جمعرات، 4 مئی، 2023

04 حضرت ایوب علیہ السلام Story of Prophet Ayoob




04 حضرت ایوب علیہ السلام

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 4

توبہ پہلے پہنچ گئی

حضرت ایوب علیہ السلام کے دل میں ابلیس شیطان نے اولاد کے لئے پدرانہ جذبات کو اکسایا اور آپ علیہ السلام کے آنسو نکل آئے۔ حضرت سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ( یہ جلیل القدر تابعی اور مفسر اور محدث ہیں) ابلیس مردود نے حضرت ایوب علیہ السلام سے ان کی آزمائش کے دوران رونے کے علاوہ کچھ نہیں پایا۔ حضرت ایوب علیہ السلام نے بس اتنا ہی کیا کہ رونے لگے اور مٹی اٹھا کر اپنے سر پر ڈال لی اور زبان سے کوئی شکوہ اور شکایت نہیں کیا۔ لیکن مردود ابلیس کے لئے یہ بھی کافی ہو گیا اور وہ اللہ تعالیٰ کو بتانے کے لئے فوراً چل پڑا کہ میں نے حضرت ایوب علیہ السلام کے صبر کو توڑ دیا۔ اس کے اس طرح اچانک چلے جانے سے آپ علیہ السلام سمجھ گئے کہ یہ ابلیس شیطان تھا اور مجھے بہکانے کے لئے آیا تھا۔ حالانکہ سر پر مٹی ڈالنا اور آنکھوں سے آنسو بہنا کوئی گناہ نہیں ہے اور آپ علیہ السلام تو معصوم عن الخطاءہیں۔ لیکن اس کے باوجود انہوں نے فوراً توبہ کر لی اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں فوراً رجوع کیا۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ابلیس سے پہلے آپ علیہ السلام کی توبہ لے کر پہنچ گئے اور اللہ تعالیٰ نے قبول کر لی۔ اور ابلیس مردود ایک مرتبہ پھر ناکام ہو گیا۔

بیماری سے آزمائش

حضرت ایوب علیہ السلام سے ابلیس شیطان بہت حسد کرنے لگا تھا۔ کیوں کہ آپ علیہ السلام آزمائش کے ہر مرحلے میں کامیاب ہوتے جا رہے تھے۔ اور ہر مرحلے کی کامیابی کے بعد اللہ تعالیٰ آپ علیہ السلام کا مرتبہ بڑھا دیتا تھا۔ اور پہلے سے زیادہ مقرّب بنا لیتا تھا۔ اور ہر مرحلے کی آزمائش میں ناکام ہونے کے بعد ابلیس شیطان کاآپ علیہ السلام سے حسد بڑھتا جا رہا تھا۔ اور وہ مردود پھر سے آپ علیہ السلام کے صبر کو توڑنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے نئی درخواست کر دیتا تھا۔ اس مرتبہ اس نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ حضرت ایوب علیہ السلام کے جسم مبارک پر مجھے اختیار دے کیوں کہ آپ علیہ السلام نے مال و دولت اور اولاد کے صدمے کو اس لئے برداشت کر لیا کہ آپ علیہ السلام کا جسم مبارک تندرست ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ مرد ود لعین اپنی یہ حسرت بھی پوری کر لے۔ جا میں نے تجھے اس کے جسم پر اختیار دیا۔ لیکن اس کی زبان اور دل پر تیرا کوئی اختیار نہیں رہے گا۔

حضرت ایوب علیہ السلام کا صبر نیک لوگوں کے لئے نمونہ

حضرت ایوب علیہ السلام کے صبر کو توڑنے میں ایک مرتبہ پھر ناکام ہونے کے بعد ابلیس شیطان نے آپ علیہ السلام کے جسم پر قابو کی درخواست کی جو اللہ تعالیٰ نے اسے دے دیا۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں کہ ابلیس ذلیل و رسوا ءہو کر ٹھہر گیا اور کہا ۔ اے اللہ تعالیٰ، ایوب علیہ السلام پر مال اور اولاد کا غم تو آسان تھا۔ کیوں کہ انہیں تو نے صحت مند اور تندرست جسم عطا فرمایا ہے۔ اور اسے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ مال اور اولاد پھر عطا فرما دے گا۔ کیا تو مجھے اس کے جسم پر قابو عطا کرے گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ جا تجھے میں نے اس کے جسم پر بھی قابو عطاکیا۔ لیکن اس کی زبان اور دل پر تجھے قابو نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ جانتے تھے اور ( ابلیس شیطان کو ) ان چیزوں ( یعنی مال و دولت ، اولاد اور جسم ) پر قابو اپنی رحمت کی وجہ سے نہیں دیا تھا بلکہ اس لئے قابو دیا تا کہ حضرت ایوب علیہ السلام کے اجر میں اضافہ ہو جائے اور صبر کرنے والوں کے لئے آپ علیہ السلام کی سیرت مبارکہ ایک نمونہ بن جائے۔ اور ابتلاءو آزمائش میں نیک اور عبادت گزار بندوں کے لئے نصیحت بن جائے۔ تا کہ دنیا والے صبر اور ثواب کی امید میں اللہ تعالیٰ سے مانوس ہوں۔

بیماری کی تکلیف

حضرت ایوب علیہ السلام کی آزمائش ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ مال و دولت اور اولاد چھن جانے کے بعد آپ علیہ السلام صبر و شکر کے ساتھ اللہ کی عبادت اور لوگوں کی خدمت میں زیادہ دل و جان سے مصروف ہو گئے۔ آپ علیہ السلام ایک دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدے میں تھے کہ ابلیس شیطان مردود نے آپ علیہ السلام کی گردن کے پچھلے حصے پر پھونک ماری۔ مردود ابلیس کو اللہ تعالیٰ نے آگ سے بنایا ہے۔ اس کے پھونک مارنے سے آپ علیہ السلام کو بہت زیادہ تکیف ہوئی اور پورا بدن بے حد گرم ہو گیا۔ اتنا گرم ہو گیا کہ پور ے بدن پر چھالے آگئے اور دھیرے دھیرے یہ چھالے زخم بن گئے اور یہ زخم دن گزرنے کے ساتھ ساتھ خراب ہو تے گئے اور اُن میں مواد ( پیپ) پید اہو گئی۔ آپ علیہ السلام کو بے انتہا درد تکلیف تھی لیکن برداشت کر رہے تھے۔ بدن مبارک سے بدبو آنے لگی دھیرے دھیرے آپ علیہ السلام کے رشتہ دار، پڑوسی اور جان پہچان کے لو گ آپ علیہ السلام سے دور ہوتے چلے گئے۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے اجازت مل جانے کے بعد ابلیس شیطان جلدی سے حضرت ایوب علیہ السلام کے پاس آیا تو دیکھا کہ آپ علیہ السلام سجدے میں ہیں اس مردود نے سجدے کی حالت میں ہی آپ علیہ السلام کے اوپر پھونک ماری۔ جس کی وجہ سے آپ علیہ السلام کا پورا جسم پھول گیا اور سر سے پاﺅں تک پورے جسم مبارک پر پھنسیاں نکل آئیں۔ وہ پھنسیاں پھوڑے کی طرح بکریوں کے جگر اتنی بڑی بڑی تھیں۔ آپ علیہ السلام کے جسم پر خارش ( کھجلی) شروع ہو گئی۔ پہلے آپ علیہ السلام اپنے ناخنوں سے کھجلاتے رہے یہاں تک کہ ناخن گر گئے یعنی جھڑ گئے۔ پھر کھردرے ٹاٹ سے کھجلانے لگے یہاں تک کہ ٹاٹ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو نے لگے۔ پھر ٹھیکریوں اور پتھر سے کھجلانے لگے۔ آپ علیہ السلام ااسی طرح کھجلاتے رہے یہاں تک کہ گوشت گرنے لگا۔ اور جسم مبارک سے بدبو آنے لگی۔

زوجۂ محترمہ ( بیوی) مسلسل خدمت کرتی رہی

حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری اتنی شدید تھی کہ لوگ آپ علیہ السلام سے دور ہونے لگے۔ اور آپ علیہ السلام کو بستی سے نکال دیا۔ صرف آپ علیہ السلام کی زوجہ محترمہ ( بیوی) آپ علیہ السلام کے ساتھ رہی اور مسلسل دیکھ بھال اور خدمت کرتی رہی۔ حضرت ایوب علیہ السلام کی تکلیف کا ذرا تصور کریں ہمیں ایک چھوٹا سا زخم لگ جاتا ہے اور وہ کچھ دنوں میں اچھا ہو جاتا ہے۔ لیکن اس زخم کی تکلیف اور درد کو ہم کتنا محسوس کرتے ہیں۔ اور یہاں تو حضرت ایوب علیہ السلام کا پورا جسم ہی خطرناک قسم کے زخموں سے بھرا ہوا تھا اور پورے جسم میں ایسی تکلیف اور دود ہور ہا تھا جس کا ہم اندازہ بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ اور آپ علیہ السلام ایسی تکلیف اور ایسا درد ایک دن نہیں ، ایک ہفتہ نہیں ، ایک مہینہ نہیں بلکہ کئی سال تک برداشت کرتے رہے اور صبر کرتے رہے۔ روایات میں آتا ہے کہ دنیا میں چیچک میں مبتلا ہونے والے سب سے پہلے شخص حضرت ایوب علیہ السلام ہیں۔ آپ علیہ السلام کے جسم کا تمام گوشت گل گیا تھا۔ صرف پٹھے اور ہڈیاں کچھ حد تک محفوظ تھے۔ آپ علیہ السلام کی بیوی نے ایسے نازک حالات میں بھی آپ علیہ السلام کی بھر پور خدمت کی۔ جب کہ ایسے وقت میں ہر ایک نے آپ علیہ السلام کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔ لیکن آپ علیہ السلام کی بیوی رضی اللہ عنہا مسلسل خدمت کرتی رہیں ۔ وہ راکھ اٹھا اٹھا کر لاتی تھی۔ اور اسے بچھا کر اس پر آپ علیہ السلام کو لٹایا کرتی تھی۔ علامہ عبدالرزاق بھتر الوی لکھتے ہیں کہ حضرت ایوب علیہ السلام کے جسم میں شدید حرارت سے ایسا اثر ہوا کہ یوں محسوس ہوتا تھا کہ آپ علیہ السلام کے جسم مبارک کے اندر شعلے بھڑک اٹھے ہوں۔ سر سے لے کر قدم تک آبلے ( چھالے) پڑ گئے۔ شدید خارش ( کھجلی) ہونے لگی۔ ناخنوں سے جسم کو کھجلاتے رہے یہاں تک کہ ناخن گر ( جھڑ) گئے۔ سارے جسم میں صرف آنکھیں ، دل اور زبان محفوظ تھے۔ امام ابن عسا کر بیان کرتے ہیں کہ حضرت ایوب علیہ السلام کے جسم سے اگر کوئی کیڑا نیچے گر جاتا تو آپ علیہ السلام پھر سے اسے اٹھا کر اپنے زخموں پر رکھ لیتے تھے اور فرماتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے جو رزق تمہیں دیا ہے وہ کھاﺅ۔ 

بیماری کے دوران مناجات

حضرت ایوب علیہ السلام بیماری کے دوران انتہائی صبر کا مظاہرہ کرتے رہے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ یزید بن میسرہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جب آپ علیہ السلام کی آزمائش شروع ہوئی اور مال و دولت اہل و عیال سب فنا ہو گئے اور کوئی چیز ہاتھ میں باقی نہیں رہی تھی تو حضرت ایوب علیہ السلام ، اللہ تعالیٰ کا اور زیادہ ذکر کرنے لگے۔ اور فرمانے لگے۔ اے اللہ تعالیٰ ، اے تمام پالنے والوں کو پالنے والے، تو نے مجھ پر بڑے احسان کئے۔ مال و دولت عطا فرمایا اور اولاد عطا فرمائی اس وقت میر ا دل ( تیری دی ہوئی نعمتوں میں ) مشغول تھا۔ اب تو نے سب کچھ لے کر میرے دل کو ان کی فکروں سے مجھے آزاد کر دیا ۔ اب میرے اور تیرے درمیان کوئی حائل نہیں ہے۔ اگر میرا دشمن ابلیس تیری اس مہربانی کو جان لے گا تو مجھ سے بہت حسد کرنے لگے گا۔ اس وقت ابلیس لعین جل بھُن کر رہ گیا۔ آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے جو مناجات کرتے تھے اُن میں سے ایک یہ بھی ہے اے اللہ تعالیٰ، آپ نے مجھے تو نگر اور اولاد اور اہل و عیال والا بنا رکھا تھا۔ آپ تو خوب جانتے ہیں کہ اس وقت میں نے کبھی غرور اور تکبر نہیں کیا۔ اور کبھی کسی پر ظلم و ستم بھی نہیں کیا۔ میرے پروردگار ، آپ پر یہ بات بھی خوب روشن ہے کہ میر انرم و گرم بستر تیار ہوتا تھا اور میں راتوں کو آپ کی عبادتوں میں گزارتا تھا۔ اور اپنے نفس کو اس طرح ڈانٹ دیتا تھا کہ تو اس لئے نہیں پیدا کیا گیا ہے ۔ اور میں اے اللہ آپ کی رضا مندی کی طلب میں اپنی راحت اور آرام ترک کر دیا کرتا تھا۔ 

تندرستی کے برابر تکلیفیں برداشت کروں گا

حضرت ایوب علیہ السلام کا پورا جسم پھوڑوں اور زخموں سے بھرا ہوا تھا۔ اس لئے آپ علیہ السلام کسی بھی سخت یا نرم چیز پر بیٹھ بھی نہیں سکتے تھے۔ اور لیٹ بھی نہیں سکتے تھے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حضرت حسن رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ ( دونوں جلیل القدر تابعی ہیں) فرماتے ہیں۔ سات سال اور کئی مہینے آپ علیہ السلام بیماری میں مبتلا رہے۔ لوگوں نے بستی کے باہر آپ علیہ السلام کو ڈال دیا تھا۔ بدن میں کیڑے پڑ گئے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام پر اپنا رحم و کرم فرمایا اور تما م بلاﺅں سے نجات دی اور اجر و ثواب عطا فرمایا اور تعریفیں کیں۔ حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام پورے تین سال تکلیف میں مبتلا رہے۔ سارا گوشت جھڑ گیا۔ صرف ہڈیاں اور چمڑی رہ گئے تھے۔ آپ علیہ السلام کی بیوی رضی اللہ عنہا ہی پاس رہتی تھیں۔ اور خدمت کرتی تھیں۔ ایک روز آپ رضی اللہ عنہا عرض کرنے لگیں کہ اے اللہ کے نبی علیہ السلام ، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیوں نہیں کرتے کہ وہ اس مصیبت کو ہم پر سے ٹال دے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اے اللہ کی نیک بندی اور میری پیاری بیوی رضی اللہ عنہا، اللہ تعالیٰ نے مجھے ستر70برس تک تندرست رکھا اور صحت و عافیت عطا فرمائی ہے۔ اگر میں ستّر سال تک اس بیماری اور تکلیف میں مبتلا رہوں او ر صبر کروں تو یہ بھی بہت کم ہے۔ اس پر آپ علیہ السلام کی بیوی رضی اللہ عنہا کانپ اٹھیں۔ آپ رضی اللہ عنہا شہر میں جاتی تھیں اور لوگوں کا کام کاج کر کے جو کچھ بھی ملتا تھا وہ لے کر اپنے شوہر کے پاس آتی تھیں اور آپ علیہ السلام کو کھلاتی پلاتی تھیں۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......! 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں