04 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام
سلسلہ نمبر12
تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 4
اللہ تعالیٰ نے روک دیا
سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا نے جب صندوق میں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نکالا تو فرعون نے کہا۔ یقینا یہ بنی اسرائیل کا بچہ ہو گا اور اس کی جان بچانے کے لئے دریائے نیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ لاﺅ میں اسے قتل کر دیتا ہوں۔ سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا نے آپ علیہ السلام کو اپنی آغوش میں چھپا لیا اور کہا۔ اس بچے کو میرے لئے چھوڑ دو۔ میں اسے پالوں گی۔ اس کی پرورش کروں گی۔ ہو سکتا ہے یہ بڑا ہو کر ہم کو فائدہ پہنچائے۔ ویسے بھی ہماری کوئی اولاد نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑا ہو کر ہمیں فائدہ پہنچائے گا۔ تو فرعون کا تو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ہاں سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا کا فائدہ ہو گیا۔ اور جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اعلان ِ نبوت کیا تو آپ رضی اللہ عنہا اُن پر ایمان لے آئیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ عنہا کو جنتی فرمایا ہے۔ جب آپ علیہ السلام کو بھوک لگی تو رونے لگے۔ فرعون اور سیدہ آسیہ نے دودھ پلانے والیوں کو بلوایا لیکن آپ علیہ السلام نے کسی کا دودھ نہیں پیا۔ بس روئے ہی جا رہے تھے۔ یہ بات محل کے باہر تک پہنچ گئی۔ وہاں آپ علیہ السلام کی بہن موجود تھی۔ اس نے درباریوں اور پہریداروں سے کہا۔ ایک عورت کو میں لے کر آتی ہوں شاید اُن کا دودھ یہ بچہ پیئے۔ فرعون اور سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا کو معلوم ہوا تو آپ علیہ السلام کی بہن اور والدہ محترمہ کو اندر بلوایا۔ آپ علیہ السلام اپنی والدہ محترمہ کی آغوش میں آتے ہی چپ ہو گئے اور دودھ پینے لگے۔ والدہ محترمہ نے جیسے ہی آپ علیہ السلام کو گود میں لیا اور سینے سے لگایا تو اُن کے منہ سے ” میر ا بچہ “ نکلنے والا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے روک دیا۔ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ القصص میں فرمایا۔ ترجمہ ” موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کا دل بے قرار ہو گیا ۔ قریب تھیں کہ اس واقعہ کو بالکل ظاہر کر دیتیں۔ اگر ہم ان کے دل کو ڈھارس نہیں دے دیتے ۔ یہ اس لئے کہ وہ یقین کرنے والوں میں رہے۔“(سورہ القصص آیت نمبر10)
فرعون کی داڑھی نوچ لی
حضرت موسیٰ علیہ السلام جب دو سال کے ہوئے تو والدہ محترمہ نے دودھ چھڑا دیا۔ اور سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا آپ علیہ السلام کی پرورش کرنے لگیں۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں ۔ فرعون نے آپ علیہ السلام کو بیٹا لیا اور لوگوں نے انہیں فرعون کا بیٹا کہنا شروع کر دیا۔ جب آپ علیہ السلام کھیلنے کودنے والے ہو گئے تو ایک روز سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا آپ علیہ السلام کو کِھلا رہی تھیں کہ فرعون آگیا۔ سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا۔ لو اس بچے کو یہ میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ یہ سن کر فرعون نے کہا۔ یہ تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے میری آنکھوں کی نہیں ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ یہ کہہ دیتا کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آتا لیکن اس نے انکار کر دیا۔ بہر حال اس نے آپ علیہ السلام کو اٹھایا اور کھلانے لگا۔ آپ علیہ السلام نے فرعون کی داڑھی پکڑ لی اور نوچ لیا۔ ( حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اتنی زور سے فرعون کی داڑھی کو نوچا تھا کہ بالوںکا گچھا اکھڑ گیا تھا) فرعون کو غصہ آگیا اور اس نے کہا ذبح کرنے والوںکو بلواﺅ۔ یہ وہی لڑکا ہے جس سے میری حکومت ختم ہو جائے گی۔ سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا نے فوراً کہا ۔ دیکھو اسے قتل مت کرو۔ یہ نا سمجھ بچہ ہے اس نے نا سمجھی میں ایسا کیا ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ پورےمصر میں مجھ سے زیادہ زیورات پہننے والی کوئی عورت نہیں ہے۔ میں اس کے سامنے ایک یاقوت کا ہیرا رکھ دیتی ہوں اور ایک طرف انگارہ رکھ دیتی ہوں اگر اس نے یاقوت کو اٹھا لیا تو سمجھ دار ہے اور اسے قتل کر دیا جائے۔ اور اگر اس نے انگارے کو اٹھا لیا تو یہ نا سمجھ ہے۔ آپ علیہ السلام نے یاقوت اٹھانے کا ارادہ کا تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرئیل علیہ السلام نے آپ علیہ السلام کا ہاتھ انگارے کی طرف کر دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انگارہ اٹھا کر منہ میں ڈال لیا۔ جس سے آپ علیہ السلام کی زبان جل گئی اور لکنت پیدا ہو گئی۔ اسی کے بارے میں آپ علیہ السلام نے یہ دعاکی تھی کہ ” اے اللہ ، میری زبان کی گرہ کھول دے تا کہ وہ میری زبان کو سمجھ سکیں۔“
فرعون کے محل میں جوان ہوئے
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی آزمائش کے بعد فرعون کا شک دور ہو گیا۔ اور آپ علیہ السلام اپنی والدہ محترمہ اور سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا کی دیکھ ریکھ میں بڑے ہو نے لگے۔ وقت گزرتا رہا اور آپ علیہ السلام جوان ہو گئے۔ اسی دوران آپ علیہ السلام کی والدہ محترمہ نے سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بتا دیا تھا کہ میں ہی آپ علیہ السلام کی سگی والدہ ہوں۔ اور دونوں کو تمام حالات بتا دیئے تھے کہ کس طرح آپ علیہ السلام فرعون کے محل میںپہنچے۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام جوان ہوئے اور دیکھا کہ فرعون اور قبطی ( مصری لوگ) کس طرح بنی اسرائیل پر ظلم کر رہے ہیں اور انہیں غلام بنا کر رکھا ہوا ہے۔ تو آپ علیہ السلام کا دل کڑھتا تھا اور اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانا چاہتے تھے۔ لیکن اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے ابھی تک کوئی راہنمائی نہیں فرمائی تھی۔ اسی لئے آپ علیہ السلام کوئی کاروائی نہیں کر رہے تھے۔ اسی دوران وہ واقعہ پیش آیا جس نے آپ علیہ السلام کی زندگی کا رخ بدل دیا۔
ایک ہی گھونسے میں قبطی کی موت
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے رخ کو بدل دینے کے واقعہ کے بارے میں علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام شہزادے کی طرح فرعون کے محل میں پلتے رہے۔ بہترین اعلیٰ سواریاں تھیں۔اور شاہی لباس جو فرعون پہنتا تھا۔ویسا ہی شاہی لباس آپ علیہ السلام بھی پہنتے تھے۔ اور آپ علیہ السلام کو پورے ملک میں شہزادہ موسیٰ بن فرعون کہا جاتا تھا۔ایک روز کا واقعہ ہے کہ فرعون اپنے وزیروں ، درباریوں اور شاہی دستے کے ساتھ کسی کام سے باہر گیا ۔ آپ علیہ السلام بھی ساتھ میں تھے۔ جب فرعون نے واپسی کا ارادہ کیا تو آپ علیہ السلام کہیں گئے ہوئے تھے۔ اس نے کچھ دیر انتظار کیا پھر واپس اپنے ساتھیوں کو لے کر آگیا۔ آپ علیہ السلام اکیلے ہی واپس آئے اور جب شہر میںداخل ہوئے تو عین دوپہر کا وقت تھا۔ اور سب لوگ اپنے اپنے گھروں میں قیلولہ کر رہے تھے۔ اس وقت بازار بند تھے اور کوئی نہیں تھا۔ آپ علیہ السلام نے دیکھا کہ ایک قبطی ( مصری) ایک بنی اسرائیل کے شخص کو مار رہا ہے۔ حالانکہ یہ مصر میں عام بات تھی۔ اور قبطی اسی طرح کھلے عام بنی اسرائیل کو ذلیل کر تے رہتے تھے لیکن اس وقت بنی اسرائیل کے شخص نے آپ علیہ السلام سے مدد کی درخواست کی تو آپ علیہ السلام دونوں کے قریب گئے اور قبطی کو سمجھانے لگے۔ لیکن قبطی اس شخص پر بہت ناراض تھا۔ اور آپ علیہ السلام کے سمجھانے کے باوجود بنی اسرائیل کے شخص کو مارتا جا رہا تھا۔ اسی وجہ سے آپ علیہ السلام غصے میں آگئے اور قبطی کو ایک مُکّہ ( گھونسہ) ماردیا۔ آپ علیہ السلام کو اندازہ نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کتنی طاقت عطا فرمائی ہے ۔ گھونسہ لگتے ہی وہ قبطی گرا اور مر گیا۔ آپ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے شخص نے حیرانی سے اس گرے ہوئے قبطی کو دیکھا اور جب اندازہ ہو ا کہ وہ قبطی مر چکا ہے تو بنی اسرائیل کا وہ شخص جلدی سے بھاگ گیا اور آپ علیہ السلام بھی اپنی سواری پر سوار ہو کر محل میں واپس آگئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور موسیٰ (علیہ السلام )ایسے وقت شہر میں آئے جب شہر کے لوگ غفلت میں تھے۔ یہاں دو شخصوں کو لڑتے ہوئے پایا۔ ایک تو اس کے رفیقوں ( بنی اسرائیل) میں سے تھا اور دوسرا اس کے دشمنوں ( قبطیوں ، مصریوں) میں سے تھا۔ اس کی قوم والے نے دشمن قوم والے کے خلاف فریاد کی۔ جس پر موسیٰ (علیہ السلام )نے اس کو مُکّا یعنی گھونسہ مارا۔ جس سے وہ مر گیا۔ موسیٰ ( علیہ السلام )نے فرمایا۔ یہ تو شیطانی کام ہے۔ اور یقینا شیطان کھلا دشمن اور بہکانے والا ہے۔“ ( سورہ القصص آیت نمبر 15)
قتل کا راز کھل گیا
حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے محل میں واپس آگئے۔ لیکن یہ اندیشہ آپ علیہ السلام کو لگا تار ہو رہا تھا کہ قتل کا راز کھل نہ جائے۔ اور اسی اندیشے کی وجہ سے کچھ خوف محسوس کرتے ہوئے اپنے محل سے باہر آئے اور شہر میں گھومنے لگے۔ لیکن شہر میں ایسا کچھ نہیں تھا اور حالات بالکل نارمل تھے۔ آپ علیہ السلام بازار میں داخل ہوئے۔ وہاں کافی بھیڑ اور گہما گہمی تھی۔ وہیں بازار میں دیکھا کہ کل والا بنی اسرائیل کا شخص ایک دوسرے قبطی سے لڑ رہا ہے۔ اس نے آپ علیہ السلام کو دیکھا تو پھر مدد کے لئے بلایا۔ آپ علیہ السلام نے اس شخص کو ڈانٹا اور فرمایا کہ تو ہمیشہ کسی نہ کسی سے لرتا ہی رہتا ہے کیا؟ اور دونوں کو چھڑانے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو بنی اسرائیل کا شخص زور زور سے بولنے لگا۔ کیا تم مجھے اسی طرح قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح کل اس قبطی کو قتل کیا تھا؟ وہ اتنی زور سے کہہ رہا تھا کہ بازار میں موجود اچھے خاصے لوگوں نے سن لیا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ وہ شیطان کی طرف سے تھا اور بے شک شیطان کھلا ہوا گمراہ ہے۔ اور دونوں کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن دونوں ڈر کے بھاگ گئے۔ بازار میں بھی لوگوں نے شہزادہ موسیٰ بن فرعون کے لئے راستہ چھوڑ دیا۔ اور آپ علیہ السلام شہر سے باہر ایک نخلستان میں آگئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” صبح ہی صبح اندیشہ کی حالت میں ڈرتے ہوئے شہر میں گئے تو دیکھا کہ اچانک وہی شخص جس نے کل مدد طلب کی تھی اُن سے فریاد کر رہا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام )نے اس سے کہا کہ اس میں شک نہیں ہے کہ تو صریح ( کھلا ہوا ) بے راہ ہے۔ پھر جب اپنے دشمن کو پکڑنا چاہا تو وہ فریادی کہنے لگا کہ اے موسیٰ تو نے جس طرح کل ایک شخص کو قتل کیا تھا آج اُسی طرح مجھے مار ڈالنا چاہتا ہے۔ ؟ توُ تو ملک میں ظالم اور سر کش ہی ہو ا چاہتا ہے اور تیرا ارادہ ہی نہیں ہے کہ تو ملاپ کرانے والوں میں سے ہو۔“( سورہ القصص آیت نمبر18-19)
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قتل کا حکم
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں جس دن قبطی کا قتل ہوا تھا اسی دن قبطیوں نے فرعون کے دربار میں یہ مقدمہ پیش کیا تھا۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ لوگ فرعون کے پاس گئے اور اسے بتایا کہ بنی اسرائیل کے لوگوں نے ہمارے ایک آدمی کا قتل کر دیا ہے۔ لہٰذا آپ ہمیں ہمارا حق دلوائیے۔ یعنی انہوں نے قصاص کا مطالبہ کیا۔ تو فرعون نے کہا کہ قاتل کو تلاش کرو اور ایسا شاہد پیش کرو جو اس کے خلاف گواہی دے ۔ کیوں کہ بغیر گواہوں کے فیصلہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ وہ قاتل کی تلاش کے لئے ادھر ادھر گھومتے رہے لیکن کوئی پختہ ثبوت نہیں پا سکے۔ لیکن دوسرے روز اس بنی اسرائیل کی نادانی کی وجہ سے سب کو معلوم ہو گیا اور وہ قبطی جو دوسرے دن لڑ رہا تھا اس نے جا کر فرعون کو بتا دیا کہ قاتل حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ فرعون نے فوراً دربار بلوایا۔ اور اس میں رائے مشورہ ہونے لگا کہ آپ علیہ السلام کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ ابھی یہ مشورہ چل ہی رہا تھا کہ ایک شخص دوڑتا ہوا اس نخلستان تک پہنچا اور بتایا کہ آپ علیہ السلام کے خلاف مشورہ ہو رہا ہے اور ہو سکتا ہے کہ آپ علیہ السلام کو گرفتار کر لیا جائے۔ یا پھر قتل کر دیا جائے۔ اکثر علمائے کرام نے اس شخص کا نام حزئیل لکھا ہے۔ اور وہ آلِ فرعون میںسے مردِ مومن تھا۔ بعض علمائے کرام نے اس کا نام شمعون بتایا ہے۔ اور بعض نے سمعاذکر کیا ہے۔ وہ بہت تیز چل کر آیا تھا اور قریبی راستے سے آیا تھا۔ اور کہا کہ اے موسیٰ(علیہ السلام )فرعون اور درباری آپس میں مشورہ کر رہے ہیں ۔ حالانکہ یہ معاملہ ابھی مخفی ہے لیکن وہ ایک دوسرے کو مشورہ دے رہے تھے کہ آپ علیہ السلام کو قتل کر دیا جائے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتاہوا آیا اور کہنے لگا ۔ اے موسیٰ ( علیہ السلام )یہاں کے سردار آپ کے قتل کا مشورہ کر رہے ہیں۔ پس آپ جلدی سے یہاں سے چلے جائیے اور میں آپ (علیہ السلام )کا سچا خیر خواہ ہوں۔ ( سورہ القصص آیت نمبر20)
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........!


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں