح ہو گیا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کے سوا سورج کسی کے لئے نہیں رکا۔ اس رات جس میںحضرت یوشع بن نون علیہ السلام بیت المقدس کی طرف روانہ ہوئے۔

مالِ غنیمت میں خیانت

حضرت یوشع علیہ السلام نے اریحا فتح ہو جانے کے بعد حکم دیا کہ تمام مال غنیمت ایک جگہ جمع کر دیا جائے۔ جب تمام مال غنیمت جمع ہو گیا تو آپ علیہ السلام نے دعا کی۔ اے اللہ تعالیٰ اسے قبول فرما لے۔ لیکن آسمان سے کوئی آگ نہیں آئی اور وہ ویسے ہی پڑا رہا۔ در اصل پہلے کے انبیائے کرام علیہم السلام کی شریعت میں مالِ غنیمت ( جنگ میں فتح کے بعد حاصل ہوا مال ) حلال نہیں تھا۔ فتح حاصل ہونے کے بعد تمام مال غنیمت ایک جگہ جمع کر دیا جاتا تھا اور اس کی قبولیت کی نشانی یہ ہوتی تھی کہ آسمان سے ایک آگ آکر اس مال غنیمت کو کھا جاتی تھی۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے ہم پر احسان ہے کہ اس نے ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت میں مال غنیمت حلال کر دیا ۔ بہر حال جب آسمان سے آگ نے آکر مال غنیمت کو نہیں کھایا تو حضرت یوشع علیہ السلام نے فرمایا کہ کسی نے مال غنیمت میں خیانت کی ہے۔ اور اس میں سے کچھ لے کر اپنے پاس رکھ لیا ہے۔ جس نے بھی جو بھی لیا ہے وہ خاموشی سے لا کر رکھ دے۔ تو اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دے گا۔ اور اگر اسے ڈھونڈ کر نکالا تو سزا دی جائے گی۔

خیانت کرنے والے کی گرفتاری

حضرت یوشع علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے پورے لشکر میں اعلان کروا دیا کہ جس نے اللہ تعالیٰ کی امانت مال غنیمت میں سے اپنے پاس چھپا کر رکھ لیا ہے۔ وہ اسے لا کر تمام مال غنیمت میں جمع کر دے۔ کئی گھنٹوں کے انتظار کے بعد بھی کوئی نہیں آیا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تمام لوگ میرے ہاتھ پر آکر بیعت کریں۔ سب لوگ بیعت کرنے لگے تو ایک شخص کا ہاتھ آپ علیہ السلام کے ہاتھ سے چپک گیا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ آپ علیہ السلام ( حضرت یوشع) نے لشکر کشی کی اور عصر کی نماز پڑھ کر یا س کے نزدیکی کسی وقت میں ایک بستی کے قریب پہنچے اور سورج سے کہا۔ تو بھی اللہ کے حکم کا پابند ہے اور میں بھی۔ پھر دعا فرمائی۔ اے اللہ تعالیٰ، اسے کچھ دیر کے لئے میرے لئے روک دے ۔ سورج آپ علیہ السلام کے لئے ٹھہر گیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے بستی کو فتح کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ انہوں نے مال غنیمت جمع کیا۔ آگ نمودار ہوئی لیکن کھا نہیں سکی۔ اللہ کے اس نبی علیہ السلام نے فرمایا۔ تمہارے اندر کھوٹ ہے۔ ہر قبیلہ سے ایک شخص میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیعت کرے۔ ایک قبیلے کے شخص کا ہاتھ آپ علیہ السلام کے ہاتھ پر چپک گیا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تمہارے قبیلے میں سے کچھ لوگوں نے خیانت کی ہے۔ اس لئے تمہارے قبیلہ کے تمام لوگ بیعت کریں۔ پورے قبیلے نے بیعت کی۔ اُن میں سے دو یا تین لوگوں کا ہاتھ آپ علیہ السلام کے ہاتھ پر چپک گیا۔ ان لوگوں نے گائے کے سر کے برابر سونا لا کر دیا۔ اللہ کے نبی علیہ السلام نے فرمایا ۔ اسے مال غنیمت میں رکھ دو۔ جیسے ہی یہ سونا رکھا گیا آسمان سے آگ آئی اور مال غنیمت کو کھا لیا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......! 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں