02 حضرت شعیب علیہ السلام
سلسلہ نمبر 11
تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 2
حضرت شعیب علیہ السلام کا نام اور نسب
حضرت شعیب علیہ السلام کے سلسلہ نسب کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔ امام ابن عسا کر حضرت اسحاق بن بشر کی سند سے بیان کرتے ہیں کہ توریت کے ماننے والے یہ گمان کرتے ہیں کہ توریت میں حضرت شعیب علیہ السلام کانام میکائیل ہے۔ سریانی زبان میں آپ علیہ السلام کا نام جزی بن یشجر ہے۔ اور عبرانی زبان میں آپ علیہ السلام کا نام شعیب بن یشجر بن لاوی بن یعقوب علیہ السلام ہے۔ شرقی بن قطامی فرماتے ہیں کہ عبرانی زبان میں آپ علیہ السلام کا نام ثیروب ہے اور عربی زبان میں شعیب بن عیفا بن بویب بن ابراہیم علیہ السلام ہے ۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ مشہور مورخ حضرت امام محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ مدین بن ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے ہیں۔ حضرت شعیب علیہ السلام میکیل بن نیشجر کے بیٹے ہیں۔ اُن کا نام سریانی زبان میں یژون تھا۔ یہ یاد رہے کہ قبیلے کا نام بھی مدین تھا اور بستی کا نام بھی یہی تھا۔ یہ شہر معان سے ہوتے ہوئے حجاز جانے والے راستے میں آتا ہے۔ امام قرطبی لکھتے ہیں کہ حضرت عطا اور حضرت محمد بن اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت شعیب علیہ السلام کا سلسلہ نسب شعیب بن میکیل بن یشجر بن مدین بن ابراہیم علیہ السلام ہے۔ سریانی زبان میں آپ علیہ السلام کا نام بیروت ہے۔ اور والدہ محترمہ میکائیل بنت لوط تھی۔ ابن سمعان کہتے ہیں کہ سلسلہ نسب شعیب بن جزی بن یشجر بن لاوی بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ہے۔ اور یہ قول بھی ہے کہ شعیب بن صفوان بن عیفا بن ثابت بن مدین بن ابراہیم علیہ السلام سلسلہ نسب ہے۔ واللہ اعلم۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں کہ والی مدین اخاھم شعیبا۔ یعنی ہم نے مدین بن ابراہیم کی اولاد کی طرف شعیب علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔ محمد بن اسحاق فرماتے ہیں کہ شعیب بن میکیل بن یشجر بن مدین بن ابراہیم علیہ السلام سلسلہ نسب ہے۔ میکیل لوط علیہ السلام کی بیٹی کانام ہے۔ بعض نے سلسلہ نسب شعیب بن یثرون بن نوس بن مدین بن ابراہیم علیہ السلام لکھا ہے۔
حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کی حالت
حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے حدود اربعہ کے بارے میں آپ نے سمجھ ہی لیا ہوگا۔ مختصر میں یوں سمجھ لیں کہ جنوب میں یہ لوگ تبوک سے بھی آگے تک آباد تھے۔ مغرب میں بحر احمر یا بحر قلزم کے پورے ساحلی علاقے پر آباد تھے۔ یہاں تک کہ شمال مغرب میں جزیرہ نمائے سینا کے جنوب اور جنوب مشرقی ساحل علاقے پر بھی آباد تھے۔ اور شمال میں فلسطین کے جنوبی علاقے تک آباد تھے۔ اس طرح ایک بہت بڑے علاقے پر یہ آباد تھے۔ اور آبادی زیادہ ہونے کی وجہ سے دو ملکوں ( بستیوں ) میں تقسیم ہو گئے تھے۔ ان کے مشرق میں عراق وغیرہ تھے۔ شمال میں فلسطین تھا۔ مغرب میں مصر تھا۔ اور جنوب میں مدینہ منورہ ، مکہ مکرمہ اور یمن وغیرہ تھے۔ اسی لئے ان تمام ممالک کے لوگوں کا تجارتی راستہ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے علاقے سے ہوکر گزرت تھا۔ اور ہر ملک کے تجارتی قافلے اپنا اپنا مال و اسباب لے کر ان لوگوں کے علاقے سے گزرتے تھے۔ اس طرح انہیں ہر ملک کی ہر چیز گھر بیٹھے انتہائی آسانی سے مل جاتی تھی۔ اور وہ لوگ اپنے علاقے کی تمام چیزیں اچھے منافع پر قافلے والوں کو فروخت کر دیا کرتے تھے۔ اس طرح انہیں خرید و فروخت کے لئے تجارتی سفر نہیں کرنا پڑتا تھا۔ بلکہ خریدار اور فروخت کرنے والے چل کر ان کے پاس آتے تھے۔ دھیرے دھیرے حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم نے اپنے علاقے میں جگہ جگہ تجارتی راستوں پر منڈیاں بنا لیں۔ اب یہ لوگ بہت بڑے بڑے بیوپاری بن چکے تھے۔ اور پورے علاقے میں آباد قوم مدین اور قوم اصحاب الایکہ اچھی خاصی امیر ہو چکی تھی۔ اور ہر طرف خوش حالی کا دور دورہ تھا۔ اور آپ علیہ السلام کی قوم کا ہر آدمی لگ بھگ بہت امیر اور دولت مند تھا۔
حضرت شعیب علیہ السلام کا مختصر تعارف
حضرت شعیب علیہ السلام کے بارے میں مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔ کہ مدین کے متعلق بہت گفتگو ہے۔ حق یہ ہے کہ مدین حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ایک بیٹے کانام ہے۔ پھر ایک قبیلہ کا نام مدین ہوا۔ جو مدین بن ابراہیم کی اولاد تھا۔ پھر ایک بستی کا نام ہو گیا۔ جہاں یہ قبیلہ آباد ہو گیا۔ لہٰذا سارے مفسرین ٹھیک کہتے ہیں۔ بعض نے کہا بستی کا نام ہے ۔ بعض نے کہا قبیلہ کا نا م ہے۔ وہ سب ہی ٹھیک کہتے ہیں اور اس بستی اور قبیلہ کے نبی حضرت شعیب علیہ السلام تھے۔ مدین کا علاقہ مصر سے آٹھ منزل کے فاصلہ پر یعنی افریقہ میں واقع تھا۔ حضرت شعیب علیہ السلام کے نسب شریف میں بہت اختلاف ہے۔ مگر حق یہ ہے کہ آپ علیہ السلام مدین حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام کے سلسلہ سے نہیں ہیں۔ لہٰذا آپ علیہ السلام بنی اسرائیل سے نہیں ہیں۔ آپ علیہ السلام کا سلسلہ نسب شعیب بن میکیل بن یشجر بن مدین بن حضرت ابراہیم علیہ السلام ہے۔ مدین نے حضرت لوط علیہ السلام کے پوتے اور حضرت لوط علیہ السلام کے نواسے ہیں۔ اور حضرت شعیب علیہ السلام اُن کے ( یشجر کے ) پوتے ہیں۔ آپ علیہ السلام کی خصوصیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو یکے بعد دیگرے چند قوموں کا نبی بنایا۔ پہلے قوم مدین کا پھر اُن کی ہلاکت کے بعد ایکہ والوں کا اور پھر اُن کی ہلاکت کے بعد اصحاب الرس کا ۔ روح المعانی میں یہاں لکھا ہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام خوف الٰہی میں روتے ہوئے نابینا ہو گئے تھے۔ مگر حق یہ ہے کہ حضرات انبیائے کرام گونگا پن ، اندھا پن اور نفرت والے امراض سے محفوظ ہوتے ہیں۔ حضرت شعیب علیہ السلام حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کے سسر ہیں اور آپ علیہ السلام کی بیٹی سیدہ صفورا رضی اللہ عنہا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نکاح میں آئی تھیں۔ اور آپ علیہ السلام نے ہی وہ عصا حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیا تھاجو حضرت آدم علیہ السلام سے ہوتا ہو ا اُن تک پہنچا تھا۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسی کے ذریعے جادو گروں کو شکست دی تھی۔
حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کی برائیاں
حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم مدین اور دوسری قوم اصحاب الایکہ ایک بہت وسیع و عریض علاقے میں دو پڑوسی ملکوں کی طرح رہتے تھے۔ ان کا پورا علاقہ تجارتی شاہراہوں سے بھرا ہوا تھا۔ اور ایران، عراق ، فلسطین ، مصر ، حجاز ( جس میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ آتے ہیں) اور یمن وغیرہ کے بے شمار تجارتی قافلے ان کے علاقے سے گزرتے رہتے تھے۔ ان تجارتی قافلوں کی آمد و رفت سے اس وسیع علاقے میں بڑی بڑی تجارتی منڈیاں وجود میں آگئی تھیں۔ اور ان تجارتی منڈیوں کی وجہ سے یہ دونوں قومیں بہت امیر ہو گئی تھیں۔ اور امیر ہونے کی وجہ سے ان میں بہت سی برائیاں پیدا ہو گئی تھیں۔ مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں۔ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم وہ قوم ہے جو تجارت میں اپنا جواب نہیں رکھتی تھی۔ مگر انہوں نے بد دیانتی کے ہزاروں طریقوں کو رواج دے کر معاشہر کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا تھا۔ اس تجارتی بد دیانتی کے ساتھ ساتھ کفر و شرک می بھی وہ کسی قسم سے پیچھے نہیں تھے۔ تجارت معاشی خوشحالی کا واحد ذریعہ ہے۔ پیداوار اشیاءکا تبادلہ براہ راست یا مال کے ذریعے اپنی چیزیں دیکر اپنی کمی کو باہمی رضا مندی سے پوری کرنا تجارت کے اصول ہیں۔ (لیکن حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم میں ) گاہک کو نقصان پہنچانے کے نہ جانے کتنے طریقے ان دنوں رائج تھے اور آج بھی رائج ہیں۔ ڈنڈی مارنا، نمونہ کچھ مال مال کچھ ، بلیک مارکٹنگ ، ذخیرہ اندوزی ، لازمی اشیاءکو بازار سے غائب کرادینا۔ سنڈی کیٹ بنانا، ملاوٹ کرنا، جھوٹے اشتہارات دینا، حرام مال بیچنا، سود کھانا، غلط وعدے کرنا، خیانت کرنا اور اپنا خراب مال قسم کھا کر اچھا بتانا۔ یہ تمام برائیاں قوم مدین اور قوم ایکہ میں تھیں۔
قوم میں شرک کے علاوہ سب سے بڑی برائی
حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم پر بھی ابلیس شیطان مسلسل محنت کرتا رہا اور انہیں بہکانے کی کوشش کرتا رہا آخر کار وہ کامیاب ہو گیا اورقو م شرک و کفر میں مبتلا ہو گئی۔ اس کے علاوہ اس قوم کا معاشی دارو مدار تجارت پر تھا۔ اسی لئے ابلیس شیطان نے انہیں تجارتی بد دیانتی کے نئے نئے اصول سکھائے۔ مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی لکھتے ہیں کہ ان لوگوں میں کفر و عناد تو تھا ہی ساتھ میں کیل اور وزن میں کمی کرنا بھی ان میں رواج پذیر تھا۔ بیچتے تھے تو کیل میں یعنی ناپ کر دینے میں او ر وزن میں کمی کر دیتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں میں شرک بھی تھا۔ اور اپنے رب کے ساتھ کفر کرنے کے ساتھ ساتھ یہ لوگ ناپ تول میں کمی کرنے والے بھی تھے۔ وہ انتہائی سر کش اور باغی قوم تھی۔ وہ لوگ راستے پر بیٹھ جاتے تھے اور لوگوں کو ان کے مالوں میں نقصان پہنچاتے ۔ یہاں تک کہ وہ مال خرید لیتے تھے۔ اس طریقے کا آغاز سب سے پہلے انہوں نے ہی کیا ۔ جب کوئی اجنبی ان کے پاس آتا تھا تو اسے دراہم ( اُس وقت کے روپئے پیسے ) لے لیتے اور پھر کہہ دیتے تھے کہ تیرے دراہم ( درہم کی جمع) کھوٹے ہیں۔ اور انہیں توڑ دیتے پھر وہ ان ہی دراہم کو اس سے کم قیمت میں خرید لیتے تھے۔ مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان نہیں لا کر حقوق اللہ کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ اور اس کے ساتھ خرید و فروخت میں ناپ تول گھٹا کر لوگوں کے حقوق مار رہے تھے۔
خطیب الانبیاء
حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم جب کفر و شرک اور برائیوں میں حد سے بڑھ گئی تو اللہ تعالیٰ اُن پر رحم فرمایا اور ان کی رہنمائی اور رہبری کے لئے حضرت شعیب علیہ السلام کو اپنا رسول بنا کر بھیجا۔ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ چار انبیاءعلیہم السلام کا تعلق عرب قوم سے ہے۔ حضرت ہود علیہ السلام ، حضرت صالحعلیہ السلام ، حضرت شعیب علیہ السلام اور اے ابو ذر رضی اللہ عنہ تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ بعض سلف صالحین حضرت شعیب علیہ السلام کو ”خطیب الانبیاء“ کے لقب سے موسوم کرتے ہیں۔ یعنی آپ علیہ السلام نہایت فصیح و بلیغ گفتگو فرماتے تھے۔ اور جب اپنی قوم کو تبلیغ فرماتے اور ایمان برسالت کی تلقین کرتے تو عبارت ( تقریر) نہایت ہی بلند اور معنی خیز ہوتی تھی۔ امام محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی حضرت شعیب علیہ السلام کا تذکرہ کرتے تو فرماتے تھے۔ آپ علیہ السلام خطیب الانبیاءتھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں ۔ حضرت سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ ( جلیل القدر تابعی اور محدث) فرماتے ہیں کہ حضرت شعیب علیہ السلام کی بینائی کمزور تھی اور آپ علیہ السلام کا لقب”خطیب الانبیاء“ تھا۔ یعنی انبیائے کرام علیہم السلام میں بڑے درجے کے خطیب تھے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں