01 حضرت شموئیل اور حضرت داﺅد علیہما السلام
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر14
قسط نمبر 1
حضرت کالب ، بنی اسرائیل کے سربراہ
حضرت یوشع علیہ السلام کے بعد حضرت کالب بن یوحنا بنی اسرائیل کے سربراہ بنے۔ حضرت کالب کے بارے میں کچھ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ وہ بھی اللہ کے نبی تھے۔ اب حقیقت میں وہ نبی تھے یا نہیں یہ تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد حضرت یوشع علیہ السلام لگ بھگ ستائیس 27سال تک بنی اسرائیل کے درمیان رہے۔ اور ملک کنعان کے زیادہ تر علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ لیکن پھر بھی کچھ علاقے باقی رہ گئے تھے۔ در اصل اس وقت کا ملک کنعان بہت بڑا تھا۔ اور اس کے اندر فلسطین، اردن ، لبنان اور ملک شام کا بھی کچھ حصہ آتا تھا۔ بعد میں ملک کنعان کے ٹکڑے کر دیئے گئے اور ملک شام میں ضم کر دیا گیا۔ رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے زمانے میں ملک کنعان کا نام و نشان مٹ گیا تھا۔ کیوں کہ عیسائی یعنی نصاریٰ ، یہودیوں یعنی بنی اسرائیل پر حاوی ہو چکے تھے۔ اور انہیں ملک کنعان سے بھگا دیا تھا۔ اور ملک کنعان کے ٹکڑے کر کے ملک شام میں ضم کر لیا تھا۔ اس وقت عیسائیوں کا مرکز ملک شام تھا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جب ” بیت المقدس“ فتح ہوا تو اس وقت بھی پورا فلسطین ملک شام کا ہی حصہ تھا۔ بعد میں جب عیسائیوں نے مسلمانوں سے فلسطین چھینا تو ملک شام سے اسے الگ کر دیا اور اس طرح فلسطین ، اردن اور لبنان کے ملک وجود میں آگئے اور ملک شام سمٹ گیا۔ یہ بہت ہی مختصر میں ہم نے آپ کو بتا دیا ہے کہ کس طرح ملک کنعان کا نام و نشان مٹ گیاہے ۔ تا کہ آپ کے ذہن میں کوئی الجھن نہ ہو۔ اب ہم اسی پرانے ملک کنعان کی طرف واپس چلتے ہیں۔ حضرت کالب بن یوقنہ آپ کو یاد ہوں گے۔ ہم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کے ذکر میں بتایا تھا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بنی اسرائیل کے بارہ نقیب مقرر فرمائے تھے۔ ان میں سے دو حضرت یوشع علیہ السلام اور حضرت کالب بن یوقنہ تھے۔ اور ان بارہ نقیبوں سے راز داری کا عہد لیا تھا ۔ لیکن صرف یہی دو حضرات اپنے عہد میں کامیاب رہے تھے۔ اور اپنے عہد کو مکمل ذمہ داری سے نبھایا تھا۔
حضرت کالب کے دور میں فتوحات
حضرت کالب نے بنی اسرائیل کے انتظامات سنبھال لئے تھے اور بڑی خوبی سے پورے ملک کنعان کا نظم بنائے ہوئے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے ان علاقوں کی طرف توجہ دی جو ابھی بھی بت پرستوں کے قبضے میں تھے۔ بنو یہودا جس علاقے میں آباد تھے۔ ان کے آس پاس بت پرستوں سے لڑنے کے لئے بنو شمعون کو حضرت کالب نے بلایا اور دونوں قبیلوں کی فوجوں کو ساتھ لے کر کنعانیوں اور فرزیوں پر حملہ کر دیا۔ اور بنرق کے مقام پر دس ہزار بت پرستوں کو قتل کیا۔ اس کے بعد آگے بڑھ کر یروشلم پر قبضہ کیا۔ اس کے بعد ان کنعانیوں کو شکست دی جو پہاڑی علاقوں ، جنوبی علاقہ اور مغرب کے نشیبی علاقوںمیں آباد تھے۔ وہاں فتح حاصل کرنے کے بعد وہ حبرون میں رہنے والے کنعانیوں پر چڑھ آئے اور سیسی ، اخیمان اور تلمئی کو شکست دی۔ وہاں سے آگے جا کر انہوں نے دبیر کے باشندوں پر حملہ کیا۔ تب حضرت کالب نے اعلان کیا کہ جو شخص دبیر ( قریت سفر) کو فتح کرے گا میں اس کا بیاہ اپنی بیٹی عکسہ سے کردوں گا۔ ان کے بھتیجے عقنی ایل نے دبیر کو فتح کیا تو حضرت کالب نے اسے اپنا داماد بنا لیا۔ اس کے بعد حضرت کالب نے بنو شمعون کے آس پاس آباد بت پرستوں پر حملہ کیا۔ اور صفت کے تمام کنعانیوں کو قتل کر دیا۔ اسی لئے اس شہر کا نام حُرمہ پڑا۔ اس کے بعد غزہ( غازہ) اسقلون اور عقرون شہروں پر قبضہ کرلیا۔
بُت پرست قوموں کے اثرات
حضرت کالب کے دور میں پورا ملک کنعان فتح ہو گیا۔ اور بنی اسرائیل سکون سے رہنے لگے۔ لیکن انہوں نے ملک کنعان میں رہنے والی بت پرست قوموں کو نہیں نکالا اور ان کے ساتھ رہنے لگے۔ بنو بن یامن یروشلم میں رہنے والے ببوسیوں کے ساتھ رہنے لگے اور انہیں بیگاری کے کام پر لگا دیا ۔ بنو منسی نے بھی کنعانیوں کو بیگاری کے کام پر لگا دیا۔ اسی طرح بنو افرائیم نے بھی جنرریوں کو بیگاری کے کام پر لگا دیا۔ اسی طرح اُموری بھی ملک کنعان میں ہی رہے۔ اور پورے ملک کنعان میں بنی اسرائیل کے تمام بارہ قبائلوں نے یہی کام کیا کہ مفتوح قوموں کو اسلام کی دعوت نہیں دی اور انہیں ان کے مذہب پر ہی قائم رہنے دیا۔ اور مفتوح قوموں کو بیگاری کے کام پر لگا دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بنی اسرائیل کے اندر دھیرے دھیرے اپنے ساتھ رہنے والی قوموں کے اثرات لاشعوری طور سے قبول کرتے رہے۔ جب تک حضرت کالب بن یوقنہ ان کے درمیان رہے تب تک ان کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے رہے۔ اور ان سے دور رکھنے کی کوشش کرتے رہے لیکن ان کے وصال کے بعد تو بنی اسرائیل آزادی محسوس کرنے لگے۔ پھر بھی وہ نسل اسلام پر قائم رہی لیکن جو نئی نسل پیدا ہوئی وہ مفتوح قوموں کے بچوں کے ساتھ کھیل کود کر بری ہوئی اور ان کے رسم و رواج اور مذہبی رسوموں سے متاثر ہوتی رہی۔ اسی لئے جب ان کے سب بزرگ ختم ہو نے لگے اور اس نئی نسل نے ملک کا انتظام سنبھالا تو یہ بھی مفتوح قوموں کی طرح بت پرستی میں مبتلا ہو گئے۔ اور اپنے حقیقی معبود اللہ تعالیٰ کی عبادت چھوڑ کر بعل دیوتاﺅں کی پوجا کرنے لگے۔ اور دھیرے دھیرے بنی اسرائیل کے تمام بارہ قبائل بت پرستی میں مبتلا ہو گئے اور بعل اور عستارات کی پوجا کرنے لگے۔
بنی اسرائیل پر ظالم بادشاہ مسلط
اللہ تعالیٰ سے بنی اسرائیل نے اسلام پر قائم رہنے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن اس عہد کو انہوں نے توڑ دیا اور بت پرستی میں مبتلا ہو گئے۔ وہ کنعانیوں ، حقیوں ، اموریوں ، فرزیو ں ، حویوں اور ببوسیوں کے رسم و رواج پر عمل کرنے لگے۔ اور ان کی کافر بیٹیوں سے اپنے بیٹوں اور اُن کے کافر لڑکوں سے اپنی لڑکیوں کا بیاہ کرنے لگے۔ اور اللہ تعالیٰ کو بھول کربعل اور عستارات پیرتوں کے بتوں کی عبادت کرنے لگے اور ان سے مانگنے لگے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے اوپر ظالم حکمراں کو مسلط کر دیا۔ مسوپتا میہ کا حکمراں کوشن رسعتیم بہت ہی ظالم اور بنی اسرائیل کا سخت دشمن تھا۔ اس نے ملک کنعان پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا اور بنی اسرائیل کے ساتھ انتہائی برا سلوک کرنے لگا۔ اور آٹھ (۸)سال تک وہ بنی اسرائیل کو ذلیل کرتا رہا اور غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور کرتا رہا۔ آخر کار بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوئے اور بتوں کی پوجا سے توبہ کی اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں رو رو کر گڑگڑا کر فریاد کرنے لگے۔ تب اللہ تعالیٰ کو ان پر رحم آگیا اور ان کی رہنمائی کے لئے حضرت کالب بن یوقنہ کے بھائی قنز کے بیٹے عتنی ایل کو بھیجا۔ یہ حضرت کالب بن یوقنہ کا داماد بھی تھا۔ اس نے تمام بنی اسرائیل کو ظالم حکمراں کے خلاف متحد ہونے کا حکم دیا اور بنی اسرائیل نے اتفاق رائے سے عتنی ایل کو اپنا رہنما تسلیم کر دلیا۔ اس نے بنی اسرائیل کو لے کر کوشن رسعتیم سے مقابلہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی اور عتنی ایل فتح یاب ہوا۔ اس کے بعد وہ تمام بنی اسرائیل پر چالیس برس تک انتظامات سنبھالتا رہا اور اس کے دور میں بنی اسرائیل امن سے رہے۔ اس کے بعد عتنی ایل کا انتقال ہو گیا۔
بنی اسرائیل پھر گمراہ ہوئے۔
اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر مہربانی کر کے انہیں ظالم بادشاہ سے نجات دلائی تھی۔ اور عتنی ایل کے چالیس سالہ دور میں بہت حد تک وہ اسلام پر قائم رہے۔ لیکن اس کے انتقال کے بعد پھر سے بنی اسرائیل میں گمراہیاں اور برائیاں پیدا ہونے لگیں۔ اور بنی اسرائیل اپنے ساتھ رہنے والی مشرک قوموں کے طور طریقے اپنانے لگے یہاں تک کہ ان کے بتوں کی پوجا کرنے لگے۔ جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان پر موآب کے بادشاہ عجلون کو مسلط کر دیا ۔ اس کے ساتھ بنی عمون اور بنی عمالیق تھے ۔ عجلون نے حملہ کر کے قبضہ کر لیا اور اٹھارہ 18برس تک بنی اسرائیل کے ساتھ ذلت آمیز سلوک کرتا رہا۔ آخر کار بنی اسرائیل پھرسے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے بن یامن کے ایک شخص اہود بن جیرا کے ذریعے نجات دی۔ اھود بن جیرا نے تمام بنی اسرائیل کو عجلون کے خلاف متحد کیا اور عجلون کے خلاف تیار کیا۔ اس نے بنی اسرائیل کی فوج لے کر عجلون کی موآبی فوج پر حملہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی مدد کی اور عجلون قتل ہوا۔ اور موآبی فوج بھاگنے لگی۔ اھود کی سپہ سالاری میں بنی اسرائیل نے موآبیوں کا پیچھا اردن کے گھاٹوں تک کیا اور ایک ایک کو ڈھونڈ کر قتل کیا۔ یہاں تک کہ موآب پر بھی قبضہ کرلیا۔ اھود بن جیرا کی سربراہی میں بنی اسرائیل 80سال تک امن سے رہے۔
بنی اسرائیل پر عورت کی حکمرانی
اللہ تعالیٰ نے پھر سے بنی اسرائیل کو ایک مرتبہ پھر موقع دیا تھا۔ اور اھود بن جیرا کی حکمرانی میں وہ 80سال تک متحد ہو کر رہے۔ لیکن اس کے انتقال کے بعد مسلکی اختلافات کا شکار ہو گئے اور ان میں پھوٹ پڑ گئی اور وہ آپس میں ایک دوسرے کے دشمن بن گئے۔ ایسے وقت کا فائدہ دبورہ نام کی ایک عورت نے اٹھا یا اور اس نے بنو نفتانی کے ایک بہادر شخص برق یا باراق بن نوعم کو تیار کیا اور اس کے ذریعے چالیس40سال تک بنی اسرائیل پر حکومت کرتی رہی۔ اس طرح بنی اسرائیل پر تو دکھاوے کے لئے برق حکومت کر رہا تھا لیکن در پردہ دبورہ کے احکامات چلتے تھے۔
بنی اسرائیل پر بنی مدین مسلط
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وصال کو لگ بھگ (200)سال ہو چکے تھے۔ اور اس عرصے میں بنی اسرائیل کئی مرتبہ گمراہیوں میں مبتلا ہو چکے تھے۔ اور اﷲ کا غضب کئی بار اُن پر نازل ہو چکا تھا۔دبورہ کے بعد بنی مدین نے ملک کنعان پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا۔ مدیانیوں نے بنی اسرائیل پر اتنا شدید ظلم کیا کہ انہیں ظلم سے بچنے کے لئے پہاڑوں کے شگافوں میں، غاروں میں اور چٹانوں میں اپنے لئے پناہ گاہیں بنانی پڑیں۔ ان کے تیار فصلیں پورے ملک کنعان میں بنی مدین اپنے قبضہ میں لے لیتے تھے یہاں تک کہ غازہ پٹی( غزہ) کی پیداوار بھی مدیانی ان سے چھین لیتے تھے۔ بنی اسرائیل کے تمام مویشیوں کو ان سے چھین لیا۔ یہاں تک ان کے لئے کوئی بھیڑ ، بکری، گائے، بیل ، گدھا یا خچر کچھ بھی نہیں چھوڑا۔ بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں رونے گڑ گڑانے لگے ان کے اندر بزدلی آگئی تھی۔ اور مدیانیوں سے مقابلے کی ہمت نہیں تھی۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر رحم فرمایا اور بنو منسی کے ایک غریب گھرانے کے نوجوان جدعون میںہمت پیدا فرمائی اور اس کا باپ بعل کا پجاری تھا اور بعل کا مذبح خانہ بنا رکھا تھا۔ اس نے اپنے باپ کے بعل کے مذبح خانے کو توڑ ڈالا اور بنی اسرائیل میں اعلان کیا کہ قربانیاں صرف اللہ تعالیٰ کے لئے ہوں گی اور حکم دیا کہ بنی مدین سے لڑنے کے لئے بنی اسرائیل متحد ہو جائیں۔ تمام بنی اسرائیل کے قبائل مدیانیوں کے مظالم سے تنگ آچکے تھے۔ اس لئے وہ سب جدعون کی سپہ سالاری میں جمع ہو گئے اور انہوں نے بنی مدین پر حملہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی اور جدعون کے لشکر کو فتح حاصل ہوئی۔ اور مدیانیوں کو ایسی شکست ہوئی کہ وہ پھر کبھی سر نہیں اٹھا سکے۔ اور جدعون کے دورِ حکومت میں بنی اسرائیل چالیس برس تک امن و سکون کے ساتھ رہے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں