بدھ، 17 مئی، 2023

02 حضرت یوشع علیہ السلام Story of Prophet Yosha


02 حضرت یوشع علیہ السلام

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر13

قسط نمبر 2

دس نقیبوں نے عہد توڑدیا

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے بارہ نقیبوں کو چنا ۔ مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔ چونکہ اس وقت بنی اسرائیل کے بارہ گروہ ( قبیلے ) تھے۔ اس لئے بارہ نقیب چنے گئے۔ ان میں حضرت یوشع بن نون علیہ السلام اور کالب بن یوقنا بھی تھے۔ ان کے علاوہ دس نقیب اور تھے۔ ہر سبط( قبیلہ) سے ایک نقیب یا سردار بنایا گیا اور اپنے قبیلے میں ( جہاد کی ) تسبیح اور جبا برین کی جاسوسی کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ نقیب اس سردار کو کہتے ہیں جو قو م کا نگراں ہو، ان میں مبلغ ہو اور اللہ تعالیٰ نے تمام بنی اسرائیل ( رپورٹ کو خفیہ رکھنے کا ) عہدو میثاق لیا گیا ۔اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی معرفت بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا گیا اور نگرانی کرنے اور دشمن کی طاقت و قوت کا اندازہ لگانے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کو خبر دینے کے لئے بنی اسرائیل میں سے بارہ سردار مقرر فرمائے۔ یہ بارہ سردار آپ علیہ السلام کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے مقرر کئے۔ اریحا قوم جبارین اور کنعانین کا دارالخلافہ تھا۔ یہ کفار جبارین ایک ہزار بستیوں کے بادشاہ تھے۔ ہر بستی باغات اور سبزہ سے پرُ تھی۔ دارالخلافہ اریما ، بیت المقدس سے تقریباً تیس چالیس میل کے فاصلے پر تھا۔ اب اس بستی کو ریمان کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسرائیلیوں سے فرمایا تھا کہ وہ جگہ ( جبارین کا پورا علاقہ) تمہاری رہنے کی جگہ ہو گی۔ اور ہم مجاہدین کی مدد فرمائیں گے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حخم کے مطابق ان میں سے بارہ شخص چنے ۔ اور ہر قبیلے میں سے ایک ایک شخص کو اپنے اپنے قبیلے کا کفیل بنایا گیا کہ یہ لوگ اپنی اپنی قوم سے جہاد کا وعدہ ( میثاق) پورا کروائیں گے۔ ان بارہ ضامنوں کو نقیب کہا جاتا ہے۔ ان نقیبوں میں حضرت یوشع بن نون اور حضرت کالب بن یوقنا بھی تھے۔ اسرائیلیوں سے ان نقیبوں کے ذریعے جہاد کا پختہ وعدہ لے کر آپ علیہ السلام اریحاکی جانب جنگ کے ارادہ سے چلے ۔ اریما پر حملہ کرنے سے پہلے آپ علیہ السلام نے ان بارہ نقیبوں کو جاسوسی کی غرض سے اریما بھیجا۔ تا کہ دیکھ کر آئیں کہ قوم کنعانین کی کیا حالت ہے اور ان کی جنگی تیاریاں کیسی ہیں۔ اور آپ علیہ السلام لشکر کے ساتھ اریحا کے قریب ہی ٹھہیرے رہے۔ اور ان نقیبوں سے عہد لیا تھا کہ وہاں کے حالات صرف ہم سے ( حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہم السلام سے ) بیان کرنا۔ اور اسرائیلیوں سے کچھ نہیں کہنا۔ یہ بارہ نقیب جب اریحا پہنچے تو انہوں نے کنعانیوں کو بہت قد آور اور شہزور پایا۔ ان کے پاس مال و دولت کی فراوانی تھی۔ ان کی طاقت اور قدو قامت کو دیکھ کر یہ بارہ نقیب مرعوب ہو گئے۔ وہاں سے واپس آئے تو صرف حضرت یوشع بن نون علیہ السلام اور حضرت کالب بن یوحنا ہی عہد پر قائم رہے۔ اور باقی دس نقیبوں نے عہد کو توڑ دیا۔ اور اپنے اپنے قبیلے میں قوم کنعانین کی طاقت ، قوت اور دولت کا خوب چرچا کیا۔ جس کی وجہ سے بنی اسرائیل گھبرا گئے اور کنعانیوں سے جہاد کرنے سے انکار کر دیا اور بولے۔ اے موسیٰ ( علیہ السلام )آپ اور آپ کا رب جا کر اس قوم سے جنگ کریں۔ ہم تو یہیں ٹھہریں گے اور ہم میں اس قوم سے لڑنے کی طاقت نہیں ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے شاگرد

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے فتح کا صاف وعدہ فرمایا تھا۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے جلیل القدر اور بلند پایہ کے رسول ان کے ساتھ تھے۔ اس کے باوجود ان بد بختوں نے لڑنے سے انکار کر دیا۔ اور اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول علیہ السلام سے کیا ہوا عہد و میثاق توڑ دیا۔ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اُن پر ذلت مسلط کر دی اور چالیس برس تک صحرا ءمیں وادی ¿ تیہ میں بھٹکنے کی سزادی ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام تو ان بد بختوں سے الگ ہو جانا چاہتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کے ساتھ رہو اور نئی نسل کی تربیت کرتے رہو۔ اور جب چالیس برس میں یہ سب بد بخت نا فرمان مر کھپ جائیں گے تو بنی اسرائیل کی نئی نسل بیت المقدس کو فتح کرے گی۔ اسی لئے آپ علیہ السلام ان کے ساتھ رہے۔ اور آپ علیہ السلام کے شاگرد حضرت یوشع علیہ السلام بھی ساتھ ساتھ لگے رہے۔ حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات کے لئے جو سفر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کیا تھا۔ اس سفر میں بھی ان کے شاگرد حضرت یوشع علیہ السلام ساتھ ساتھ تھے۔ اس کے بعد جب چالیس برس پورے ہونے لگے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بیت المقدس کی طرف روانگی کا حکم دیا اور بنی اسرائیل کے جوانوں کی گنتی کرائی۔ اور بارہ قبیلوں پر بارہ سپہ سالار بنائے اور سب کا سپہ سالار یعنی سپہ سالار ِ اعظم حضرت یوشع علیہ السلام کو بنایا۔ اور اپنا مشیر خاص بھی بنایا۔ اور یہ بھی فرما دیا کہ میرے بعد حضرت یوشع علیہ السلام کا کہنا ماننا ۔ بیت المقدس کے قریب پہنچ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے رب کی جوارِ رحمت میں پہنچ گئے اور حضرت یوشع علیہ السلام نے بیت المقدس فتح کیا۔ یہ سب تفصیل سے ہم حضرت موسیٰ وہارون علیہ السلام کے ذکر میں بتا چکے ہیں۔

حضرت یوشع علیہ السلام نبوت سے سرفراز

حضرت موسیی علیہ السلام کے ساتھ حضرت یوشع علیہ السلام زندگی بھر لگے رہے۔ اور انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام سے تربیت حاصل کی۔ اور توریت کا علم حاصل کیا۔ اپنے آخری وقت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کی باگ ڈور آپ علیہ السلام کے ہاتھوں میں سونپ دی تھی۔ اور ان کے وصال کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ اور حضرت یوشع علیہ السلام بنی اسرائیل کو توریت کے احکامات پر چلاتے رہے۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کو نافذ کیا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ اہل ِ کتاب ( یہودیوں اور عیسائیوں) کا آپ علیہ السلام کی نبوت کے بارے میں اتفاق ہے۔ حالانکہ سامریوں کا ایک گروہ ( بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے بعد میں دو بڑے گروہوں میں تقسیم ہو گئے تھے اور بنی اسرائیل دو بڑی حکومتوں میں بٹ گئے تھے ایک سلطنت یہودا اور دوسری سلطنت سامریہ تھی) حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد کسی کی نبوت کا قائل نہیں ہے۔ لیکن وہ بھی حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کو اللہ کا نبی تسلیم کرتے ہیں۔ کیوں کہ آپ علیہ السلام کی نبوت تو ریت سے تصریحاً ثابت ہے ۔ حالانکہ توریت کے بعد کی کتابوں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد نبوت حق ہے۔ اور قرآن پاک پہلی تمام کتابوں کی تصدیق کرتا ہے۔ مگر یہ بد بخت اللہ کے نبیوں کا انکار کرتے ہیں۔

جنگجوﺅں کی گنتی اور لشکر کی تیاری

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کے ساتھ صحراءمیں وادی ¿ تیہ میں جب چالیس برس پورے ہونے لگے۔ اور نئی نسل تیار ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اب بنی اسرائیل کے جنگجوﺅں کی گنتی کرو اور لشکر کو تیار کر کے بیت المقدس کی طرف لے چلو۔ آپ علیہ السلام نے جنگجوﺅں کی گنتی کرائی ۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ اہل کتاب نے توریت کے حصے سفرِ ثالث میں ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو ان کے قبیلوں کے مطابق شمار ( گنتی ) کریں۔ اور ہر قبیلہ پر ایک سپہ سالار مقرر فرمائیں۔ چونکہ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے۔ اس لئے بارہ نقیب مقرر ہوئے۔ اس گنتی کا مقصد بنی اسرائیل کو جنگ کے لئے تیار کرنا تھا۔ چونکہ بیت المقدس پر عمالقیوں کا قبضہ تھا۔ اور میدانِ تیہ سے نکل کر ان کے ساتھ جنگ کرناضروری تھی۔ اور تقریباً چالیس برس کا عرصہ گزر چکا تھا۔ اس کے بعد یہ لوگ ویرانے سے نکل کر جنگ آزما ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو ایک ایسے کام کا حکم دیا جس کو پورا ہونے کی اس دور میں امید کی جا سکتی تھی۔ لیکن تقدیر میں یہ نہیں تھا کہ وہ اس دور میں پورا ہو۔ بلکہ تقدیر میں یہ تھا کہ وہ کام ( بیت المقدس اور پورے ملک کنعان یعنی حالیہ فلسطین اور شام کی فتح) حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کے دور میں مکمل ہو۔

قبائل کے جنگجوﺅں کی تعداد اور لشکر کی تیاری 

اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بنی اسرائیل کی گنتی کی گئی۔ بائیبل کے مطابق بنی اسرائیل کی گنتی دو مرتبہ کی گئی ہے۔ پہلی مرتبہ اس وقت جب بنی اسرائیل فرعون سے آزاد ہوئے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ارضِ فلسطین پر حملہ کر کے قبضہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ اور بنی اسرائیل نے کہا تھا کہ اے موسیٰ ( علیہ السلام )تم اور تمہارا رب جا کر لڑو اور ہم تو یہیں بیٹھ کر انتظار کرتے ہیں۔ اور دوسری مرتبہ جب سزا کے چالیس سال پورے ہو گئے اور وادی تیہ سے نکل کر بیت المقدس کیطرف روانہ ہونے لگے۔ اس وقت گنتی ہوئی۔ علامہ ان کثیر لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ بنی اسرائیل کے ان مردوں کی گنتی کی جائے جو بیس سال یا اس سے زیادہ عمر کے ہیں۔ اور ہر قبیلہ کے لئے ایک سپہ سالار یعنی کمانڈر مقرر کیا جائے۔ (۱) حضرت یعقوب علیہ السلام کا سب سے بڑ ابیٹا روبیل ( توریت میں روبن ) تھا۔ جب اس کے جنگجو افراد کی گنتی کی گئی تو ان کی تعداد چھیالیس ہزار پانچ سو46500تھی۔ اس قبیلے کا سپہ سالار یھور بن شدینور کو بیایا گیا۔ (۲) بنو شمعون قبیلے کے جنگجو افراد کی گنتی افراد کی گنتی کی گئی تو ان کی تعداد چوھتر ہزار چھ سو 74600تھی۔ اور ان کا سپہ سالار یعنی کمانڈر نحسون بن عمیناذاب کو بنایا گیا۔ (۴) بنو ایسا خر قبیلے کے جنگجو افراد کی تعداد چوّن ہزار چار سو54400تھی۔ اور ان کا سپہ سالار یعنی کمانڈر نشائیل بن صور کو بنایا گیا۔ (۵)بنو افرائیم قبیلے یعنی حضرت یوسف علیہ السلام کی نسل میں سے جنگجو افراد کی تعداد چالیس ہزار پانچ سو40500تھی۔ اور ان کا سپہ سالار یعنی کمانڈر حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کو بنایا گیا۔ (۶) بنو میشا قبیلے کے جنگجو افراد کی تعداد اکتیس ہزار دو سوتھی۔ اور ان کا سپہ سالار جمائیل بن فدہصور کو بنایا گیا۔ ۔ (۷) بنوبن یامن قبیلے کے جنگجو افراد کی تعداد پینتیس ہزار چار سو35400تھی۔ اور ان کا سپہ سالار ابیدن بن جدعون کو بنایا گیا۔(۸) بنو حاد قبیلے کے جنگجو افراد کی تعداد پنتالیس ہزار چھ سو پچاس 45650تھی۔ اور ان کا سپہ سالار یعنی کمانڈر الیاسف بن رعوئیل کو بنایا گیا۔ (۹) بنو آشرقبیلے کے جنگجو افراد کی تعداداکتالیس ہزار پانچ سو 41500تھی۔ جعلائیل بن عکران کو ان کا سپہ سالار بنایا گیا۔ (۰۱) بنو دان قبیلے کے جنگجو افراد کی تعداد باسٹھ ہزار سات سو62700تھی۔ اور ان کا سپہ سالار یعنی کمانڈر انتیزر بن عمشداری کو بنایا گیا۔ (۱۱) بنو نفتالی قبیلے کے جنگجو افراد کی تعداد تریپن ہزار چار سو 53400تھی۔ اور ان کا سپہ سالار یعنی کمانڈر الباب بن حیلون کو بنایا گیا۔

لشکر کی مجموعی تعداد 

اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کو حکم دیا تھا کہ بنی اسرائیل کے گیارہ قبیلوں کے جنگجو افراد کی گنتی کرو۔ مگر بنو لاوی قبیلے کے جنگجو افراد کی گنتی نہیں کرنا۔ بنو لاوی حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہم السلام کا قبیلہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بنو لاوی کو لشکر کے درمیان میں رکھنا اور وہ بنی اسرائیل کی مقدس چیزوں کو اٹھائے ہوئے رہیں گے ۔ اور پورا لشکر ان کے چاروں طرف رکھنا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ یہ موجودہ توریت میں لکھی ہوئی گنتی ہے۔ اس گنتی میں بنو لاوی شام نہیں ہیں۔ کیوں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بذریعہ وحی یہ حکم دیا گیا تھا کہ بنو لاوی کی گنتی نہیں کی جائے۔ اس لئے انہیں چھوڑ کر باقی گیارہ قبیلوں کے جنگجو افراد کی تعداد مذکورہ بیان کے مطابق پانچ لاکھ اکہتر ہزار چھ سو چھپن 5,71,656ہے۔ لیکن موجودہ توریت میں یہ تعداد چھ لاکھ تین ہزارپانچ سو پچپن 6,03,555لکھی ہوئی ہے۔ اس طرح توریت میں قبائل کی لکھی ہوئی مجموعی تعداد سے یہ میل نہیں کھاتا ہے۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......! 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں