ہفتہ، 27 مئی، 2023

04 حضرت سلیمان علیہ السلام Story of Prophet Suleman


04 حضرت سلیمان علیہ السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 15

ھُد ھُد کی غیر حاضری

اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” آپ (علیہ السلام ) نے پرندوں کی دیکھ بھال کی اور فرمانے لگے۔ یہ کیا بات ہے کہ ہد ہد دکھائی نہیں دے رہا ہے؟ کیا واقعی وہ غیر حاضر ہے؟ یقینا میں اسے سخت سزاد وں گا۔ یا اسے ذبح کر ڈالوں گا۔ یا پھر میرے سامنے وہ ( اپنی غیر حاضری کی ) صحیح اور صریح دلیل پیش کرے۔“( سورہ النمل آیت نمبر20اور 21)حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک سفر کا ارادہ فرمایا اور تمام لوگوں کو حاضر ہونے کا حکم دیا۔ تخت بچھا کر سب سامان رکھ دیا گیا۔ اور تمام مخلوق حاضر ہو گئی ۔ آپ علیہ السلام بھی اپنی کرسی پر تشریف فرما ہو گئے اور تمام لوگ اپنی اپنی نشست پر بیٹھ گئے۔ اور ہوا بھی انتظا رمیں ہو گئی کہ حضرت سلیمان علیہ السلام حکم دیں اور میں تخت کو اٹھا کر لے چلوں۔ تمام پرندے بھی آگئے۔ لیکن ھُد ھُد نہیں آیا۔ آپ علیہ السلام کا یہ قاعدہ تھا کہ ہر سفر میں ھُد ھُد کو ساتھ رکھتے تھے۔ اور اس کا کام پانی کی تلاش کرنا رہتا تھا۔ کیوں کہ صحرا میں دور دور تک پانی کا نام و نشان دکھائی نہیں دیتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ھُد ھُد کو ایسی آنکھ اور ایسی صلاحیت عطا فرمائی ہے کہ وہ اڑتے ہوئے بھی زمین کے اندر پانی کو دیکھ لیتا ہے۔ سب تیار بیٹھے تھے۔ جب کافی دیر گزر گئی اور ھد ھد نہیں آیا تو آپ علیہ السلام نے سفر منسوخ کردیا اور فرمایا۔ اگر اس نے اپنے غائب ہونے کی معقول وجہ نہیں بتائی تو میں اسے سخت سزاد وں گا۔ اتنے میں ھد ھد آگیا۔

ھُد ھُد کی تلاش کیوں

حضرت سلیمان علیہ السلام ھُد ھُد کے انتظار میں تھے ۔ آخر آپ علیہ السلام ھدھد کی تلاش کیوں کرنے لگے۔ علامہ محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی لکھتے ہیں۔ کہ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ آپ علیہ السلام نے ہد ہد کو اس لئے طلب فرمایا تھا کیوں کہ آپ علیہ السلام کو پانی کی معرفت کی ضرورت پڑ گئی تھی کہ وہ زمین کے اندر کہاں ہے؟ یہ اس لئے ہوا کہ آپ علیہ السلام نے ایسے جنگل میں پڑاﺅ ڈالا تھاجہاں پانی نہیںتھا۔ اور ھد ھد زمین کے ظاہر اور اس کے باطن ( اندر ) دیکھ لیتا ہے۔ کہ کہاں کتنا نیچے پانی ہے۔ اور وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو پانی کی جگہ سے آگاہ کر دیا کرتا تھا۔ پھر جنات تھوڑے ہی وقت میں پانی نکال لیا کرتے تھے۔ وہ روئے زمین کو یوں الگ کر لیتے تھے جیسے بکری کو چمڑا اتار ا جاتا ہے۔ (یعنی حضرت سلیمان علیہ السلام کے حکم سے ھد ھد کی نشاندہی پر جنات وہاں کنواں کھود دیتے تھے) یہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے جو حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ھد ھد کا ہی کیوں پوچھا۔ تو انہوں نے جواب میں فرمایا کہ پانی کی ضرورت تھی اور آپ علیہ السلام نہیں جانتے تھے کہ پانی کہاں کم گہرائی میں ہے۔ جب کہ ھد ھد زمین کے اندر پانی کو دیکھ کر بتا دیتا تھا کہ یہاں پانی کم گہرائی میں ہے۔ اسی لئے ھد ھد کو تلاش کیا۔

ملکۂ سبا ( بلقیس) کی خبر

اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” کچھ زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ آکر اس نے (ھد ھد نے) کہا۔ میں ایک ایسی خبر لے کر آیا ہوں جس کی آپ (علیہ السلام )کو خبر ہی نہیں ہے۔ ( یا جسے سن کر آپ علیہ السلام حیران ہو جائیں گے) میں ملک سبا کی ایک سچی خبر لے کر آیا ہوں۔ میں نے دیکھا کہ اُن کی بادشاہت ایک عورت کر رہی ہے۔جسے ہر قسم کی چیز ( نعمتوں) سے کچھ نہ کچھ دیا گیا ہے۔ اور اس کا تخت بھی بڑی عظمت والا ہے۔ میں نے اسے اور اس کی قوم کو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہوئے پایا ہے ۔ شیطان نے اُن کے کام انہیں بھلے کر کے دکھلا کر صحیح راہ سے روک دیا ہے۔ پس وہ ہدایت پر نہیں ہیں۔ کہ اسی اللہ کو سجدہ کریں جو آسمان اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کو باہر نکالتا ہے۔ اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اور ظاہر کرتے ہو وہ سب کچھ جانتا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے۔ وہی عظمت والے عرش کا مالک ہے۔“(سورہ النمل آیت نمبر22سے 25تک) حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں کچھ دیر بعد ھد ھد آگیا۔ اور اس نے اپنے غائب رہنے کی وجہ یہ بتائی کہ میں اتفاق سے ایک ایسے علاقے میں پہنچ گیا جو ملک سبا کہلاتا ہے۔ وہاں میں نے دیکھا ایک عورت وہاں حکمراں ہے اور وہاں کے لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں کرتے ہیں بلکہ سورج کی پوجا کرتے ہیں۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا کی ہر نعمت عطا فرمائی ہے۔ لیکن شیطان ابلیس نے انہیں ورغلا کر انہیں شرک میں مبتلا کر دیا ہے۔ اور وہ لاعلمی میں اپنے اعمال کو صحیح سمجھ رہے ہیں۔ جب کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔

ملکۂ سبا ( بلقیس) کا تعارف

حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر ھد ھد نے ملکہ سبا اور اس کی قوم کے شرک کے بارے میں خبر دی۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ اور وہ یہ خبر ہے کہ ملک سبا میں ایک عورت ہے جو بادشاہت کر رہی ہے۔ اسے دنیا کی ہر نعمت میسر ہے اور ساتھ ساتھ وہ ایک عظیم تخت کی مالک ہے۔ ھد ھد نے یمن کے علاقوں میں سے ایک علاقے کی ملکہ ، اس کے وزراءاور اعیانِ حکومت کے بارے میں تمام تفصیلات بتائیں۔ یہ بھی بتایا کہ بادشاہ کی چونکہ نرینہ اولاد نہیں تھی۔ اسی لئے اس کے انتقال کے بعد اس کی بیٹی کو وہاں کی عوام نے اپنا بادشاہ مقرر کر دیا ہے۔ اور وہ باپ کے تاج کی وارث قرار پائی ہے۔ یہ عورت بلقیس بنت سیرح تھی۔ سیرح کا اصل نام ھد ھاد تھا۔ ایک روایت میں اس کا نام سراحیل بن زی جدن بن سیرح بن حارث بن قیس بن صیفی بن سبا بن یشحب بن یعرب بن قحطان تھا۔ بلقیس کا باپ بہت بڑا بادشاہ تھا۔ اس نے یمن کی کسی بھی عورت سے نکاح کر نے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس نے ایک عورت سے شادی کی جس کا تعلق جنات کی نسل سے تھا۔ اور اس کا نام ریحانہ بنت سکن تھا۔ اسی کے بطن سے بلقیس پیدا ہوئی۔ اس بچی کا نام تنقمہ رکھا گیا اور اسے بلقیس کہتے تھے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں بلقیس کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ”وہ قوم ہر گز فلاح نہیں پائے گی جنہوں نے عورت کو حکمراں بنا دیا۔“ علامہ قرطبی لکھتے ہیں کہ سبا ایک شہر کا نام ہے جو مآرب کے نام سے معروف تھا۔ یہ یمن میں واقع ہے۔ اس کے اور صنعا کے درمیان تین دن کی مسافت ہے۔ اس عورت کا نام بلقیس بنت شراحیل تھا۔ جو اہل سبا کی ملکہ تھی۔

ملکۂ سبا کا تخت

حضرت سلیمان علیہ السلام کو ھد ھد نے بتایا کہ ملکہ سبا کا تخت بہت شاندار ، انواع و اقسام کے لعل و جواہر سے مرصع ہے۔ اور بڑے قیمتی اور نایاب زیورات سے سجا ہوا ہے۔ علامہ محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی لکھتے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ اس کے تخت کی لمبائی اسّی 80ہاتھ تھی۔ اور چوڑائی چالیس 40ہاتھ تھی۔ اور اونچائی تیس 30ہاتھ تھی۔ جس پر موتیوں ،سرخ یاقوت اور سر سبز جد کا تاج تھا۔ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ملکہ سبا کے تحت کے پائے موتیوں اور جواہرات کے تھے۔ اس پر دیباج (ریشم کی ایک قسم ) اور حریر کے پردے تھے۔ اس کے سات تالے تھے۔ یعنی وہ سات کمروں کے اندر رکھا جاتا تھا۔ حضرت مقاتل رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ وہ تخت اسّی80ہاتھ لمبا ، اسّی ہاتھ چوڑا ، اسّی 80ہاتھ اونچا تھا۔ اس میں جواہرات جڑے ہوئے تھے۔ محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ملکہ سبا کی خدمت گار عورتیں تھیں۔ اور ان کی تعداد چھ سو600تھی۔ امام ابن عطیہ کہتے ہیں کہ وہ ملک یمن کے شہروں کی ملکہ تھی۔ اس کی حکومت عظیم تھی۔ اس کا تخت عظیم تھا۔اور وہ ایک کافر قوم کی کافر ملکہ تھی۔ ایک روایت میں ہے کہ وہ قوم زنادقہ تھی۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کا خط

اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” سلیمان (علیہ السلام ) نے فرمایا۔ اب ہم دیکھیں گے کہ تو نے سچ کہا ہے یا جھوٹ کہا ہے۔ میرے اس خط کو لے جا کر اسے دیدے۔ پھراس کے پاس سے ہٹ آ۔ اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں؟“(سورہ نمل آیت نمبر27اور 28) حضرت سلیمان علیہ السلام نے جب ھد ھد سے ملکہ سبا ( بلقیس اور اس کی قوم کے شرک کے بارے میں سنا تو فرمایا۔ ٹھیک ہے ہم اس معاملے کی پوری تحقیق کریں گے۔ اس کے بعد ایک خط لکھوایا۔ اور ھد ھد کو دے کر فرمایا۔ تم یہ خط لے کر ملکہ سبا کے پاس جاﺅ اور اسے دو۔ اس کے دیکھو کہ وہ کیا کرتی ہے۔ اور اس کی مشرک قوم کیا کہتی ہے۔ اس کی پوری رپورٹ آکر ہمیں بتاﺅ۔ ھد ھد آپ علیہ السلام کا خط لے کر ملکہ سبا کی خواب گاہ میں گیا اور اس کی گود میں ڈال دیا۔ اور باغ کے ایک درخت پر بیٹھ گیا۔ ملکہ سبا نے حیرت سے خط کو دیکھا اور ھد ھد کو دیکھا۔ خط پر حضرت سلیمان علیہ السلام کی مہر لگی ہوئی تھی۔ اس نے خط کھولا اور پڑھنے لگی۔ خط پڑھنے کے بعد بہت دیر تک غورو فکر میں ڈوبی رہی۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں کہ ھد ھد جب ملکہ سبا کے محل میں پہنچا تو اس نے دیکھا کہ بلقیس اپنی خواب گاہ میں ہے۔ اور اندر جانے کے تمام راستے بند تھے۔ محل کے اندر اور باہر چاروں طرف زبردست پہرہ تھا۔ ھد ھد پہریداروں کو چکمہ دے کر محل کے اندر پہنچا اور روشن دان کے ذریعے خواب گاہ میں داخل ہوا۔ اور خط ملکہ بلقیس پر پھینک دیا۔ وہ اس وقت سوئی ہوئی تھی ۔ اس نے وہ روشن دان اس لئے بنوایا تھا تا کہ سورج کے طلوع ہونے کے وقت روشنی اس سے داخل ہو اور وہ سورج کی عبادت کر سکے۔ جب وہ بیدار ہوئی تو اس خط کو پایا۔خط دیکھ کر وہ خوف زدہ ہو گئی۔ اسے گمان ہو ا کہ کوئی اس کے کمرے میں داخل ہوا ہے۔ پھر اس نے جائزہ لیا اور ہر طرف دیکھنے کے بعد روشن دان کی طرف دیکھا تو اسے ھد ھد نظر آیا اور وہ سمجھ گئی کہ یہی وہ قاصد ہے ۔ اس نے خط پر حضرت سلیمان علیہ السلام کی مہر لگی ہوئی دیکھی تو کانپ گئی۔ کیوں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت کی وسعت اور طاقت سے ہر حکمراں واقف تھے۔ اس نے خط پڑھا اور کافی غورو فکر کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچی کہ میری حکومت کے ذمہ داران سے مشورہ کر نا چاہیے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........! 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں