04 حضرت شعیب علیہ السلام
سلسلہ نمبر 11
تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 4
قوم نے آپ علیہ السلام کا مذاق اڑایا
حضرت شعیب علیہ السلام کی محبت بھری دعوت و تبلیغ کے جواب میں قوم نے آپ علیہ السلام کا مذاق اڑایا۔ مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی لکھتےہیں ۔ یہ لوگ بھی مشرک تھے۔ غیر اللہ کی عبادت کرتے تھے۔ اور لوگوں کو جو مال بیچتے تھے تو ناپ تول میں کمی کرتے تھے۔ حضرت شعیب علیہ السلام نےا ُن کو تبلیغ کی اور اُن سے فرمایا کہ صر ف اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیںہے ۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ لوگوں کو ان کے مال پورے پورے انصاف کے ساتھ دو۔ ناپ تول میں کمی نہ کرو۔ اللہ کا دیا ہوا جو حلال مال بچ جائے وہ تمہارے لئے بہتر ہے اس مال سے جو تم ناپ تول میں کٹوتی کر کے حاصل کرتے ہو۔ حلال میں برکت ہوتی ہے چاہے وہ کم ہی ہو۔ حرام چاہے زیادہ ہو لیکن اس میں برکت نہیں ہوتی ہے۔ اور آخرت میں دوزخ میں لے جانے والا ہوتا ہے۔ لہٰذا تم حلال پر اکتفا کرو اور زمین میں فساد نہ مچاﺅ اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ میں تمہارا پہرہ دار نہیں ہوں کہ تم سے زبردستی وہ عمل کرواﺅں جس کا میں حکم دے رہا ہوں۔ جو ب میں وہ لوگ بیہودگی پر اتر آئے اور کہنے لگے۔ کہ واہ میاں تم بڑے نمازی آئے ، کیا تمہاری نماز یہ بتاتی ہے کہ ہم اُن چیزوں کی عبادت چھوڑ دیں جن کی ہمارے باپ دادا کرتے ہوئے آئے ہیں۔ نماز کا ذکر انہوں نے استہزاءاور تمسخر کے طور پر کیا۔ اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ تمہاری نماز عجیب ہے۔ ہم جو سامان بیچتے ہیں اس پر پابندی لگا تی ہے۔ ہمارا مال ہے ۔ اسے ہم جیسے چاہیں بیچیں۔ پورا ناپ تول کر دیں یا ناپ تو ل میں کمی کرکے دیں۔ تمہیں اور تمہاری نماز کو اس سے کیا سروکار ہے۔ تم تو بڑے بردبار نیک چلن معلوم ہوتے ہو۔ یہ بھی انہوں نے بطور تمسخر کہا۔
کیا تمہاری نماز یہی حکم دیتی ہے؟
حضرت شعیب علیہ السلام کی محبت آمیز دعوت و تبلیغ کا اُن کی قوم طعنے بھرے جوب دے رہی تھی۔ مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں۔ یعنی کیا تمہاری نماز تمہیں یہ بتلاتی ہے کہ ہم اُن معبودوں کو چھوڑ دیں جن کو پوجا ہمارے آباﺅ اجداد کرتے چلے آئے ہیں۔ اور یہ کہ ہم اپنے مملوک امول میں میں خود مختار نہ رہیں کہ جس طرح ہمارا جی چاہے معاملہ کریں۔ بلکہ اپنے معاملات میں بھی آپ علیہ السلام سے پوچھ پوچھ کر کریں کہ کیا حلال ہے اور کیا حرام ہے؟ حضرت شعیب علیہ السلام کی نماز پوری قوم میں معروف تھی کہ آپ علیہ السلام بکثرت نوافل و عبادات میں لگے رہتے تھے۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں ۔ یہ در اصل ایک طعن آمیز فقرہ ہے۔ جس کی روح آج بھی آپ ہر اُس سوسائٹی میں موجود پائیں گے جو اللہ تعالیٰ سے غافل اور فسق و فجور میں ڈوبی ہوئی ہو۔ چونکہ نماز دینداری کا سب سے پہلا اور سب سے زیادہ نمایاں مظہر ہے۔ اور دینداری کو فاسق وفاجر لوگ ایک خطرناک ، بلکہ سب سے زیادہ خطرناک مرض سمجھتے ہیں۔ اسی لئے نماز ایسے لوگوں کی سوسائٹی میں عبادت کی بجائے علامتِ مرض شمار ہوتی ہے۔ کسی شخص کو اپنے درمیان نماز پڑھتے دیکھ کر انہیں فوراً یہ احساس ہو جاتا ہے کہ اس شخص پر ”مرض دینداری“ کا حملہ ہو گیا ہے۔ پھر یہ لوگ دینداری کی اس خاصیت کو بھی جانتے ہیں کہ یہ چیز جس شخص کے اندر پیدا ہو جاتی ہے وہ صرف اپنے حسن عمل پر قانع نہیں رہتا ہے۔ بلکہ دوسروں کو بھی درست کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور بے دین و بد اخلاقی پر تنقید کئے بغیر اس سے رہا نہیں جاتا۔ اسی لئے نماز پر اُن کا اضطراب صرف اس حیثیت سے نہیں ہوتا کہ اُن کے ایک بھائی پر دینداری کا دورہ پڑ گیا ہے بلکہ اس کے ساتھ ہی انہیں یہ کھٹکا بھی لگ جاتا ہے کہ اب عنقریب اخلاق و دیانت کا وعظ شروع ہونے والا ہے۔ اور اجتماعی زندگی کے ہر پہلو میں کیڑے نکالنے کا ایک لا متناہی سلسلہ چھڑ ا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی سوسائٹی میں ماز سب سے بڑھ کر طعن و تشنیع کی ہدف بنتی ہے۔ اور اگر کہیں نماز ی آدمی ٹھیک ٹھیک انھی اندیشوں کے مطابق جو اس کی نماز سے پہلے ہی پیدا ہو چکے تھے برائیوں پر تنقید اور بھلائیوں کی تلقین بھی شروع کر دے۔ تب تو نماز اس طرح کو سی جاتی ہے کہ ساری بلا اُسی کی لائی ہوئی ہے۔
قوم کو پھر محبت سے سمجھایا
حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم آپ علیہ السلام کا مذاق اڑانے لگی۔ پھر آپ علیہ السلام نے انہیں بڑی محبت سے سمجھایا ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہاری طرف اپنا نبی بنا کر بھیجا ہے اور میں تمہاری دنیا اور آخرت کی بھلائی اور کامیابی کی بتا رہا ہوں۔ تم لوگ اس پر عمل کرو گے تو تمہارا ہی فائدہ ہو گااور نہیں عمل کرو گے تو تمہارا ہی نقصان ہوگا۔ اور میرا تو بالکل ایسا ارادہ نہیں ہے کہ جس عمل سے تمہیں روک رہا ہوں میں خود وہ عمل کروں۔ بلکہ میں تو خود اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایات کے مطابق عمل کرتا ہوں۔ اور تمہارے لئے بھی یہی کوشش کرتا ہوں کہ تم بھی اللہ تعالیٰ کی ہدایات کے مطابق زندگی گزارو۔ اور میں یہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہی کرتا ہوں اور اسی پر مجھے مکمل بھروسہ ہے۔ اس کے بارے میں روشن دلیل لئے ہوئے ہوں اور اُس نے مجھے اپنے پاس سے بہترین روزی دے رکھی ہے۔ میرا یہ ارادہ بالکل نہیں ہے کہ تمہارا خلاف کر کے خود اس چیز کی طرف جھک جاﺅں جس سے تمہیں روک رہا ہوں۔ میرا ارادہ تو اپنی طاقت بھر تمہاری اصلاح کرنے کا ہے۔ اور میری توفیق اللہ ہی کی مدد سے ہے۔ اسی پر میرا بھروسہ ہے اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔“
کچھ لوگوں نے اسلام قبول کیا
حضرت شعیب علیہ السلام انتہائی محبت اور شفقت سے اپنی قوم کو سمجھا رہے تھے۔ اور اس کا کافی اثر بھی قوم پر پڑا تھا۔ آپ علیہ السلام کی پوری قوم عزت کرتی تھی۔ اس لئے آپ علیہ السلام کی بات کو توجہ سے سنتی تھی۔ لیکن قوم کا دولت مند طبقہ تھا۔وہ آپ علیہ السلام کا سب سے بڑا دشمن بن گیا اور آپ علیہ السلام کی دعوت میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گیا۔ قوم کا متوسط طبقہ اور غریب لوگ آپ علیہ السلام کی اسلام کی دعوت سے متاثر ہوئے اور اسلام قبول کیا۔ آپ علیہ السلام کی قوم تجارت پیشہ تھی اور سب لوگ تجارت سے منسلک تھے۔ اور ان کے علاقے میں بہت بڑی بڑی تجارتی منڈیاں تھیں۔ اور ان منڈیوں پر آپ علیہ السلام کی قوم کے بڑے بڑے بیوپاریوں کا قبضہ تھا۔ اور وہ لوگ اپنی قوم کے غریب تاجروں کا استحصال کرتے تھے۔ اور دوسرے ممالک کے تاجروں اور تجارتی قافلوں کے ساتھ تو ان کا سلوک بہت ہی برا تھا۔ اس زمانے میں درہم اور دینار ( اس وقت کا روپیہ اور پیسہ) چاندی اور سونے کے ہوتے تھے۔ یہ لوگ دوسرے ملکوں کے تاجروں کے درہموں اور دیناروں کو سورے سے اُن کی نظر بچا کر اُن کے کناروں کو کاٹ دیتے تھے اور کہتے تھے ، یہ کھوٹے ہیں۔ اس کے علاوہ اُن سے اچھا مال سستے داموں میں خریدتے تھے اور اپنا خراب مال مہنگے داموں میں بیچتے تھے۔ جب ان کی قوم کے کچھ لوگوں نے اسلام قبول کیا تو یہ لوگ ان کے بھی دشمن بن گئے۔ اور ان کے ساتھ انتہائی حقار ت آمیز سلوک کرنے لگے۔ لیکن جو شخص آپ علیہ السلام کی دعوت کو قبول کر لیتا تھاتو وہ سختی سے اسلام پر جم جاتا تھا۔ اور ہر تکلیف اور مصیبت کو خوشی خوشی برداشت کر تا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا) اور تم سڑکوں پر اس غرض سے مت بیٹھا کرو کہ اللہ پر ایمان لانے والے کو دھمکیاں دو اور اللہ کی راہ سے روکو اور اس میں کجی کی تلاش میں لگے رہو۔ اور اُس حالت کو یاد کرو جب کہ تم کم تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تم کو زیادہ کر دیا۔ اور یہ بھی تو دیکھو کہ کیسا انجام ہوا فساد کرنے والوں کا۔ اور اگر تم میں سے کچھ لو گ اس حکم پر جو دے کر مجھے بھیجا گیا ہے۔ اُس پر ایمان لائے ہیں اور کچھ ایمان نہیں لائے ہیں تو ذرا ٹھہر جاﺅ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے۔ اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔“ ( سورہ الاعراف آیت نمبر86، 87)
راستوں پر بیٹھتے تھے
سورہ الاعراف کی آیت نمبر86کی تفسیر میں مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی لکھتے ہیں ۔ یہ لوگ راستوں پر بیٹھ جاتے تھے۔ اور جو لوگ بستی میں ( یعنی ان کی تجارتی منڈیوں میں ) آنے والے ہوتے تھے۔ اُن کو ڈراتے اور دھمکاتے تھے اور کہتے تھے کہ دیکھو اگر تم لوگ شعیب علیہ السلام کی بات مانو گے تو ہم تمہیں مار ڈالیں گے۔ اور ساتھ ہی حضرت شعیب علیہ السلام کے بتائے ہوئے دین میں کجی تلاش کرتے تھے اور سوچ سوچ کر اعتراض نکالتے تھے۔ علامہ ابن کثیر سورہ الاعراف کی آیت نمبر86 اور 87کی تفسیر میں لکھتے ہیں ۔ فرماتے ہیں کہ مسافروں کے راسے میں دہشت گردی نہ پھیلاﺅ۔ ڈاکہ نہ ڈالو اور انہیں ڈرا دھمکا کر اُن کا مال زبر دستی نہ چھینو۔ میرے پاس جو ہدایت کے لئے آنا چاہتا ہے تم اسے خوف زدہ کر کے روک دیتے ہو۔ ایمان والوں کو اللہ کی راہ چلنے میں روڑے اٹکاتے ہو۔ اور حق کے راستے کو ٹیڑھا کر دینا چاہتے ہو۔ ان تمام برائیوں سے بچو۔ یہ بھی ہو سکتا ہے بلکہ زیادہ ظاہر ہے کہ ہر راستے پر نہ بیٹھتے کی ہدایت تو قتل و غارت گری کے سد باب کےلئے جو اُن کی عادت تھی۔ اور پھر راہِ حق سے مومنوں کو نہیں روکنے کی ہدایت بعد میں دی ہو۔ ( اور پھر فرمایا) تم اللہ تعالیٰ کے احسان کو یاد کرو کہ گنتی میںاور قوت میں تم کچھ نہیں تھے۔ بہت ہی کم تھے۔ اس نے تمہاری تعداد بڑھادی اور تمہیں زور آور کر دیا۔ رب کی اس نعمت کا شکریہ ادا کرو۔ عبرت کی آنکھوں سے اُن کا انجام دیکھ لو جو تم سے پہلے ابھی ابھی گزر چکے ہیں۔ جن کے ظلم و جبر کی وجہ سے ، جن کی بد امنی اور فساد کی وجہ سے اللہ کے عذاب اُن قوموں پر ٹوٹ پڑے اور وہ مر مٹ گئے دیکھو میں تم کو صاف بے لاگ ایک بات بتا دوں ۔ تم میں سے ایک گروہ مجھ پر ایمان لا چکا ہے اور ایک گروہ نے میرا نکار کیا ہے۔ اور بری طرح مجھ سے کفر کیا ہے۔ اب تم خود دیکھ لو کہ اللہ کی مدد کس کا ساتھ دیتی ہے۔ اور کون اللہ تعالیٰ کی نظروں سے گر جاتا ہے؟ تم رب کے فیصلے کے منتظر رہو۔ وہ سب فیصلہ کرنے والوں سے اچھا اور سچا فیصلہ کرنے والا ہے۔
قوم شعیب علیہ السلام کی برائیوں پر عمل کرنے پر اُمت مسلمہ کی پکڑ
حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم جن برائیوں میں مبتلا تھی اگر اُن برائیوں میں امت مسلمہ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت) بھی مبتلا ہو جائے تو وہ بھی اسی سزا کی حقدار ہو گی جو حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کو ملی تھی۔ ( یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر قیامت تک جتنے انسان پیدا ہوں گے وہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں۔ ان میں یہودی ، عیسائی، ہندو اور دیگر دوسرے مذاہب بھی آجاتے ہیں) مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں ۔ اس سے پہلے تو ایک خاص جرم سے منع فرمایا گیا تھا۔ جو خرید و فروخت کے وقت ناپ تول میں کمی کی صورت سے کیا جاتا تھا۔ بعد میں لا تبخسو الناس اشیآ ءہم فرما کر ہر طرح کے حقوق میں کتر بیونت اور کمی کو تاہی کو عام کر دیا۔ خواہ وہ مال سے متعلق ہو یا عزت و آبرو سے یا کسی دوسری چیز سے ( بحر محیط) اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح ناپ تول میں حق سے کم دینا حرام ہے۔ اسی طرح دوسرے حقوق انسانی میں کمی کرنا بھی حرام ہے۔ کسی کی عزت و آبرو پر حملہ کرنا۔ یا کسی کے درجہ اور رتبہ کے مطابق اس کا احترام نہ کرنا۔جس جس کی اطاعت واجب ہے اُن کی اطاعت میں کوتاہی کرنا یا جس شخص کی تعظیم و تکریم واجب ہے اس میں کوتاہی برتنا یہ سب امور اسی جرم میں داخل ہیں جو حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کیا کرتی تھی۔ حجتہ الوداع کے خطبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی آبرو کو اُن کے خون کے برابر واجب الاحترام او رقابل ِحفاظت قرار دیا ہے ۔ اس کا بھی حاصل یہ ہے۔ قرآن مجید میں ”مطففین “ اور ”تطفیف “ کا ذکر آیا ہے۔ اس میں یہ سب چیزیں داخل ہیں۔ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو جلدی جلدی رکوع او ر سجدے کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا۔ قد طففت۔ یعنی تو نے ناپ تول میں کمی کر دی۔ مراد یہ ہے کہ جو نماز کا حق تھا وہ تو نے پورا نہیں کیا۔ اس میں حق نماز کو پورا نہیں کرنے کو تطفیف کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.........!
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں