جمعرات، 4 مئی، 2023

02 حضرت ایوب علیہ السلام Story of Prophet Ayoob



02 حضرت ایوب علیہ السلام

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 2

انبیائے کرام پر سخت آزمائشیں آتی ہیں

حضرت ایوب علیہ السلام کے صبر اور اللہ پر توکل ( بھروسہ ) کی آزمائش اللہ تعالٰی نے کی۔ تفسیر معارف القران میں لکھا ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام کے قصہ میں اسرائیلی روایات بڑی طویل ہیں۔ اُن میں سے جن کو محدثین حضرات نے تاریخی درجہ میں قابل اعتماد سمجھا ہے اُن کو نقل فرمایا ہے۔ قرآن پاک سے توصرف اتنی بات ثابت ہے کہ اُن کو کوئی بہت ہی شدی مرض پیش آیا تھا۔ جس پر وہ صبر کرتے رہے۔ بالآخر اللہ تعالٰٰ سے دعا کی توا س سے نجات ملی اور یہ کہ اس بیماری کے زمانے میں اُن کی اولاد اور احباب سب غائب ہو گئے تھے۔ چاہے وہ موت کی صورت میں ہو یا کسی دوسری وجہ سے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو صحت و عافیت دی اور جتنی اولاد تھی وہ سب ان کو دے دی بلکہ اس سے اور زیادہ عطا فرما دی۔ باقی حصے کے اجزاءبعض تو مستند احادیث میں موجود ہیں اور زیادہ تر تاریخی روایات ہیں۔ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حضرت ایوب علیہ السلام کو ابتداءمیں اللہ تعالیٰ نے مال و دولت اور جائیداد اور شاندار مکانات اور سواریاں اور اولاد اور غلام و خدام بہت کچھ عطا فرمایا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو پیغمبر انہ آزمائش میں مبتلا کیا اور یہ سب چیزیں اُن کے ہاتھ سے نکل گئیں۔ اور بدن میں ایسی بیماری لگ گئی کہ جیسے جذام ہوتا ہے کہ بدن کا کوئی حصہ سوائے زبان اور دل کے اس بیماری سے نہیں بچا۔ آپ علیہ السلام ایسی حالت میں بھی اپنی زبان اور دل کو اللہ تعالیٰ کی یاد میں مشغول رکھتے اور تکلیف پر صبر کرتے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہتے تھے۔ اس شدید بیماری کی وجہ سے سب عزیزوں ، دوستوں اور پڑوسیوں نے اُن کو الگ کر کے آبادی کے باہر ڈال دیا۔ کوئی ان کے پاس نہیں جاتا تھا۔ صرف آپ علیہ السلام کی بیوی اُن کی خبر گیری کرتی تھی۔ جو حضرت یوسف علیہ السلام کی بیٹی یا پوتی تھی۔ جس کا نام لیابنت میشا بن یوسف علیہ السلام بتایا جاتا ہے۔ مال و جائیداد تو سب ختم ہو چکا تھا ۔ ان کی زوجہ محترمہ محنت مزدوری کر کے اپنے اور ان کے لئے روزی فراہم کرتی تھیں۔ اور آپ علیہ السلام کی خدمت کرتی رہتی تھیں۔ حضرت ایوب علیہ السلام کا یہ ابتداءاور امتحان کوئی تعجب اور حیرت کی بات نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ سب سے سخت بلائیں اور آزمائشیں انبیائے علیہم السلام کو پیش آتی ہیں۔ ان کے بعد دوسرے صالحین کو درجہ بہ درجہ اور ایک روایت میں ہے کہ ہر انسان کا ابتلاءاور آزمائش اس کی دینی صلابت اور مضبوطی کے مطابق ہوتی ہے۔ جو جتنا مضبوط ہوتا ہے اتنی ہی اس کی ابتلاءاور آزمائش زیادہ ہوتی ہے۔ ( تاکہ اس مقدار اسے اس کے درجات بلند ہوں ) حضرت ایوب علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے زمرہ¿ انبیاءعلیہم السلام میں دینی صلابت میں صبرکا ایک امتیازی مقام عطا فرمایا تھا۔ مصائب و شدائد پر صبر میں حضرت ایوب علیہ السلام ضرب المثال ہیں۔

بائیبل اعتبار کے قابل نہیں ہے

حضرت ایوب علیہ السلام کے بارے میں مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔ حضرت ایوب علیہ السلام کی شخصیت ، زمانہ ، قومیت ہر چیز کے بارے میں اختلاف ہے۔ جدید زمانے کے محققین میں سے کوئی ان کو اسرئیلی قرار دیتا ہے کوئی مصری اور کوئی عرب کہتا ہے۔ کسی کے نزدیک ان کا زمانہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پہلے کا ہے۔ کوئی انہیں حضرت داﺅد اور حضرت سلیمان علیہم السلام کے زمانے کا قرار دیتا ہے۔ اور کوئی اس زمانے کے بعد کا قرار دیتے ہیں۔ لیکن سب کے قیاسات کی بنیاد اس سفرِ ایوف یا صحفیہ¿ ایوب پر ہے جو بائیبل کے مجموعہ کتب میں شامل ہے۔ اسی کی زبان ، انداز بیان اور کلام کو دیکھ کر یہ مختلف رائیں قائم کی گئی ہیں نہ کہ کسی اور تاریخی شہادت پر ۔ اور اس سفرایوب کا یہ حال ہے کہ اس کے اپنے مضامین میں بھی تضاد ہے۔ اور اس کا بیان قرآن پاک کے بیان سے بھی اتنا مختلف ہے کہ دونوں کو بیک وقت نہیں مانا جاسکتا۔ لہٰذا ہم اس پر ( بائیبل پر) قطعاً اعتماد نہیں کر سکتے۔ زیادہ سے زیادہ قابل اعتماد شہادت اگر کوئی ہے تو وہ یہ ہے کہ بیعیا نبی آٹھویں صدی قبل مسیح اور حنرقی ایل ( حزقیل) نبی چھٹی قبل مسیح ( حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے ، ہمارے زمانے میں جو یہ اکیسویں صدی چل رہی ہے یہ حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش سے چل رہی ہے) اس لئے یہ امر یقینی ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام نویں صدی قبل مسیح یا اس سے پہلے کے زمانے میں رہے ہوں گے۔ رہی قومیت کی بات تو سورہ نساءآیت نمبر63اور سورہ الانعام آیت نمبر84میں جس طرح ان کا ذکر آیا ہے اس سے گمان ہوتا ہے کہ وہ نبی اسرائیل ہی میں سے تھے۔ مگر حضرت وہب بن عنبہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان بھی کچھ بعید از قیاس نہیں ہے کہ وہ حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے عیسو( عیص) کی نسل سے تھے۔ 

حضرت ایوب علیہ السلام کا زمانہ

حضرت ایوب علیہ السلام کے بارے میں تفسیر تیسرالرحمن لبیان القران میں لکھا ہے کہ کہتے ہیں ۔ حضرت ایوب علیہ السلام کا زمانہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد کا ہے۔ اور ان کا ہر علاقہ بحرمیت ( بحر مردار) کے جنوب مشرق میں تھا۔ وہ اللہ کے بڑے ہی صابر و شاکر بندے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں خوب مال و دولت سے اولاد سے نواز تھا۔ اس لئے اپنے رب کا خوب شکر ادا کرتے تھے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں بیماری میں مبتلا کر دیا اور اولاد اور دولت سب جاتی رہی۔ تو آپ علیہ السلام اپنے رب کی رضا کے لئے بہت ہی صبر سے کام لیتے رہے۔ اور دل میں شکوہ کو بھی جگہ نہیں دی۔ جب ان کی تکلیف حد سے بڑھنے لگی اور اٹھارہ ( 18) سال کا زمانہ گزر گیا تو انہوں نے اپنے رب سے دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کر لی اور ان کی بیماری جاتی رہی۔ اور اللہ تعالیٰ نے انہیں پہلے سے بھی زیادہ مال و دولت اور جائیداد سے نوازدیا۔ اس واقعہ سے نصیحت ملتی ہے کہ صبر کا انجا م ہمیشہ اچھا ہوتا ہے۔ اور اسمائے حسنیٰ اور صفات علیا کے واسطے سے اللہ کے حصور دعا اور گریہ وزاری سے مصیبت دور ہوتی ہے۔ اور دنیا کی مصیبت و تکلیف اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ وہ بندہ اپنے رب کی نگاہ میں ذلیل و بد بخت ہے اور ایمان و اخلاص کے ساتھ صبر کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ پہلے سے کئی گنا زیادہ دیتا ہے۔ 

حضرت ایوب علیہ السلام آزمائش میں صبر و شکر پر قائم رہے

حضرت ایوب علیہ السلام کے بارے میں تفسیر صیاءالقرا ٓن میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ایک بندے حضرت ایوب علیہ السلام کا ذکر فرمایا ہے۔ جس پر تکلیف اور شدائد کی انتہا ہو گئی لیکن ان کے ہاتھ سے صبر اور شکر کا دامن نہیں چھوٹا۔ ہر حال میں اپنے رب ( اللہ تعالیٰ ) کی حمد و ثنا میں سر گرم رہے تا کہ ہر انسان اپنے حالات میں انبیائے کرام علیہم السلام کے اُسوہ¿ حسنہ سے روشنی حاصل کر سکے۔ حضرت ایوب علیہ السلام کے نسب اور قوم اور زمانہ کے متعلق بہت کچھ اختلاف پایا جاتا ہے۔ اگر چہ وثوق سے کوئی بات نہیں کہی جا سکتی۔ لیکن بعض قرائن سے پتہ چلتا ہے کہ آپ علیہ السلام کا زمانہ نویں صدی قبل مسیح یا اس سے پہلے کا ہے۔ آپ علیہ السلام حضرت اسحاق علیہ السلام کے بڑے بیٹے عیسو ( عیص یا عیصو) کی نسل سے ہیں۔ آپ علیہ السلام بہت بڑے دولت مند تھے۔ زرعی زمین کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ آپ علیہ السلام کے پاس کھیتی باڑی کے لئے بیلوں کی پانچ سو500جوڑیاں تھیں۔ ہزاروں کی تعداد میں بکریاں تھیں۔ سات بیٹے اور سات بیٹےاں تھیں۔ زوجہ ¿ محترمہ کا نام رحمتہ بتایا گیا ہے۔ جو حضرت یوسف علیہ السلام کے بیٹے ایفرائین (یا ایفرائیم) کی بیٹی تھیں بڑی حسین و جمیل اور صحت مند تھیں۔ ان گوناگوں انعامات کے باوجود آپ علیہ السلام اپنے خالق کی عبادت اور اس کی مخلوق کی خدمت میں ہر طرح سے سر گرم رہا کرتے تھے۔ مشیت الٰہی نے آزمانا چاہا ۔ کھیتیاں جل کر راکھ ہو گئیں۔ مال مویشی میں ایسی وبا پھوٹی کہ ایک بھی زندہ نہیں رہا۔ آپ علیہ السلام کے سارے بیٹے بیٹیاں اپنے بڑے بھائی کے یہاں مدعو تھے کہ مکان گر گیا اور سب کے سب کا انتقال ہو گیا۔ آپ علیہ علیہ السلام کے جسم مبارک پر آبلے نمودار ہو تے گئے خارش کی وجہ سے انہیں کھجلایا تو انہوں نے ناسوروں کی شکل اختیار کر لی۔ اور ان میں چھوٹے چھوٹے کیڑے رینگنے لگے جس سے پیپ بہنے لگی۔ سب نیاز مند اپنا سلسلہ ¿ نیاز و عقیدت توڑ کر الگ ہو گئے۔ سب دوستوں نے آنکھیں پھیر لیں۔ شہر والوں نے بستی سے نکال دیا کہ ان سے دوسرے لوگوں میں بیماری پھیلنے کا اندیشہ ہے ۔ آزمائش کی ان گھڑیوں میں بھی زبان پر کوئی حرف شکایت نہیں آیا۔ اور دل میں کبھی بھی اپنے مالک و خالق سے شکوہ کا خیال بھی پیدا نہیں ہوا۔ کافی عرصہ اسی حالت میں گزر گیا بعض نے سات سال اور بعض نے اس سے بھی زیادہ لکھے ہیں۔ زبان پھر بھی اپنے خالق و مالک کی حمد و ثنا میں مصروف رہی۔ آخر یہ التجا زبان پر آہی گئی ” انی مسّنی الضر “ الٰہی مجھے مصیبتوں اور بیماریوں نے چاروں طرف سے گھیر لیا ہے اور اس کے بعد یہ عرض نہیں کی کہ میری تکلیفوں اور بیماریوں کو دور فرما دے اور مجھے ان مصیبتوں سے رہائی بخش ۔ صرف اتنا عرضی کیا۔ ” انت ارحم الراحمین“ تو سب رحم کرنے والوں میں سب سے بڑا رحم کرنے والا ہے۔ گویا یہ کہہ کر سب کچھ ہی کہہ دیا۔

اللہ تعالیٰ کا فخر فرمانا

حضرت ایوب علیہ السلام بے انتہا دولت مند ہونے کے باوجود ہر وقت اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کرتے رہتے تھے اور جتنا ہو سکتا تھا اللہ کی مخلوق کی مدد کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ اور جب دوسرے لو گ آپ علیہ السلام کا شکریہ ادا کرتے تھے تو آپ علیہ السلام فرماتے تھے۔ تمہاری یہ مدد میں نے نہیں کی ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری مدد کی ہے۔ اس لئے تم صرف اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو۔ صر ف اسی کی عبادت کرو اور اسی سے مدد مانگو۔ وہ اللہ تعالیٰ سب سے جلدی سننے والا ہے اور مدد کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ علیہ السلام کی عبادت ، لوگوں کی غم گساری اور اللہ کی شکر گزاری سے بہت خوش تھے۔ اور مقرّب فرشتوں کی مجلس میں آپ علیہ السلام پر فخر کرتے تھے۔ اور آپ علیہ السلام کی تعریف فرماتے تھے۔ اور بتایا کرتے تھے کہ میر ایہ بندہ اتنی نعمتیں ملنے کے بعد بھی شکر ادا کر رہا ہے۔ اکثر لوگ مال و دولت اور دوسری نعمتیں ملنے کے بعد گھمنڈ ، تکبر ، اور سر کشی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ میں نے اس بندے کو مال و دولت دے کر آزمایا تو اس نے اس آزمائش میں عظیم کامیابی حاصل کی ہے۔ اور جتنی اسے مال و دولت اور نعمتیں اور خوشیاں ملتی جا رہی ہیں میرا یہ بندہ اتنا ہی زیادہ شکر گزار بندہ بنتا جا رہا ہے۔ اسے میرے اوپر بہت بھروسہ ہے۔ اور اگر میں اس سے تمام مال و دولت اور تمام نعمتیں چھین لوں تب بھی یہ مجھ پر بھروسہ ( توکّل) رکھے گا۔ اور صبر کرے گا۔ اور میرا شکر ادا کرتا رہے۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کے اس اعتماد کا آپس میں ذکرکرتے رہتے تھے اور آپ علیہ السلام کے لئے دعا کرتے رہتے تھے۔ تفسیر کبیر میں لکھا ہے کہ جبرئیل علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ جو قرب حاصل ہے وہ دوسرے فرشتوں کو حاصل نہیں ہے اللہ تعالیٰ اُن سے براہ راست کلام فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جب کسی کو پسند فرماتا ہے تو اس کا ذکر جبرئیل علیہ السلام سے کرتا ہے وہ میکائیل علیہ السلام سے ذکر کرتے ہیں۔ وہ دوسرے مقرب فرشتوں سے ذکر کرتے ہیں۔ جب اُن مقرب فرشتوں میں اللہ تعالیٰ کے اس خاص بندے کا ذکر ہوتا ہے اور وہ آپ میں تذکرہ کرتے ہیں تو اس آسمان کے سب فرشتے اس خاص بندے کا تذکرہ آپس میں کرتے ہیں اور اس کے لئے دعا کرتے ہیں۔ وہ نیچے کے آسمان کے فرشتے سنتے ہیں اور تذکرہ اور دعا کرتے ہیں۔ اس طرح آسمان ِ دنیا ( پہلے آسمان) کے فرشتوں تک وہ ذکر پہنچ جاتا ہے۔ اور وہ سب فرشتے بھی آپس میں اس خاص بندے کا ذکر یعنی تذکرہ کرتے ہیں اور اس کے لئے دعا کرتے ہیں ۔ اسی طرح حضرت ایوب علیہ السلام کا تذکرہ بھی ساتوں آسمانوں میں ہوتا رہتا تھا۔ اور تمام فرشتے آپ علیہ السلام کے لئے دعا کرتے رہتے تھے۔

ابلیس شیطان کا حسد

حضرت ایوب علیہ السلام کی فضیلت اور ان کے لئے فرشتوں کی دعا ابلیس شیطان نے سنی تو وہ حسد کے مارے جل بھن گیا۔ وہ تو انسان کا ازلی دشمن ہے۔ اور حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے لے کر آج تک وہ بد بخت ملعون شیطان انسانوں سے دشمنی کر رہا ہے۔ آج کے زمانے میں اس کے خاص مدد گار یہودی، عیسائی اور کافر ہیں۔ حضرت ایوب علیہ السلام سے تو ابلیس شیطان پہلے ہی دشمنی کر رہا تھا اور آپ علیہ السلام کی اسلام کی دعوت میں رکاوٹیں پیدا کر رہا تھا۔ لیکن جب اس نے فرشتوں کی باتیں اور دعائیں سنی تو وہ آپ علیہ السلام سے بہت زیادہ حسد کرنے لگا۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی اس کے بارے میں لکھتے ہیں کہ یہ وہ دور ( یعنی حضرت ایوب علیہ السلام کا زمانہ ) تھا۔ جب ابلیس شیطان پر آسمانوں پر جانے کی پابندی نہیں تھی۔ وہ آسمانوں میں جہاں جانا چاہتا جا سکتا تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمانوں میں اٹھا لیا تو ابلیس شیطان کو چار آسمانوں میں جانے سے روک دیا گیا۔ پھر جب انبیائے کرام کے سردا ر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ابلیس شیطان کو تمام آسمانوں پر جانے کی پابندی لگا دی گئی۔ یعنی اسے سب آسمانوں جانے سے روک دیا گیا۔ جب حضرت ایوب علیہ السلام اللہ کا ذکر اور حمد و ثنا ءمیں مصروف تھے تو فرشتوں نے آپ علیہ السلام کے لئے مل کر دعا کی تو ابلیس شیطان یہ سن کر بغاوت اور حسد کی آگ میں جلنے لگا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........! 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں