منگل، 9 مئی، 2023

01 حضرت شعیب علیہ السلام Story of Prophet Shuayeb AS



01 حضرت شعیب علیہ السلام

سلسلہ نمبر 11

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 1

حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم 

قارئین کرام ، اس سے پہلے ہم آپ کی خدمت میں حضرت ایوب علیہ السلام کے حالات پیش کر چکے ہیں۔ اور اُس سے پہلے بھی حضرت اسحاق، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہم السلام کے حالات پیش کر چکے ہیں۔ اور اس سے پہلے ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے حالات بتا چکے ہیںکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بڑے بیٹے اسماعیل علیہ السلام دوسری بیوی سیدہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے ہیں۔ اور دوسرے نمبر کے حضرت اسحاق علیہ السلام پہلی بیوی سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا سے ہیں۔ ان دونوں کے علاوہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تیسری بیوی سیدہ قطورہ یا قنطورہ سے کئی بیٹے تھے۔ اُن میں سے ایک بیٹے کا نام مدین یا مدائن یا مدیان تھا۔ اور وہ جس علاقے میں جا کر رہائش پذیر ہوئے اس علاقے کا نام مدین پڑ گیا۔ اور اُن کی اولاد یا نسل قوم مدین کہلائی۔ اکثر علمائے کرام فرماتے ہیں کہ حضرت شعیب علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے دو قوموں ”قومِ مدین اور اصحاب الایکہ“ کی طرف بھیجا ۔ لیکن تمام علمائے کرام کا اس بات پر اتفا ق ہے کہ مدین کا علاقہ اتنا بڑا تھا کہ ان میں آباد لوگ دو قوموں میں بٹ گئے تھے۔ آگے بڑھنے سے پہلے ہم ان دونوں قوموں کے بارے میں مختصراً بتا دیتے ہیں۔ تا کہ آگے الجھن نہ ہو۔

قوم ِ مدین کا علاقہ

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے مدین اپنے بیوی بچوں کو لے کر ایک بہت ہی خوب صورت علاقے میں آبادہو گئے۔ وہ علا قہ ملک شا م مےں علا قہ معا ن سے قریب تھا ۔اور حجاز کی سر حد سے لگ بھگ ملا ہوا تھا۔ مولانا سید ابو اعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔ مدین کا اصل علاقہ حجاز کے شمال مغرب اور فلسطین کے جنوب میں بحرِ احمر اور خلیج عقبہ کے کنارے پر واقع تھا ۔ مگر جزیرہ نمائے سیناءکے مشرقی ساحل پر بھی اس کا کچھ سلسلہ پھیلا ہوا تھا۔ یہ ایک بڑی تجارت پیشہ قوم تھی۔ قدیم زمانےمیں جو تجارتی شاہراہ بحر احمر کے کنارے یمن سے مکہ مکرمہ اور ینبوع ہوتی ہوئی ملک شام تک جاتی تھی۔ اور ایک دوسری تجارتی شاہراہ جو عراق سے مصر کی طرف جاتی تھی اس کے ( ان دونوں شاہراہوں کے ) عین چوراہے پر ( اور اس کے آس پاس) اس قوم کی بستیاں تھیں۔ اسی بنا پر عرب کا بچہ بچہ مدین سے واقف تھا۔ اور اس کے مٹ جانے کے بعد بھی عرب میں اس کی شہرت برقرار رہی۔ کیوں کہ عربوں کے تجارتی قافلے مصر اور شام کی طرف جاتے ہوئے رات دن ( یعنی اکثر ) اس کے آثار ِ قدیمہ کے درمیان سے گزرتے رہتے ہیں۔ 

قوم مدین کا مختصر تعارف

حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم مدین کے علاقے کے بارے میں جان لینے کے بعد قوم مدین کے بارے میں مختصراً جان لیتے ہیں۔ مولانا سید ابو اعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔ اہلِ مدین کے متعلق ایک اور ضروری بات جس کو ذہن نشین کر لینا چاہیے۔ وہ یہ ہے کہ یہ لوگ در اصل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صاحبزادے مدیان کی طرف منسوب ہیں۔ جو اُن کی تیسری بیوی سیدہ قطورہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے تھے۔ قدیم زمانے کے قاعدے کے مطابق جو لوگ کسی بڑے آدمی کے ساتھ وابستہ ہو جاتے تھے وہ رفتہ رفتہ اسی کی آل اولاد میں شمار ہو کر بنی فلاں کہلانے لگتے تھے۔ اسی قاعدے کی وجہ سے عرب کی آبادی کا بڑا حصہ ” بنی اسماعیل “ کہلایا۔ اور حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنے والے لوگ سب کے سب ”بنی اسرائیل “ کے جامع نام کے تحت کھپ گئے۔ اسی طرح مدین کے علاقے کی ساری آبادی بھی جو مدیان بن ابراہیم کے زیر اثر آئی۔ وہ بنو عدیان کہلائی اور اس ملک کا نام ہی مدین یا مدیان مشہور ہو گیا۔

قوم اصحاب الایکہ

حضرت شعیب علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اتنے وسیع علاقے پر مبعوث فرمایا تھا کہ اس وسیع علاقے میں دو قوم آباد تھی۔ ایک قوم مدین دوسری قوم اصحاب ایکہ تھی۔ یا پھر یہ ایک ہی قوم کے دو بڑے قبیلے تھے۔ مولانا سید ابو اعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔ ( اصحاب الایکہ) یعنی حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے لوگ ۔ اس قوم کا نام بنی مدیان تھا۔ مدین اُن کے مرکزی شہر ( راجدھانی) کو کہتے تھے۔ اور اُن کے پورے علاقے کو بھی ۔ رہا ایکہ ، تو یہ تبوک کا قدیم نام تھا۔ اس لفظ کے لغوی معنی گھنے جنگل کے ہیں ۔ آج کل ایکہ ایک پہاڑی نالے کا نام ہے۔ جو جبل اللّوز سے وادی اَفَل میں آکر گرتا ہے۔ مدین اور اصحاب الایکہ کا علاقہ بھی حجاز سے فلسطین و شا م جاتے ہوئے راستے میں پڑتا ہے۔ اس کے آگے مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔ مفسرین کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ مدین اور اصحاب الایکہ الگ الگ قومیں ہیں یا ایک ہی قوم کے دو نام ہیں۔ ایک گروہ کا خیال ہے کہ یہ دو الگ قومیں ہیں۔ اور اس کے لئے سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ سورہ اعراف میں حضرت شعیب علیہ السلام کو اہل مدین کا بھائی فرمایا گیا ہے۔ ( والی مدین اخاھم شعیبا) اور سورہ الشعرا ءمیں اصحاب الایکہ کے ذکر میں ارشاد ہوا ہے کہ اذقال لھم شعیب ۔ ( جب کہ اُن سے شعیب نے کہا) ” اُن کے بھائی “ ( اخوھم) کا لفظ استعمال نہیں فرمایا۔ اس کے برعکس بعض مفسرین دونوں کو ایک ہی قوم قراردیتے تھے۔ کیوں کہ سورہ اعراف اور سورہ ہود میں جو امراض اور اوصاف اصحابِ مدین کے بیان ہوئے تھے وہی سورہ الشعراءمیں اصحاب الایکہ کے بیان ہوئے ہیں۔ حضرت شعیب علیہ السلام کی دعوت اور تعلیم ( دونوں قوموں کو ) یکساں (دی گئی ) ہے۔ اور آخر کار اُن کے انجام میں بھی فرق نہیں ہے۔

ایک ہی نسل سے دو قومیں

حضرت شعیب علیہ السلام کو دو الگ الگ قوموں کی طرف بھیجا گیا تھا یا ایک ہی نسل کی دو قوموں کی طرف بھیجا گیا تھا۔ اس کے بارے میں مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں ۔ تحقیق سے معلو م ہوتا ہے کہ یہ دونوں اقوال اپنی جگہ صحیح ہیں۔ اصحاب مدین اور اصحاب الایکہ بلا شبہ دو الگ قبیلے ہیں۔ مگر ایک ہی نسل کی دو شاخیں ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جو اولاد اُن کی بیوی سیدہ قطورا رضی اللہ عنہا کے بطن سے تھی۔ وہ عرب اور اسرائیل کی تاریخ میں بنی قطورا کے نام سے معروف ہے۔ ان میں سے ایک قبیلہ جو سب سے زیادہ مشہور ہوا وہ مدیان بن ابراہیم کی نسبت سے مدیانی یا اصحاب مدین کہلایا۔ اور اس کی آبادی شمالی حجاز سے لے کر فلسطین کے جنوب تک اور وہاں سے جزیرہ نمائے سینا کے آخری گوشے تک بحر قلزم اور خلیج عقبہ کے سواحل تک پھیل گئی۔ اس کا صدر مقام شہر مدین تھا۔ جس کی جائے وقوعہ ابو الفداءنے عقبہ کے مغربی کنارے ایلہ ( موجودہ عقبہ) سے پانچ دن کی مسافت بتائی ہے۔ باقی بنی قطورا جن میں ددان نسبتاً زیادہ مشہور ہیں۔ شمالی عرب میں تیما ءاور تبوک اور العلاکے درمیان آبادہوئے۔ اور ان کا صدر مقام تبوک تھا۔ جسے قدیم زمانے میں ایکہ کہتے ہیں۔ یاقوت نے معجم البلدان میں لفظ ایکہ کے تحت بتایا کہ یہ تبوک کا پرانا نام ہے۔ اور اہل تبوک میں عام طور سے یہ بات مشہور ہے کہ یہی جگہ کسی زمانے میں ایکہ تھی۔ اصحاب مدین اور اصحاب الایکہ کے لئے ایک ہی پیغمبر مبعوث کئے جانے کی وجہ غالباً یہ تھی کہ دونوں ایک ہی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ ایک ہی زبان بولتے تھے۔ اور ان کے علاقے بھی بالکل ایکدوسرے سے متصل تھے۔ بلکہ بعید نہیں کہ بعض علاقوں میں یہ ساتھ ساتھ آباد ہوں اور آپس کے شادی بیاہ سے ان کا معاشرہ بھی باہم گھل مل گیا ہو۔ اس کے علاوہ بنی قطورا کی ان دونوں شاخوں کا پیشہ بھی تجارت تھا۔ اور دونوں میں ایک ہی طرح کی تجارتی بے ایمانیاں اور مذہبی و اخلاقی بیماریاں پائی تھیں۔ 

اصحاب مدین اور اصحاب الایکہ ایک قوم ہیں یا الگ الگ؟

حضرت شعیب علیہ السلام کو دو الگ الگ قوموں کی طرف مبعوث کیا گیا تھا۔ یا وہ ایک ہی قوم تھے ۔ اس کے بارے میںعلامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں کہ عکرمہ نے کہا ہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام کے سوا کسی نبی کو دو مرتبہ نہیں بھیجا گیا۔ ان کو ایک مرتبہ مدین کی طرف بھیجا گیا پھر اس قوم کی نافرمانی کی بنا ءپر اس کو ایک زبردست گرج دار آواز سے ہلاک کر دیا گیا اور دوسری دفعہ اُن کو اصحاب الایکہ ( سر سبز جھاڑیوں والے علاقے کے رہنے والے) کی طرف بھیجا گیا ۔ جن کو سائبان والے عذاب نے پکڑ لیا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اصحاب مدین اور اصحاب الایکہ دو امتیں ہیں جن کی طرف حضرت شعیب علیہ السلام کو بھیجا گیا۔ (ہر چند کہ اس میں مفسرین کا اختلاف ہے لیکن اس حدیث کی بنا پر یہی قول راجح ہے کہ یہ دو الگ الگ امتیں ہیں۔ علامہ غلام رسول سعیدی) حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو اصحاب الرس ( اندھے کنویں والے) ( الفرقان آیت نمبر38) فرمایا ہے۔ اس سے مراد حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم ہے۔ اور ایک قول یہ ہے کہ مدین اور ایکہ ان دونوں سے مراد ایک قوم ہے۔ (مختصر تاریخ دمشق) حافظ عماد الدین بن اسماعیل بن عمر بن کثیر کی تحقیق یہ ہے کہ اصحاب الایکہ او رمدین دونوں ایک ہی قوم ہیں۔ ان کی گفتگو کا خلاصہ یہ ہے۔ مدین اس قوم کا نام ہے جو حضرت ابرہیم علیہ السلام کے بیٹے مدین کی نسل سے ہے۔ حضرت شعیب علیہ السلام بھی اسی نسل سے تھے اور قوم مدین جس علاقہ میں آباد تھی وہ سر سبز جھاڑیوں پر مشتمل تھا۔ اس لئے اس کو اصحاب الایکہ بھی کہا جاتا ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس علاقے میں ایکہ نام کا ایک درخت تھا اور مدین اس درخت کی پوجا کرتے تھے ۔ اسی لئے ان کو اصحاب الایکہ کہا گیا ہے۔ بہر حال مفسرین کا اس میں اختلاف ہے کہ یہ الگ الگ قومیں ہیں یا یہ دونوں ایک ہی قوم ہیں۔

دونوں بستیاں بڑی تجارتی شاہراہ پر آباد تھیں

حضرت شعیب علیہ السلام کی بعثت کے علاقے کے بارے میں علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ وا نھما لبامام مبین ۔ سورہ الحجر آیت نمبر79۔ ”اور دونوں بستیاں بڑی شاہراہ ( ہائی وے) پر آباد تھیں۔“ جو شاہراہ حجاز کے قافلوں کو شام ، فلسطین ، یمن بلکہ مصر تک لے جاتی تھی۔ اور بحر قلزم کے مشرقی کنارے سے ہو کر گزرتی تھی۔ قرآن پاک میں اسی کو اللہ تعالیٰ نے ”امام مبین “ فرمایا ہے۔ یہ شاہراہ قریشی قافلوں کےلئے بھی بہت متعارف اور تجارتی سڑک ہے۔ مدین کا قبیلہ بحر قلزم کے مشرقی کنارہ اور عرب کے شمال مغرب میں ملک شام کے متصل حجاز کا آخری حصہ تھا۔ بعض متاخرین لکھتے ہیں کہ مدین کا اصل علاقہ حجاز کے شمال مغرب اور فلسطین کے جنوب میں بحر احمر اور خلیج عقبہ کے کنارے واقع تھا۔ مگر جزیرہ نمائے سینا کے مشرقی ساحل پر بھی اس کا کچھ سلسلہ پھیلا ہوا تھا۔ یہ ایک بڑی تجارت پیشہ قوم تھی۔ قدیم زمانہ میں جو تجارتی شاہراہ بحر احمر کے کنارے یمن سے مکہ مکرمہ اور ینبوع ہوتی ہوئی ملک شام تک جاتی تھی۔ اور ایک دوسری بڑی تجارتی شاہراہ جو عراق سے مصر کی طرف جاتی تھی۔ اس کے عین چوراہے پر اس قوم کی بستیاں واقع تھیں۔ اسی بنا پر عرب کا بچہ بچہ مدین سے واقف تھا۔ اور اس کے مٹ جانے کے بعد بھی عرب میں اس کی شہرت برقرار رہی۔ کیوں کہ عربوں کے تجارتی قافلے مصر اور شام کی طرف جاتے ہوئے رات دن ( اکثر) اس کے آثار قدیمہ سے گزرتے تھے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........!

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں