ہفتہ، 27 مئی، 2023

02 حضرت سلیمان علیہ السلام Story of Prophet Suleman

02 حضرت سلیمان علیہ السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 15

حضرت سلیمان علیہ السلام کے علم کی وسعت

حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بہت وسیع علم عطا فرمایا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام سے فرمایا۔ اپنے بیتے سلیمان ( علیہ السلام ) سے چودہ باتیں پوچھو۔ اگر درست جواب دے تو اسے علم اور نبوت کا وارث بنا دو۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اے میرے پیارے بیٹے، مجھے بتا عقل کہاں ہے؟ عرض کیا دماغ میں ہے۔ پھر پوچھا حیاکی جگہ کون سی ہے؟عرض کیا دونوں آنکھیں۔ پھر پوچھا، باطل کی جگہ کون سی ہے؟عرض کیا دونوں کا ن ہیں۔ پھر دریافت فرمایا۔ غلطیوں کی جگہ کون سی ہے؟ عرض کیا زبان ہے۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے پھر پوچھا۔ روح کا راستہ کون سا ہے؟ عرض کیا ناک کے دونوں نتھنے ہیں۔ پھر پوچھا ، ادب اور بیان کی جگہ کون سی ہے؟ عرض کیا دونوں گردے ہیں۔ پھر دریافت کیا۔ سختی کی جگہ کون سی ہے۔ عرض کیا جگر ہے۔ پوچھا ،ہوا کہ جگہ کہاں ہے؟ عرض کیا پھیپھڑے ہیں۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے پھر پوچھا۔ خوشی کی جگہ کہاں ہے؟ عرض کیا تلّی ہے۔ پھر دریافت فرمایا۔ کھانے کی جگہ کون سی ہے؟ عرض کی دونوں ہاتھ ہیں۔ پھر دریافت فرمایا۔ کھڑے ہونے کا دروازہ کون سا ہے؟ عرض کیا دونوں ٹانگیں۔ پھر پوچھا۔ شہوت کی جگہ کون سی ہے؟ عرض کیا ،شرم گاہ ہے۔ پھر پوچھا۔ اولاد کی جگہ کون سی ہے؟ عرض کیا۔ ریڑھ کی ہڈی ہے۔ پھر دریافت فرمایا۔ علم ، سمجھ اور حکمت کی جگہ کون سی ہے؟ حضرت سلیمان علیہ السلام نے عرض کیا دل ہے۔ جب دل درست ہوتا ہے تو جسم کے تمام اعضاءدرست ہو جاتے ہیں۔ اور جب دل خراب ہوتا ہے تو پورا جسم خراب ہو جاتا ہے۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے فرمایا۔ بیٹے، اللہ تعالیٰ نے علم اور نبوت میں تمہیں میرا وارث بنا دیا ہے۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت کی وسعت 

اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو نبوت کے ساتھ ساتھ حکومت سے بھی سرفراز فرمایا تھا۔ حضرت داﺅد علیہ السلام کے دورِ نبوت اور حکومت میں بنی اسرائیل عروج پر آگئے۔ اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے دورِ نبوت اور حکومت میں بنی اسرائیل کو جو عروج حاصل ہوا۔ ویسا عروج نہ اس سے پہلے حاصل ہوا اور نہ ہی بعد میں حاصل ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو ایسی حکومت عطا فرمائی تھی کہ آپ علیہ السلام سے پہلے کسی کو عطا نہیں ہوئی اور آپ علیہ السلام کے بعد بھی کسی کو عطا نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( حضرت سلیمان علیہ السلام نے دعا کی) اے میرے رب، مجھے بخش دے۔ اور مجھے ایسی حکومت عطا فرما جو مجھ سے پہلے یا میرے بعد کسی کو عطا نہ ہو۔ بے شک تو ہی بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے۔ پس ہم نے ہوا کو اس کے ماتحت کر دیا۔ اور آپ (علیہ السلام ) کے حکم سے جہاں وہ چاہتے نرمی سے پہنچا دیا کرتی تھی۔ جنات کو بھی اور ہر عمارت بنانے والے کو بھی اور غوطہ خوروں کو بھی( اُن کا ماتحت بنا دیا) اور دوسرے جنات کو بھی جو زنجیروں میں جکڑے رہتے تھے۔ یہ ہمارا عطیہ ہے۔ اب تم احسان کرو یا روک رکھو۔ تم پر کچھ حساب نہیں ہے۔ “(سورہ ص ٓ آیت نمبر35سے 39) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت کی وسعت کو بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو انسانوں، جناتوں ، جانوروں ، کیڑوں مکوڑوں ، پرندوں اور یہاں تک کہ ہوا کا بھی حکمراں بنا دیا تھا۔ آپ علیہ السلام ان سب کی باتیں سمجھتے تھے اور حکم دیتے تھے تو یہ سب حکم کی تعمیل کر تے تھے۔ یہ سب عطا فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے فرمایا کہ اب تم ان کے ساتھ کوئی بھی سلوک کرو اس کے بارے میں تم سے کوئی حساب نہیں ہوگا۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کی تین دعائیں

اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ کی اوپر ذکر کی گئی آیات میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی ایک دعا کا ذکر فرمایا ہے۔ اور وہ دعا اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ایک بڑا جنات پچھلی رات بار بار میرے پاس آیا تھا۔ تاکہ میری نماز تڑوا دے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قدرت عطا فرمادی۔ میں نے ارادہ کیا کہ اسے مسجد کے ستون سے باندھ دوں۔ یہاں تک کہ جب تم صبح آﺅ تو اسے دیکھو۔ لیکن مجھے اپنے بھائی حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آگئی۔ کہ مجھے ایسی حکومت عطا فرما جو کسی کو نہیں عطا ہوئی ہو اور نہ ہی میرے بعد عطا ہو۔یہ سوچ کر اسے آزاد کر دیا۔حضرت ابو سعدی خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ علیہ السلام نے صبح کی نماز شرو ع کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرا¿ت کی تو قرا¿ت مشکل ہو گئی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا۔ کاش، تم مجھے اور ابلیس کو دیکھتے۔ میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور اس کا گلا گھونٹتا رہا۔ یہاں تک کہ اس کے لعاب کی ٹھنڈک اپنی دو انگلیوں کے درمیان پائی یعنی انگوٹھے اور ساتھ والی انگلی ۔ اگر حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا کا خیال نہ ہوتا تو میں اسے مسجد کے ستون سے باندھ دیتا۔ اور صبح مدینہ منورہ کے بچے اس کے ساتھ کھیلتے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے بیت المقدس ( اس کا تفصیل سے ذکر انشاءاللہ آگے آئے گا) کی تعمیر مکمل کر لی تو اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں کیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دع دعاﺅں کو قبول فرمایا۔ اور ہم امید کرتے ہیں کہ تیری دعا ہمارے لئے ہے۔ انہوں نے پہلی دعا یہ کی تھی ۔ اے اللہ تعالیٰ ، میرا فیصلہ تیرے فیصلے کے مطابق ہو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمالی۔ دوسری دعا میں انہوں نے اللہ تعالیٰ سے ایسی حکومت کی التجا کی جو ان کے بعد کسی اور کو نصیب نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دعا بھی قبول کر لی۔ اور انہوں نے تیسری دعا یہ کی کہ صرف عبادت کی غرض سے جو شخص اس مسجد ( ہیکلِ سلیمانی، بیت المقدس، مسجد اقصیٰ) میں آئے تو اس حال میں نکلے کہ اس کے سارے گناہ معاف ہو چکے ہوں۔ اور وہ اس طرح پاک و صاف ہو چکا ہو جیسا کہ وہ پیدائش کے وقت تھا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ چیز اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمادی ہے۔

جناتوں پر حکومت

اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ”سلیمان علیہ السلام کے سامنے اُن کے تمام لشکر جنات اور انسان اور پرند میں سے جمع کئے گئے۔ ( ہر ایک قسم کی ) الگ الگ درجہ بندی کر دی گئی “۔ ( سورہ النمل آیت نمبر17) اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ”اور جنات کو بھی (حضرت سلیمان علیہ السلام کا ماتحت کر دیا) اور ہر عمارت بنانے والے ( جنات) کو اور غوطہ خور ( جنات ) کو ۔ اور دوسرے جنات کو بھی جو زنجیروں میں جکڑے رہتے تھے۔“( سورہ صٓ آیت نمبر37اور 38) اللہ تعالیٰ نے سورہ الانبیاءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” اور اسی طرح بہت سے شیاطین بھی ہم نے اس کے ( حضرت سلیمان علیہ السلام کے ) تابع کر دیا جو اس کے فرمان کے مطابق غوطے لگا تے تھے۔ اور دوسرے بھی بہت سے کام کرتے تھے۔ ان کے نگہبان ہم ہی تھے۔ “ ( سورہ الانبیاءآیت نمبر82) اللہ تعالیٰ نے سورہ سبا ءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” اور اس کے ( حضرت سلیمان علیہ السلام کے ) رب کے حکم سے جنات اس کی ماتحتی میں اس کے سامنے کام کرتے تھے۔ اور ان میں جو بھی ہمارے حکم سے سرتابی کر تا تھا تو اسے ہم بھڑکتی ہوئی آگ کا مزہ چکھاتے تھے۔ اور جو کچھ سلیمان چاہتے تھے وہ جنات تیار کر دیتے تھے۔ مثلاً قلعے، مجسمے، حوضو ں کے برابر لگن اور چولہوں پر جمی ہوئی مضبوط دیگیں۔ اے آلِ داﺅد ، اس کے شکریہ میں نیک عمل کرو۔ میرے بندوں میں سے شکر گذار بندے کم ہی ہوتے ہیں۔“ ( سورہ سبا آیت نمبر12اور 13) مولانا عاشق الہٰی مہاجر مدنی انوارا لبیان میں لکھتے ہیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ایسا اقتدار عطا فرمایا تھا کہ جس کے ذریعے شیاطین سے کام لیتے تھے۔ ان سے عمارتیں بنواتے تھے۔ اور سمندر میں غوطے بھی لگواتے تھے۔ اور بڑے بڑے ( تانبے کے ) برتن بنواتے تھے۔ جو تالابوں کے برابر ہوتے تھے اور بڑی بڑی ہانڈیاں دیگیں بنواتے تھے جو زمین پر رہتی تھیں۔ اس کے بعد آگے لکھتے ہیں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام حکومت کے وارث ہوئے اور یہ حکومت صرف انسانوں پر ہی نہیں بلکہ ان کی حکومت جنات اور حوش و طیور سب پر تھی۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے لئے مسخر فرما دیا تھا۔ مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام کے انیس 19بیٹے تھے۔ جن میںحضرت سلیمان علیہ السلام سب سے چھوٹے تھے۔ تمام اولاد میں صرف حضرت سلیمان علیہ السلام ہی ان کے علم کے وارث تھے۔ وقت کے عظیم نبی اور عالیشان حکومت و سلطنت کے مالک تھے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ ہم نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو حضرت داﺅد علیہ السلام کاوارث بنا یا۔ اس سے مرا د ” وراثت علم“ہے۔ مال و دولت کی وراثت نہیں ہے۔ کیوں کہ انبیائے کرام کی وراثت مال و دولت نہیں ہوتی ہے۔ رسول اللہ علیہ السلام نے فرمایا کہ انبیائے کرام نہ کسی کے وارث ہوتے ہیں ۔ اور نہ کوئی ہمارا وارث ہوتا ہے۔

ہوا پر حکومت

اللہ تعالیٰ نے سورہ الانبیاءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” ہم نے تیز و تند ہوا کو سلیمان (علیہ السلام ) کے تابع کر دیا۔ جو اس کے فرمان کے مطابق اُس زمین کی طرف چلتی تھی جہاں ہم نے برکت دے رکھی تھی۔ اور ہم ہر چیز سے با خبر اور دانا ہیں۔“( سورہ الانبیاءآیت نمبر81) اللہ تعالیٰ نے سورہ سباءمیں فرمایا۔ ترجمہ ”اور ہم نے سلیمان علیہ السلام کے لئے ہوا کو مسخر کر دیا کہ صبح کی منزل اس کی ایک مہینہ بھر کی ( مسافت) ہوتی تھی۔ اور شام کی منزل بھی۔“(سورہ سباءآیت نمبر12) اللہ تعالیٰ نے سورہ صٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ”پس ہم نے ہوا کو ان کی ماتحت کر دیا۔ وہ آپ (علیہ السلام )کے حکم سے جہاں آپ (علیہ السلام )چاہتے نرمی سے پہنچا دیا کرتی تھی۔“(سورہ ص ٓ آیت نمبر 36) ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام پر اپنا خصوصی فضل یہ فرمایا کہ ہوا کو بھی آپ علیہ السلام کا ماتحت کر دیا۔ آپ علیہ السلام کے حکم کے مطابق نرم ہوا، گرم ہوا، سرد ہوا، دھیمی ہوا، تیز ہوا اور آندھی اور طوفانی ہوا چلتی تھی۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام دمشق سے صبح روانہ ہوتے تھے اور اصطفر میں اترتے تھے۔ یہاں تک کہ دوپہر کا کھانا تناول فرماتے تھے۔ اور پھر سفر شروع کرتے تھے تو رات کابل میں بسر کرتے تھے۔ دمشق سے اصطفر کے درمیان کی مسافت اور اسی طرح اصطفر سے کابل کی مسافت ایک مہینے کی ہے۔ میں (ابن کثیر) کہتا ہوں کہ عمرانیات کے علماءنے لکھا ہے کہ اصطفر کی تعمیر حضرت سلیمان علیہ السلام کی خاطر جناتوں نے کی تھی۔ پہلے اسی کے شہر ترک میں آپ علیہ السلام کا دارالحکومت تھا۔ اس کے علاوہ دوسرے کئی شہر بھی تھے۔ مثلاً تدمر، بیت المقدس، باب حبرون اور باب برید۔ ایک قول کے مطابق آخری دونوں شہر دمشق میں تھے۔ مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نہایت عاجزی کے ساتھ درخواست پیش کی۔ اے اللہ تعالیٰ، مجھے ایک ایسی حکومت و سلطنت عطا فرما جو اس سے پہلے کسی کو نہ دی گئی ہو اورنہ ہی آئندہ دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کی دعا قبول کر کے ایسی سلطنت عطا فرمائی جو پہلے کسی کو نہیں عطا فرمائی تھی اور آئندہ بھی کسی کو عطا نہیں فرمائی۔ ہوا کو آپ علیہ السلام کے تابع کر دیا۔ طوفانی ہوا جب ان کے تخت کو لے کر اڑتی تو اس تخت پر بیٹھنے والوں کے لئے ایسی نرم اور خوشگوار رفتار سے چلنے والی ہوتی تھی کہ بیٹھنے والوں کو اس کی برق رفتاری کا احساس تک نہیں ہوتا تھا۔

جانوروں اور پرندوں پر حکومت

اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور داﺅد علیہ السلام کے وارث سلیمان علیہ السلام ہوئے۔ اور فرمایا۔ لوگو، ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے۔ اور ہم سب کچھ دیئے گئے ہیں۔ بے شک یہ بالکل کھلا ہو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ ( سورہ النمل آیت نمبر16) اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے لئے ہوا ، جناتوں کے ساتھ ساتھ جانوروں ، پرندوں اور کیڑے مکوڑوں کو بھی مسخر فرما دیا تھا۔ یہ سب آپ علیہ السلام کا حکم مانتے تھے۔ چرندوں ، پرندوں اور کیڑوں مکوڑوں میں اتنا شعور ہے کہ وہ جس کے لئے مسخر کر دیئے جائیں تو وہ اس کے حکم کو سمجھیں اور اس کا حکم مانیں۔ ہر ایک کے احوال کے مطابق اللہ تعالیٰ نے انہیں شعور عطا فرمایا ہے۔ جانور اس کو سمجھتے ہیں کہ ہمارا کو ن دشمن ہے۔ آدمی پتھر اٹھائے تو کوّا اور کتّا دیکھ کر بھاگ جاتے ہیں۔ چھپکلی ادھر ادھر چھپ جاتی ہے۔ چیونٹی کیقوت شامہ ( سونگھنے کی قوت) اتنی تیز ہوتی ہے کہ ذرا سا میٹھا گرے تو وہ فوراً وہاں حاضر ہو جاتی ہے۔ علامہ عبدالرزاق بھتراولی لکھتے ہیں۔ یہ تو ہم روز مرہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ پرندے ضرور اپنی اپنی بولیاں بولتے ہیں۔ ایک دوسرے سے لڑتے وقت ان کے بولنے کا انداز الگ ہوتا ہے۔ اور ایک دوسرے سے محبت کرتے وقت اُن کی گفتگو کا انداز الگ ہوتا ہے۔ جب کوئی درندہ یا شکاری حملہ کر تا ہے تو ان کے کلام کی نوعیت الگ ہوتی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی بولیاں صرف چیخ و پکار یا شور و غل نہیں ہوتی ہیں۔ بلکہ ان میں کچھ مطالب اور مقاصد ہوتے ہیں۔ جنہیں وہ اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے پرندوں کی بولیاں سمجھنے کی قوت عطا فرمائی تھی۔ اسی لئے آپ علیہ السلام سمجھ لیا کرتے تھے کہ یہ کہا کہہ رہے ہیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام فرماتے ہیں ۔مور کی تسبیح ہے جیسا کرو گے ویسا بھروگے۔ ہد ہد کی تسبیح ہے۔ اے گنہگارو، اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو۔ خطاف ( لمبے بازوﺅں والال چھوٹے پاﺅں والا، سیاہ رنگ کا پرندہ) کی تسبیح ہے۔ نیکی کے کام کرو تا کہ آگے جزا پاﺅ۔ قمری کی تسبیح ہے۔ سبحان ری الاعلیٰ۔ چیل کی تسبیح ہے۔ رب کے علاوہ ہر چیز فانی ہے۔ بھٹ تیتر کی تسبیح ہے۔ جو خاموش رہا وہ سلامتی میں رہا۔ مرغ کی تسبیح ہے۔ اے غافلو ، اللہ تعالیٰ کو یاد کرو ۔ گدھ کی تسبیح ہے اے انسان جتنا بھی زندہ رہنا ہے رہ لے۔ آخر تجھے موت آنی ہے۔ عقاب کی تسبیح ہے۔ لوگوں سے دور رہنے میں انس ہے۔ مینڈک کی تسبیح ہے۔ سبحان ربی القدوس۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........! 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں