جمعہ، 19 مئی، 2023

04 حضرت شموئیل اور حضرت داﺅد علیہما السلام Story of Prophet Samuel and Dawood




04 حضرت شموئیل اور حضرت داﺅد علیہما السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر14

قسط نمبر 4

بنی اسرائیل کی آزمائش

حضرت شموئیل علیہ السلام نے ”تابوت سکینہ “ طالوت کے حوالے کیا اور تمام بنی اسرائیل نے اسے اپنا بادشاہ تسلیم کر لیا۔ اس کے بعد طالوت نے بنی اسرائیل کو لشکر تیار کیا۔ یہ اسّی80ہزار کا بہت بڑا لشکر جرار تھا۔ طالوت یہ عظیم الشان لشکر لے کر روانہ ہوا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لشکر کی آزمائش لی۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور جب طالوت لشکر کو لے کر چلا تو کہا۔ سنو ، اللہ تعلایٰ تمہیں ایک نہر سے آزمانے والا ہے۔ جس نے اس میں سے پانی لیا وہ میرا نہیں ہے۔ اور جو اسے نہ چکھے وہ میرا ہے ۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ اپنے ہاتھ سے ایک چلّو بھر پی لے۔ لیکن سوائے چند لوگوں کے باقی سب ے وہ پانی پی لیا۔“( سورہ البقرہ آیت نمبر249) طالوت کے ساتھ جو لشکر تھا اس کی تعداد کے بارے اسّی80ہزار سے لے کر ایک لاکھ تین ہزار تین سو تیرہ تک بتائی گئی ہے۔ جب یہ لشکر چلنے لگا تو طالوت نے کہا۔ ( غالباً اسے حضرت شموئیل علیہ السلام نے بتا دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کی آزمائش کرے گا اور تم وقت آنے پر بتانا) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آگے ایک نہر ( ندی) آئے گی اور اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ پورے لشکر والوں کی آزمائش کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اس نہر یا ندی سے پانی نہیں پیا جائے۔ اس لئے کوئی بھی پانی نہیں پیئے۔ ہاں صرف اتنی اجازت ہے کہ چلّو بھر کر پانی پی سکتے ہو۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ فلسطین کی کوئی نہر تھی یا پھر اُردن اور فلسطین کے درمیان کی نہر تھی۔ اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ دریائے اردن تھی۔

اکثر آزمائش میں ناکام ہو گئے

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی ایک چھوٹی سی آزمائش لی کہ اگر یہ لوگ اس آزمائش میں کامیاب ہو گئے تو آگے اللہ کے لئے لڑنے کی بہت بڑی آزمائش ہے۔ اس میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ سخت گرمی تھی اور پیاس کے مارے سب کا برا حال تھا۔ اور بنی اسرائیل کے ایمان اور اللہ تعالیٰ پر توکل کا امتحان تھا۔ اس امتحان میں اور آزمائش میں اکثر بنی اسرائیل ناکام ہو گئے۔ اور نہر یا ندی پر پہنچتے ہی پانی پر ٹوٹ پڑے اور جلدی جلدی پانی پینے لگے۔ طالوت 80ہزار کا لشکر لے کر چلا تھا۔ اس میں سے 76ہزار نے خوب سیر ہو کر پانی پی لیا۔ اور صرف 4ہزار لوگ ایسے رہے جنہوں نے صرف ایک چلّو پانی پیا۔ نہر یا ندی پار کرنے کے بعد ان چار ہزار لوگوں کو پیاس نہیں لگی۔ اور بقیہ 76ہزار لوگ جو خوب سیر ہو گئے تھے۔ ان کو اتنی شدید پیاس لگی کہ وہ ہمت ہار بیٹھے اور واپس چلے گئے۔ طالوت بقیہ چار ہزار لوگوں کو لے کر آگے بڑھا۔ لیکن یہ بھی اصلی لشکر نہیں تھا ۔ جب بنی اسرائیل نے جالوت کے لشکر جرار کو دیکھا تو ان چار ہزار میں سے اکثریت نے ہمت ہار دی۔ اور لڑنے سے انکار کر دیا۔ لیکن کچھ لوگ ابھی بھی ہمت باندھے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” طالوت نے مسلمانوں کے ساتھ جب نہر کو پار کر لیا۔ تو وہ لوگ کہنے لگے آج تو ہم میں طاقت نہیں ہے کہ جالوت اور اس کے لشکر سے لڑیں لیکن اللہ تعالیٰ کی ملاقات کا یقین رکھنے والوں نے کہا۔ کبھی کبھی چھوٹی اور تھوڑی سی جماعت اپنے سے بڑی جماعت پر اللہ کے حکم سے غلبہ پالیتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ “ ( سورہ البقرہ آیت نمبر 249) ان چار ہزار میں سے بھی اکثریت واپس چلی گئی اور جو لوگ رہ گئے ان کی طالوت نے گنتی کو تو تین سوبارہ 312یا تین سو انیس319لشکری رہ گئے تھے۔

طالوت کا اصل لشکر 

حضرت شموئیل علیہ السلام نے بنی اسرائیل کا ایک بہت بڑا لشکر دے کر طالوت کو رخصت کیا تھا۔ مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں کہ تفسیر روح البیان وغیرہ میں ذکر ہے کہ اسّی 80ہزار کا لشکر تھا۔ مگر تفسیر در منشور میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تین لاکھ تین ہزار تین سو تیرہ کا لشکر تھا۔ اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ صرف صابرین ہی میدانِ جنگ میں جائیں اور بزدلوں اور بے صبروں کی بھیڑ نہ ہو۔ کیوں کہ ایسے لوگ شکست کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ اسی لئے نہر یا ندی کے پانی سے ان کی آزمائش کی۔ موسم سخت گرم تھا اور لوگ پیاس سے بے قرار تھے۔ اس حالت میں عین دوپہر کے وقت پانی کی جگہ پہنچے۔ تین سو تیرہ جوانوں کے علاوہ سب نے خوب پانی پیا۔ جن لوگوں نے ایک چلّو پانی پیا اور ایک چلو اپنے گھوڑے کو پلایا تو وہ ان کے لئے کافی ہو گیا اور ان کی پیاس بجھ گئی۔ اور بے صبر ے لوگ جتنا پانی پیتے تھے اتنی ہی ان کی پیاس بڑھتی تھی۔ ان کے ہونٹ کالے پڑ گئے اور پیٹ پھول گیا۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں کہ امام طبری امام ابن ابی حاتم اور امام سدی کی روایت میں ہے کہ 80ہزار روانہ ہوئے اور 76ہزار نے خوب پانی پیا اور واپس ہو گئے۔ اور صرف 4ہزار نے دریا پار کیا۔ اور جالوت اور اس کے لشکر کو دیکھ کر ان میں سے بھی تین ہزار چھو سو اسی 3680واپس چلے گئے اور طالوت کے ساتھ تین سو تیرہ یا تین سو بیس نفوس باقی رہ گئے۔ یہ تعداد لگ بھگ اصحاب بدر کے برابر ہے۔ تاریخ طبری میں ہے کہ صرف تین سو اُنیس319افراد باقی رہ گئے تھے۔ جو کہ غزوہ بدر کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعداد کے برابر ہے۔ یہ طالوت کا اصل لشکر تھا۔

حضرت داﺅ د علیہ السلام 

حضرت داﺅد علیہ السلام کا سلسلہ نسب اس طرح سے ہے۔ حضرت داﺅد علیہ السلام بن ایشا بن حصرون بن قانص بن یہودا بن حضرت یعقوب علیہ السلام بن حضرت اسحاق علیہ السلام بن حضرت ابراہیم علیہ السلام ۔ حضرت داﺅد علیہ السلام بنی اسرائیل کے قبیلہ بنو یہودا سے تھے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام کُل تیرہ بھائی تھے اور آپ علیہ السلام سب سے چھوٹے تھے۔ اور سب کے لاڈلے تھے۔ اسی لئے آپ علیہ السلام کے والد اور بڑے بھائی آپ علیہ السلام کو کوئی کام نہیں کرنے دیتے تھے۔ پھر بھی آپ علیہ السلام اپنے بھائیوں سے ضد کر کے ان کے ساتھ بکریاں چرانے جایا کرتے تھے۔ سلسلہ نسب اس طرح تھا۔ حضرت داﺅد بن ایشا بن عوید بن عابر بن سلمون بن نحشون بن عوینادب بن ارم بن حصرون بن یہودا بن حضرت یعقوب علیہ السلام بن حضرت اسحاق علیہ السلام بن حضرت ابراہیم علیہ السلام ۔ حضرت وہب بن منبہ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام چھوتے قد کے تھے۔ آنکھیں نیلی تھیں بال تھوڑے تھے اور دل یاک و طاہر تھا۔

حضرت داﺅد علیہ السلام کا انتخاب

حضرت شموئیل علیہ السلام نے طالوت کو ایک پیمانہ دیا تھا اور فرمایا تھا کہ جس شخص کے اوپر یہ پیمانہ فٹ بیٹھ جائے گا وہی جالوت کا قتل کرے گا۔ طالوت اور جالوت کے لشکروں نے جب ایک دوسرے کے سامنے پڑاﺅ ڈال دیا تو طالوت نے وہ پیمانہ نکالا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ حضرت شموئیل علیہ السلام نے ایک سینگ طالوت کو دیا تھا جس میں لوہے کا تنور بنا ہوا تھا اور اس میں تیل بھرا ہوا تھا۔ اور فرمایا تھا کہ جس شخص کے سر پر یہ فٹ بیٹھ جائے گا تو اس میں تیل اچھلنے لگے گا۔ وہی شخص جالوت کو قتل کرے گا۔ طالوت نے اسے نکالا اور اپنے لشکر کے تمام افراد کے سروں پر رکھنے لگا۔ لیکن وہ کسی کے سر پر فٹ نہیں آیا۔ طالوت پریشان ہو گیا اور تمام اسرائیلیوں کو حضرت شموئیل علیہ السلام کے فرمان کے بارے میں بتایا۔ حضرت داﺅد علیہ السلام کے والد محترم اور بارہ بھائی بھی اس لشکر میں تھے۔ ان کے والد محترم نے طالوت سے کہا۔ میرا یک بیٹا داﺅد رہ گیا ہے وہ ہمارے لئے کھانا لے کر آرہا ہے۔ وہ آئے تو اس کے سر پر بھی پہنا کر دیکھ لینا۔ ادھر حضرت داﺅد علیہ السلام کھانا لے کر آرہے تھے کہ راستے میں تین پتھروں نے ان سے کہا کہ ہمیں اپنے تھیلے میں رکھ لو۔ ہم جالوت کو قتل کرنے میں کام آئیں گے۔ آپ علیہ السلام نے ان تینوں پتھروں کو اٹھا کر رکھ لیا ور لشکر میں آئے۔ طالوت نے سینگ آپ علیہ السلام کے سر مبارک پر رکھا تو ایک دم فٹ بیٹھ گی اور تنور کا تیل اچھلنے لگے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت شموئیل علیہ السلام نے طالوت کو ایک زرہ دی تھی اور فرمایا تھا کہ جس شخص کے جسم پر یہ ذرہ پوری ( فٹ ) آجائے گی وہ شخص اللہ کے حکم سے جالوت کو قتل کردے گا۔ اور یہ زرہ حضر ت داﺅد علیہ السلام کے جسم مبارک پر پوری آگئی۔

جالوت کا قتل اور شکست

اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور جب ان کا جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ ہوا تو انہوں نے دعا کی۔ اے ہمارے رب، ہمیں صبر عطا فرمااور ثابت قدمی عطا فرما اور کافر قوم پر ہماری مدد فرما۔ پس اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہوں نے جالوتیوں کو شکست دے دی۔ اور داﺅد (علیہ السلام )کے ہاتھوں جالوت قتل ہوا۔ اور اللہ تعالیٰ نے داﺅد (علیہ السلام ) کو مملکت اور حکمت اور جتنا چاہا علم بھی عطا فرمایا۔ اگر اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو بعض لوگوں پر دفع نہیں کرتا تو زمین میں فساد پھیل جاتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ دنیا والوں پر بڑا فضل و کرم کرنے والا ہے۔“ ( سورہ البقرہ آیت نمبر250اور 251)طالوت اور جالوت کے لشکر نے صف بندی کر لی۔ اور آمنے سامنے آگئے۔ جالوت آگے بڑھا اور مقابلے کے لئے للکانے لگا۔ جالوت بہت ہی لمبا چوڑا اور گرانڈیل تھا۔ اور اکیلا سینکڑوں پر بھاری تھا۔ اس کی للکار سن کر حضرت داﺅد علیہ السلام آگے بڑھے۔ آپ علیہ السلام تھوڑے پستہ قد تھے۔ اسی لئے جالوت جیسے لمبے چوڑے کے سامنے بونے نظر آرہے تھے۔ جالوت نے اپنے مقابلے پر ایک چھوٹے سے نوجوان کو دیکھا تو زور زور سے ہنسنے لگا اور بولا۔ اے نوجوان ، کیوں اپنی جان کا دشمن بن رہا ہے۔ جاواپس لوٹ جا کیوں کہ مجھے تجھ پر رحم آرہا ہے۔ اور میں تجھے قتل نہیں کرنا چاہتا۔ اس پر آپ علیہ السلام نے جواب دیا۔ لیکن مجھے تجھ پر رحم نہیں آرہا ہے اور میں تجھے قتل کرنا چاہتا ہوں۔ اتنا فرما کر آپ علیہ السلام نے اپنی گوپھن نکالی اور ان تین پتھروں کو ایک ساتھ گوپھن میں رکھ کر گھما کر پھینکا۔ آپ علیہ السلام گوپھن بہت اچھی چلاتے تھے اور نشانہ ہمیشہ صحیح لگتا تھا۔ اور اس بار تو آپ علیہ السلام نے اپنی پوری مہارت استعمال کی تھی۔ جالوت مسکراتا ہوا کھڑا آپ علیہ السلام کی حرکتوں کو دیکھ رہا تھا۔ لیکن اچانک اس کی مسکراہٹ حیرانی میں بدل گئی ۔ کیوں کہ آپ علیہ السلام کے پھینکے ہوئے تینوں پتھر بالکل صحیح نشانے پر جا کر لگے۔ پہلا پتھر پیٹ میں لگا اور زرہ بکتر ( لوہے کا لباس) کو توڑتا ہوا پیٹ میں گھس گیا۔ دوسرا پتھر سینے پر لگا اور زرہ بکتر توڑتا ہوا پسلیوں کو توڑتا ہوا گھس گیا۔ اور تیسرا پتھر سر میں لگا اور کھوپڑی کو توڑتا ہوا اس پار نکل گیا۔ جالوت نے حیرانی سے اپنے ٹوٹے پھوٹے جسم کو دیکھا جو بری طرح لڑکھڑا رہا تھا۔ پھر حضرت داﺅد علیہ السلام کو دیکھتا ہوا اوندھے منہ گر پڑا اور موت آگئی۔ حیرانی اس کے چہرے پر منجمد ہو گئی تھی۔ جالوت کو مرتا ہوا دیکھ کر اس کے سپاہیوں کے حوصلے ٹوٹ گئے۔ ادھر آپ علیہ السلام نے زور سے نعرہ ¿ تکبیر بلند کیا اور جالوت کے لشکر پر حملہ کر دیا۔ طالوت کے لشکر نے بھی زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا اور آپ علیہ السلام کے ساتھ جالوت کے لشکر پر ٹوٹ پڑے۔ اور اللہ تعالیٰ نے جالوت کے لشکر کو شکست دی۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں