ہفتہ، 27 مئی، 2023

01 حضرت سلیمان علیہ السلام Story of Prophet Suleman


 01  حضرت سلیمان علیہ السلام 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 15

حضرت سلیمان علیہ السلام کا سلسلۂ نسب

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم آپ کی خدمت میں حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت داﺅد علیہ السلام تک کے انبیائے کرام علیہم السلام کے حالات 12بارہ کتابوںمیں پیش کر چکے ہیں۔ یہ ”حالات انبیائے کرام “سلسلے کی تیرھویں کتاب ہے۔ اس میں ہم آپ کی خدمت میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے حالات پیش کررہے ہیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے والد محترم حضرت داﺅد علیہ السلام ہیں۔ اس لئے آپ علیہ السلام کا سلسلہ ¿ نسب بھی وہی ہے جو حضرت داﺅد علیہ السلام کا ہے۔ پھر بھی ہم اُن حضرات کی آسانی کے لئے سلسلہ نسب یہاں تحریرکر دیتے ہیں۔ جنہوں نے حضرت داﺅد علیہ السلام کی کتاب کا مطالعہ نہیں کیا ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کا سلسلہ نسب اس طرح ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام بن حضرت داﺅد علیہ السلام بن ایشا بن عوید بن سلمون بن نحشون بن عمیناد اب بن ارم بن حصرون بن فارص بن یہودا بن حضرت یعقوب علیہ السلام بن حضرت اسحاق علیہ السلام بن حضرت ابراہیم علیہ السلام ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام سفید اور صاف رنگ کے مالک تھے۔ آپ علیہ السلام کے جسم مبارک پر بال زیادہ تھے۔ اور آپ علیہ السلام سفید لباس زیادہ پہنتے تھے۔ آپ علیہ السلام بچپن سے ہی بہت ذہین تھے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی والدہ محترمہ یعنی حضرت داﺅد علیہ السلام کی زوجہ محترمہ بہت ہی نیک اور عبادت گزار تھیں۔ انہوں نے اپنے بیٹے کی تربیت بہت اچھے طریقے سے کی۔ اور اسی تربیت کا اثر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام کا وارث حضرت سلیمان علیہ السلام کو بنایا۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام کی دولت اور جائیداد کا وارث آپ علیہ السلام کو نہیں بنایا۔ بلکہ نبوت کی ذمہ داری اور حکومت کی ذمہ داری کا وارث بنایا۔ (کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ انبیائے کرام کا ترکہ وارثوں کو نہیں ملتا۔ بلکہ یہ عام مسلمانوں کے لئے ہوتا ہے۔)

حضرت سلیمان علیہ السلام کی ذہانت

حضرت سلیمان علیہ السلام بچپن سے ہی بہت ذہین تھے۔ اور والدہ محترمہ کی تربیت نے اس میں اور نکھار پیدا کر دیا تھا۔ اسی لئے جب آپ علیہ السلام تھوڑا سمجھدار ہوئے تو اپنے والد محترم کے دربار میں بیٹھنے لگے۔ حضرت داﺅد علیہ السلام کا یہ قاعدہ تھا کہ ایک دن دربار منعقد کرتے اور حکومت کے کام نپٹاتے تھے ۔ ایک دن عبادت کے مخصوص رکھتے تھے۔ اور ایک دن گھر والوں کے ساتھ گزارتے تھے۔حضرت سلیمان علیہ السلام دربار میں اپنے والد محترم کے حکومتی فیصلوں اور مقدمات کے فیصلوں کو بغور دیکھتے ، سنتے اور سمجھتے تھے۔ اور کئی مرتبہ تو ایسا ہو اکہ آپ علیہ السلام نے بر وقت صحیح مشورے اپنے والد محترم کو دیئے اور حضرت داﺅد علیہ السلام بھی اپنے ذہین اور قابل بیٹے کے مشوروں کو توجہ سے سنتے تھے اور قبول بھی کرتے تھے۔ اور ضرورت پڑنے پر بیٹے کے مشوروں کی روشنی میں صحیح فیصلے بھی دیتے تھے۔ اور بیٹے کی حوصلہ افزائی بھی کرتے تھے۔ اس سلسلے میں دو واقعات کافی مشہور ہیں۔

بکریوں اور کھیت کا فیصلہ

اللہ تعالیٰ نے سورہ الانبیاءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” اور داﺅد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کو یاد کریں۔ جب کہ وہ کھیت کے معاملے میں فیصلہ کر رہے تھے کہ کچھ لوگوں کی بکریاں رات کو اس میں چر چُگ گئی تھیں۔ اور ان کے فیصلے میں ہم موجود تھے۔ ہم نے اس کا صحیح فیصلہ سلیمان علیہ السلام کو سمجھا دیا۔ ہاں ہر ایک کو ہم نے حکم اور علم دے رکھا ہے۔“( سورہ الانبیاءآیت نمبر78اور 79) علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ ایک کھیت میں کسی قوم کی بکریاں گھس گئی تھیں۔ اور پورا کھیت کھا کر برباد کر دیا تھا۔ دونوں فریق حضر ت داﺅد علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنا مقدمہ پیش کیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ انگور کا کھیت تھا۔ اور تازہ اور تیار پھل لگے ہوئے تھے۔ دربار میں حضرت سلیمان علیہ السلام بھی موجود تھے اور نوجوان تھے۔ فریادی نے مقدمہ پیش کیا کہ دوسرے فریق کی بکریاں میرے کھیت میں گھس گئی۔ اور پورے کھیت کو بکریوں نے تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ انگور کی بیلوں کو اور پتیوں کے ساتھ ساتھ انگوروں کو بھی کھا لیا تھا۔ اور تمام بیلوں کو جگہ جگہ سے کاٹ کر رکھ دیا تھا۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے تمام مقدمہ سننے کے بعد فیصلہ دیا کہ تمام بکریاں کھیت والے کو دی جائیں تا کہ وہ اپنا نقصان پورا کرلے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے عرض کیا۔ ابا جان، کیا میں کوئی رائے یا مشورہ دے سکتا ہوں؟ حضرت داﺅد علیہ السلام نے فرمایا ۔ بے شک بیٹے، اگر تم کوئی بہتر رائے یا مشورہ دو گے تو میں ضرور قبول کروں گا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے عرض کیا۔ انگور کا کھیت بکریوں والے فریق کے حوالے کر دیا جائے۔ تا کہ وہ اس کھیت پر محنت کریں اور نگہبانی کریں اور اس دوران میں بکریاں کھیت والے کے حوالے کر دی جائیں جب تک انگور کی بیلیں تیار نہیں ہو جاتیں اور ان میں پھل نہیں لگ جاتے تب تک کھیت والا بکریوں سے فائدہ اٹھائے۔ اور جب کھیت پوری طرح تیار ہو جائے تو بکریوں والا فریق کھیت والے کو اس کا کھیت واپس دے کر اپنی بکریاں واپس لے لے۔ یہ فیصلہ سن کر حضرت داﺅد علیہ السلام بہت خوش ہوئے اور فخریہ انداز میں اپنے بیٹے کو دیکھا اور شاباشی دی۔ اور اسی کے مطابق فیصلہ کر دیا۔

دو عورتوں کا فیصلہ

حضرت سلیمان علیہ السلام کی ذہانت کا دوسرا واقعہ دو عورتوں کے مقدمے کا ہے۔ دو عورتیں اپنے اپنے بچوں کو لئے ہوئے جا رہی تھیں۔ ایک بھیڑیا اُن کی تاک میں تھا۔ موقع پا کر اس نے بڑی عورت کے بچے کو چھین لیا اور لے کر بھاگ گیا۔ بڑی عورت نے فوراً چھوٹی عورت کو بچہ چھین لیا اور کہا یہ میرا بچہ ہے۔ دونوں عورتیں جھگڑنے لگیں۔ آخر فیصلے کے لئے حضرت داﺅد علیہ السلام کی خدمت میں دونوں عورتیں حاضر ہوئیں۔ اور مقدمہ پیش کیا۔ بڑی عورت چرب زبان تھی اور اس نے اپنی چرب زبانی سے چھوٹی عورت کو جھوٹا ثابت کر دیا۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے اس کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ چھوٹی عورت رونے لگی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام وہیں موجود تھے۔ انہوں نے اپنے والد محترم سے عرض کیا۔ ابا جان، اگر آپ اجازت دیں تو میں ایسا مشورہ دوں جو دونوں فریق کے لئے قابل قبول ہو۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے فرمایا۔ بے شک تمہیں اجازت ہے بیٹا۔ اجازت ملنے کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے والد محترم کو مشورہ دیا کہ اگر ایسا کیا جائے کہ تلوار سے بچے کے دو ٹکڑے کر کے دونوں عورتوں کو برابر دے دیا جائے۔ یہ سنتے ہیں چھوٹی عورت نے چیخ کر کہا ۔ اللہ کے لئے ایسا نہ کریں ۔ بلکہ بچہ بڑی عورت کو دے دیں ۔ کم از کم اس طرح میرا بچہ زندہ رہے گا۔ یہ سن کر حضرت سلیمان علیہ السلام نے بڑی عورت سے فرمایا۔ تم اس بارے میں کیا کہتی ہو؟ جواب میں بڑی عورت نے کہا۔ یہ تو میں بھی نہیں چاہتی کہ اس بچے کو اس طرح قتل کیا جائے ۔ حقیقت یہ ہے کہ بھیڑیامیرا بچہ لے گیا تھا۔ اور یہ بچہ اسی عورت کا ہے اور بچہ اسے دے دیا۔ حضرت داﺅد علیہ السلام مسکرانے لگے۔اور اپنے بیٹے کو شاباشی دی۔

حضرت سلیمان علیہ السلام نبوت و بادشاہت سے سرفراز

اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے یقینا داﺅد ( علیہ السلام ) اور سلیمان (علیہ السلام )کو علم عطا فرما رکھا تھا۔ اور دونوں نے کہا۔ تمام تعریفیں اُس اللہ ہی کے لئے ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔ اور داﺅد ( علیہ السلام )کا وارث سلیمان ( علیہ السلام ) کو بنایا۔ “( سورہ النمل آیت نمبر15اور 16) ان دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام پر اپنا فضل کیا۔ اور ان دونوں کو نبوت کے ساتھ ساتھ بادشاہت بھی عطا فرمائی ۔ اور آگے فرمایا کہ نبوت اور بادشاہت میں حضرت داﺅد کا وارث حضرت سلیمان علیہ السلام کو بنایا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام ، حضرت داﺅد علیہ السلام کے سب سے چھوٹے بیٹے ہیں۔ ان کا اصل عبرانی نام ”سولومون “تھا۔ جو ”سلیم “کا ہم معنی ہے۔965 قبل مسیح میں حضرت داﺅد علیہ السلام کے وارث ہوئے۔ اور 962 قبل مسیح تک تقریبا 40سال حکمراں رہے۔ امام ابن ابی حاتم لکھتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام کو حضرت سلیمان علیہ السلام عطافرمایا تو انہوں نے اپنے بیٹے سے دریافت فرمایا۔ اے پیارے بیٹے، سب سے اچھی چیز کیا ہے؟ انہوں نے جواب میں عرض کیا۔ اللہ تعالیٰ کا سکینہ اور امیمان ۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے دریافت فرمایا۔ سب سے قبیح ( بری) چیز کیا ہے؟حضرت سلیمان علیہ السلام نے عرض کیا۔ ایمان لانے کے بعد کافر ہونا۔ والد محترم نے پوچھا سب سے میٹی چیز کیا ہے؟ بیٹے نے عرض کیا۔ اللہ کے بندوں کے درمیان اس کی رحمت ۔ پھر آپ علیہ السلام نے دریافت فرمایا۔ سب سے ٹھنڈی چیز کیا ہے؟ حضرت سلیمان علیہ السلام نے عرض کیا۔ اللہ تعالیٰ کا لوگوں کو معاف کرنا اور لوگوں کا ایک دوسرے کو معاف کرنا۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے فرمایا۔ بیٹا تم نبی ہو۔

حضرت داﺅد علیہ السلام کے وارث

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی۔ میری طرف سے اپنے بیٹے سلیمان سے سات باتیں پوچھو۔ اور اگر وہ ان کے صحیح جواب دے تو اسے علم اور نبوت کی بشارت دو۔حضرت داﺅد علیہ السلام نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے میر ی طرف وحی فرمائی ہے کہ میں سات باتیں تم سے دریافت کروں ۔ اگر تم مجھے درست جواب دو گے تو مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں علم اور نبوت کا وارث بنا دوں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے عرض کیا۔ ابا جان، میں کوشش کروں گا کہ درست جواب دے کر اپنے آپ کو اس قابل ثابت کروں۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے فرمایا۔ بیٹے، یہ بتاﺅ کہ شہد سے زیادہ میٹھی چیز کیا ہے؟ برف سے زیادہ ٹھنڈی چیز کیا ہے؟ریشم سے زیادہ نرم چیز کیا ہے؟ کس چیز کا اثر پانی پر نہیں ہوتا؟ کس چیز کا اثر صفا ( نرم پتھر) پر نہیں پڑتا۔ ؟ کس چیز کا اثر آسمان میں نہیں دکھائی دیتا اور کون ہے جو سر سبزی اور خشک سالی دونوں میں خوش رہتا ہے؟ حضرت سلیمان علیہ السلام نے عرض کیا۔ ابا جان، شہد سے زیادہ میٹھی چیز اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ جو ان مومنوں کو محسوس ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ برف سے زیادہ ٹھنڈی چیز اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو مومنین کے دلوں پر اثر کرتا ہے۔ ریشم سے زیادہ نرم چیز اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے جس کے ذریعے مومن بندے ایک دوسرے کو سکھلاتے ہیں۔ کشتی کے گزرنے کا اثر پانی پر دکھائی نہیں دیتا۔ چیونٹی کے گزرنے کا اثر صفا ( نرم پتھر) پر بھی نہیں دکھائی دیتا۔ پرندے کے اڑنے کا اثر آسمان پر دکھائی نہیں دیتا۔ مومن سر سبزی میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور خشک سالی میں صبر کرتا ہے۔ اور دونوں حالت میں اجر کا مستحق ہو کر خوشی محسوس کرتا ہے۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے فرمایا۔ بیٹے ، اللہ تعالیٰ نے تمہیں میرا وارث بنا دیا ہے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں