پیر، 15 مئی، 2023

03 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام Story of Prophet Moosa and Haroon



03 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام 

سلسلہ نمبر12

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 3

صندوق میں ڈال کر دریا میں چھوڑ دیا

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کے نام میں اختلاف ہے۔ مفتی احمد یا ر خان نعیمی اپنی تفسیر نعیمی میں لکھتے ہیں کہ آپ علیہ السلام کی والدہ محترمہ کا نام ”عایذ “ ہے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ امام سہیلی فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ محترمہ کا نام ” ایارخا “ ہے کچھ لوگ ”ایا ذخت “ بھی بتاتے ہیں۔ بہر حال اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن کی راہنمائی کی گئی اور ان کے دل اور شعور میں یہ بات ڈال دی گئی کہ حزن و ملال ، رنج و غم اور خوف کی کوئی بات نہیں ہے۔ اگر کچھ وقت کے لئے تمہارا بچہ بچھڑ بھی گیا تو اللہ تعالیٰ اسے تمہارے پاس لوٹا دے گا۔ اور وہ رسول ہو گا اور دنیا اور آخرت میں ا سکی شہرت و عزت ہوگی۔ علمائے کرام فرماتے ہیمعافی کے سال پیدا ہوئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام قتل کے سال پیدا ہوئے ۔ آپ علیہ السلام کی والدہ محترمہ کو جب حمل کی گرانی محسوس ہوئی تو بہت پریشان ہوئیں ۔ پہلے ہی دن سے حمل چھپاتی رہیں۔ اور قدرت ِ خداوندی سے کسی کو انہیں دیکھ کر اندازہ بھی نہیں ہوتا تھا کہ آپ کے یہاں بچہ پیدا ہونے والا ہے۔ جب بچہ پیدا ہوا تو انہیں الہام ہوا کہ صندوق بنا کر رسی سے باندھ لو ۔ اور جب خطرہ لاحق ہو تو بچے کو اس صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دو۔ حضرت عمران کا گھر دریائے نیل کے بالکل کنارے تھا۔ اس لئے والدہ محترمہ آپ علیہ السلام کو دودھ پلاتی رہیں اور جب کسی ظالم سے خوف ہوتا تو اسے صندوق میں رکھ کر دریا میں بہا دیتیں اور کنارے پر رسی پکڑ کر بیٹھ جاتیں۔ اور جب بچوں کے قاتل واپس چلے جاتے تو آپ علیہ السلام کو نکال لیتیں۔ اسی طرح اللہ کے حکم کے مطابق عرصے تک یہی کرتی رہیں۔ اللہ کی قدرت کہ ایک دن معمولی سی غفلت سے رسی ہاتھ سے چھوٹ گئی اور صندوق دریائے نیل میں بہہ گیا۔ دوسری روایات میں ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ محترمہ زیادہ دنوں تک بچے کی بات چھپا نہیں سکتیں تھیں۔ اس لئے ایک دن دل پر پتھر رکھ کر آپ علیہ السلام کو صندوق میں رکھا اور دریائے نیل میں ڈال دیا۔

صندوق فرعون کے محل میں پہنچا

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ محترمہ نے کچھ دنوں تک آپ علیہ السلام کو اپنے پاس رکھا لیکن وہ جانتی تھیں کہ زیادہ دنوں تک فرعون اور اس کے سپاہیوں سے یہ بات چھپی نہیں رہ سکے گی۔ اور اگر معلوم ہو گیا تو آپ علیہ السلام کی جان خطرے میں آجائے گی۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ایک دن آپ علیہ السلام کو صندوق میں ڈالا اور صندوق کو دریائے نیل میں ڈال دیا۔ اور اپنی بیٹی سے کہا کہ دریائے نیل کے کنارے کنارے چلتی جاﺅ اور صندوق کو دیکھتی رہو کہ کہاں جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ’ موسیٰ (علیہ السلام )کی والدہ محترمہ نے اسکی بہن سے کہا تو اس کے پیچھے پیچھے جا اور اسے دور ہی دور سے دیکھتی رہ اور فرعونیوں کو اس کا علم بھی نہیں ہوا۔ “ ( سورہ القصص آیت نمبر11) مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں کہ والدہ محترمہ نے آپ علیہ السلام کو غسل دیا اور عمدہ کپڑے پہنائے خوشبو لگائی اور صندوق میں رکھ کر روتی ہوئی دریائے نیل پر لے گئیں اور اللہ کے حوالے کر کے دریا میں ڈال دیا۔ دل بہت بے چین ہوا۔ مگر قدرتی طور سے تسکین ہوئی کہ یہ بچہ پھر مجھ کو ہی ملے گا۔ دریائے نیل سے ایک نہر نکال کر فرعون کے باغ تک پہونچائی گئی تھی۔ اس نہر کا نام عین الشمس تھا۔ یہ صندوق اس نہر میں داخل ہو کر فرعون کے باغ میں پہنچ گیا۔ 

فرعون کی بیوی نے بیٹا بنا لیا

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بڑی بہن دریائے نیل کے کنارے کنارے صندوق کے ساتھ ساتھ چلتی جارہی تھی۔ اس نے دیکھا صندوق فرعون کے محل میں جانے والی نہر میں داخل ہو کرمحل میں کے اندر داخل ہو گیا۔ یہ دیکھ وہ فوراََواپس آ ئی اور والدہ محتر مہ کو آ کر بتایا کہ صندوق اس نہر میں داخل ہو گیا۔ جو فر عون کے محل میں جا تی ہے۔ اور مجھے لگتا ہے کہ فرعون کو صندوق مل جائے گا۔یہ سن کر آپ علیہ السلا م کی والدہ محتر مہ گھبرا گئیں اور اللہ تعالیٰ سے آپ علیہ السلام کے لئے دعا کرنے لگی۔اور اپنی بیٹی سے کہہ کر کہ تم فرعون کے محل کے آس پاس رہو اور دیکھو کہ کیا ہوتا ہے۔اُدھر صندوق فرعون کے باغ میں آکر رک گیا اور اس کے سپا ہیوں یا کنیزوں نے صندوق لا کر فر عون اوراس کی بیوی کے سامنے پیش کیا اللہ تعالیٰ نے اس کہ بارے میں فر مایا۔ترجمہ َََََ”آخر فرعون کے لوگوں نے اس بچے کو اٹھا لیا اور آخر کار یہی بچہ اس کا دشمن ثابت ہوا ۔اس کے رنج کا باعث بنا ۔اور کچھ شک نہیں کہ فرعون اور ہامان اور اس کے لشکر تھے ہی خطا وار۔اور فرعون کی بیوی نے کہا یہ تو میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔اسے قتل نہ کرو۔بہت ممکن ہے کہ ہمیں فائدہ پہنچائے۔یا ہم اسے اپنا بیٹا ہی بنا لیں۔اور یہ لوگ شعور نہیں رکھتے۔“(سورة القصص آیت نمبر8اور9)مفتی احمد یارخان نعیمی لکھتے ہےں۔یہ صندوقچہ فرعون کے باغ میں پہنچا۔اس وقت فرعون باغ کی سیر کر رہا تھا۔اور اس کی بیوی سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہ اور دیگر خاص لوگ بےٹھے تھے۔یہ لوگ اس صندوقچہ کو اٹھا کر فرعون کے پاس لائے۔اس نے جو اس کو کھولا تو اس میں نہایت حسین وجمیل لڑکا پایا۔ فوراََ اس نے کہا یہ وہی لڑکا ہے جس کی نجو میوں نے خبر دی تھی۔یہ میرا اقبال ہے کہ یہ خود بخود میرے پاس آ گیا۔اس کو فوراََقتل کر دیا جائے۔ سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہ نے آپ علیہ السلام کا حسن و جمال دیکھا تو بے ساختہ دل میں مامتا ابھر آئی۔اورفرعون سے بولی کہ تو نے صرف گمان پرہزاروں بچوں کا قتل کر دیا۔اب اس بچے کو قتل نہ کراﺅ۔شاید یہ بچہ کسی اور جگہ سے آ رہاہو اور ہو سکتا ہےکہ بنی اسرائیل نہ ہو۔ میرا تو کوئی بیٹا نہیں ہے۔میں تو اس کواپنا بیٹا بناﺅں گی ۔اللہ تعالیٰ نے میری گود بھر دی ہے۔فرعون نے اپنی بیوی کی بات مان لی فرعون نے اپنی بیوی کی بات مان لی اور آپ علیہ السلام کو اسی کے پاس رہنے دیا۔

سیدہ آسیہ کے لئے فائدے مند

سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا فرعون کی بیوی تھیں۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ لونڈیوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بند صندوق کو دریا سے نکال لیا اور اس وقت تک کھولنے کی جسارت نہیں ہوئی جب تک فرعون کی بیوی سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا کے سامنے اس صندوق کو رکھ نہیں دیا گیا۔ سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا کا شجرہ نسب بیان کرتے ہوئے مفسرین کرام لکھتے ہیں۔ آسیہ بنت مزاحم بن عبید بن ریان بن ولید ۔ ولید وہ شخص ہے جو حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں مصر کا بادشاہ یعنی فرعون تھا۔ بعض علماءکا خیال ہے کہ سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا کا تعلق حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل سے تھا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ سیدہ آسیہ آپ علیہ السلام کی پھوپھی تھیں۔ یہ رائے امام عبدالرحمن بن عبداللہ سہیلی کی ہے۔ ( واللہ اعلم) سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا نے صندوق کھولا اور پردہ ہٹا کر دیکھا تو اس چمکتے چہرے کو دیکھ کر حیران رہ گئیں۔ نورِ نبوت ضوفشاں تھا اور جلالت ِ موسوی سے آنکھیں خیرا ہو ا جاتی تھیں۔ نظر پڑتے ہی سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا تو دل سے فریفتہ ہو گئیں۔ فرعون آیا اور پوچھنے لگا یہ کیا ہے؟ اسے جب اس بچے کی بابت بتایا گیا تو اس نے حکم دیا کہ اسے فوراً ذبح کر دیا جائے۔ سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا نے بچے کی جاں بخشی کی التجا کی اور کہا۔ میرے لئے اس بچے کی جان بخش دو اور اسے قتل نہ کرو۔ فرعون کے سوئے ہوئے جذبے کو ابھارنے کےلئے کہنے لگیں۔ یہ بچہ تو میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک بنے گا۔ فرعون کہنے لگا۔ تیری آنکھوں کے لئے ٹھنڈک تو ہو سکتا ہے لیکن مجھے اس سے کوئی غرض نہیں ہے۔ سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا۔ شاید یہ ہمیں نفع دے۔ آسیہ کو تو وہ نف اللہ تعالیٰ نے عطا کر دیا جس کی امید وہ لگا ئے ہوئے تھیں۔ دنیا میں اسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وجہ سے ہدایت نصیب ہوئی اور آخرت میں اُن پر ایمان لانے کی وجہ سے جنت الفردوس کی بہاریں نصیب ہو ں گی۔ اللہ تعالیٰ نے سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لئے فرعون کی بیوی کی مثال بیان فرمائی ۔ جب اس نے دعا کی کہ اے میرے رب، میرے لئے اپنے پاس جنت میں مکان بنا اور مجھے فرعون سے اور اس کے عمل سے بچا۔ اور مجھے ظالم لوگوں سے خلاصی دے۔(سورہ التحریم آیت نمبر11)

والدہ محترمہ سے ملا دیا

اللہ تعالیٰ نے سورہ القصص میں فرمایا۔ ترجمہ ” ان کے پہنچنے سے پہلے ہم نے موسیٰ (علیہ السلام )پر دائیوں کا دودھ حرام کر دیا تھا۔ یہ کہنے لگیں کہ کیا ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍمیں تمہیں ایسا گھرانہ بتاﺅں جو اس بچہ کی تمہارے لئے پرورش کرے اور وہ اس بچے کے خیر خواہ بھی ہوں۔ پس ہم نے اسے اس کی والدہ محترمہ کی طرف واپس پہنچایا۔ تا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور رنجیدہ نہ ہو۔ اور جان لے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔“ ( سورہ القصص آیت نمبر12اور 13)علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں ۔ اے فرعون ، اس معصوم بچے کے قتل سے کیا فائدہ ؟ یہ ہمارے لئے فائدے مند ثابت ہو سکتا ہے اور ہو سکتا ہے ہم اسے اپنا بیٹا بنا لیں۔ شاید اسی وجہ سے انہوںنے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا کیوں کہ ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”اور وہ ( اس تجویز کے انجام کو ) نہیں سمجھ سکے۔“ یعنی اُن کے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ انہیں ( یعنی فرعون اور اس کے لشکر کو ) اسی بچے کے ذریعے نیست و نابود کر دے گا۔ اور فرعون اور اس کی بادشاہت کا خاتمہ اس بچے کے ہاتھ پر مقدر ہو چکا ہے۔مفتی احمد یا ر خان نعیمی لکھتے ہیں۔ اب سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا نے شہر کی دائیاں ( دودھ پلانےوالیاں) بلوائیں جو آپ علیہ السلام کو دودھ پلائے۔ آپہ علیہ السلام نے کسی کا دودھ نہیں پیا۔ مریم بھی وہاں موجود تھیں۔ کہنے لگیں ۔ ایک بہت قابل دائی ہے اس کا دودھ بہت اچھا ہے اسی شہر میں رہتی ہے۔ کہو تو اسے بلا لوں۔ فرعون بولا فوراً لاﺅ۔ وہ اپنی والدہ کو لے آئیں۔ آپ علیہ السلام نے دودھ پیا اور ان کی گود میں سو گئے۔ فرعون نے ان کی ایک اشرفی روزانہ اجرت مقرر کر دی اور کہا تم اس بچے کی پرورش کرو۔ قدرت کے قربان ، فرعون نے جس ڈر سے بارہ ہزار بچے ذبھ کر ائے اس کی خود پرورش کر رہا تھا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔جب حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کے گھر میں قیام پذیر ہوئے تو حشم و خدم نے بہت کوشش کی کہ بچہ کسی عورت کا دودھ پینے لگے۔ لیکن اس نے کسی کا دودھ نہیں پیا۔ اور نہ ہی کوئی خوراک کھائی۔ وہ اس صورتِ حال کو دیکھ کر بہت پریشان ہوئے۔ ہر ممکن کوشش کی بچہ کچھ کھا پی لےکن بے سود۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ” اور ہم نے حرام کر دیں اس پر ساری دودھ پلانے والیاں ۔“ بہت سی عورتیں اور دائیاں آپ علیہ السلام کو لے کر بازار میں آئیں کہ ہو سکتا ہے کسی عورت کا دودھ بچے کو موافق آجائے۔ بازار میں لوگوں کا جمگھٹا لگا تھا۔ سب دیکھ رہے تھے کہ فرعون کا متبنی ( گود لیا ہوا) دیکھو کس عورت کا دودھ پیتا ہے۔ اسی دوران حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن کی نظر پڑ گئی کہ یہ تو میرا بھائی ہے اور اسے دودھ پلانےکی سر توڑ کوشش ہو رہی ہے۔ بہن آگے بڑھی اور یہ اظہار نہیں کیا کہ میں اسے جانتی ہوں۔ بلکہ لا علمی کے انداز میں بولی ۔ کیا میں تمہیں ایسے گھر والوں کا پتہ دوں جو تمہاری خاطر اس بچے کی پرورش کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں گے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب بہن نے یہ بات کہی تو فرعون کے خادم کہنےلگے۔ کیا وجہ ہے کہ تو نصیحت کر رہی ہے اور بچے کی خیر خواہی پر انہیں ابھار رہی ہے؟ بہن نے کہا۔ چونکہ میں بادشاہ کی خوشی اور اس کے بھلے کی خواہش مند ہوں اسی لئے کہہ رہی ہوں ۔ لوگوں نے بہن کو چھوڑ دیا اور اس کے ساتھ گھر گئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان کی ماں نے گود میں لیا ور آپ علیہ السلام دودھ پینے لگے۔ لوگ خوش ہو گئے اور خوش خبری دینےکے لئے سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھاگے بھاگے گئے۔ انہوں نے آپ علیہ السلام کی والدہ محترمہ سے فرمایا ۔کہ آپ میرے محل میں رہیں اور آپ کا پورا خیال رکھوں گا۔ لیکن انہوں نے انکار کر دیا ۔ اور کہا۔ میں اپنے شوہر اور بچوں کو نہیں چھوڑ سکتی۔ انہیں میری ضرورت ہے۔ ہاں آپ بچہ میرے سپرد کر دیں میں اسے ساتھ لے جاتی ہوں۔ سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا مان گئیں۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی والدہ محترمہ کےساتھ گھر واپس آگئے۔ اور ماں بیٹے کی جدائی وصال میں بدل گئی۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........! 


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں