جمعہ، 19 مئی، 2023

02 حضرت شموئیل اور حضرت داﺅد علیہما السلام Story of Prophet Samuel and Dawood


02 حضرت شموئیل اور حضرت داﺅد علیہما السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر14

قسط نمبر 2

بنی اسرائیل میں مسلکی اختلافات اور آپسی لڑائیاں

اللہ تعالیٰ بار بار بنی اسرائیل کو سدھرنے کا موقع دیتا رہا اور وہ بار بار نافرمانی کر کے اور شرک کر کے ذلیل ہو تے رہے۔ جدعون کے مرنے کے بعد ان میں مسلکی اختلافات پیدا ہو گئے۔ اور ہر مسلک کا عالم اپنے مسلک کو حق بتانے لگا اور دوسرے تمام مسلکوں کو باطل اور دوزخی بتانے لگا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بنی اسرائیل کا اتحاد ٹوٹ گیا اور وہ مختلف مسلکوں اور فرقوں میں بٹ کر پھوٹ کا شکار ہوگئے اور آپس میں لڑ نے لگے۔ ایسے وقت میں ابی ملک نے تین سال بنی اسرائیل کا قاضی رہا۔ اس کے بعد تولع بن فوہ تیئیس 23سال تک بنی اسرائیل کا قاضی رہا۔ اس کے بعد پاتیر 22برس تک بنی اسرائیل کا قاضی رہا۔ اس کے بعد افتاح چھ سال تک قاضی رہا۔ اس کے بعد ابصان سات سال تک بنی اسرائیل کا قاضی رہا۔ پھر ایلون دس سال تک قاضی رہا۔ اس کے بعد عبدون آٹھ سال تک بنی اسرائیل کا قاضی رہا۔ اس کے بعد شمون نے بیس برس تک قاضی رہا۔ یہ سب قاضی بنی اسرائیل کے الگ الگ قبیلوں اور مسلکوں کے ہیں۔ اور یہ اور علماءآپس میں لڑتے رہے اور بنی اسرائیل کو لڑاتے رہے۔ کبھی ایک مسلک کا قاضی بنتا تھا تو کبھی دوسرے مسلک کا قاضی بنتا تھا۔

تابوتِ سکینہ کا چھن جانا

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فضیلت عطا فرمائی اور انہیں مسلمان ہونے کا اعزاز بخشا تھا۔ لیکن بد بخت بنی اسرائیل بار بار اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے تھے اور گمراہی میں مبتلا ہو جاتے تھے۔ یہاں تک کہ ان میں سے بہت سے لوگ شرک بھی کرنے لگتے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت شموئیل علیہ السلام کے درمیان لگ بھگ 450ساڑھے چار سو سال کا عرصہ ہے۔ اور اس عرصے میں کئی مرتبہ بنی اسرائیل گمراہی میں پڑے اور غیر قوموں کے ہاتھوں ذلیل ہوتے رہے۔ اسی دوران ایک وقت ایسا بھی آیا جب ان کے اندر مسلکی اختلافات بہت شدید طور سے ابھر آئے ۔ اور ہر مسلک والا اپنے آپ کو حق پر اور دوسرے تمام مسلکوںکو باطل قرار دیتا تھا۔ اس طرح عام بنی اسرائیل ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگے۔ اور بنی اسرائیل کے تمام مسلکوں کے علمائے کرام اس نفرت کو کم کرنے کی بجائے اور بڑھاتے جا رہے تھے۔ اور دنیاوی فائدے اٹھاتے جا رہے تھے۔ اس نفرت اور مسلکی اختلافات کاسب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ بنی اسرائیل کا اتحاد ٹوٹ گیا اور دوسری قوموں پر سے ان کا رعب ختم ہو گیا۔ دوسرا نقصان یہ ہوا کہ ایک مسلمان کو جو سب سے شدید نفرت بتوں اور ان کی پوجا کرنے والوں سے ہونی چاہیئے وہ شدید نفرت دوسرے مسلک والوں سے ہونے لگی اور ان پر استعمال ہونے لگی۔ اور وہ آپس میں ہی لڑنے لگے اور اپنی ہر قسم کی طاقت اور توانائی اسی میں استعمال کرنے لگے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ آپس میں تو بہت بہادری سے لڑتے تھے لیکن مشرکوں اور کافروں کے مقابلے میں بزدل ہو گئے تھے اور ان سے امن حاصل کرنے اور صلح کی کوشش کرنے لگے تھے۔ ان ان کا مقصد اللہ کے دین ( اسلام) کو پھیلانا نہیں تھا بلکہ دنیا میں سکون اور آرام سے زندگی گزارنا ان کا مقصد بن گیا۔ اور اسلام کے نام پر چند رسومات ہی رہ گئی تھیں۔ بنی اسرائیل کے اس آپسی انتشار کو دوسری مشرک اور کافر قوموں نے سمجھ لیا تھا۔ اور وہ بنی اسرائیل پر رہ رہ کر حملے کرنے لگے تھے اور انہیں شکست دینے لگے تھے۔ اور ایک وقت تو ایسا آیا کہ آس پاس کی مشرک قومیں بنی اسرائیل پر ایسے ٹوٹ پڑیں جیسے بھوکے کھانے پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ اس وقت ایلاف یا عیلی بنی اسرائیل کا قاضی یا کاہن تھا۔ بنی اسرائیل پر مشرک قومیں ہر طرف سے حملے کر رہی تھیں اور شکست دیتی جا رہی تھیں۔ ایسی ہی ایک جنگ میں ایک مشرک قوم نے بنی اسرائیل کو شکست دی اور ان کا تابوتِ سکینہ چھین کر لے گئی۔ تابوت سکینہ چھن جانے کی اور شکست کی خبر جب ایلاف یا عیلی کو ملی تو وہ صدمے اور خوف سے ہی مر گیا۔ وہ چالیس سال تک بنی اسرائیل کا قاضی یا کاہن بنا رہا۔

تابوتِ سکینہ کیا ہے

اللہ تعالیٰ کی مسلسل نافرمانی اور آپس کی مسلکی نفرت کی وجہ سے بنی اسرائیل سے تابوت سکینہ چھین گیا۔ آگے بڑھنے سے پہلے ہم آپ کو تابوت سکینہ کے بارے میں بتا دیں تا کہ ذہن میں کوئی الجھن پیدا نہ ہو۔ تابوتِ سکینہ ایک تابوت ( صندوق) تھا جو ایک روایت کے مطابق بنی اسرائیل نے حضرت یوشع علیہ السلام کے وصال کے بعد بنایا تھا۔ اور ایک روایت کے مطابق حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسے بنوایا تھا اور کوہِ طور پر جو توریت کی تخیتاں نازل ہوئی تھیں وہ اس میں رکھی ہوئی تھیں۔ اس کے علاوہ بعد میں بنی اسرائیل نے اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا اور نعلین مبارک اور اسی طرح حضرت ہارون علیہ السلام کی بھی کچھ یادگاریں رکھ دی تھیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے قبیلہ بنو لاوی سے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا کہ بنو لاوی جنگ کے دوران بنی اسرائیل کے لشکر کے درمیان میں رہیں گے اور تابوت سکینہ اٹھائے رہیں گے۔ اسی لئے بنی اسرائیل ہمیشہ بنو لاوی کو لشکر کے درمیان میں رکھتے تھے۔ اور وہ تابوت سکینہ اٹھائے رہتے تھے۔ اور جب بنی اسرائیل کو شکست کے آثار نظر آتے تھے تو توہ تابوت سکینہ کو آگے کر دیتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے تھے اور تیزی سے حملہ کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ انہیں فتح عطا فرمادیتا تھا۔ لیکن جب بنی اسرائیل مسلکی اختلافات کا شکار ہو گئے اور آپس می ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگے تو ان میں بزدلی اور دنیا کی محبت آگئی تھی۔ اس کی وجہ سے تابوت سکینہ بھی ان کے کام نہیں آیا اور جنگ کے دوران ان سے چھین لیا گیا۔

حضرت یوشع علیہ السلام اور حضرت شموئیل علیہ السلام کا درمیانی عرصہ

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد حضرت یوشع علیہ السلام 27سال تک بنی اسرائیل پر اسلامی حکومت کرتے رہے۔ حضرت یوشع علیہ السلام کے وصال کے 460سال بعد حضرت شموئیل علیہ السلام پیدا ہوئے۔ ان 460برسوںکے خاص واقعات ہم اوپر ذکر کر چکے ہیں۔ یہاں مختصراً ذکر کر رہے ہیں۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت شموئیل علیہ السلام آئے۔ حضرت یوشع علیہ السلام اور حضرت شموئیل علیہ السلام کا درمیانی عرصہ 460برسوں کا ہے۔ سب سے پہلے بنی اسرائیل پر جو شخص مسلط ہوا وہ حضرت لوط علیہ السلام کی نسل کا تھا۔ اس کا نام کوشا ن ( کوشن رسعتیم) تھا۔ اس نے انہیں آٹھ سال رسوا کیا۔ پھر حکومت اس کے چھوٹے بھائی عقیل بن قیس کے ہاتھ میں آئی جو چالیس برس تک رہی۔ اس کے بعد جعلون اٹھارہ برس تک حکمراں رہا۔ اس کے بعد اھود بن جیرا 80برس تک حکمراں رہا۔ پھر کنعانی بادشاہ یا فین 20سال تک بنی اسرائیل پر مسلط رہا۔ پھر کسی دبودہ نام کی عورت کے ہاتھ میں معاملات آئے۔اس کی جانب سے باراق نام کے شخص نے 40سال حکومت کی۔ پھر بنی نفتالی میں سے ایک شخص جس کا نام جدعون بن یواش تھا۔ اس نے 40سال تک بنی اسرائیل کے امورِ سلطنت سنبھالے۔ اس کے بعد اس کے بیٹے ابی ملک نے تین سال حکومت کی۔ اس کے بعد اس کا ماموں یا چچا زاد نے 30سال حکومت کی۔ پھر بنی اسرائیل کے ایک شخص یائیر 22سال تک حکمراں رہا۔ پھر بنی عمون ( عمون کی اولاد) نے جن کا تعلق فلسطین سے تھا اٹھارہ سال تک بنی اسرائیل پر مسلط رہے۔ پھر یفتح ( افتاح، یفتاح) نے 6سال تک معاملات سنبھالے۔ اس کے بعد یجشون 7سال تک ، الون 10سال تک اور کیرون 8سال تک حکمراں رہے۔ پھر 40سال فلسطین کے بادشاہ بنی اسرائیل پر مسلط رہے۔ پھر بنی اسرائیل کا شخص شمون 20سال تک حاکم رہا۔ اس کے بعد مشرک قوموں نے حملہ کر کے بنی اسرائیل کو محکوم بنا لیا۔

حضرت شموئیل علیہ السلام کے لئے دعا

اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے کے نتیجے میں مشرک قوموںنے بنی اسرائیل کو محکوم بنالیا۔ جب بنی اسرائیل پر مصائب بڑھ گئے اور مشرک قوموں کے حکمرانوں نے ان کو ذلیل و رسوا کیا اور ان کے شہروں کو ویران کیا۔ اور ان کے مردوں کو قتل کیا اور عورتوں کو قید کیا اور ان سے وہ تابوت چھین لیا جس میں سکینہ یعنی حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہم السلام کے باقیات تھے۔ اور اس تابوت کی وجہ سے وہ دشمنوں پر غلبہ حاصل کر تے تھے تو اس وقت تمام بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ہمارے لئے نبی مبعوث فرما۔ تب اللہ تعالیٰ نے حضرت شموئیل علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ بنی اسرائیل نے عمالقہ قوم سے جنگ کی اس کے بادشاہ کانام جالوت تھا۔ انہوں نے بنی اسرائیل پر غلبہ حاصل کر لیا۔ ان پر جزیہ مقرر کر دیا اور ان سے توریت چھین لی۔ اس وقت بنی اسرائیل نے دعا کی کہ اے اللہ تعالیٰ اپنا کوئی نبی مبعوث فرما۔ اس وقت انبیاءکی نسل ختم ہو چکی تھی۔ البتہ صرف ایک عورت باقی تھی جو کہ حاملہ تھی۔ انہوں نے اسے اپنی نگرانی میں لے لیا اور دعا کرنے لگے کہ اسے لڑکا پیدا ہو۔ جب اس عورت نے ان کا شوق اور لگن دیکھی تو اس نے بھی اللہ تعالیٰ سے بیٹے کے لئے دعا کی۔ اسے لڑکا پیدا ہوا اور اس کا نام شموئیل رکھا گیا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں