01 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام
سلسلہ نمبر12
تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 1
قارئین کرام، اس سے پہلے ہم آپ کی خدمت میں حضرت شعیب علیہ السلام کے حالات پیش کر چکے ہیں۔ اب حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام کے حالات پیش خدمت ہیں۔ ان دونوں انبیائے کرام یعنی حضرت شعیب اور حضرت موسیٰ علیہم السلام کے حالات پیش خدمت ہیں۔ ان دونوں انبیائے کرام یعنی حضرت شعیب اور حضرت موسیٰ علیہم السلام کا زمانہ متصل ہے اور ان دونوں میں رشتہ داری بھی ہے۔ جس کا ذکر آگے چل کر آئے گا۔ اسی لئے ہم حضرت شعیب علیہ السلام کے ذکر کے فوراً بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حالات پیش کررہے ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا ۔ ہم نے حضرت یوسف علیہ السلام کے حالات میں بتایا تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام ملک مصر کے حکمراں بن گئے تھے اور اپنے والدین اور گیارہ بھائیوں کو مصر بلا لیا تھا۔ اور حضرت یعقوب علیہ السلام کا پورا خاندان یہیں آباد ہو گیا تھا۔ یہ تمام حالات ہم نے حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہم السلام کے ذکر میںبیان کئے تھے۔اس کے بعد ان کے ذکر کو روک کر ہم نے آپ علیہ السلام کی اولاد یعنی ” بنی اسرائیل “ کے حالات پیش کریں گے۔ انشاءاللہ ۔
حضرت یوسف علیہ السلام کے بعد مصر اور بنی اسرائیل کے حالات
حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹے ہیں۔ اُن کے نام روبیل، یہودا ، شمعون ، لاوی ، ریالون ، یشجر، یسحر ، دان یفتالی ، جاد ، حضرت یوسف علیہ السلام اور بن یامن ہے۔ چونکہ حضرت یوسف علیہ السلام ملک مصر کے حکمراں تھے۔ اسی لئے اپنے والدین اور تمام بھائیوں اور خاندان والوں کو اپنے پاس بلا لیا تھا۔ اور سب لوگ مصر میں ہی بس گئے تھے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی اسلام کی دعوت کو اچھے خاصے مصریوں ( یعنی قبطیوں ) نے قبول کر لیا تھا۔ اور اسلام میں داخل ہو گئے تھے۔ آپ علیہ السلام کے بعد بھی مصری کافی عرصے تک اسلام پر قائم رہے۔ لیکن ابلیس شیطان کی کاروائی لگاتار جاری رہی۔ اور وہ مصریوں کو لگاتار بہکاتا رہا۔ دھیرے دھیرے مصریوں کے ایمان میں کمزوری آتی گئی اور اُن میں سے اچھے خاصے لوگ کفر میں مبتلا ہو گئے۔ مصریوں کو قبطی کہا جاتا ہے۔ اس لئے آگے ہم مصریوں کو قبطی کہیں گے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ” اسرائیل“ کا لقب عطا فرمایا تھا۔ جس کا عربی میں معنی ہے۔ ”عبداللہ “ اور اردو میںمعنی ہے۔ ” اللہ کا بندہ یا اللہ کا غلام “ اسرائیل عبرانی لفظ ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹوں کی اولاد اس دوران خوب پھولی پھلی اور ان کی تعداد بڑھتی رہی۔ ان بارہ بھائیوں کی نسل ” بنی اسرائیل“ کہلائی۔ اور یہ سب کے سب اسلام پر قائم رہے۔ اور ملک مصر کے انتظامی عہدوں پر فائز رہے۔ اور ان کا دبدبہ مصر پر رہا۔ وقت دھیرے دھیرے گزرتا رہا۔ اور کئی سو سال میں بنی اسرائیل کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی۔
بنی اسماعیل اور بنی اسرائیل
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لگ بھگ دس بیٹے تھے۔ ان میں سے حضرت اسماعیل علیہ السلام مکہ مکرمہ پر آباد ہو گئی۔ اور اُن کی اولاد ” بنی اسماعیل “ کہلائی۔ اور بنی اسماعیل میں ہمارے پیارے رسول سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ ایک بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام کے بڑے بیٹے عیص کی اولاد میں حضرت ایوب علیہ السلام تشریف لائے۔اور چھوٹے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد ” بنی اسرائیل “ کہلائی۔ اور بنی اسرائیل میں بہت سے انبیائے کرام تشریف لائے۔ اس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دو بیٹوں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اور حضرت اسحاق علیہ السلام کی نسل زیادہ مشہور ہوئی۔ بنی اسرائیل کئی سو برس تک مصر میں رہے۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مصر سے نکلے۔ اب یہاں سے بنی اسرائیل کے انبیائے کرام علیہم السلام کا ذکر مسلسل چلے گا۔ اور اسی مناسبت سے ہم بنی اسرائیل کے حالات بھی پیش کرتے جائیں گے۔ انشاءاللہ ۔ مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی لکھتے ہیں ۔ حضرت اسحاق علیہ السلام کے فرزند حضرت یعقوب علیہ السلام ہیں۔ جن کا لقب اسرائیل ہے۔ اُن کی اولاد کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے ۔ اور ان کے فرزند حضرت یوسف علیہ السلام کو بھائیوں نے کنویں میں ڈال دیا تھا۔ جس کا قصہ سورہ یوسف میں مذکور ہے۔ ( تفصیل کے لئے دیکھئے ہماری کتاب ” حضرت اسحاق ، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہم السلام “) حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹے ہیں۔ جو حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانہ اقتدار میں مصر میں جا کر رہنے لگے تھے۔ حضر ت یوسف علیہ السلام کے وصال کے بعد بھی یہ لوگ مصر میں ہی رہے۔ پُشت با پشت وہاں رہنے سے اُن کی نسل بھی بہت زیادہ ہو گئی۔ اور بارہ بھائیوں کی اولاد جو بارہ قبیلوں پر مشتمل تھی۔ اُن کی مجموعی تعداد چھ لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔
مصر کے فراعنہ
حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں جو فرعون تھا اُس کا نام ریان بن ولید تھا۔ یہاں ایک بات ذہن میں رکھیں کہ مصر کے حکمرانوں کا لقب فرعون ہوتا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے کا فرعون الگ تھا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے کا فرعون الگ تھا۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کا فرعون الگ تھا۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ مصر میں بادشاہوں کا ایک خاندان گزرا ہے۔ جو خاندانِ فراعنہ کے نام سے مشہور تھا۔ اُس خاندان کا جو بھی شخص بادشاہ بنتا تھا وہ فرعون کہلاتا تھا۔ مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔ مصر کے بادشاہ کا لقب فرعون تھا۔ کیوں کہ مصری زبان میں ا سکے معنی بادشاہ ہوتے ہیں ۔ جسے عربی زبان میں سلطان ، فارسی زبان میں بادشاہ ،ہندی زبان میں راجہ اور انگریزی زبان میں کنگ کہتے ہیں۔ اس بادشاہ ( حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت کے فرعون کا نام ولید بن مصعب تھا۔) خیال رہے کہ بعض لوگوں نے سمجھا ہے کہ یہی یوسف علیہ السلام کے زمانے میں بھی فرعون تھا۔ مگر یہ غلط ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے کے فرعون کا نام ریان بن ولید تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام کے درمیان چار سو سال کا فاصلہ تھا۔ لہٰذا یہ وہی فرعون کیسے ہو سکتا ہے؟
بنی اسرائیل میں ساتھی قوم کے اثرات آگئے
حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں جو فرعون تھا اس نے حکومت کے تمام انتظامات آپ علیہ السلام کو سونپ دیئے تھے۔ اس طرح حکمراں کے طور پر نام تو اس کا چلتا تھا لیکن تمام احکامات آپ علیہ السلام دیتے تھے۔ بعد میں بھی یہی سلسلسہ چلتا رہا اور حکمراں کے ساتھی اور منتظم کے طور پر بنی اسرائیل رہتے تھے۔ اور انہوں نے لگ بھگ دو تین سو سال تک مصر کا انتظام بہت اچھی طرح سے چلایا بھی تھا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی۔ اور وہ دنیا میں مبتلا ہو کر عیش پرستی میں مبتلا ہو تے جا رہے تھے۔ مصر میں قبطیوں کی تعداد زیادہ تھی اور ان میں سے اکثر مشرک اور کافر تھے۔ کیوں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں جن قبطیوں نے اسلام قبول کیا تھا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ابلیس شیطان کے مسلسل وسوسوں کا شکار ہو کر اُن کی اولادوں نے شرک کرنا شروع کر دیا تھا۔ اور قبطیوں یعنی مصریوں کے ساتھ رہتے رہتے اُن کے اندر بھی ساتھی قوم کے اثرات پیدا ہو گئے تھے۔ اور وہ لا شعوری طور سے اُن کے ساتھ رہنے والی مشرک قوم کے رسم و رواج قبول کرتے جا رہے تھے۔ جیسے ہندوستان کے مسلمان ہندوﺅں کے ساتھ رہتے رہتے اُن کے اثر قبول کر رہے ہیں۔ ہندو ہر خوشی کے موقع پر پٹاخے پھوڑتے ہیں اور آتشبازی کر تے ہیں۔ اسی طرح ہم مسلمان بھی نکاح ، بارات اور دوسرے خوشی کے موقع پر پٹاخے پھوڑتے ہیں اور آتشبازی کرتے ہیں۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت کا فرعون
بنی اسرائیل ملک مصر کا انتظام سنبھالتے تھے۔ اور بادشاہ یعنی فرعون صرف نام کا فرعون ہوتا تھا۔ لیکن دھیرے دھیرے بنی اسرائیل میں عیش پسندی اور آرام پسندی پیدا ہوتی گئی اور حکومت پر سے اُن کی گرفت چھوٹتی گئی۔ اور مختلف علاقوں میں قبطیوں نے انتظامات سنبھالنے شروع کر دیئے۔ اس طرح دونوں کے درمیان رسہ کشی شروع ہو گئی۔ اور ملک مصر میں بد نظمی پھیلنے لگی۔ اور حکومت کے اہم عہدے قبطی حاصل کر نے لگے۔ اور بنی اسرائیل کے ہاتھوں سے انتظامات کے عہدے چھوٹنے لگے۔ یہاں تک کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے بیس یا پچیس سال پہلے حکومت کے تمام عہدے بنی اسرائیل سے چھین لئے گئے تھے۔ اور حکومت کے اہم عہدوں پر مصری فائز ہو چکے تھے۔ اور بنی اسرائیل عام عوام کی حیثیت سے رہنے لگے تھے۔ جن کی تعداد کئی لاکھ تھی۔ ایسے حالات میں ولید بن مصعب فرعون بنا۔ اس کے فرعون بننے کی کہانی بھی کافی دلچسپ ہے۔ مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کا فرعون چونکہ بہت خوب صورت تھا۔ اس لئے لوگ اسے قابو س کہتے تھے۔ جس کے معنی ہے روشن چنگاری ۔ یہ بہت ہی سخت مزاج اور ظالم شخص تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد یعقوب علیہ السلام تک اُن کی اولاد ملک کنعان میں رہی پھر بھائیوں کے حسد کی وجہ سے حضرت یوسف علیہ السلام مصر پہنچ گئے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اُن کو بڑا عروج عطا فرمایا۔ جب کنعان میں سخت قحط پڑا تب حضرت یعقوب علیہ السلام اور ان کی ساری اولاد مصر آگئی اُن سب کو اللہ تعالیٰ نے بڑھایا۔ اور چند صدیوں میں مصر میں ان کی تعداد لاکھوں ہو گئی۔ اور اس عرصہ میں وہاں ( مصر میں ) اسرائیلیوں کا دبدبہ رہا۔ حضرت یوسف علیہ السلام والا فرعون اور اس کے ساتھ مر کھپ گئے۔ اور ملک مصر میں بد نظمی پید اہو گئی۔ ولید بن مصعب جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کا فرعون ہے یہ شہر اصفہان کا ایک غریب عطار تھا۔ جب اس پر بہت قرض ہو گیا تو اصفہان سے بھاگ کر شام پہنچا لیکن وہاں کوئی ذریعہ معاش ہاتھ نہیں آیا تو روزی کی تلاش میں مصر آیا۔
روزی کی تلاش میں آیا فرعون بن گیا
حضر ت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کا فرعون روزی کی تلاش میں مصر آیا۔ مفتی احمد یا ر خان نعیمی آگے لکھتے ہیں۔ یہاں اس نے دیکھا کہ گاﺅں میں تربوز بہت سستے بکتے ہیں۔ اور شہر میں بہت مہنگے۔ اس نے سوچا کہ یہ نفع بخش تجارت ہے۔ اسی لئے اس نے گاﺅں سے بہت سارے تربوز خریدے مگر جب فروخت کرنے کے لئے شہر کی طرف چلا تو راستے میں محصول لینے والوں نے کئی جگہ اس سے محصول لیا ۔ بازار آتے آتے اس کے پاس ایک ہی تربوز بچا ۔ باقی سب محصول ادا کرنے میں چلے گئے تھے۔ یہ سمجھ گیا کہ اس ملک میں کوئی شاہی نظام نہیں ہے۔ جو چاہے حاکم بن کر مال حاصل کر سکتا ہے۔ اس وقت مصر میں کوئی وبائی بیماری پھیلی ہوئی تھی۔ لوگ مر رہے تھے ۔ یہ قبرستان میں جا کر بیٹھ گیا اور کہا میں شاہی افسر ہون۔ مُردوں پر ٹیکس لگا ہے۔ فی مردہ مجھے پانچ درہم ادا کرو اور دفن کرو۔ اور اس طرح چند روز میں اس نے بہت مال جمع کر لیا۔ ایک روز شاہی گھرنے کا مردہ دفن کے واسطے لایا گیا۔ اس نے اس کے وارثوں سے بھی درہم مانگے تو انہوں نے اسے گرفتار کر کے فرعون کے پاس پہنچا دیا اور سارا واقعہ بادشاہ کو بتایا۔ فرعون نے یعنی بادشاہ نے اس سے پوچھا کہ تجھے کس نے اس جگہ مقرر کیا ہے؟ ولید بولا میں نے آپ تک پہنچنے کا یہ بہانہ بنایا ہے۔ میں آپ کو خبر دیتا ہوں کہ آپ کے ملک میں بڑی بد نظمی ہے۔ میں نے تین مہینے میں ظلماً اتنا مال جمع کر لیا ہے ۔ اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ دوسرے حکام کتنا کھاتے ہوں گے۔ یہ کہہ کر وہ سارا مال بادشاہ یعنی فرعون کے سامنے ڈال دیا اور کہا۔ اگر آپ انتظام میرے سپر د کر دیں تو میں آپ کا ملک درست کر دوں گا۔ بادشاہ کو یہ بات پسند آئی اور اسے کوئی معمولی عہدہ دے دیا۔ ولید نے ایسا طریقہ اختیار کیا جس سے بادشاہ بھی خوش تھا اور عوام بھی خوش تھی۔ رفتہ رفتہ اسے تمام لشکر کا سپہ سالار بنا دیا گیا۔ اور ملک کا انتظام اچھا ہو گیا۔ جب مصر کا بادشاہ مرا تو رعایا اور درباری اُمراءنے ولید کو بادشاہ یعنی فرعون بنا دیا۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........!
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں