جمعرات، 4 مئی، 2023

03 حضرت ایوب علیہ السلام Story of Prophet Ayoob


03 حضرت ایوب علیہ السلام

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 3

حضرت ایوب علیہ السلام کی آزمائش کی شروعات

اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حضرت ایوب علیہ السلام کی فضیلت دیکھ کر ابلیس شیطان کو آپ علیہ السلام سے بہت زیادہ حسد ہو گیا تھا۔ اس نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ تیرا یہ بندہ ( حضرت ایوب علیہ السلام ) مصیبتوں اور تکلیفوں پر صبر نہیں کر سکے گا۔ اگر تو ( اللہ تعالیٰ) ااسے آزمانا چاہتا ہے تو اس کے مال پر مجھے قابول دیدے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ جا میں نے تجھے اس کے مال پر اختیار دیا۔ ابلیس شیطان نے اپنے شاگردشیطانوں کو جمع کیا اور کہا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کے مال پر اختیار دے دیا ہے۔ اب ہمیں اُن کے تمام مال کو تباہ کرنا ہے۔ اور یہ ایسا غم ہے جس پر آپ علیہ السلام صبر نہیں کر سکیں گے۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں۔ ابلیس شیطان نے کہا۔ اے اللہ تعالیٰ، میں نے بندے ایوب ( علیہ السلام ) کو دیکھا ہے ۔تو نے اس پر انعام کیا ہے۔ اس لئے وہ تیرا شکر ادا کرتا ہے۔ تو نے اسے عافیت دی ہے اس لئے وہ تیری حمد و ثنا میں رطب اللسان رہتا ہے۔ اگر تو اس سے یہ ساری نعمتیں چھین لے گا تو پھر یہ تیرا شکر ادا نہیں کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے ابلیس شیطان مردود میں نے تجھے اس کے مال پر اختیا ر دے دیا۔ ابلیس تیزی سے زمین پر آیا اور اپنے تمام چیلوں کو جمع کیااور انہیں کہا۔ مجھے ایوب ( علیہ السلام )کے مال پر اختیار دے دیاگیا ہے۔ کس کو طاقت ہے کہ وہ ان کا مال تباہ کر دے۔ مال کا خسارہ ایسا خسارہ ہے کہ جس کی وجہ سے بڑے بڑے دل گردے والے بھی ہمت ہار دیتے ہیں۔ ایک شیطان نے کہا۔ مجھے یہ قوت ہے میں آگ کا بگولہ بن کر اُس کی ہر چیز جلا دوں گا۔

پہلی آزمائش میں کامیابی کے بعد دوسری آزمائش

حضرت ایوب علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار مال و دولت عطا فرما کر پہلی آزمائش لی تھی۔ اور آپ علیہ السلام نے صحیح معنوں میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر کے اس آزمائش میں کامیابی حاصل کر لی تھی۔ اب اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے صبر کی آزمائش شروع کی اور ابلیس شیطان کو آپ علیہ السلام کے مال پر اختیاردے دیا۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی آگے لکھتے ہیں کہ ابلیس شیطان کے ایک چیلے نے کہا میں آگ کا بگولہ بن اس کی ہر چیز جلا دوں گا۔ ابلیس نے کہا۔ جا اور جب اس کے اونٹ چراگاہ میں چر رہے ہو ں تو انہیں جلا دے۔ وہ شیطان زمین کے نیچے سے آگ کا شعلہ بن کر نکلا جو چیز اس کے قریب آتی جل جاتی تھی۔ اس نے آپ علیہ السلام کے سب اونٹوں کو جلا دیا پھر یہ شیطان اونٹوں کے نگراں کی شکل میں حضرت ایوب علیہ السلام کے پاس آیا۔ اس وقت آپ علیہ السلام کھڑے ہو کر نماز ادا کر رہے تھے۔ شیطان جو انسانی شکل میں آیا تھا کہنے لگا۔ اے ایوب ( علیہ السلام ) تو نے دیکھا کہ ایک آگ آئی اور اس نے تیرے اونٹ جلا دیئے۔ اور دوسرے کے اونٹ بھی راکھ کر دیئے۔ حضرت ایوب علیہ السلام نے فرمایا۔ سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہے جس نے مجھے وہ اونٹ عطا فرمائے تھے اسی نے لے لئے۔ میں جانتا ہوں کہ مال اور جان فنا ہونے والی چیز ہے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حضرت نوف رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ جو شیطان حضرت ایوب علیہ السلام کے پیچھے پڑا تھا اس کا نام مسبوط تھا۔ علامہ عبدا لرزاق بھترالوی لکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کبھی اپنے مقرب بندوں کو شدید مشکلات میں مبتلا کر کے آزماتا ہےکہ میرا یہ بندہ کتنا صبر کرتا ہے۔ اور مصائب و آرام میں کوئی شکوہ تو زبان پر نہیں لاتا اور کبھی اللہ تعالیٰ بہت مال و دولت دے کر آزماتا ہے کہ میر ابندہ کتنا شکریہ ادا کرتا ہے؟ حضرت ایوب علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے پہلے آرام و صحت ، مال و دولت ، اولاد اور ہر طرح کی خوشیاں عطا کر کے آزمایا۔ اس آزمائش میں بھی آپ علیہ السلام نے عظیم کا میابی حاصل کی۔ اور آپ علیہ السلام نے شکریہ ادا کر کے بے مثال نمونہ پیش کیا۔ اس کے بعد آزمائش کا دوسرا مرحلہ یا دور شروع ہوا۔ وہ اس طرح ہوا کہ زمین کے نیچے سے قدرتی آگ نے آپ علیہ السلام کے باغات ، کھیتیاں ، اونٹ ، بکریاں ، چرواہے جلا کر راکھ کر دیئے۔ جب آپ علیہ السلام کو پتہ چلا تو فرمایا۔ یہ سب مال و دولت اللہ تعالیٰ نے ہی عطا فرمایا تھا۔ اور وہی اس کا حقیقی مالک ہے۔ جب وہی اس کا حقدار ہے تو اسے حق پہنچتا ہے کہ جب چاہے واپس لے لے۔ میری کوئی مجال نہیں ہے کہ میں کچھ کہوں۔

اولاد کی ہلاکت

حضرت ایوب علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ کی آزمائش جاری تھی۔ دھیرے دھیرے آپ علیہ السلام کا مال و دولت ختم ہونے لگا۔ آپ علیہ السلام کے مویشی مرتے جا رہے تھے اور کھیت اور باغ مرجھاتے جا رہے تھے۔ یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آیا کہ آپ علیہ السلام کے پاس چند مینڈھیوں کے علاوہ کچھ نہیں بچا اور آپ علیہ السلام اپنی قوم کے سب سے غریب ہو گئے مال و دولت چھن جانے کے بعد بھی آپ علیہ السلام اپنے دعوتی کاموں کو اور تیزی سے کرنے لگے۔ اور اللہ تعالیٰ کی اور زیادہ حمد و ثنا اور عبادت کرنے لگے اور اللہ تعالیٰ پر آپ علیہ السلام کا بھروسہ اور مضبوط ہو گیا۔ یہ دیکھ کر ابلیس شیطان اور زیادہ حسد کا شکار ہوگیا۔ اس نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ حضرت ایوب علیہ السلام کی اولاد پر مجھے قابو دے دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ جا تجھے اس کی اولاد پر قابو دیا۔ لیکن ایوب (علیہ السلام )کے جسم پر تجھے قابو نہیں ہوگا۔ اب ابلیس شیطان آپ علیہ السلام کی اولاد کو تباہ کرنے لگا۔ آپ علیہ السلام کے بیٹے اور بیٹیاں مال و دولت چھن جانے کے بعد بھی آپ علیہ السلام کی خدمت کرتے تھے اور آپ علیہ السلام کو ہر ممکن آرام دینے کی کوشش کرتے تھے۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں ۔ جب حضرت ایوب علیہ السلام کا سارا مال ضائع ہو گیا تو آپ علیہ السلام اور زیادہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنے لگے اور صبر کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھا۔ ( اور ابلیس شیطان اور زیادہ حسد کا شکار ہو گیا) ابلیس نے اللہ تعالیٰ سے کہا ۔ اے اللہ تعالیٰ ، تو نے جو ایوب علیہ السلام کو اولاد عطا فرمائی ہے اسی وجہ سے وہ تیر ا شکر ادا کرتا ہے۔ کیا تو مجھے اس کی اولاد پر قابو دے گا؟ کیوں کہ اولاد کی تکلیف ایسی ہے جس سے بڑے بڑے مردوں کے کلیجے پگھل جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ جا تجھے اس کی اولاد پر بھی قابو دیتا ہوں۔ لیکن اس کے جسم پر تیرا کوئی قابو نہیں رہے گا۔ وہ بد بخت مردود آیا۔ اس وقت حضرت ایوب علیہ السلام کی تمام اولاد ایک محل میں جمع تھی۔ ابلیس شیطان نے محل کو ہلایا اور دیواروں کو آپس میں ٹکرا دیا۔ پھر لکڑیاں اور پتھر اُن کے اوپر پھینکے یہاں تک کہ سب زخمی ہو گئے۔ پھر اس مردود ابلیس شیطان نے محل کو اٹھا کر الٹا کر کے پھینک دیا۔ علامہ عبدالرزاق بھترالوی لکھتے ہیں۔ آپ علیہ السلام کی اولاد ایک مکان میں جمع تھی۔ ( ایک اور روایت میں ہے کہ وہ سب بھائی بہن اپنے چچا کے یہاں ایک تقریب میں جمع تھے) وہاں زلزلہ آیا اور مکان گر گیا اور آپ علیہ السلام کی تمام اولاد کا انتقال ہو گیا۔ مکان کی چھت اور دیوار گرنے سے آپ علیہ السلام کے بچوں پر کیا حال گزرا ہوگا؟جسم چکنا چور ہو ئے ہوں گے ہڈیاں ٹوٹی ہو ں گی۔ سر پھٹے ہوں گے اور خون کے فوارے اڑے ہوں گے۔ لیکن یہ حال سن کر بھی اللہ کے نبی علیہ السلام نے کمال کے صبر کا مظاہرہ کیااور زبان پر ہی الفاظ آئے کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کا ہے۔ وہ جو چاہے کر سکتا ہے۔

ابلیس شیطان کی مایوسی اور حسد زیادہ بڑھ گیا

حضرت ایوب علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ کی آزمائش چل رہی تھی۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو مال و دولت اور اولاد کے ختم کرنے کے ساتھ آزمائش میں ڈالا تو آپ علیہ السلام کے پاس کچھ بھی نہیں رہا تھا۔ تب آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا بہت عمدہ ذکر کیا اور فرمایا۔ الحمد للہ رب العالمین ۔ پھر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے مجھ پر احسان فرمایا۔ تو نے مجھے مال اور اولاد کی نعمت سے نوازا۔ جن کی محبت میرے دل کے ہر گوشہ میں داخل ہو گئی تھی۔ پھر یہ سب کچھ مجھ سے چھین لیا اور میرے دل کی دنیا کو ہر فکر سے آزاد کر دیا۔ اب میرے اور تیرے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہوتی ہے۔ میں نے جو تیری تعریف کی ہے ۔ میرا دشمن ( ابلیس شیطان) اس کی وجہ سے حسد کرنے گا۔ پس ابلیس شیطان کو حضرت ایوب علیہ السلام کے ان عجز و نیاز میں ڈوبے الفاظ سے بہت تکلیف ہوئی۔ آپ علیہ السلام کے اس صبر اور اللہ پر توکّل یعنی بھروسے کی وجہ سے بہت مایوسی ہوئی اور اس بد بخت کا آپ علیہ السلام سے حسد اور بڑھ گیا۔

حضرت ایوب علیہ السلام کو رُلایا

حضرت ایوب کی تمام اولاد اللہ کو پیاری ہو گئی۔ اندازہ کریں آپ علیہ السلام نے کس طرح جوان اولاد وں کو اپنے کاندھے پر لے جا کر دفن کیا ہوگا۔ اور کس طرح صبر کیا ہوگا؟ اولاد سے انسان کو بہت محبت ہوتی ہے لیکن اس غم کو بھی آپ علیہ السلام انتہائی صبر سے برداشت کر تے رہے اور اپنی ہر تکلیف پر آپ علیہ السلام بس اتنا فرماتے تھے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ہم اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں اور اسی کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے۔ ابلیس یہاں بھی ناکام ہو گیا اور آپ علیہ السلام کے صبر کو نہیں توڑ سکا۔ پھر اس نے ایک چال چلی۔ بچوں کے چھن جانے کے بعد ایک دن آپ علیہ السلام غور و فکر کرتے ہوئے بیٹھے تھے کہ ابلیس شیطان بچوں کے معلم یعنی استاد کی شکل میں آپ علیہ السلام کے پاس آیا اور غمگین شکل بنا کر رونے لگا اور بچوں کی خوبیاں بیان کرنے لگا۔ اور آپ علیہ السلام کے غمگین دل میں اور زیادہ غم کے جذبات پیدا کرنے لگا۔ تا کہ آپ علیہ السلام کا صبر ٹوٹ جائے۔ حضرت ایوب علیہ السلام خاموش بیٹھے سن رہے تھے اور دھیرے دھیرے آنکھوں میں آنسو بھر نے لگے۔ ادھر لگاتار ابلیس شیطان کی کوشش جاری تھی اور وہ آپ علیہ السلام کے بچوں کا ذکر اس انداز میں کر رہا تھا کہ آپ علیہ السلام کے صبر کا باندھ ٹوٹ جائے۔ آخر کار آپ علیہ السلام رونے لگے اور آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں ۔ پھر ابلیس بد بخت حضرت ایوب علیہ السلام کے پاس بچوں کا معلم بن کر آیا جو ان کو حکمت سکھایا کرتا تھا۔ اس نے کہا۔ اے ایوب (علیہ السلام ) اگر آپ علیہ السلام اپنے بیٹے اور بیٹوں کو دیکھتے کہ انہیں کیسی موت دی گئی ہے اور کیسے الٹا گرایا گیا ہے جس کی وجہ سے اُن کے بھیجے اور خون بہہ رہے تھے اور اگر آپ علیہ السلام دیکھتے کہ کس طرح اُن کے پیٹ پھٹے ہوئے تھے اور انتڑیاں بکھری ہوئی تھیں تو آپ علیہ السلام کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا۔ وہ اسی طرح حضرت ایوب علیہ السلام کو اولاد کا غم اور تکلیف یاد دلاتا رہا۔ یہاں تک کہ آپ علیہ السلام کا دل پسیج گیا اور آپ علیہ السلام رونے لگے پھر آپ علیہ السلام نے مٹھی بھر مٹی اپنے اوپر ڈال لی۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......! 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں