03 حضرت یوشع علیہ السلام
شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر13
قسط نمبر 3
حضرت یوشع بن نون علیہ السلام سپہ سالار اعظم مقرر
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے تمام قبائل کی گنتی کرنے کے بعد تمام قبائل پر سپہ سالار مقرر کئے اور پورے لشکر کا سپہ سالار اعظم حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کو بنایا۔ اس کے بعد لشکر لے کر بیت المقدس کی طرف بڑھے۔ راستے میں حضرت ہارون علیہ السلام کا وصال ہو گیا۔ ابھی سفر جاری تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طبیعت خراب ہونے لگی۔ بائیبل کی کتاب میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام سے فرمایا کہ عباریم کے پہاڑ پر سے کھڑے ہو کر اس ملک ( بیت المقدس) کو دیکھ لو جو میں نے بنی اسرائیل کو عطا کیا ہے۔ اسے دیکھ لینے کے بعد ہارون ( علیہ السلام )کی طرح تم بھی اپنے آباﺅ اجداد سے جا ملو گے۔ تب آپ علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، بنی اسرائیل پر ایسے شخص کو مقرر فرما دے جو میرے بعد ان کی ذمہ داری سنبھالے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ نون کے بیٹے یشوع ( حضرت یوشع بن نون علیہ السلام ) کو اپنے بعد بنی اسرائیل کا ذمہ دار بنا دے۔ اس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت یوشع علیہ السلام کو اپنا نائب بنا دیا۔ حضرت یوشع علیہ السلام شروع سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ میں رہے۔ اور توریت کی تعلیم و تربیت حاصل کرتے رہے۔ ساتھ ہی تیر اندازی ، گھو ڑ سواری ، تلوار بازی اور جنگ کی تربیت بھی حاصل کرتے رہے۔ اور نائب بننے کے صحیح حقد ار تھے۔
لشکر کی ترتیب
اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کو لشکر کا سپہ سالار اعظم بنا دیا۔ اور لشکر اور بنی اسرائیل ( یعنی عورتوں ، بچوں اور بوڑھوں) کو لے کر بیت المقدس کی طرف روانہ ہوئے۔ آپ علیہ السلام نے لشکر کی ترتیب بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق کی۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ بنو لاوی بنی اسرائیل کے تمام قبائل کے درمیان سفر کرتے تھے اور یہی لوگ قلب جیش ( لشکر کا درمیانی حصہ) کی حیثیت رکھتے تھے۔ میمنہ پر بنو روبیل ، میسرہ پر بنو دان اور ساقہ پر بنو نفسانی مقرر ہوئے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے بنو ہارون کوکہانت کے لئے مقرر فرما دیا تھا۔ جیسا کہ یہ منصب شروع سے ان کے والد گرامی حضرت ہارون علیہ السلام کے پاس چلا آرہا تھا۔ بہر حال بنی اسرائیل میں سے وہ لوگ ایک بھی نہیں بچے جنہوں نے کہا تھا کہ تم اور تمہارا رب جا کر لڑو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔ اور عمالقیوں سے جنگ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ سب لوگ ویرانے میں ہی مر کھپ گئے تھے۔ یہ قول حضرت عبدالہ بن عباس رضی اللہ عنہ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور دوسرے کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ حضرت ہارون علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی بیت المقدس میں داخل نہیں ہو سکے۔ امام محمد بن اسحاق کا گمان ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بیت المقدس فتح کیا۔ اور حضرت یوشع علیہ السلام اس لشکر کے مقدمتہ الجیش ( لشکر کا اگلا حصہ) میں تھے۔ بہر حال حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قبر مبارک بیت المقدس کے قریب ہے۔ اور انبیائے کرام کا جہاں وصال ہوتا ہے وہیں انہیں دفن کیا جاتا ہے۔ اور آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا بھی کی تھی کہ مجھے بیت المقدس کے اتنا قریب کر دے کہ اگر کوئی پتھر بھی پھینکے تو پہنچ جائے۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام لشکر اور بنی اسرائیل کو لے کر بیت المقدس کے قریب پہنچے تو آپ علیہ السلام کی طبیعت اتنی زیادہ خراب ہو چکی تھی کہ کھڑے نہیں ہو سکتے تھے اور بیٹھ بھی نہیں سکتے تھے۔ اس لئے آپ علیہ السلام کوبیت المقدس کے قریب ایک پہاڑی پر لٹا دیا گیا۔ اور حضرت یوشع علیہ السلام لشکر کو لے کر آگے بڑھے اور بیت المقدس کے باہر پڑاﺅ ڈال دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام قریب کی پہاڑی پر لیٹے ہوئے بیت المقدس اور پڑاﺅ ڈالے ہوئے لشکر کو دیکھ رہے تھے۔
بنی اسرائیل کو جمع کرنے کے لئے بوق ( بگل یا نر سنگوں ) کا استعمال
سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لئے مسلمانوں کو جمع کرنے کے بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ فرمایا تو کسی نے عیسائیوں کی طرح ناقوس بجانے کا مشورہ دیا۔ جو عیسائیوں سے مشابہت ہونے کی وجہ سے آپ علیہ السلام نے قبول نہیں کیا ۔ پھر کسی نے کسی اونچی جگہ پر آگ جلانے کا مشورہ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ یہ مجوسیوں ( آگ کی پوجا کرنے والوں ) سے مشابہت ہے۔ پھر کسی نے بوق یعنی بگل یا نرسنگے میں پھونک مار کر بجاکر جمع کرنے کا مشورہ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ یہ بنی اسرائیل یعنی یہودیوں سے مشابہت ہے۔ تب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ کسی آدمی کو مقرر کیا جائے جو لوگوں کو نماز کے لئے بلائے۔ سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم نے مشورہ قبول فرمایا۔ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو فرمایا کہ اے بلال رضی اللہ عنہ ، اٹھو اور نماز کے لئے لوگوں کو آواز دو۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو جب بھی نماز کے لئے بلانا ہوتا تو ایک اونچی جگہ کھڑے ہو کر آواز لگاتے۔ ”الصلوٰة الجامعة“ ( نماز کے لئے جمع ہو جاﺅ) کچھ دنوں بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خواب میں اذان کے کلمات سنائے اور دونوں حضرات نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اذان کے کلمات سنائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح اذان دینے کا حکم دیا۔ بنی اسرائیل کا جمع ہونے کا طریقہ نر سنگے بجا کر لوگوں کو بلانے کا تھا۔ بائیبل کی کتاب گنتی میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ گھڑی ہوئی چاندی کے دو نرسنگے بنا لو۔ اور انہیں بنی اسرائیل کو جمع کرنے اور لشکر کے کوچ کرنے کے لئے کام میں لانا۔ اور جب دونوں نر سنگے پھونکے جائیں تب تمام بنی اسرائیل خمیمہ¿ اجتماع کے دروازے پر تمہارے سامنے جمع ہو جائیں ۔ لیکن اگر ایک ہی بار پھونکا جائے تو بنی اسرائیل کے تمام قبیلوں کے سردار یا سپہ سالار تمہارے سامنے اکٹھے ہو جائیں۔ جب سانس باندھ کر زور سے نر سنگا پھونکا جائے تو جنوب کی جانب والے جو قبیلے مشرق کی جانب مقیم ہیں وہ کوچ کریں۔ جب دو بارہ سانس باندھ کر زور سے نر سنگا پھونکا جائے تو جنوب کی جانب والے قبیلوں کی چھاونیاں کوچ کریں۔ لہٰذا سانس باندھ کر زور سے نر سنگا پھونکا جانا کوچ کا اشارہ ہوگا۔ بنی اسرائیل کو جمع کرنے کے لئے بھی نر سنگے پھونکے جائیں اور اس وقت ان کی آوازوں کو طول دیا جائے۔ ہارون ( علیہ السلام ) کاہن کے بیٹے نرسنگے پھونکیں اور یہ قانون اور آئین تمہارے اور تمہاری آئندہ نسلوں کے لئے سدا قائم رہے گا۔ جب تم اپنے ہی ملک میں کسی ایسے دشمن سے لڑنے کے لئے نکلو جو تم پر ظلم ڈھاتا ہے تب سانس باندھ کر زور سے نر سنگے پھونکنا۔ اور اپنی خوشی کے موقعوں پر جیسے اپنی مقررہ عیدوں اور نئے چاند کا جشن اور سوختنی قربانیوں اور سلامتی کی قربانیوں کے وقت تم نرسنگے پھونکنا۔ ( بائیبل کی کتاب گنتی باب نمبر10) بنی اسرائیل یعنی یہودیوں کی طرح ہمارے ہندوستان میں ہندو لوگ اپنے مندروں میں نر سنگے بجاتے ہیں۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام بیت المقدس میں داخل نہیں ہو سکے
حضرت موسیٰ علیہ السلام بیت المقدس کے قریب کی پہاڑی پر لیٹے دیکھ رہے تھے اور جنگ چل رہی تھی ۔ اُدھر حضرت یوشع علیہ السلام کی قیادت میں بنی اسرائیل نے فتح حاصل کی اور اِدھر آپ علیہ السلام کا وصال ہو ا۔ اور اُن کی قبر مبارک وہیں بنا دی گئی ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل زمین کے ایک خاص حصے میں سرمارتے رہیں گے۔ یعنی اُن پر وہ شہر حرام کر دیا گیا ہے ۔ اور وہ اس میں داخل ہو ہی نہیں سکتے۔ اور اس پر انہیں چالیس سال تک قدرت نہیں ہوئی۔ اور کہا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا وصال چالیسویں سال ہوا ہے اور بیت المقدس میں وہ لوگ خود تو داخل نہیں ہوئے البتہ اُن کی اولاد داخل ہوئی۔ اور امام سدی کی روایت میں ہے کہ جس نے بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ سر کش لوگوں کے شہر میں داخل ہونے سے انکار کر دیا تھا اُن میں سے کوئی بھی بچ نہیں سکا۔ سب کا وہیں انتقال ہو گیا۔ اور فتح میں شریک نہیں ہو سکا۔ جب چالیس سال پورے ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ اور سر کشوں سے جنگ کرنے کا حکم دیا ۔ انہوں نے حضرت یوشع علیہ السلام کی تصدیق اور پیروی کی۔ پھر آپ علیہ السلام نے اُن سر کشوں کو شکست دی اور بنی اسرائیل سرکشوں پر ٹوٹ پڑے اور تہ تیغ کر دیا۔ دوسرے اہل علم کی رائے ہے کہ بیت المقدس حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر فتح ہو ا ہے اور حضرت یوشع علیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقدمتہ الجیش ( لشکر کا اگلا حصہ ) تھے۔ ان حضرات نے محمد بن اسحاق سے بھی یہ روایت نقل کی ہے۔ جب چالیس سال وادی تیہ میں بھٹکتے ہوئے گزر گئے اور سب لوگ ( انکار کرنے والے ) مر گئے اور ان کی اولاد جوان ہو گئی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اس نوجوان نسل کو لے کر چلے۔ ساتھ میں حضرت یوشع بن نون علیہ السلام اور حضرت کالب بن یوقنا بھی تھے ۔ جب وہ کنعان کی سر زمین پر پہنچے تو بلعام بن باعور سے سامنا ہوا۔ جسے اللہ تعالیٰ نے علم کی دولت سے نوازا تھا۔
بلعام بن باعودا
حضرت یوشع علیہ السلام نے جب بیت المقدس کے سامنے اپنے لشکر سمیت پڑاﺅ ڈالا تو بیت المقدس میں ایک شخص رہتا تھا۔وہ بہت ہی نیک تھا۔ اس کا نام بلعام بن باعورا تھا۔ اس کی اکثر دعائیں اللہ تعالیٰ قبول کر لیتا تھا۔ اسکی قوم کے لوگوں نے جب حضرت یوشع علیہ السلام کے لشکر کو دیکھا تو بلعام کے پاس آئے اور کہا۔ اے بلعام، حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے ساتھ آئے ہوئے ہیں۔ اور ہمیں یہاں سے نکالنا اور قتل کرنا چاہتے ہیں۔ اور یہ علاقہ بنی اسرائیل کے حوالے کرنا چاہتے ہیں۔ ہم آپ کی قوم ہیں اور ہمارا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے اور آپ ”مستجاب الدعوات “ ( جس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں) آدمی ہیں۔ آپ آگے بڑھیں اور ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے دعا کریں۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ امام محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ نے بلعام بن باعورا کا قصہ بھی ذکر کیا ہے ۔ جس میں یہ بھی مذکور ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بیت المقدس جاتے ہوئے اس کے پاس سے گزرے ۔ شاید قرآن پاک کی اس آیت میں اسی بلعام بن باعورا کا تذکرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ان لوگوں کو اس شخص کا حال پڑھ کر سنائیے جس کو ہم نے اپنی آیتیں دی تھیں پھر وہ ان سے بالکل ہی نکل گیا۔ پھر شیطان اس کے پیچھے لگ گیا۔ تو وہ گمراہیوں میں شامل ہو گیا۔ اور اگر ہم چاہتے تو اس کو ان آیتوں کی بدولت بلند مرتبہ کر دیتے۔ لیکن وہ تو دنیا کی طرف مائل ہو گیا اور اپنی نفسانی خواہش کی پیروی کرنے لگا۔ تو اس کی حالت کُتّے جیسی ہو گئی کہ اگر تو اس پر حملہ کرتے تب تھی ہانپے یا اُسے چھوڑ دے تب بھی ہانپے۔ یہی حالت ان لوگوں کی ہے۔ جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) اس حال کو بیان کر دیں۔ شاید وہ لوگ کچھ سوچیں۔“( سورہ الاعراف آیت نمبر175اور 176)
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں