03 حضرت شموئیل اور حضرت داﺅد علیہما السلام
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر14
قسط نمبر 3
حضرت شموئیل علیہ السلام کا سلسلہ نسب
حضرت شموئیل علیہ السلام کے سلسلہ نسب میں علمائے کرام کا اختلاف ہے۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں کہ سلسلہ نسب اس طرح ہے۔ حضرت شموئیل بن قنابن یردھام بن یہوذ بن یوحابن صوب بن القانا بن یویل بن عزیر بن ضعینا بن تاحت بن اسر بن انفانابن نشاسات بن قارون۔ علامہ ابن کثیر حضرت شموئیل علیہ السلام کا سلسلہ نسب اس طرح لکھتے ہیں۔ حضرت شموئیل بن بالی بن علقمہ بن یرخام بن یہو بن صوف بن علقمہ بن ماحث بن عموصابن عزریا۔ بعض اسلاف نے شموئیل کو اشموئیل لکھا ہے۔ امام مقاتل رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیںکہ آپ علیہ السلام حضرت ہارون علیہ السلام کے وارثین میں سے ہیں۔ حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس سے زیادہ آپ علیہ السلام کا سلسلہ نسب معلوم نہیں ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور دیگر کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسے روایت کرتے ہیں کہ جب ارض غزہ اور عسقلا میں بنی اسرائیل پر بنی عمالقہ کا تسلط قائم ہوا تو انہوں نے اسرائیلیوں کو بے دریغ قتل کیا اور ان کے بچوں کو قیدی بنا لیا۔ بنو لاوی ( لاوی کے خاندان) میں اب کوئی نبی نہیں تھا۔ اس خاندان میں صرف ایک حاملہ عورت تھی۔ وہ دعا کرتی رہتی تھی کہ اللہ تعالیٰ اسے ایک بیٹا عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی التجا کو قبول فرماتے ہوئے ایک بیٹا عطا فرمایا۔ اس عورت نے نومولود کا نام اشموئیل رکھا۔ اشموئیل یا شموئیل عبرانی لفظ ہے۔ اس کا عربی معنی ” اسماعیل“ اور اردو معنی” سُنا گیا“ یا ”سُنا ہوا “ ہے۔
بیت المقدس میں تربیت اور نبوت سے سرفراز
حضرت شموئیل علیہ السلام جب تھوڑے بڑے ہو گئے تو ان کی والدہ نے ان کی تربیت کے لئے بیت المقدس بھیج دیا۔ وہاں کے عالِم کی نگرانی میں آپ علیہ السلام کی تربیت ہونے لگی۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔ حضرت شموئیل علیہ السلام کی والدہ نے یہ نذر مانی تھی کہ اگر بیٹا پیدا ہوگا تو اسے بیت المقدس کا خادم بنائے گی۔ اسی لئے جب آپ علیہ السلام ، پیدا ہوئے تو عالی بطات کاہن کو دے آئیں۔ عالی کاہن نے انکی پرورش کی اور اپنے بعد کہانت کرنے کی وصیت کی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں بنی اسرائیل کی نبوت اور ولایت سے سرفراز فرمایا۔ حضرت شموئیل علیہ السلام بنی اسرائیل میں دس برس تک وعظ و اصلاح کرتے رہے۔ ابن عمیر فرماتے ہیں کہ وہ بیس20سال تک حکومت کرتے رہے۔ بنی اسرائیل پر آپ علیہ السلام کی تعلیم اور نصیحت کا بہت بڑا اثر پرا۔ اور وہ بت پرستی چھوڑ کر حق پرستی کی طرف مائل ہو گئے اور نہایت کم مدت میں اپنی بکھری ہوئی قوت جمع کر کے اہل فلسطین سے اپنے گئے ہو ئے اور کھوئے ہوئے شہروں کو واپس لے لیا۔ اور اپنی خرابی کو ازسر نو درست کیا۔
بنی اسرائیل کی بادشاہ کے لئے درخواست
اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” کیا آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے (حضرت ) موسیٰ (علیہ السلام )کے بعد والی بنی اسرائیل کی جماعت کو نہیں دیکھا؟جب انہوںنے اپنے بنی سے کہا کہ کسی کو ہمارا بادشاہ بنا دیجئے۔ تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔ نبی نے کہا کہ ممکن ہے جہاد فرض ہو جانے کے بعد تم جہاد نہ کرو۔ ( اور پیچھے ہٹ جاﺅ) ۔ انہوں نے کہا۔ بھلا ہم اللہ کی راہ میں جہاد کیوں نہیں کریں گے؟ ہم تو اپنے گھروں سے اجاڑے گئے ہیں اور بچوں سے دور کر دیئے گئے ہیں۔ پھر جب ان پر جہاد فرض ہوا تو سوائے تھوڑے سے لوگوں کے سب پِھر گئے۔ اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔ “( سورہ البقرہآیت نمبر246) اس آیت کی تفسیر میں تفسیر بصیرت القرآن میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو بڑی عظمتیں عطا فرمائی تھیں۔ مگر انہوں نے ناشکریوں اور بد اعمالیوں کا ایسا سلسلہ شروع کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ساری عظمتیں چھین لیں اور ان پر کافروں کو مسلط کر دیا۔ فلسطین میں ایک گرانڈیل، دیوہیکل اور جنگ کا ماہر شخص جاتی جولیت تھا۔ جو ان کا سپہ سالار تھا اور جالوت کہلاتا تھا۔ اس کا رعب بنی اسرائیل پر اس قدر چھا چکا تھا کہ اس نے بار بار بنی اسرائیل پر حملہ کر کے ان کا قتل عام کیا اور ان کو گھروں سے بے گھر کیا۔ اور ان سے تبرکات سے بھرا ہوا صندوق بھی چھین کر لے گیا جو ان کے ہاں فتح و نصرت اور کامیابی کا نشان سمجھا جاتا تھا۔ یہ لوگ جنگ و جہاد سے جان چھڑا تے تھے اور موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا سلیقہ نہیں جانتے تھے۔ یہ خوف اور بزدلی برسوں تک اسی طرح چھائی رہی کہ بنی اسرائیل کے پانچ بڑے شہران کے ہاتھوں سے نکل گئے تھے۔ مگر ان میں ان کو اپس لینے کی ہمت نہیں تھی۔ حضرت شموئیل علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے اندر تجدید و اصلاح اور ان کی تنظیم کا کام کیا۔ جس سے بنی اسرائیل میں ایک نئی زندگی پیدا ہو گئی اور فلسطینیوں کے مقابلے میں کھڑے ہونے کے قابل ہو گئے۔ مگر حضرت شموئیل علیہ السلام بہت بوڑھے ہو چکے تھے۔ اس لئے انہوں نے آپ علیہ السلام ہی سے ایسی قیادت کی درخواست کی جس کی سر براہی میں وہ اپنے دشمنوں سے انتقام لے سکیں۔ حضرت شموئیل علیہ السلام ان کی ایمانی کمزوری سے اچھی طرح واقف تھے۔ اسی لئے انہوں نے فرمایا کہ ایسا نہ ہو کہ تم پر جہاد فرض کیا جائے تو تم میدان چھوڑ کر بھاگ جاﺅ۔ اس پر انہوں نے بڑے جوش اور جذبے کے ساتھ کہا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ہم تو اپنے گھروں اور بچوں سے جدا کر دیئے گئے ہیں کیا ہم اب بھی جہاد نہیں کریں گے؟
حضرت طالوت
اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ”اور انہیں ان کے نبی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ بنا دیا ہے تو کہنے لگے بھلا اس کی ہم پر حکومت کیسے ہو سکتی ہے؟ اس سے تو بہت زیادہ حقدار بادشاہت کے ہم ہیں اور اس کو تو مالی کشادگی بھی نہیں دی گئی ہے۔ نبی ( علیہ السلام ) نے فرمایا۔ سنو، اللہ نے اسی کو تم پر برگزیدہ کیا ہے۔ اور اسے علمی اور جسمانی برتری بھی عطا فرمائی ہے۔ اور اللہ جسے چاہتا ہے اپناملک دے دیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کشادگی والا اورعلم والا ہے۔ “( سورہ البقرہ آیت نمبر247)علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ امام ثعلبی نے حضرت طالوت کا سلسلہ نسب اس طرح بیان کیا ہے۔ حضرت طالوت کہتے ہیں کہ طالوت بن قیش بن افیل بن صارو بن تحورت بن افیح بن انیس بن بنیامن بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہ السلام ۔ عکرمہ اور سدی کہتے ہیں کہ طالوت پیشے کے اعتبار سے سقاءیعنی پانی پلانے والے تھے۔ حضرت وہب بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ آپ رنگ ساز ( یعنی چمڑا رنگتے تھے) اس کے علاوہ کئی اور اقوال بھی ہیں۔ واللہ اعلم ........
حضرت طالوت کا انتخاب
حضرت شموئیل علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بادشاہ کے انتخاب کا ایک پیمانہ عطا فرمایاتھا۔ علامہ محمد جریر طبری لکھتے ہیں ۔ حضرت شموئیل علیہ السلام نے دعا کی تو ایک عصا نمودار ہوا کہ اس عصا کی لمبائی کے برابر جس شخص کا قد آئے گا وہ بنی اسرائیل کا بادشاہ ہوگا۔ آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل میں اعلان فرمایا کہ تم لوگ اس عصا سے اپنا قد ناپیں۔ جس کا قد اس عصا کے برابر ہو گا وہی تمہارا بادشاہ بنے گا۔ ہر شخص نے اپنے آپ کو عصا سے ناپنا شروع کیا مگر کسی کا قد اس کے برابرنہیں آیا۔ حضرت طالوت بنی اسرائیل کے قبیلہ بن یامن کے تھے اور غریب آدمی تھے۔ ان کا قد عصا کے بالکل برابر آیا اسی لئے حضرت شموئیل علیہ السلام نے اعلان فرمایاکہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کا بادشاہ حضرت طالوت کو بنا یا ہے۔ یہ سن کر بنی اسرائیل کے امراءاور علماءنے کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم جیسے امیر یعنی دولت مند اور زیادہ علم والوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ ایک غریب اور محتاج شخص کو ہمارا بادشاہ بنائے۔ حضرت شموئیل علیہ السلام نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے تمہاری بادشاہت کے لئے چنا ہے اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنا ملک ( زمین کا انتظام) دے سکتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ تمہارے لئے کیا بہتر ہے۔ در اصل اس وقت تک بنی اسرائیل مختلف فرقوں یعنی مسلکوں میں بت چکے تھے۔ بارہ قبیلوں میں تو پہلے ہی وہ بٹ چکے تھے اور ہر قبیلے اور فرقے والے یہ چاہتے تھے کہ ان کے قبیلے یا فرقے کا بادشاہ ہو۔ اسی لئے تمام بنی اسرائیل ایک بادشاہ پر متفق نہیں ہو پار ہے تھے۔ اور اسی لئے انہوں نے تمام بنی اسرائیل کا بادشاہ بنانے کے لئے حضرت شموئیل علیہ السلام سے درخواست کی تھی۔ اور جب آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق حضرت طالوت کو بادشاہ بنانے کا اعلان فرمایا تو وہ اس پر بھی اعتراض کرنے لگے۔
حضرت طالوت کی بادشاہت کی نشانی تابوتِ سکینہ
حضرت شموئیل علیہ السلام نے جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت طالوت کو بادشاہ بنانے کا اعلان فرمایا تو بنی اسرائیل نے کہا کہ اس بات کی کیا نشانی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی طالوت کو ہمارا بادشاہ بنایا ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ طالوت کی بادشاہت کی نشانی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ”تابوتِ سکینہ“ کو تمہاری طرف واپس لوٹا دے گا۔ اور فرشتے اسے لے کر تم تک آئیں گے۔ ( آپ کو یاد ہو گا کہ تابوت سکینہ بنی اسرائیل سے چھن گیا تھا) بنی اسرائیل نے کہا۔ ٹھیک ہے اگر تابوتِ سکینہ ہم تک واپس آجائے گا تو ہم طالوت کو اپنا بادشاہ تسلیم کر لیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” ان کے نبی نے انہیں فرمایا کہ اس کی بادشاہت کی ظاہری نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق آجائے گا۔ جس میں تمہارے رب کی طرف سے دلی سکون ہے۔ ( یعنی تابوتِ سکینہ) ۔ اور آلِ موسیٰ اور آلِ ہارون کا بقیہ ترکہ ہے۔ اور فرشتے اسے اٹھا کر لائیں گے۔ بے شک اگر تم واقعی مومن ہو تا س میں تمہارے لئے کھلی نشانی ہے۔ ( سورہ البقرہ آیت نمبر248) علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں کہ طالوت نہایت جسیم اور قد آور تھا۔ اور بنی اسرائیل سے شاول یا ساول کے نام سے یاد کرتے تھے۔ اور بائبل میں طالوت کانام ساول لکھا ہوا ہے۔
تابوتِ سکینہ کے واپسی
اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ تابوتِ سیکنہ واپس آئے گا اسے ایک مشرک قوم بنی اسرائیل سے چھین کر لے گئی تھی اور ایک روایت میں ہے کہ عمالقہ چھین کر لے گئے تھے۔ مشرکین تابوت سکینہ کو چھین کر اشدود لے گئے اور اسے دجون کے مندرمیں لے جا کر دجون کے پاس رکھ دیا۔ اگلے دن صبح جب اشدود کے لوگ مندر میں گئے تو دیکھا کہ دجون کا بت تابوتِ سکینہ کے آگے منہ کے بل اوندھا پڑا ہوا ہے۔ انہوں نے بت کو اٹھایا اور اس کی جگہ واپس رکھ دیا۔ لیکن اگلی صبح انہوںنے دیکھا کہ پھر ان کا دیوتا یعنی بت تابوتِ سکینہ کے آگے اوندھا پڑا ہوا ہے۔ اور اس بار تو اس کا سر اور اس کے بازوﺅں کو بھی توڑ دیا گیا ہے۔ اور صرف دھڑ رہ گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اشدود اور س کے آس پاس کے علاقوں کے باشندوں پر بھی تباہی آنے لگی اور وہ گلسُیوں کی تکلیف( طاعون) میں مبتلا ہو گئے۔ انہوں نے جب یہ حال دیکھا تو کہنے لگے کہ اسرائیل کے دیوتا کا تابوت ہمارے یہاں نہیں رہنا چاہیے۔ کیوں کہ اسرائیلیوں کا دیوتا ہمارے دیوتا دجون سے زیادہ طاقتور ہے۔ اسی لئے ان کے علماء( پنڈتوں) اور حکمرانوں نے فیصلہ کر کے تابوت سکینہ کو جات کی طرف منتقل کر دیا۔ وہ لوگ بھی طاعون میں مبتلا ہو گئے تو انہوںنے دوسرے علاقے میں بھیج دیا۔ اس طرح یہ مشرکوں کے علاقوں میں منتقل ہو تا رہا۔ اور جب حضرت شموئیل علیہ السلام نے بنی اسرائیل میں تابوت سکینہ کی واپسی کا اعلان فرمایا تو اس وقت وہ عقرون میں تھا۔ اور وہاں کے سب لوگ طاعون کی بیماری سے بے حال تھے۔ آخر کار انہوں نے تابوت سکینہ کو ایک بیل گاڑی میں رکھ کر بنی اسرائیل کی طرف ہانک دیا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ جب عمالقہ تابوت سکینہ کو چھیننے میں کامیاب ہو گئے جس میں سکون کا سامان اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کے بقیہ جات تھے۔ اور ایک روایت کے مطابق تابوت میں توریت کی لکھی ہوئی الواح تھیں۔ تو عمالقہ نے اس تابوت کو اپنے ایک مندر میں رکھ کر اس کے اوپر اپنا بت رکھ دیا۔ جس کی وہ پوجا کرتے تھے۔ جب صبح ہوئی تو دیکھا کہ تابوت اس بت کے اوپر رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے پھر تابوت کو نیچے رکھ دیا۔ لیکن دوسرے دن پھر بت نیچے اور تابوت اوپر تھا۔ جب کئی دن تک یہی واقعہ پیش آیا تو انہوں نے تابوتِ سکینہ کو دوسرے شہر میں بھیج دیا۔ وہاں بیماری کی وباءپھیل گئی۔ انہوں نے دوسرے قصبے میں تابوت بھیج دیا۔ اس طرح وہ تابوت مشرکوں کے علاقے میں گھومتا رہا۔ آخر کار مجبور ہو کر عمالقہ نے تابوت سکینہ کو ایک بیل گاڑی پر رکھا اور اپنے علاقے کے باہر لے جا کر چھوڑ دیا۔ وہاں سے بیل گاڑی کو فرشتوں نے سنبھال لیا۔ اور اسے لے کر بنی اسرائیل کے علاقوں میں آئے۔ بیل گاڑی کو چلانے والے فرشتے کسی کو دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ اسی لئے بنی اسرائیل حیرت سے اپنے آپ چلتی ہوئی بیل گاری کو دیکھ رہے تھے۔ اور جو بھی دیکھتا تھا وہ اس کے پیچھے چلنے لگتا تھا۔ یہاں تک کہ وہ بیل گاڑی حضرت شموئیل علیہ السلام کے گھر کے سامنے رک گئی۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں