بدھ، 17 مئی، 2023

01 حضرت یوشع علیہ السلام Story of Prophet Yosha


01 حضرت یوشع علیہ السلام

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر13

قسط نمبر 1

حضرت یوشع علیہ السلام کا سلسلۂ نسب

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذکر میں ہم نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ حضرت یوشع علیہ السلام کے حالات پیش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس کی توفیق سے ہم اپنا وعدہ پورا کر رہے ہیں۔ حضرت یوشع علیہ السلام بنی اسرائیل کے قبیلہ بنو یوسف سے ہیں۔ یعنی آپ علیہ السلام ، حضرت یوسف علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے والد محترم حضرت اسحاق علیہ السلام ہیں۔ اور داد محترم حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹے ہیں۔ ان بارہ بیٹوں کی اولاد بڑھتے بڑھتے بارہ قبیلہ بنی۔ ان بارہ قبائل کے مجموعے کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے۔ ان بارہ بھائیوں میں سے صرف حضرت یوسف علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا۔ اور اُن کی نسل میں حضرت یوشع علیہ السلام ہیں۔ آپ علیہ السلام حضرت یوسف علیہ السلام کے بیٹے افرائیم کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ علیہ السلام کے سلسلۂ نسب کی تفصیل نہیں مل سکی ہے۔ اس لئے علمائے کرام سلسلہ نسب اس طرح بیان کرتے ہیں۔ حضرت یوشع بن نون بن افرائیم بن یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہ السلام ۔ اس سلسلہ نسب میں نون اور افرائیم کے درمیان کے آباﺅ اجداد کی تعداد اور نام کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے۔

بنی اسرائیل کے بارہ نقیب

اللہ تعالیٰ نے سورہ المائدہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے عہد و پیمان ( میثاق) لیا۔ اور انہی میں سے بارہ نقیب(سردار ) مقررفرمائے۔ ( سورہ المائدہ آیت نمبر12) امام محمد بن احمد بن قرطبی لکھتے ہیں۔ بعض علماءنے فرمایا ۔ اس کو نقیب اس لئے کہا جاتا ہے کیوں کہ وہ اپنے معاملات میں دخیل ہوتا ہے۔ اور ان کے مناقب کو جانتا ہے۔ وہی ان کے امور کی معرفت کا راستہ ہوتا ہے۔ ایک قول ہے کہ نقباءسے مراد وہ لوگ جو اپنی قوم پر امین ہوتے ہیں۔ حضرت قتادہ وغیرہ نے فرمایا۔ یہ نقیباءہر قبیلہ سے بڑے سردار تھے۔ ہر ایک اپنے قبیلہ کا کفیل بنا تھا کہ وہ ایمان لائیں گے اور اللہ تعالیٰ سے ڈریں گے۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں کہ نقیب کے معنی نگرانی اور تفتیش کرنے والے کے ہیں۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ہر قبیلہ پر ایک ایک نقیب خود اسی قبیلہ سے مقرر کرنے کا حکم دیا تھا۔ تا کہ وہ ان کے حالات پر نظر رکھے اور انہیں بے دینی و بد اخلاقی سے بچانے کی کوشش کرتا رہے۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں۔ نقیب سے مراد ہر قبیلہ کا سردار ہے، جو اپنی قوم کے احوال کا نگہبان تھا۔ اور سب کی طرف سے کفیل تھا کہ انہیں جو حکم دیا گیا ہے وہ اس کو پورا کریں گے۔ جس طرح نبی انہیں حکم دیتے تھے وہ آگے اپنی قوم کو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے تھے۔ مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے بھی ایک عہد لیا تھا۔ اور ان سے عہد لینے کی یہ صورت اختیار کی گئی تھی کہ پوری قوم بنی اسرائیل جو بارہ خاندانوں ( قبیلوں ) پر مشتمل تھی انہیں سے ہر خاندان سے ایک سرادر چنا گیا۔ اور ہر خاندان کی طرف سے اس کے ہر سردار نے ذمہ داری اٹھائی کہ میں اور میرا پورا خاندان ( قبیلہ ) اس میثاق الٰہی کی پابندی کرے گا۔ اس طرح بارہ سرداروں نے پوری قوم بنی اسرائیل کی ذمہ داری لے لی۔ اُن کے ذمہ یہ تھا کہ خود بھی اس میثاق کی پابندی کریں گے اور اپنے خاندان ( قبیلہ) سے بھی کرائیں گے۔

بارہ نقیبوں کے نام

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے جو بارہ نقیب مقرر فرمائے تھے ان میں سے ایک حضرت یوشع علیہ السلام تھے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ ان کے ( بنی اسرائیل کے) بارہ سردار تھے۔ یعنی بارہ قبیلوں کے بارہ چودھری تھے۔ جو ان سے ان کی بیعت کو پورا کرتے تھے۔ کہ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول علیہ السلام کے تابع فرمان رہیں۔ اور کتاب اللہ ( توریت) کی اتباع کرتے رہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب سرکشوں ( جبابرین) سے لڑنے کے لئے گئے تب ہر قبیلہ میں ایک ایک سردار منتخب کر گئے تھے۔ اوبیل ( روبیل) قبیلے کا سردار شامون بن اکون تھا۔ شمعون قبیلے کا سردار شافاط بن جدی، یہودا قبیلے کے سردار حضرت کالب بن یو حنا، فیخائل قبیلے کا چودھری ابن یوسف تھا ۔یوسف یا افرائیم قبیلے کے سردار حضرت یوشع بن نون علیہ السلام تھے۔ بن یامن قبیلے کا سردار قطمی بن دفون تھا۔ زبولون قبیلے کا سردار جدی بن شوری تھا۔ منشاءقبیلے کا سردار جدی بن سوسی تھا۔ دان قبیلے کا چودھری حملاسل بن صمل تھا۔ اشار قبیلے کا سردار ساطور تھا۔ تفتالی قبیلے کا سردار بحر تھا۔ اوریساخر قبیلے کا چودھری لابل تھا۔ توریب کے چوتھے جز میں بنی اسرائیل کے قبیلوں کے سرداروں کے نام مذکور ہیں۔ جو ان ناموں سے قدرے مختلف ہیں۔ واللہ اعلم۔ موجودہ توریت میں یہ نام درج ہیں۔ قبیلہ بنو اوبیل ( روبیل) کا نقیب صونی بن سادون ، قبیلہ بنو شمعون کا نقیب شموال بن صور، قبیلہ بنو یہودا کا نقیب حثون بن عمیاذب، قبیلہ بنو یساخر کا نقیب پرشال بن صاعون، قبیلہ بنو زبولون کا نقیب الیاب بن حالوب، قبیلہ بنو افرائیم ( بنو یوسف) کا نقیب منثا بن عنہور، قبیلہ بنو منشاءکا نقیب حمائیل ، قبیلہ بنو بسیا کا نقیب پرابیدن ، قبیلہ بنو دان کا نقیب جعیذر ، قبیلہ بنو اشاذ کا نقیب تمابل، قبیل بون کا ن کا نقیب سیف بن دعوابیل اور قبیلہ بنو نفسالی کا نقیب اجذع تھا۔ 

اسلام کا عہد ( میثاق ) سب سے لیا گیا ہے

سورہ المائدہ کی آیت نمبر12کی تفسیر میں مولانا عبدالحق حقانی دہلوی لکھتے ہیں۔ پہلے ( مسلمانوں سے عہد یعنی میثاق لینے کا ) ذکر ہوا تھا کہ اے اہل اسلام ( مسلمانو) اللہ کے عہد کو یاد کرو۔ اب یہاں یہ بات بتائی جا رہی ہے کہ یہ عہد صرف تم سے ہی نہیں لیا گیا تھا کہ جس کی پابندی کی تاکید تم کو کی جا رہی ہے۔ بلکہ تم سے پہلے کے انبیائے کرام علیہم السلام اور ان کے متبعین ( اُمتوں ) سے بھی یہ عہد لیا گیا ہے۔ اور یہ بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے عہد کے خلاف کر کے بنی اسرائیل نے بہت ذلت اور رسوائی اور مصیبتیں اٹھائی ہیں ۔ دیکھو ( اے مسلمانو) تم ان کی طرح نہ کرنا کہ پھر تم کو ذلت اٹھانی پڑے جو یہودیوں کو بد خصائل سے عہد توڑ دینے کے اٹھانی پڑی۔وہ متنبہ کرنا ہے۔ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت کا واقعہ ہے۔ جب کہ آپ علیہ السلام اور بنی اسرائیل بیابانوں میں ٹکراتے ٹکراتے دشتِ فاران پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو حکم دیا کہ تم بنی اسرائیل کے بارہ اسباط یعنی قبائل میں سے ہر قبیلہ کا ایک سردار یعنی نقیب یعنی جاسوس بنا کر کنعان کی اس سر زمین پر پہنچو جس کے دینے کا ہم نے تم سے عہد کیا ہے۔ اسی لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ہر سبط( قبیلہ) سے یہ بارہ سردار نقیب بھیجے ۔ بنو روبن سے سموع بن ذکور کو، بنو شمعون سے سقت بن حوری کو ، بنو یہودا سے کالب بن یوحنا ، یوقنا ، بنو شکاءسے اجال بن یوسف ، بنو فرائم سے ( یعنی بنو یوسف سے ) ہوسیعہ بن نون ( ان کا نام حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یوشع رکھا تھا) کو ، بنو بن یامن سے فلتی بن رفوکو، بنو زہلون سے جدی ایل بن سودی کو ، بنو دان سے عمی ایل بن جملی کو ، بنو آشر سے ستور بن میکائل کو ، بنو نقتال سے نخیی بن دنسی کو ، بنو جد سے ایل بن ماکی اور بنو منسی سے جدی بن سوسی سے جدی بن سوسی کو نقیب بنا کر بھیجا۔ 

بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کا حکم 

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب بنی اسرائیل کے ساتھ جب بحر قلزم پار کیا اس وقت بھی آپ علیہ السلام کے شاگرد حضرت یوشع علیہ السلام ساتھ میں تھے۔ مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی لکھتے ہیں کہ جب فرعون کا لشکر سمندر میں ڈوب گیا تھا۔ یہ لوگ کئی سو سال کے بعد مصر سے واپس لوٹے تھے اور ان کے پیچھے عمالقہ نے ان کے وطن پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ لوگ قوم عاد کا بقیہ تھے اور بڑے قدو قامت والے اور بڑے ڈیل ڈول والے تھے اور طاقت و قوت والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے مقدر فرمادیا تھا کہ یہ سر زمین بنی اسرائیل کو ملے گی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پہلے تو ان کی طرف سے عطا کی گئی نعمتیں یاد دلائیں اور ان کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر کتنی بڑی بڑی مہربانیاں کیں ہیں۔ اور آئندہ ( آنے والے ) زمانے میں تم میں کثرت سے انبیائے کرام علیہم السلا م ہوں گے۔ اس نعمت ( یعنی اسلام اور انبیائے کرام) کے رکھ رکھاﺅ کے لئے اپنی جگہ ہونی چاہیے۔ جس میں حضرات انبیائے علیہم السلام آزادی کے ساتھ تبلیغ کر سکیں اور الہ تعالیٰ کے احکام پہنچا سکیں۔ اور جس میں تمہارے بادشاہ اپنے اقتدار کو کام میں لا سکیں اور معاملات نمٹا سکیں۔ اب تک تم قبط ( مصری قوم ) کے ماتحت تھے۔ جنہوں نے تمہیں غلام بنا رکھا تھا اب اپنے وطن میں داخل ہو جاﺅ اور یہ مقدس سر زمین اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے مقدر فرما دی ہے۔ تم پیٹھ پھیر کر واپس نہیں جاﺅ بلکہ آگے بڑھو اور جنگ کرو۔ جن لوگوں نے قبضہ کر رکھا ہے وہ وہاں سے نکل جائیں گے۔ ہمت کرو، اور حوصلہ سے کام لو ورنہ نقصان اٹھاﺅ گے۔

بنی اسرائیل نے عہد توڑ دیا

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے فرما دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ہی فتح عطا فرمائے گا۔ بس تمہیں تھوڑا ہمت سے کام لینا ہوگا۔ لیکن بنی اسرائیل میں بزدلی آچکی تھی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جنگ کا لائحہ عمل ترتیب دینے کے لئے بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں کے بارہ سرداروں کو نقیب بنا کر عمالقہ کی جاسوسی کے لئے بھیجا۔ مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی لکھتے ہیں۔ اس موقع پرچند آدمی بطور نقیب قوم عمالقہ کی خیر خبر لینے کے لئے بھیجے۔ انہوں نے عمالقہ کا ڈیل ڈول اور قدو قامت دیکھا تو واپس آکر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تمام حالات بیان کئے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ان کا حال پوشیدہ رکھو۔ اور لشکروالوں کو نہیں بتایا۔ ورنہ وہ بزدلی اختیار کر لیں گے اور لڑنے سے گریز کریں گے۔ لیکن ان میں سے دس نقیبوں نے بات نہیں مانی اور انہوں نے اپنے اپنے قبیلے والوں کو بتا دیا۔ صرف دو حضرات یعنی حضرت یوشع بن نون علیہ السلام اور حضرت کالب بن یوقنا نے آپ علیہ السلام کی بات پر عمل کیا۔ اور بنی اسرائیل سے عمالقہ کا حال پوشیدہ رکھا ۔ بلکہ بنی اسرائیل کو ہمت اور حوصلہ دلایا کہ چلو آگے بڑھو اور ( شہر کے ) دروازہ میں داخل ہو جاﺅ۔ پھر دیکھو، اللہ تعالیٰ کی مدد کیسے آتی ہے؟تم داخل ہو گے تو وہ نکل بھاگیں گے اور تم کو ہی غلبہ حاصل ہوگا۔ اور اگر تم مومن ہو تو صرف اللہ تعالیٰ پر بھی بھروسہ رکھو۔ اور یہ سر زمین تمہارے نام لکھ دی ہے۔ اس لئے پیٹھ نہ پھیرو۔ بنی اسرائیل کو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی سمجھایا اور حضرت یوشع بن نون علیہ السلام اور حضرت کالب بن یوحنا نے بھی زور دیا کہ چلو آگے بڑھو۔ لیکن انہوں نے ایک نہ مانی اور آپس میں کہنے لگے۔ اے کاش، ہم مصر سے نہیں آتے اور وہیں رہ جاتے۔ ( جب غلامی کا ذہن بن جاتا ہے اور ذلت اور پستی دلوں میں رچ بس جاتی ہے تو انسان تھوڑی سی تکلیف سے جو عزت ملے ۔ اس کے بجائے ذلت ہی کو گوارا کر لیتا ہے) ۔ دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ ہم مصر میں ہوتے تو اچھا تھا۔ کبھی کہتے تھے کاش ہم اسی جنگل میں مر جاتے اور ہمیں عمالقہ کی سر زمین میں داخل ہونے کا حکم نہیں ہوتا۔ ان بزدلوں نے بر ملا حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہہ دیا کہ ہم ہر گز اس سر زمین میں داخل نہیںہوں گے جب تک وہ لوگ وہاں سے نکل نہیں جائیں گے۔ ہاں اگر وہ وہاں سے نکل گئے تو ہم داخل ہو سکتے ہیں۔ ( گویا یہ بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام پر احسان ہے کہ وہ نکلیں گے تو ہم داخل ہو جائیں گے۔ )اور لڑنا ہمارے بس کا نہیںہے۔ اور آپ علیہ السلام اپنے رب کے ساتھ جا کر لڑیں ۔ ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔اس طرح بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا عہد توڑ دیا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں