03 حضرت سلیمان علیہ السلام
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر 15
حضرت سلیمان علیہ السلام کی اسلامی حکومت
حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بہت وسیع حکومت اور سلطنت عطا فرمائی تھی۔ آپ علیہ السلام کا دورِ نبوت اور حکومت بنی اسرائیل کے لئے سب سے سنہرا اور عروج کا دور تھا۔ پورے علاقے میں اسلامی حکومت قائم تھی۔ اور اس وقت بنی اسرائیل دنیا کی واحد مسلم قوم تھے۔ آس پاس کے تمام علاقوں کی مشرک قوموں نے حضرت سلیمان علیہ السلام کی برتری کو تسلیم کر لیا تھا۔ اور تمام مشرک قومیں آپ علیہ السلام کو خراج ادا کر تی تھیں۔ اور اسلامی حکومت کی ماتحتی میں رہتی تھیں۔ تمام بنی اسرائیل انتہائی امیر اور خوش حال تھے۔ اور اس وقت حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت دنیا کی سوپر پاور تھی۔ (یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اس وقت آسٹریلیا، انڈونیشیاء، نیوزی لینڈ اور امریکہ دریافت نہیں ہوئے تھے۔ اور پوری دنیا ایشیاء، افریقہ اور یورپ پر مشتمل تھی) علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام بڑے جنگجو آدمی تھے۔ وہ زمین کے جس حصے میں بھی دشمن کے آنے کی خبر پاتے تھے وہاں لشکر لے کر پہنچ جاتے تھے۔ اور حملہ کر کے دشمن کو شکست دے دیتے تھے۔ محمد بن اسحاق فرماتے ہیں کہ جب آپ علیہ السلام جنگ کا ارادہ کرتے تھے تو آپ علیہ السلام کے لئے لکڑیاں گاڑی جاتی تھیں۔ پھر ان پر آپ علیہ السلام کا تخت رکھ دیا جاتا تھا۔ پھر انسانوں اور جناتوں اور جنگی سامان کو سوار کیا جاتا تھا۔ آپ علیہ السلام کی کرسی درمیان میں ہوتی تھی ۔ جب تمام مطلوبہ سامان سوار ہو جاتا تو آپ علیہ السلام اپنی کرسی پر تشریف فرما ہو کر ہو اکو حکم دیتے تھے تو وہ اس تخت کو اٹھا کر لے کر چلتی تھی اور یہ تخت صبح سے دوپہر تک ایک مہینے کی مسافت اور دوپہر سے شام تک ایک مہینے کی مسافت طے کر تا تھا۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کا تخت
حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک بہت بڑا تخت بنوایا تھا۔ آپ علیہ السلام کے تخت کے بارے میں بڑی عجیب عجیب روایتیں ہیں کہ وہ اتنا بڑا اور اتنا بڑا ہے۔ کسی روایت میں سو میل لمبا چوڑا اور کسی روایت میں سوفر سخ لمبا چوڑا ذکر ہوا ہے۔ یہ نا قابل یقین لگتا ہے۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ ہاں یہ بات دل قبول کرتا ہے کہ تخت اتنا بڑا ضرورتھا کہ آپ علیہ السلام کم سے کم دس ہزار کا لشکر اس پر لے کر جا سکتے تھے۔ تخت کو رکھنے کے لئے آپ علیہ السلام نے بہت سی لکڑیاں یعنی شہتیروں عین کھمبوں کو گڑوایا ہوا تھا۔ جس پر ایک بہت بڑے اور اونچے پلیٹ فارم کی طرح یہ تخت رکھا ہوا رہتا تھا۔ اور اکثر اسی پر آپ علیہ السلام اپنا دربار بھی منعقد فرماتے تھے۔ اور حکومت کے فیصلے بھی کرتے تھے۔ عوام کی فریاد سنتے تھے اور ان کی ضرورت کے مطابق مدد اور فیصلے کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے تخت پر چھ سو 600کرسیاں رکھی جاتی تھیں۔ جن پر انسانوں اور جناتوں میں سے معززین اور عہدے دار بیٹھتے تھے۔ ان کے علاوہ تخت پر دس ہزار سپاہیوں ، ان کے جنگی لباس اور ہتھیار اور خیمے رکھنے کی جگہ ہوتی تھی۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کا سفر کرنے کا طریقہ
حضرت سلیمان علیہ السلام جب سفر کا ارادہ فرماتے تو سب سے پہلے آپ علیہ السلام کے لئے تخت پر کرسی رکھی جاتی تھی۔ پھر معززین ، سپہ سالاروں ، درباریوں اور علمائے کرام کے لئے کرسیاں لگائی جاتیں۔ اگر آپ علیہ السلام کا ارادہ عام سفر کا ہوتا تھا تو صرف مخصوص لوگوں کو ہی سوار کیا جاتا تھا۔ اور اگر جنگ کے لئے جانا ہوتا تھا تو حکومتی عہدیداران کے علاوہ سپاہیوں اور گھوڑوں کو بھی سوار کیا جاتا تھا۔ پھر پرندے آکر تخت پر سایہ کر دیتے تھے۔ اور آپ علیہ السلام تخت پر آکر اپنی کرسی پر تشریف فرما ہوتے تھے ۔ پھر انسانوں اور جناتوں اور جن کو آپ علیہ السلام حکم دیتے تھے وہ سب تخت پر سوار ہو کر اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھ جاتے تھے۔ ھد ھد کو آپ علیہ السلام ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ اور وہ تخت کے آگے آگے اڑتا رہتا تھا۔ اس کا کام پانی کی تلاش کا تھا۔ اسے اللہ تعالیٰ نے ایسی صلاحیت عطا فرمائی ہے کہ ھد ھد زمین کے اندر جمع پانی کے ذخیرے کو دیکھ لیتا ہے۔ جب تمام لوگ سوار ہو جاتے تھے تو آپ علیہ السلام ہوا کو حکم دیتے تھے ۔ اور ہوا تخت کو اٹھا لیتی تھی۔ اور جس طرف آپ علیہ السلام حکم دیتے تھے اس طرف لے جاتی تھی۔ اس تخت کی رفتار آپ علیہ السلام اپنی ضرورت کے مطابق رکھتے تھے۔ اگر آرام سے چلنا ہوتا تھا تو بادِ صبا کو حکم دیتے تھے۔ اور وہ آرام سے لے کر چلتی رہتی تھی۔ اور اگر تیز چلنا ہوتا تھا تو آندھی کو حکم دیتے تھے اور وہ تیزی سے تخت کو لے کر چلتی تھی ۔ لیکن تخت پر بیٹھے لوگوں کو محسوس ہی نہیں ہوتا تھا کہ وہ آندھی پر سوار ہیں۔ اور زمین والوں کو بھی اس تیزی کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ یہاں تک کہ اگر آپ علیہ السلام کا تخت کسی کھیت کی تیار فصل پر سے گزرتا تھا تو اس فصل پر صرف اتنا اثر ہوتا تھا جتنا عام طور سے نارمل ہوا سے ہوتا ہے۔ اور فصل لہلہانے لگتی تھی۔
حضرت سلیمان علیہ السلام پر ایک اور فضل
اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو بہت سی فضیلتیں عطا فرمائی تھیں۔ اور آپ علیہ السلام ان کا بالکل درست استعمال کرتے تھے۔ اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کا شکر بھی ادا کرتے رہتے تھے۔ آپ علیہ السلام کی سرپرستی میں بنی اسرائیل نے بہت عروج حاصل کیا۔ اللہ تعالیٰ بھی آپ علیہ السلام سے بہت خوش تھے۔ اور وقتا فوقتا آپ علیہ السلام پر اپنا فضل فرماتے رہتے تھے۔ اسی طرح ایک مرتبہ آپ علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ نے یہ وحی بھیجی اور فرمایا ۔ اے سلیمان (علیہ السلام )میں نے تیری حکومت میں اور اضافہ کر دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ تو دور نزدیک کی ہر مخلوق کی آواز سنے گا اور ان کی بات سمجھے گا۔ اور ان کی آواز تم تک ہوا لے کر آئے گی۔ آپ علیہ السلام نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے اپنی حکومت کے ہر علاقے کی ہر مخلوق سے بات کی اور ان میں سے ایک کو ان کا سردار مقرر فرمایا۔ اس طرح آپ علیہ السلام نے ہر مخلوق کا ایک سردار مقرر کر دیا اور حکم دیا کہ جب بھی ضرورت ہو مجھ سے آکر مل لیا کرنا اور رپورٹ دیا کرنا۔ اس کے علاوہ آپ علیہ السلام جہاں بھی جاتے تھے وہاں کی تمام مخلوق سے باتیں کرتے تھے۔ اور ان کے حالات سے باخبر رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” سلیمان (علیہ السلام )کے سامنے ان کے تمام لشکر جنات اور انسان اور پرند میں سے جمع کئے گئے اور الگ الگ درجہ بندی کر دی گئی۔ “( سورہ النمل آیت نمبر17)
چیونٹی کا ساتھیوں کو ہوشیار کرنا
اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کوجو خصوصی فضیلت عطا فرمائی تھی وہ ایک طرح سے آپ علیہ السلام کی آزمائش تھی کہ آپ علیہ السلام فخر کرتے ہیں یا شکر ادا کرتے ہیں۔ تا کہ آپ علیہ السلام اس آزمائش میں کامیاب ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ ان کا مرتبہ اور بلند فرما دیں اور ایک واقعہ سے آپ علیہ السلام کی آزمائش ہوئی۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” جب وہ چیونٹیوں کے میدان میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔ اے چیونٹیوں ، اپنے اپنے گھروں میں گھس جاﺅ۔ ایسا نہ ہو کہ بے خبری میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا لشکر تمہیں روند ڈالے۔ اس کی یہ بات سن کر حضرت سلیمان علیہ السلام مسکرا کر ہنس دیئے۔ اور دعا کرنے لگے۔ اے میرے رب ، اللہ تعالیٰ ، تو مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر اد ا کر سکوں جو تو نے مجھے انعام کے طور پر عطا فرمائی ہے۔ اور میرے ماں باپ کو بھی عطا فرمائی ہے۔ اور میں ایسے نیک اعمال کرتا رہوں جن سے تو خوش رہے۔ اور مجھے اپنی رحمت سے نیک بندوں میں شامل کرلے۔ “( سورہ النمل آیت نمبر18سے 19تک) ایک دن حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے درباریوں اور لشکر کے ساتھ تخت پر سوار ہوئے اور بادِ صبا کو حکم دیا کہ تخت کو اٹھا کرلے چلے۔ آپ علیہ السلام سیر کرنے اور اپنی حکومت کا جائزہ لینے کے لئے نکلے ۔ یہ آپ علیہ السلام کا قاعدہ تھاکہ اکثر آپ علیہ السلام دورے پر نکلتے تھے۔ اور رعایا کی ضرورتوں کو سمجھتے کی کوشش کرتے تھے۔ آپ علیہ السلام جہاں سے بھی گزرتے تھے وہاں کی رعایا کے احوال سنتے جاتے تھے اور پھر انکی ضرورتوں کے مطابق ان کے مسائل حل کرتے تھے۔ اسی طرح اس دن بھی آپ علیہ السلام ”وادی نمل “ چیونٹیوں کی وادی سے گزرے تو ایک چیونٹی کی آواز سن کر چونک پڑے۔ چیونٹیوں کا سردار تمام چیونٹیوں کو اندر داخل ہونے کا حکم دے رہا تھا۔
اللہ کا شکر ادا کیا
حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ایسی مملکت اور سلطنت عطا فرمائی تھی کہ نہ تو آپ علیہ السلام سے پہلے کسی کو عطا ہوئی اور نہ ہی آپ علیہ السلام کے بعد کسی کو عطا ہوئی۔ مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے زبردست لشکر کے ساتھ جا رہے تھے کہ آپ علیہ السلام کے کان میں ایک چیونٹی کی آواز پڑ گئی۔ جو اپنے ساتھیوں سے کہہ رہی تھی کہ تم جلدی سے اپنے بلوں میں گھس جاﺅ کیونکہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا لشکر آرہا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ لشکر تمہیں اپنے پاﺅں سے روند ڈالے اور انہیں خبر بھی نہ ہو۔ آپ علیہ السلام اس چھوٹے سے جانور کی بات سن کر مسکرا پڑے اور بے ساختہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جھک گئے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں چند باتوں کو ارشاد فرمایا ہے۔ پہلی بات یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون کو بھی حکومت عطا فرمائی تھی۔ لیکن وہ اس قوت و طاقت اور حکومت کو اپنا ذاتی کمال سمجھ بیٹھا اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے لگا۔ اس نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ اپنے آپ کو نعوذ باللہ رب کہلوانے لگا۔ اور لوگوں کو اپنے سامنے جھکانا شروع کر دیا۔ اس کے بر خلاف جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کو فرعون سے بھی زیادہ زبردست قوت و طاقت ، حکومت اور سلطنت عطا فرمائی تھی لیکن انہوں نے اس کو اپنا ذاتی کمال نہیں سمجھا بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا اور بخشش سمجھا۔ اسی لئے ہر وقت وہ ہر نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے تھے۔ دوسری بات یہ کہ اتنی بڑی سلطنت اور حکومت ملنے کے باوجود حضرت داﺅد علیہ السلام لوہے کی زرہیں بنا کر اور حضرت سلیمان علیہ السلام ٹوکریاں بنا کر اپنی گزر اوقات کرتے تھے۔ یہ وہ ہاتھ کی کمائی تھی جو انسان کو اللہ تعالیٰ کا محبوب بنا دیتی ہے۔ اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ انسان کا بہترین رزق اس کے ہاتھ کی کمائی ہے۔ بے شک حضرت داﺅد علیہ السلام اپنے ہاتھ سے محنت کرتے تھے۔
آزمائش میں کامیاب
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کے مرتبے بلند کرنے کے لئے انہیں وقتاً فوقتاً آزماتا ہے۔ اور جس بندے کا ایمان جتنا زیادہ مضبوط ہوتا ہے اس پر ویسی ہی آزمائش آتی ہے۔ تمام مخلوق میں سب سے معزز اور افضل انبیائے کرام علیہم السلام ہیں ۔ اور انبیائے کرام علیہم السلام میں سے سب سے افضل ہمارے پیارے رسول سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ آزمائش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام آذمائشوں میں کامیاب ہوئے۔ اور اللہ تعالیٰ جنت میں سب سے اعلیٰ مقام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو بھی آزمایا۔ اور جب آپ علیہ السلام نے چیونٹی کی آواز سنی تو مسکرا پرے لیکن جب غور و فکر کیا تو آپ علیہ السلام کو سمجھ میں آیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسی سلطنت اور حکومت سے نواز ا ہے جو بے مثال ہے۔ اس کے باوجود مجھے یہ نہیں معلوم کہ میرے راستے میں چیونٹی ہے۔ لیکن چیونٹی کو معلوم ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا لشکر آرہا ہے۔ اور سمجھ گئے کہ اللہ تعالیٰ جسے بھی جو بھی چاہے عطا فرما سکتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک چیونٹی کو بھی بہت کچھ عطا فرما سکتا ہے۔ فوراً آپ علیہ السلام عاجزی اختیار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو گئے۔ اور اللہ کی عطا کی ہوئی نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کرنے لگے۔ اور دعا کرنے لگے کہ اے اللہ تعالیٰ ، مجھے اس لائق بنا کہ میں تیری عنایت کردہ نعمتوں کا شکر ادا کرسکوں ۔ اور مجھے ایسے اعمال کرنے کی توفیق دے جن سے تو راضی ہو جائے اور مجھ پر رحمت فرما کہ مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل کر لے۔ اس طرح حضرت سلیمان علیہ السلام نے عاجزی اختیار کی اور آزمائش میں کامیاب ہو گئے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........!
.jpeg)
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں