02 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام
سلسلہ نمبر12
تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 2
بنی اسرائیل پر ظلم و ستم
بنی اسرائیل کے ہاتھوں سے حکومت کے انتظامات قبطیوں نے اپنے ہاتھ میں لے لئے۔ اور ملک مصر بد نظمی کا شکار ہو گیا۔ اسی دوران فرعون کا انتقال ہو گیا تو ولید بن مصعب جو سپہ سالار اور ملک کا منتظم تھا اس نے قبطیوں کے ساتھ مل کر درباری امراءاور وزراءکو خریدنا اور دھمکانا شروع کر دیا۔ آخر کار وزیروں اور درباریوں نے اسے بادشاہ بنا دیا۔ اس کا سب سے خاص آدمی یعنی ساتھی ہامان تھا۔ جو پچھلے فرعون کا وزیر تھا۔ ولید بن مصعب نے فرعون بنتے ہی خدائی کا اعلان کر دیا۔ مفتی احمد یار خان نعیمی آگے لکھتے ہیں۔ اُس نے تخت پر بیٹھتے ہی یہ اعلان عام کر دیا کہ لوگ اس کو سجدہ کیا کریں۔ سب سے پہلے اس کے وزیر ہامان نے اس کو سجدہ کیا۔ اور پھر دوسرے امیروں اور سرداروں کے ذریعے مصر کے لوگوں کو سجدہ کراتا تھا۔ اور دور رہنے والوں کے لئے اس نے اپنے نام کے بت بنوا کر بھیج دیئے تھے اور حکم دیا تھا کہ وہ ان بتوں کو سجدہ کیا کریں۔ تمام اہل مصر ( قبطیوں ) نے فرعون کو سجدہ کرنا شروع کر دیا۔ لیکن بنی اسرائیل نے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔ فرعون نے ان کے سرداروں کو بلا کر بہت ڈرایا دھمکایا۔ مگر انہوںنے صاف کہہ دیا کہ ہم تیری عبادت نہیں کر سکتے اور ہم صرف رب یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں گے۔ اب تجھے جو بھی کرنا ہے کر لے۔ فرعون غصے میں آگی ااور دیگوں میں زیتون کا تیل اور گندھک کھولا کر اس میں بنی اسرائیل کو ڈالنا شروع کر دیا ۔ بنی اسرائیل نے یہ سب کچھ برداشت کیا۔ مگر اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منہ نہیں موڑا ۔ اور فرعون کو سجدہ نہیں کیا۔ جب اچھے خاصے بنی اسرائیل کو فرعون نے زندہ جلا دیا تو اس کے وزیر ہامان نے فرعون کو مشورہ دیا کہ ان کو مہلت دے اور ان کو ذلیل کر کے رکھے۔ تب اس نے جلانے سے ہاتھ کھینچا اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر ان پر سختیاں شروع کر دیں۔
بنی اسرائیل کے لڑکوں کا قتل
اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ۔” اور جب ہم نے تمہیں ( بنی اسرائیل) کو فرعونیوں سے نجات دی جو تمہیں بد ترین عذاب دیتے تھے۔ اور تمہارے لڑکوں کو قتل کر دیا کرتے تھے۔ اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیتے تھے۔ اس نجات دینے میں تمہارے رب کو بڑی مہربانی تھی۔ “( سورہ البقرہ آیت نمبر 49) اللہ تعالیٰ نے سورہ ابراہیم میں فرمایا۔ ترجمہ ”جس وقت موسیٰ(علیہ السلام )نے اپنی قوم سے فرمایا۔ اللہ کے وہ احسانات یاد کرو جو اس نے تم پر کئے ہیں ۔ جب کہ اس نے تمہیںفرعونیوں سے نجات دی جو تمہیں بڑے دکھ پہنچاتے تھے۔ تمہارے لڑکوں کو قتل کر تے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیتے تھے۔ اس میں تمہارے رب کی طرف سے تم پر بڑی آزمائش تھی۔ (سورہ ابراہیم آیت نمبر6) اللہ تعالیٰ نے سورہ القصص میں فرمایا۔ یقینافرعون نے زمین میں سر کشی کر رکھی تھی اور وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔ اور ان میں سے ایک فرقہ کو کمزور کر رکھا تھا۔ اور ان کے لڑکوں کو ذبح کر ڈالتا تھا۔ اور ان کی لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا۔ بے شک وہ تھا ہی مفسدوں ( فسادیوں ) میں سے ۔“ ( سورہ القصص آیت نمبر4) ۔ ان آیات کی تفسیر میں علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ امام محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ فرعون بنی اسرائیل کو عذاب دیتا تھا۔ ان سے طرح طرح سے کام لیتا تھا۔ بعض سے مکان بنواتا ، بعض سے کاشتکاری ( کھیتی) کرواتا، بعض سے مزدوری لیتا تھا۔ اور جن سے کوئی کام نہیں لیتا تھا ان سے ٹیکس لیتا تھا۔ مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں۔ جب ولید بن مصعب فرعون تختِ سلطنت پر بیٹھا تو اس کو بنی اسرائیل سے اس قدر نفرت اور عداوت تھی کہ اس نے اُن کو ذلیل کرنے کے لئے تمام وہ طریقے اختیا رکئے جن سے وہ معاشرہ کے سب سے معمولی کام کرنے والے بن کر رہ گئے۔ ادنیٰ کاموں کے علاوہ تمام محنت و مشقت کے کام، کھیتی باڑی اور اینٹ گارے کا کام لینے لگا۔ ہر فرعونی ( مصری ، قبطی) کی خدمت کرنا اُن پر فرض کر دیا تھا۔ ان پر اتنے زبردست ٹیکس لگائے کہ ان کی کمر اس ٹیکس کے بوجھ تلے دب کر دہری ہو گئی۔
بنی اسرائیل کا ایک لڑکا تیری حکومت ختم کر دے گا
بنی اسرائیل پر فرعون کا ظلم و ستم جاری تھا ۔ مفتی احمد یا ر خان نعیمی لکھتے ہیں۔ اس زمانے میں فرعون نے ایک خواب دیکھا کہ بیت المقدس کی طرف سے ایک آگ آئی جس نے تمام قبطیوں ( فرعونیوں ) کو جلا ڈالا۔ مگر اسرائیلیوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ اور پھر دیکھا کہ بنی اسرائیل کے محلے سے ایک بڑا اژدھا نکلا جس نے اس کے تخت کو پلٹ دیا۔ اس نے تعبیر دینے والوں سے اپنا خواب بیان کیا۔ انہوں نے کہا۔ اے فرعون ، بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو تیری حکومت کے ٹکڑے اڑادے گا۔ یعنی تیری حکومت ختم کر دے گا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ فرعون نے ایک خواب دیکھا تھا کہ بیت المقدس کی طرف سے ایک آگ بھڑکی۔ جو مصر کے ہر قبطی کے گھر میں گھس گئی اور بنی اسرائیل کے مکانات میں نہیں گئی۔ جس کی تعبیر یہ تھی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا ۔ جس کے ہاتھوں فرعون کا غرور ٹوٹے گا اور اس کے خدائی دعویٰ کی اسے بدترین سزا ملے گی۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نام اور نسب
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نام عبرانی ہے۔ امام رازی آپ علیہ السلام کے نام کے بارے میں لکھتے ہیں ۔ لفظ موسیٰ عبرانی زبان کا لفظ ہے۔ اور دو کلموں ( یعنی حرفوں ) سے مل کر بنا ہے۔ ”مُو“ کا معنی ہے ”پانی “ اور ”سا “کا معنی ہے ” درخت “ ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اُن کی والدہ محترمہ نے فرعون کے خوف سے تابوت میں رکھ دیا تھا اور اس تابوت کو دریائے نیل میں ڈال دیا تھا۔ دریائے نیل کی موجیں اس تابوت کو فرعون کے محل کے قریب درختوں کے جھنڈ میں لے آئیں تھیں۔ اور فرعون کی بیوی آسیہ کو وہ تابوت انہیں درختوں کے جھنڈ میں پانی میں ملا۔ اس نے تابوت میں سے بچے کو نکال لیا۔ اور چونکہ اسے یہ بچہ درختوں کے جھنڈ کے درمیان پانی میں ملا تھا۔ اس لئے اسی مناسبت سے اس بچے کا نام موسیٰ رکھ دیا۔ آپ علیہ السلام کا سلسلہ¿ نسب اس طرح ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام بن عمران بن یصھر بن قاعث بن لاوی بن یعقوب علیہ السلام بن اسحاق علیہ السلام بن ابراہیم علیہ السلام ۔ علامہ ابن کثیر آپ علیہ السلام کا سلسلہ ¿ نسب اس طرح لکھتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام بن عمران بن قاہث بن عاذر بن لاوی بن یعقوب علیہ السلام بن اسحاق علیہ السلام بن ابراہیم علیہ السلام ۔
حضرت ہارون علیہ السلام کی پیدائش
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے بارے میں سن کر فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل میں جو بھی بچہ پیدا ہو اُسے قتل کر دیا جائے۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں۔ امام بغوی فرماتے ہیں۔ فرعون نے بنی اسرائیل کے ہر پیدا ہونےوالے بچے کو قتل کر دینے کا حکم دے دیا۔ اس نے دایہ کا پیشہ کرنےوالی عورتوں کو جمع کیا اور کہا۔ بنی اسرائیل میں جتنے بھی لڑکے پیدا ہوں اُن کوقتل کر دیا جائے اور لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیا جائے۔ کہا جاتا ہے کہ فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو قتل کر نے کے لئے بارہ ہزار بچے قتل کروائے۔ حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ فرماتے ہیں کہ اس نے نوّے 90 ہزار بچے قتل کروائے تھے۔ پھر بنی اسرائیل کے بوڑھوں کی موت واقع ہونے لگی۔ تو قبطیوں کے سردار ( ایک اور روایت میں ہے کہ فرعون کے وزیر ہامان نے ) فرعون کو کہا کہ اسی طرح یعنی بنی اسرائیل کے بوڑھے مرتے رہے اور بچے قتل ہوتے رہے تو ایک دن بنی اسرائیل کے تمام مرد ختم ہو جائیں گے اور محنت و مشقت کا کام ہمیں خود کرنے پڑیں گے۔ تب فرعون نے دوسرا حکم نامہ جاری کیا کہ ایک سال بچے ذبح یعنی قتل کئے جائیں اور ایک سال ذبح نہ کئے جائیں۔ یعنی زندہ چھوڑ دیئے جائیں۔ حضرت ہارون علیہ السلام اسی سال پیدا ہوئے جس سال بنی اسرائیل کے بچوں کو زندہ چھوڑنے کی باری تھی۔ مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں ۔ فرعون نے ملک کے کوتوال ( پولس کا سربراہ) کو بلا کر حکم دیا کہ ایک ہزار ہتھیار بند سپاہی اور ایک ہزار دائیاں بنی اسرائیل کے علاقے میں مقرر کر دو کہ جس گھر میں بھی لڑکا پیدا ہوا سے قتل کر دیاجائے۔ چند سال میں بنی اسرائیل کے بوڑھے بھی جلد جلد مرنے لگے تب قبطیوں نے فرعون سے درخواست کی کہ بنی اسرائیل کے بچے قتل کئے جائیں اور ایک سال چھوڑ دیئے جائیں۔ اللہ کی شان کہ چھوڑنے کے سال حضر ت ہارون علیہ السلام پیدا ہوئے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے بارے میں مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں ۔ لاوی بن یعقوب علیہ السلام کی اولاد میں حضرت عمران اس وقت اپنے قبیلے کے سردار تھے۔ ( بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے) ان کی بیوی کا نام حضرة عایذ تھا۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام انہیں کے فرزند ہیں۔ جب حضرة عایذ حاملہ ہوئیں تو فرعون کی دائیاں ان کے گھر میں اور سپاہی دروازے پر آنے لگے۔ جب ولادت کا زمانہ قریب آیا تو ایک دائی ان کے گھر میں رہنے لگی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام رات کے وقت پیدا ہوئے اور فرعون کی دائی ان کو دیکھ کر بے اختیار اُن پر عاشق ہو گئی کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو محبوبیت عامہ بخشی تھی۔ دائی نے آپ علیہ السلام کی والدہ محترمہ سے کہا۔ کسی بھی صورت سے اس خوب صورت پیارے بچے کو بچاﺅ۔ یہ کہہ کر اس نے ایک بکری کا بچہ ذبح کیا اور ایک ہانڈی میں ڈال کر سپاہیوں کے پاس آئی اور کہا کہ لڑکا پیدا ہوا تھا۔ میں نے اسے ذبح کر دیا اور دیکھو میں اس کو دفن کر نے کے لئے جنگل میں جا رہی ہوں ۔ سپاہیوں نے اس پر اعتبار کیا اور زائد تحقیقات نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ القصص میں فرمایا۔ ترجمہ ”ہم نے موسیٰ (علیہ السلام ) کی والدہ محترمہ کو وحی کی ( القا کیا یا الہام کیا) کہ اسے دودھ پلاتی رہو اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو تو اسے دریا میں بہا دینا ۔ اور کوئی ڈر ، خوف یا رنج و غم نہیں کرنا۔ ہم یقینا اسے تیری طرف لوٹانے والے ہیں اور اسے اپنے رسولوں میں بنانے والے ہیں۔“( سورہ القصص آیت نمبر7)
اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون نے قتل کرنے کا ارادہ بنا لیا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بچانے کا ارادہ بنا لیا تھا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ فرعون تو بنی اسرائیل کو بچوں کا قتل عام کر رہا تھا ۔ لیکن تقدیر مسکرا کر کہہ رہی تھی ۔ اے جابر بادشاہ۔ اے اپنے لشکر و قوت کے نشے میں مست فرمانروا۔ اے جس کے سامنے پورا مصر سجدہ کرنے کو تیار نظر آتا ہے۔ سن لے ۔ اس عظیم ذات ( اللہ تعالیٰ ) نے فیصلہ صادر کر دیا ہے جس پر کوئی غلبہ نہیں پا سکتا ہے۔ اور نہ ہی کوئی اس کے حکم کو روک سکتا ہے۔ وہ جس سے ہاتھ رنگین کر رہا ہے وہ تیرے ہی گھر میں ، تیرے ہی بستر پر ، تیرے ہاتھوں سے پروان چڑھے گا۔ خود اس کی تربیت کر ے گا۔ اور اپنے گھر میں لاڈ پیار سے اس کی پرورش کرے گا۔ اور اس پر فدا ہوتا پھرے گا۔ لیکن اے جابر، اے اللہ کے دشمن ، تو اس راز سے ایک پل کے کے لئے بھی باخبر نہیں ہوگا۔ پھر تیری بادشاہت اسی پر وردہ کے ہاتھوں ختم ہو گی۔ اور اسی بچے کی تکذیب ( اسے جھٹلانے) اور اس کے دین حق ( اسلام ) کی مخالفت کرنے کی وجہ سے تو آخرت میں ذلیل و خوار اور ابدی عذاب کا مستحق بنے گا۔ اس دن تیری آنکھیں کھلیں گی۔ اور تجھے پتہ چلے گا اور تُو کائنات کی ہر چیز گواہ ہو گی کہ آسمانوں اور زمین کا رب جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ کوئی اس کے فیصلوں کو ٹال نہیں سکتا ہے۔ وہ قوی اور زبردست ہے۔ وہ بڑے مرتبے اور بلند شان کا مالک ہے۔ کائنات کا ایک ایک فرد بلکہ ذرہ ذرہ اس کے اشارے سے اپنے اپنے دائرہ کار میں مصروف عمل ہے۔ اس کی مشیت کے آگے ہر چیز بے بس اور مجبور ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ارہاص
حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی والدہ کے پاس رہے۔ مفتی احمد یار خان لکھتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے گھر میں پرورش پاتے رہے۔ ادھر فرعون کو نجومیوں نے خبر دی کہ بنی اسرائیل میں بچہ پیدا ہو چکا ہے۔ فرعون اس خبر سے پریشان ہو گیا اور کوتوال ( محکمہ پولس کا سربراہ) کو سخت تنبیہہ کی۔ کوتوال نے سپاہیوں پر سختی کو تو انہوں نے کہا ہم نے بنی اسرائیل کے ہر بچے کو اپنی نگرانی میں قتل کیا۔ لیکن عمران کے بچے کے بارے میں دائی پر اعتماد کر لیا۔ کوتوال نے کہا فوراً اس گھر کی تلاشی لو اور بلا تامل گھس جاﺅ۔ سپاہی یعنی پولس والے بے پردہ حضرت عمران کے گھر میں گھس آئے ۔ اس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی بڑی بہن مریم کی گود میں تھے۔ مریم نے یہ ماجرا دیکھا تو فورا ً آپ علیہ السلام کو جلتے ہوئی تنور میں ڈال دیا۔ اور پولس والے دیکھ نہیں سکے۔ مریم نے خیال کیا تھا کہ اگر پولس نے بچہ دیکھ لیا تو بچے کے سمیت پورے گھر والوں کو قتل کر دیں گے۔ پولس نے پورے گھر کی تلاشی لی اور کچھ نہ پا کر واپس چلے گئے۔ والدہ محترمہ نے مریم سے پوچھا کہ موسیٰ (علیہ السلام ) کہاں ہے؟ تب مریم چونکی اور اپنی والدہ محترمہ کو بتایا کہ ( روٹی پکانے والے ) تنور میں ڈال دیا۔ ( اُس زمانے میں چپاتی پکانے کا رواج نہیں تھا اور ہر گھر میں تندوری روٹی پکتی تھی) والدہ محترمہ تڑپ کر تنور پر پہنچی اور اندر دیکھا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام آپ پر لیٹے مسکرا رہے تھے اور محفوظ تھے۔ والدہ محترمہ نے فوراً آپ علیہ السلام کو نکال کر گلے سے لگا لیا۔ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ارہاص تھا۔ ( ارہاص اُن کرامتوں کو کہتے ہیں جو اعلانِ نبوت سے پہلے انبیائے کرام کے ذریعے یا اُن کی وجہسے پیش آتی ہیں۔ جیسے ہمارے پیارے رسول سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے پچاس 50یا پچپن55دن پہلے اصحاب فیل کا واقعہ پیش آیا تھا) یعنی نبوت سے پہلے معجزہ کا ظہو ر ۔ جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بچپن میں پتھروں کا سلام کرنا۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا پیدا ہوتے ہی بات کرنا۔ وغیرہ ۔ (حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بچپن میں ایک اور ارہاص کا واقعہ پیش آیا ) گھر کے سب لوگوں نے مشورہ کر کے محلہ کے بڑھئی ( لکڑی کا سامان بنانےوالا مستری) سے ایک صندوقچہ بنوایا ۔ اس بڑھئی کا نام سانوم تھا۔ اس سے عہد لیا گیا کہ کسی سے اس کا ذکر نہ کرنا کہ بچے کے لئے صندوقچہ بنوایا ہے۔ ادھر فرعون کی طرف سے اعلان ہو اکہ جو شخص اس لڑکے کے بارے میں بتائے جو بنی اسرائیل میں پیدا ہوا ہو تو اسے بہت انعام دیا جائے گا۔ سانوم کو طمع ہوئی۔ خبر دینے کے لئے نکلا اور دروازے تک پہنچا تو زمیں میں ٹخنوں تک دھنس گیا اور غیب سے آواز آئی کہ کہ اگر تو نے یہ راز ظاہر کیا تو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ سانوم گھبرا گیا اور صندوقچہ حضر ت عمران کے گھر پہنچا کر عرض کیا کہ اس پاکیزہ بیٹے کی صورت تو دکھا دو۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی صورت مبارک دیکھی تو دل و جان سے عاشق ہو گیا۔ اور صندوقچہ کی اجرت بھی نہیں لی۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.........!


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں