03 حضرت شعیب علیہ السلام
سلسلہ نمبر 11
تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 3
حضرت شعیب علیہ السلام کا اعلانِ نبوت
حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار دولت اور نعمتیں عطا فرمائی تھیں۔ اور ان میں دولت کی حرص اور زیادہ پیدا ہو گئی۔ ابلیس شیطان اپنی کوشش میں لگا ہو ا تھا۔ اسی نے اُن کے دل میں دولت کی حرص پیدا کی۔ اور دولت میں اضافے کےلئے انہیں بتوں کی پوجا کی طرف مائل کیا۔ جب وہ بتوں کی پوجا کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے اُن کی آزمائش کے لئے ان کے رزق میں اور اضافہ کر دیا۔ اس کے بعد اُن کی اولاد ان سے زیادہ گمراہی میں مبتلا ہو گئی۔ اور شیطان کامیاب ہو تا گیا۔ قوم مدین اور قوم ایکہ زیادہ سے زیادہ امیر اور دولت مند ہوتی جا رہی تھی ۔ مدین کا علاقہ تجارتی شاہراہ ( سب سے بڑا تجارتی راستہ ) پر تھا۔ اس لئے وہاں بہت بڑے بڑے بازار ( تجارتی منڈیاں ) تھے۔ اور ان بازاروں میں ایران، عراق ، فلسطین، مصر ، حجاز ( مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ وغیرہ ) اور یمن اور بھی دوسرے ممالک کے تجارتی قافلے آتے تھے۔ اور وہاں اپنا سامان فروخت کر کے اُن لوگوں سے سامان خرید کر اپنے علاقوں میں لے جا کر فروخت کر تے تھے۔ ان تجارتی منڈیوں اور بازاروں کا فائدہ یہ تھا کہ عراق والوں کو یمن کا یا مصر کا سفر نہیں کرنا پڑتا تھا۔ بلکہ اُن ملکوں کے تاجر اور تجارتی قافلے انہیں تجارتی منڈیوں میں مل جاتے تھے۔ اس طرح ہر ملکوں کے تاجر کو آسانی ہو گئی تھی۔ لیکن قوم مدین اور قوم ایکہ نے زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کے لئے ان تجارتی قافلوں اور تاجروں کے ساتھ بد دیانتی شروع کر دی۔ دھیرے دھیرے شیطان نے ان کے اندر دولت کمانے کے لئے ناپ تول میں کمی کا احساس پیدا کیا۔ اور جب یہ لوگ ناپ تول میں کمی کرنے لگے تو شروع شروع میں ان لوگوں کا زبردست فائدہ ہوا۔ ایسے کٹھن حالات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔ اور آپ علیہ السلام نے قوم مدین اور قوم ایکہ میں اعلان نبوت فرمایا۔ اور انہیں اسلام کی دعوت دی اور برائیوں سے روکنے کی کوشش کی۔
قوم مدین اور قوم ایکہ کی دادا گیری اور چُنگی وصولی
حضرت وشعیب علیہ السلام نے جس وقت اپنی قوم مےںاعلا ن نبو ت فر ما ےا تو اس وقت ےہ دونو ں قوم بہت امیر تھیں۔قو م مدین تو بوں کی پوجا کرتی تھی اور قوم ایکہ ایک بہت بڑے درخت جس کا نام ایکہ تھا اس کی پوجا کرتی تھی۔ ان دونوں قوموں کے علاقوں سے ہر وقت بے شمار تجارتی قافلے گزرتے رہتے تھے۔ جب ان دونوں قوموں کے لوگوں نے ناپ تول میں کمی کرنی شروع کر دی تو شروع شروع میں ان کا زبردست فائدہ ہوا لیکن دھیرے دھیرے تجارتی قافلے والوں نے ان کی دھوکہ دہی اور بد دیانتی کو سمجھ لیا کہ یہ لوگ لیتے وقت زیادہ لیتے ہیں اور دیتے وقت کم دیتے ہیں۔ اسی لئے دوسرے ممالک کے تجارتی قافلے والوں نے آپس میں خرید و فروخت شروع کر دی اور ان دونوں قوموں سے خرید و فروخت نہیں کرتے تھے۔ ان دونوں قوموں نے جب دیکھا کہ بہت سارے قافلے ہمارے بازار میں ہم سے خرید و فروخت نہیں کرتے ہیں اور اپنا مال دوسرے ممالک کے تجارتی قافلوں کے تاجروں کو بیچ کر زیادہ منافع کماتے ہیں تو قوم مدین اور قوم ایکہ نے اپنے اپنے گروہ بنا لئے اور جو بھی قافلہ ان کے بازار میں لین دین کئے بغیر آگے بڑھتا تھا تو وہ لوگ تجارتی راستے پر اس کے انتظار میں بیٹھے رہتے تھے اور جیسے ہی وہ قافلہ قریب پہنچتا تھا تو اسے گھیر لیتے تھے اور ان کے بازار میں ان سے خرید و فروخت پر مجبور کرتے تھے۔ جو تجارتی قافلہ راضی ہو جاتا تھا تو اس کا اچھا مال سستے داموں میں خرید لیتے تھے ۔ اس کے علاوہ یہ لوگ تجارتی قافلوں سے چنگی بھی وصول کرتے تھے۔ چنگی اسے کہتے ہیں جو حکومت تجارت پر ٹیکس لیتی ہے لیکن یہ لوگ تو غنڈوں کی طرح ہفتہ وصولی کرتے تھے۔
حضرت شعیب علیہ السلام نے قوم کو سمجھایا
حضرت شعیب علیہ السلام نے قوم مدین اور قوم ایکہ میں اعلان نبوت فرمایا اور انہیں اسلام کی دعوت دی۔آپ علیہ السلام نے دونوں قوموں کو ایک ساتھ اسلام کی دعوت دی یا الگ الگ دی۔اس کے بارے میں تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔ لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں دونوں قوموں کا الگ الگ ذکر فرمایا ہے۔ اسی لئے ہم قوم کا ذکر کر نے کے بعد دوسری قوم کا ذکرکریں گے تا کہ آگے الجھن نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے مدین کی طرف اُن کے بھائی شعیب (علیہ السلام ) کو بھیجا۔ انہوں نے فرمایا۔ اے میری قوم، تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں ہے۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل آچکی ہے۔ پس تم ناپ اور تول پورا پورا کیا کرو۔ اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے مت دو۔ اور زمین پر اصلاح کر دی گئی ہے اس کے بعد فساد مت پھیلاﺅ۔ اور اگر تم جان لو تو یہی تمہارے لئے فائدے مند ہے۔“ ( سورہ الاعراف آیت نمبر 85) اللہ تعالیٰ نے آگے سورہ ہود میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے مدین والوں کی طرف ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام ) کو بھیجا۔ انہوں نے فرمایا۔ اے میری قوم، اللہ کیعبادت کرو۔ اس کے سواتمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ اور ناپ تول میں بھی کمی نہ کرو۔ میں تو تمہیں آسودہ حال دیکھ رہا ہوں اور مجھے تم پر گھیرنے والے دن کے عذاب کا خوف ہے۔ اے میری قوم، ناپ تول انصاف کے ساتھ پوری پوری طرح کرو۔ اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو اور زمین میں فساد اور خرابی نہ مچاﺅ۔ اور اللہ تعالیٰ کا حلال کیا ہوا جو بیچ رہے ہو وہی تمہارے لئے بہت ہی بہتر ہے۔اگر تم ایماندار ی سے کام لو تو اور میں تم لوگوں پر کچھ نگہبان ( یعنی زبردستی کرنے والا ) نہیں ہوں۔“(سورہ ہود آیت نمبر84 سے 86تک) اللہ تعالیٰ نے آگے سورہ العنکبوت میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب علیہ السلام کو بھیجا ۔ انہوں نے کہا۔ اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی عبادت کرو۔ قیامت کے دن پر یقین اور توقع رکھو۔ اور زمین پر فساد کرتے نہ پھرو۔
قوم کو محبت، شفقت اور وقار سے سمجھایا کرتے
حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو انتہائی محبت سے سمجھایا اور اسلام کی دعوت دی اور جو برائیاں ان میں پیدا ہو گئی تھیں ان سے روکا ۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ حضرت شعیب علیہ السلام بڑے حلیم، صادق اور انتہائی باوقار تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی آپ علیہ السلام کا ذکر فرماتے تھے کہ حضرت شعیب علیہ السلام ” خطیب الانبیاء“ تھے۔ اس لئے کہ جب آپ علیہ السلام اپنی قوم کو دعوت ِ حق ( اسلام کی دعوت) دیتے تو قوم کی طرف رجوع کا انداز حسین اور دلکش ہوتا تھا۔ اور جب وہ لوگ آپ علیہ السلام کی دعوت کا انکار کرتے ہوئے جھٹلادیتے اور آپ علیہ السلام کو رجم ( سنگسار ) کرنے اور شہر سے باہر نکال دینے کی دھمکی دیتے تو ایسی حالت میں بھی آپ علیہ السلام کا انداز انتہائی شستہ اور پُر وقار ہوتا تھا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ آپ علیہ السلام نے بھی تمام رسولوں کی طرح انہیں توحید کی اور شرک سے بچنے کی دعوت دی اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میری نبوت کی دلیلیں تمہارے سامنے آچکی ہیں۔ خالق کا حق بتا کر ، پھر مخلوق کے حق کی ادائیگی کی طرف رہبری کی اور فرمایا۔ ناپ تول میں کمی کی عادت چھوڑ دو۔ لوگوں کے حقوق نہ مارو۔ کہو کچھ اور کرو کچھ یہ خیانت ہے۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ یعنی ہم نے مدین بن ابراہیم خلیل الرحمن کی اولاد کی طرف شعیب علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔ آپ علیہ السلام کو ”خطیب الانبیاء“ کا خطاب دیا گیا ہے۔ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو بہت عمدہ اور حسین انداز میں توحید کی طرف اور نیک خصائل کی طرف بلایا تھا۔ لیکن آپ علیہ السلام کی قوم کفر پر اڑی ہوئی تھی۔ کم تولنا اور کم ناپنا اُن کے مشہور افعالِ قبیمہ تھے۔ آپ علیہ السلام اُن سے فرماتے کہ لوگوں کے حقوق میں کمی نہ کرو۔ کیوں کہ وہ بڑی چھوٹی عظیم و حقیر ، ہر چیز میں کمی کر دیتے تھے۔ بعض علماءفرماتے ہیں کہ ( بڑے بڑے گوداموں میں ) ذخیرہ اندوزی کرتے تھے۔ آپ علیہ السلام انہیں سمجھاتے کہ زمین میں کفر اور ظلم کے ذریعے فساد نہ پھیلاﺅ ۔ اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے پاس اپنا نبی بھیج دیا ہے۔ جو نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے۔ اور جو میں تمہیں بتا رہا ہوں اور جس کا حکم دے رہا ہوں وہ اس ظلم اور کم تولنے سے بہتر ہے۔ کیوں کہ کم تولنے اور ظلم کرنے میں حالانکہ تمہیں دنیا میں کچھ تھوڑا نفع حاصل ہوتا ہے لیکن یہ گھناﺅنے کرتوت تمہارے لئے دنیا اور آخرت دونوں میں تکلیفوں کا باعث بنتے ہیں۔ جب کہ میں جس چیز کا حکم دے رہا ہوں وہ تمہاری دنیا اور آخرت دونوں کے لئے بہتر ہے۔
قوم کا جواب
حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو انتہائی محبت سے سمجھایا اور انہیں اسلام کی دعوت دی۔ اور جس معاشی برائی میں مبتلا تھے اس کی برائیوں اور انجام سے آگاہ کیا۔ اور اسلام قبول کرنے اور تمام برائیوں کو چھوڑ دینے پر دنیا اور آخرت میں کامیابی کی بشارت دی۔ لیکن ان بد بختوں پر شیطان سوار تھا۔ حالانکہ وہ لوگ بچپن سے آپ علیہ السلام کو دیکھتے آرہے ہیں کہ آپ علیہ السلام انتہائی نیک، عزت دار، عبادت گزار اور ہر وقت لوگوں کی مدد کرنے والے ہیں۔ پھر بھی انہوں نے آپ علیہ السلام کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ ہود میں فرمایا۔ ترجمہ ” انہون نے ( حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم نے ) جواب دیا۔ اے شعیب علیہ السلام ، کیا تمہاری نماز تمہیں یہی حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے باپ دادوں کے معبودوں کو چھوڑ دیں۔ اور ہم اپنے مالوں میں جو کچھ ( منافع کمانا) چاہیں تو اسے بھی کمانا چھوڑ دیں۔ حالانکہ تم تو بنہت ہی با وقار اور نیک چلن آدمی ہو۔ “( سورہ ہود آیت نمبر87) مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں ۔ حضرت شعیب علیہ السلام کو اہل مدین کی اصلاح اور درستی کے لئے بھیجا گیا تھا۔ انہوں نے اپنی قوم کی اصلاح کے لئے ایک اللہ کی بندگی اور اطاعت کا درس دیا۔ یہ وہی تعلیم ہے جو تمام انبیائے کرام نے کفر و شرک میں مبتلا قوموں کو دی تھی۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا ۔ کہ میری قوم کے لوگو، تم اس ایک اللہ کی بندگی و عبادت کرو جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہی تمہارا خالق و مالک اور کار ساز ہے۔ ان کی اخلاقی اصلاح کے لئے فرمایا کہ ناپ تول میں کمی نہ کرو۔ ورنہ مجھے ڈر ہے کہ تمہاری ان بے ایمانیوں کے نتیجے میں اللہ کا وہ عذاب آضائے گا جس سے بچ کر نکلنا ممکن نہیں ہو گا۔ ان کے معاشرہ کی اصلاح کے لئے فرمایا کہ تم فساد فی الارض نہ کرو۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ فساد کرنےوالوں کو پسند نہیں کرتے ہیں۔ اُن کے ایمان کی تقویت کے لئے فرمایا کہ حلال ذریعوں سے جو بھی رزق تمہارا مقدر ہے اس پر گزارہ کرو۔ اور ہوس اور لالچ کے ہر انداز کو چھوڑ دو۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے اُن کے تمدن ، تہذیب ، اخلاق اور ایمان کی اصلاح کے بہترین اور مخلصانہ طریقے ارشاد فرمائے۔ پوری قوم کا یہی جواب تھا کہ اے شعیب ( علیہ السلام ) کیا تمہاری نماز اور عبادت تمہیں یہی سکھاتے ہیں کہ تم ہم سے ایسی باتیں کرو اور ہمارا وہ مال جس میں ہمیں ہر طرح کے تصرف کا حق حاصل ہے۔ اسے اپنی مرضی سے خرچ نہ کریں۔ اور کیا ہم اپنی کاروباری زندگی کورزق حلال کے چکر میں تباہ و بربادکر ڈالیں؟
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں