01 حضرت ایوب علیہ السلام
تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 1
حضرت ایوب علیہ السلام کا سلسلۂ نسب
قارئین کرام ، اس سے پہلے ہم آپ کی خدمت میں حضرت اسحاق، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہ السلام کے حالات پیش کر چکے ہیں۔ اُس میں ہم نے بتایا تھا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے بارہ بیٹوں کے ساتھ مصر میں رہائش پذیر ہو گئے تھے۔ اُن بارہ بیٹوں کی اولاد بارہ قبیلہ بنی۔ اور ان بارہ قبیلوں کے مجموعہ کو بنی اسرائیل کہا گیا۔ یعنی اسرائیل کی اولاد ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب اسرائیل تھا ، کہیں کہیں بنی اسرائیل کو بنی یعقوب یعنی یعقوب کی اولاد بھی کہا گیا ہے۔ بنی اسرائیل کا ذکر آگے حضر ت موسیٰ علیہ السلام کے حالات میں کریں گے۔ فی الحال ہم آپ کی خدمت میں حضرت ایوب علیہ السلام کے حالات پیش کریں گے۔ یہ اس لئے کہ حضرت ایوب علیہ السلام کا زمانہ حضرت یوسف علیہ السلام سے سب سے قریبی زمانہ ہے۔ حالانکہ حضرت ایوب علیہ السلام کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بہت کم کیا ہے۔ لیکن اکثر علمائے کرام اس بات پر متفق ہیں کہ آپ علیہ السلام کی زوجہ ¿ محترمہ حضرت یوسف علیہ السلام کی پوتی ہیں۔ اور آپ علیہ السلام کی والدہ محترمہ حضرت لوط علیہ السلام کی بیٹی ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام کا زمانہ حضرت لوط علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام سے قریبی زمانہ ہے۔ اسی لئے ان کے فوراً بعد ہم ان کے حالات بیان کر رہے ہیں۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ ایک قول یہ ہے کہ آپ علیہ السلام کی زوجہ محترمہ حضرت یعقوب علیہ السلام کی بیٹی ہیں۔ تفسیر مظہری میں حضرت ایوب علیہ السلام کا سلسلہ نسب اس طرح ہے۔ حضرت ایوب علیہ السلام بن احوس ، رزاخ بن روم، بن عیص، بن حضرت اسحاق علیہ السلام ہے۔ علامہ ابن کثیر آپ علیہ السلام کا سلسلہ نسب اس طرح لکھتے ہیں۔ حضرت ایوب علیہ السلام بن موص بن زاوح بن عیص بن اسحاق علیہ السلام ہے۔ آگے لکھتے ہیں کہ ایک اور مورخ آپ علیہ السلام کا سلسلہ نسب اس طرح لکھتے ہیں۔ حضرت ایوب علیہ السلام بن موص بن رعویل بن عیص بن حضرت اسحاق علیہ السلام ہے۔ امام ابن عسا کر لکھتے ہیں کہ حضرت ایوب علیہ السلام کی والدہ حضرت لوط علیہ السلام کی بیٹی ہیں۔ تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ امام ابن عسا کر لکھتے ہیں کہ آپ علیہ السلام کی زوجہ محترمہ کا نام ”لیا “ ہے۔ اور وہ حضرت یوسف علیہ السلام کی پوتی ہیں۔ اور ان کا سلسلہ نسب اس طرح ہے۔ حضرة لیا بنت منشا بن یوسف علیہ السلام بن یعقوب علیہ السلام بن اسحاق علیہ السلام ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں
حضرت ایوب علیہ السلام کے بارے میں امام محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ آپ علیہ السلام اہل ِ روم میں سے ہیں۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ امام محمد بن اسحاق نے ثقہ لوگوں کے حوالے سے حضرت وہب بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول نقل کیا ہےکہ حضرت ایوب علیہ السلام اہل روم میں سے ہیں۔ اور سلسلہ ¿ نسب اس طرح ہے۔ حضرت ایوب علیہ السلام بن حوص بن زازح بن عیص بن حضرت اسحاق علیہ السلام بن حضرت ابراہیم علیہ السلام ہے۔ اور دوسرا سلسلہ نسب اس طرح ہے۔ حضرت ایوب علیہ السلام بن حوص بن رغویل بن عیص بن حضرت اسحاق علیہ السلام بن حضرت ابراہیم علیہ السلام ۔ بعض علمائے کرام نے رغویل کے بجائے رعویل لکھا ہے۔ اس سے پہلے ہم آپ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ذکر میں بتا چکے ہیں کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے ( مکہ مکرمہ میں رہتے تھے) اپنے چھوٹے حضرت اسحاق علیہ السلام سے ( اُس وقت کے ملک کنعان اور آج کے فلسطین میں رہتے تھے) فرمایا کہ اپنے بڑے عیص کا نکاح میری بیٹی سے کر دو۔ حضرت اسحاق علیہ السلام اپنے بڑے بیٹے عیص کو پیار سے عیصو پکارتے تھے۔ جو اہلِ کتاب نے عیسو بنا دیا ہے۔ اور بائیبل میں عیسو ہی نام لکھا ہوا ہے۔ حضرت اسحاق علیہ السلام نے اپنے بڑے بھائی کا حکم مانتے ہوئے اپنے بڑے بیٹے عیص کا نکاح اپنے بڑے بھائی کی بیٹی سے کر دیا ۔ آپ علیہ السلام کے اس وقت دو بیٹے تھے۔ چھوٹے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام تو اپنے والد کے ساتھ اس وقت کے ملک کنعان اور آج کے فلسطین میں رہتے تھے۔ جسے یہودی یروشلم کہتے ہیں۔ اور بڑے بیٹے عیص اپنے بیوی بچوں کو لے کر ملک شام چلے گئے اور وہیں رہائش پذیر ہو گئے۔ اُن کی اولاد پورے ملک شام میں پھیل گئی۔ عیص کے ایک بیٹے روم کی اولاد یورپ تک پھیل گئی اور یہی لوگ رومی کہلائے۔ روم کے نام پر آج بھی یورپ میں ایک شہر کا نام روم ہے۔ حضرت ایوب علیہ السلام اسی روم کی اولاد میں سے ہیں۔ ا س وقت وہ ملک شام میں ہی رہتے تھے۔ کچھ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام بنی اسرائیل میں سے تھے۔ اور اس کے لئے آپ علیہ السلام کا زمانہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد کا بتاتے ہیں۔ لیکن اس کے کوئی مستند شواہد نہیں ہیں ۔ کیوں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ، حضرت لوط علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام کے کئی سو سال بعد کے زمانے میں پیدا ہوئے۔ اور اگر حضرت ایوب علیہ السلام اُن کے بھی کئی سو سال بعد پیدا ہوئے تو کس طرح حضرت لوط علیہ السلام کی بیٹی آپ علیہ السلام کی والدہ ہوئیں۔ اور کس طرح حضرت یوسف علیہ السلام کی پوتی آپ علیہ السلام کی زوجہ محترمہ ہوئیں۔ اس لئے زیادہ قرین قیاس یہی ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام کا زمانہ اس وقت ہے جب بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے وجود میں نہیں آئے تھے۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ بہر حال تمام علمائے کرام اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت ایوب علیہ السلام کے جدِ امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پوتے عیص کی اولاد میں سے ہیں۔
حضرت ایوب علیہ السلام نبوت سے سرفراز
حضرت ایوب علیہ السلام ملک شام کے ایک علاقہ ” بثنیہ “ میں رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بہت ہی خوب صورت بنایا تھا۔ اور بہت زیادہ مال و دولت سے نواز ا تھا۔ اور اولاد سے بھی نواز اتھا۔ آپ علیہ السلام کے پاس بہت ساری زمینیں تھیں یوں سمجھ لیں اچھی خاصی جاگیر تھی۔ ایک روایت کے مطابق دو ہزار بیلوں کی جوڑی تھی۔لیکن اکثر علمائے کرام اور روایات کے مطابق پانچ سو بیلوں کی جوڑی تھی۔ جن کو پانچ سو غلام سنبھالتے تھے۔ اور ہر غلام کو اپنی بیوی اور بچے اور مال و دولت تھی۔ ایک ہزار بکریاں تھیں۔ پانچ سو خچر سامان اٹھانے کے لئے تھے۔ جس علاقے میں آپ علیہ السلام رہتے تھے اسی علاقے میں اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو مبعوث فرمایا تھا۔ اور آپ علیہ السلام اپنے علاقے کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دیتے تھے۔ اور بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کیا لوگ آپ علیہ السلام کے کردار اور عمل سے بہت متاثر تھے اور ہر کوئی آپ علیہ السلام کی عزت کرتا تھا ۔ آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی بہت عبادت کرتے تھے۔ ہر ضرورت مند اور مستحق کی مدد کرتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ پر بہت بھروسہ رکھتے تھے۔
حضرت ایوب علیہ السلام کا حلیۂ مبارک
حضرت ایوب علیہ السلام کے حلیہ مبارک کے مبارک کے بارے میں حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ایوب علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں۔ آپ علیہ السلام کا قد لمبا تھا۔ اور بال گھنگھریالے تھے۔ آنکھیں بڑی بڑی اور انتہائی خوب صورت تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو انتہائی خوب صورت بنایا تھا۔ آپ علیہ السلام کی پیشانی مبارک پر ” المبتلی ، الصابر “ یعنی آزمائش میں ڈالا گیا، صبر کرنے والا۔ آپ علیہ السلام کی گردن مبارک چھوٹی تھی۔ اور سینہ مبارک چوڑا تھا۔ پنڈلیاں اور بازو بھرے بھرے تھے۔ آپ علیہ السلام بیوہ عورتوں اور ضرورت مندوں اور مستحقوں کو مال دولت عطا فرماتے تھے۔ اور اللہ کی رضا کے لئے انہیں نئے کپڑے عطا فرماتے تھے۔ حضرت وہب بن عنبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ حضرت ایوب علیہ السلام اپنے زمانہ میں سب سے بڑے عابد و زاہد تھے۔ اور سب سے زیادہ مال دار تھے۔ آپ علیہ السلام اس وقت تک بھوکے رہتے تھے جب تک کسی بھوکے کو پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھلا دیتے تھے۔ آپ علیہ السلام کسی نہ کسی ضرورت مند کو نیا لباس پہنانے کے بعد ہی نیا لباس پہنتے تھے۔ ابلیس شیطان، حضرت ایوب علیہ السلام کی طاقت و قوت اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور اعتماد سے عاجز آگیا تھا۔ اور اس کا کوئی داﺅ بیچ آپ علیہ السلام پر نہیں چل پاتا تھا۔
حضرت ایوب علیہ السلام کی شریعت
حضرت وہب بن عتبہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ حضرت ایوب علیہ السلام کی شریعت کیا تھی تو انہوں نے فرمایا۔ تو حید یعنی صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی یعنی اسلام کی دعوت دینا۔ اور لوگوں کو کفر اور شرک سے روکنا ۔ جھگڑا کرنے والوں میں صلح کروانا۔ اگر کسی کی حاجت پوتی تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو جانا۔ پھر اپنی حاجت طلب کرنا۔ ان سے پوچھا گیا کہ حضرت ایوب علیہ السلام کا مال و دولت کتنا تھا تو انہوں نے فرمایا۔ تین ہزار 3000فدان یعنی بیلوں کی جوڑیاں تھیں اور ہر فدان کے ساتھ ایک غلام ہوتا تھا۔ اور ہر غلام کے ساتھ ایک عورت ہوتی تھی۔ اور ہر عورت کے ساتھ ایک خچر اور چودہ ہزار بکریاں تھیں۔ آپ علیہ السلام کے مہمان خانے میں ہر وقت ایک نہ ایک مہمان رہتا تھا۔ اور کبھی کبھی تو سو100سے زیادہ مہمان بھی ہو جاتے تھے۔ اور حضرت ایوب علیہ السلام ہمیشہ کسی نہ کسی مسکین کے ساتھ مل کر ہی کھانا کھاتے تھے۔
اوروں کے مقابلے میں آزمائش سخت تھی
حضرت ایوب علیہ السلام کے بارے میں تفسیر انوار البیان میں لکھا ہے کہ قرآن پاک میں حضرت ایوب علیہ السلام کا خصوصی ذکر صرف دو جگہوں پر آیا ہے۔ ایک تو سورہ الانبیاءاور دوسرے سورہ ص میں آیا ہے۔ اور سورہ ص میں اُن کی تکلیف اور دعا اور شفا یاب ہونا مذکور ہے۔ قرآن پاک میں دونوں جگہ اجمال ( مختصر) میں ہے اور اس کا ذکر نہیں ہے کہ تکلیف کیا تھی اور مصیبت کیسی تھی اور کتنے دن رہی۔ اور کسی صحیح ، صریح اور مرفوع حدیث میں بھی اس کی کوئی تفسیر نہیں ملتی۔ البتہ قرآن پاک کے سیاق سے اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ انہیں بہت زیادہ تکلیف تھی۔ اور عام طور سے انبیائے کرام اور صالحین کی جو آزمائشیں ہوتی ہیں ان سے زیادہ سخت آزمائش تھی۔ اور ساتھ ہی یہ بات بھی تھی کہ آل اولاد سب مفقود ہو کر ہلاک ہو کر جدا ہو گئے تھے۔ اس بارے میں عام طور سے جو روایات ملتی ہیں وہ عمومی اسرائیلی روایات ہیں۔ قرآن پاک تصریح سے معلوم ہو اکہ حضرت ایوب علیہ السلام کے دعا کرنے پر اللہ تعالیٰ نے انہیں صحت و عافیت عطا فرمادی۔ اور یہ صرف اللہ کی رحمت سے تھا۔ اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا کہ ہم نے ان کا کنبہ واپس کر دیا اور ان جیسے اور بھی دیئے۔ اس کے بارے میں مفسرین نے دونوں احتمال لکھے ہیں کہ صحت و عافیت کے بعد یا تو ان کی گمشدہ اولاد واپس کر دی گئی جو ان سے جدا ہو گئی تھی۔ اور اگر وہ سب وفات پا گئے تھے تو اتنے ہی اُن کی جگہ اللہ تعالیٰ نے پیدا فرما دیئے تھے۔ اور مشلھم معھم بھی ساتھ فرمایا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جتنی سابق اولاد تھی اتنی ہی مزید اولاد ان کی صلب سے یا ان کی اولاد کی صلب سے عطا فرما دی۔
صبر اور شکر کرنے والے
حضرت ایوب علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بہت زیادہ صبر اور شکر کرنے والے بندے تھے۔ تفسیر بصیرت القران میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ صبر اور شکر کے پیکر حضرت ایوب علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے اُن کو ہر طرح کی نعمتوں سے نوازرکھا تھا تو وہ ہر وقت اللہ کے سامنے شکر گزاری کے جذبے کے ساتھ جھکے رہتے تھے۔ اور اُن کو ایسی بیماری اور تکلیف سے واسطہ پڑا کہ اُن کی بیوی کے علاوہ ہر شخص اُن کے قریب جاتے ہوئے گھبراتا تھا۔ فرمایا کہ اس حال میں بھی وہ انتہائی صبر سے کام لیتے تھے۔ ایک مرتبہ جب اُن کی بیماری اس درجے کو پہنچ گئی جو اُن سے برداشت نہیں ہو سکی تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کو پکارا۔ اے اللہ تعالیٰ، میری تکلیف اور بیماری حد درجہ بڑھ گئی ہے۔ اور تو تمام رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کی فریاد کو سنا اور اُن کی شدید بیماری اور تکلیف سے نجات عطا فرما دی۔ اور پہلے سے بھی زیادہ صحت ، مال و دولت اور اولاد سے اُن کو نواز دیا۔ حضرت ایوب علیہ السلام کا صبر اور شکر ایک بہترین مثال ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو جب دل سے پکارا جاتا ہے تو وہ ایسا مہربان اور کریم ہے کہ ہر شخص کی فریاد سنتا ہے۔ اور اس کو ہر طرح کی تکلیفوں سے نجات دے دیتا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ دعا سننے والا اور سب سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.........!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں