حضرت شیث علیہ السلام
تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
حضرت شیث علیہ السلام کی پیدائش
حضرت شیث علیہ السلام حضرت آدم علیہ السلام کے بعد دوسرے نبی ہیں اور حضرت آدمؑ اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کے بیٹے نیز ہابیل اور قابیل کے بھائی ہیں۔ آپ علیہ السلام ہابیل کے قتل کے بعد اللہ تعالی کی طرف سے ہدیہ تھے۔ اسی لئے ہبۃ اللہ کے نام سے مشہور ہوئے۔جب حضرت آدم علیہ السلام مکہ مکرمہ سے واپس آئے اور دیکھا کہ قابیل اپنے بھائی ہابیل کو قتل کر کے بھاگ گیا ہے تو آپ علیہ السلام اتنے غمزدہ ہو ئے کہ ایک سو سال تک نہیں مسکرائے۔ ایک سو سال کے بعد حضرت آدم علیہ السلام کو ایک نیک بیٹے کی بشارت اللہ تعالیٰ نے دی۔ اس پر آپ علیہ السلام مسکرائے اور اللہ تعالیٰ نے حضرت شیث علیہ السلام کو پیدا فرمایا۔
حضرت آدم علیہ السلام کے جانشین
حضرت شیث علیہ السلام ہی حضرت آدم علیہ السلام کے جانشین رہے۔ اور تمام انتظامات حضرت شیث علیہ السلام نے سنبھال لئے۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی عمر ایک سو تیس سال ہونے کے بعد سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا۔ اور یہ ہابیل اور قابیل کے واقعہ کے پچاس برس بعد کا واقعہ ہے۔ اہل توریت کہتے ہیں کہ یہ بیٹا تنہا پیدا ہوا۔ اور شیث کے معنی اہل توریت ہبتہ اللہ بتاتے ہیں ۔ اور حضرت شیث علیہ السلام ہابیل کے بدل کے طور پر تھے۔ جیسے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ کہ سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کے بطن سے شیث نامی لڑکا اور غرورا نامی لڑکی ہوئی۔ اس لڑکے کی پیدائش پر جبرئیل علیہ السلام نے کہا تھا کہ یہ اللہ کا عطیہ یعنی ہبتہ اللہ ہے جو ہابیل کا بدل ہے۔
حضرت آدم علیہ السلام نے تعلیم دی
حضرت شیث علیہ السلام کو حضرت آدم علیہ السلام کا جا نشین بنایا گیا۔ ان کی پیدائش کے وقت حضرت آدم علیہ السلام کی عمر ایک سو تیس سال تھی۔ حضرت شیث علیہ السلام بڑے ہوئے تو حضرت آدم علیہ السلام نے انہیں اپنا جانشین بنایا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں نبوت سے سرفراز فرمایا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے حضرت شیث علیہ السلام کو بلایا۔ اور ان سے عہد لیا۔ اور رات دن کی گھڑیاں اور اوقات سکھلائے اور ہر ساعت میں کسی نہ کسی مخلوق کا عبادت کرنا بتلایا۔ یعنی ہر گھڑی کوئی نہ کوئی مخلوق اللہ کی عبادت میں مصروف رہتی ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام نے حضرت شیث علیہ السلام فرمایا۔ اے میرے بیٹے عنقریب زمین میں طوفان آئے گا۔ اور وہ سات سال ٹھہرے گا۔ اور اُن کو وصیت لکھوائی ۔ پس حضرت شیث علیہ السلام اپنے والد حضرت آدم علیہ السلام کے وصی اور جا نشین ہوئے۔ حضرت آدم علیہ السلام کے وصال کے بعد ساری حکومت و بادشاہت ان ہی کے لئے ہو گئی۔ حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ کہ میں نے عرض کیا ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ تعالیٰ نے کتنی کتابیں نازل فرمائی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سو چار سو کتابیں نازل ہوئی ہیں۔ اور حضرت شیت علیہ السلام پر پچاس صحیفے نازل فرمائے۔
نبوت سے سرفراز
جس وقت حضرت شیث علیہ السلام عقل و حکمت سے آراستہ پیراستہ ہو گئے۔ انسان اور جنات کی بڑی بڑی جماعتوں پر تسلط اور اقتدار قائم ہو گیا تو اللہ تعالی نے ان کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ حضرت شیث حضرت آدم علیہ السلام کی شریعت کے تابع تھے۔ اللہ تعالی کی طرف سے ان پر پچاس صحیفے نازل ہوۓ تھے جن میں علوم حکمت، ریاضی، علم ہیئت ہندسہ، حساب ، موسیقی، علوم الہی اور اکسیر و کیمیا گری کی تعلیم تھی۔ آپ علیہ السلام کے وقت میں حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد بہت زیادہ بڑھ چکی تھی اور الگ الگ علاقوں میں آباد ہوگئی تھی۔ ہابیل کے قتل کے بعد قابیل اپنی خوبصورت بہن کو لے کر پہاڑوں کے پیچھے بھاگ گیا تھا۔ وہیں اس کی اولاد رہنے لگی تھی۔
آسمانی کتاب کا نزول
حضرت شیثؑ علیہ السلام پر اپنے والد محترم حضرت آدمؑ علیہ السلام اور دوسرے پیغمبروں کی طرح آسمانی کئی صحیفے نازل ہوئے تھے۔ 50 سے زیادہ صحیفے آپ سے منسوب ہوئی ہیں۔ حضرت شیثؑ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ اور دوسرے تمام علاقوں میں آباد انسانوں کی اصلاح اور تبلیغ کا کام دیا تھا۔ اور آپ اپنی نبوت کے دوران جبرئیل اور دیگر فرشتوں کے ساتھ رابطے میں تھے۔ بعض گزارشات کے مطابق لکھائی ایجاد کرنے والے پہلے شخص حضرت شیثؑ علیہ السلام ہیں۔ یعنی لکھنا پڑھنا حضرت شیث علیہ السلام کے زمانے میں ہی جاری ہوگیا تھا۔
حضرت شیث علیہ السلام کا نکاح
حضرت شیث علیہ السلام اکثر اوقات ملک شام میں رہا کرتے تھے اور نور محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حفاظت کا اہتمام فرماتے تھے۔ پھر اللہ نے جبرئیل علیہ السلام کو حکم دے کر بھیجا کہ حضرت شیث علیہ السلام سے کہو کہ ایک صاحب جمال اور صاحب الراۓ خاتون سے شادی کرلیں۔ بعض علماء کا قول ہے کہ وہ خاتون جنات عورت تھی۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کی طرح اللہ تعالی نے اس کو بھی بغیر ماں باپ کے پیدا کیا تھا۔ تاریخی مآخذ میں حضرت شیثؑ علیہ السلام کی اہلیہ کا نام حوریہ لکھا گیا ہے جس سے شادی حضرت آدم کی تجویز پر ہوئی ہے۔ اس شادی کے نتیجے میں چار بیٹے پیدا ہوئے جن میں سب سے بڑے بیٹے حضرت انوش آپ علیہ السلام کے جانشین بنے۔
رسول اللہ ﷺ کی بشارت
حضرت شیث علیہ السلام کی زوجہ حوریہ کے حاملہ ہونے کے بعد ہر طرف غیبی آواز میں آنے لگیں کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نور مبارک ( جو تیرے پیٹ میں امانت ہے ) مبارک ہو۔ نو مہینے کے بعدصاحبزادے حضرت انوش پیدا ہوۓ۔ انوش کے معنی سچے اور صادق کے ہیں حضور سرور عالم ﷺ کا نور مبارک ان کی نورانی پیشانی میں چپکتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا میں سب سے پہلے آپ نے ہی چھوہارے کا درخت بویا تھا۔ حضرت شیث علیہ السلام کی 105 سال کی عمر میں حضرت انوش پیدا ہوئے ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت انوش کی پیدائش کے وقت حضرت آدم علیہ السلام زندہ تھے۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔
نور محمدی ﷺ کی حفاظت کا عہد
حضرت شیث علیہ السلام نے حضرت انوش کو اپنا جانشین بنایا۔ جس وقت حضرت انوش سن بلوغ کو پہنچے اور جوان ہوۓ تو شیث علیہ السلام نے ان کو اپنے پاس بلا کر فرمایا کہ نور محمدی ﷺ کی حفاظت کے لئے مجھ سے عہد و پیمان لیا گیا تھا۔ میں بھی تجھ سے عہد و پیمان لیتا ہوں کہ نور محمدی ﷺ کی حفاظت کرنا۔ حضرت انوش نے اپنے والد ماجد سے نور محمدی ﷺ کی حفاظت کا عہد کیا۔ حضرت شیث علیہ السلام نے حضرت انوش کو اس زمانے کے تمام انسانوں کا سردار بنایا۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ حضرت انوش کو نبوت سے بھی سرفراز کیا گیا تھا یا صرف حاکم بنایا گیا تھا۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔
حضرت شیث علیہ السلام کا انتقال
حضرت انوش کو ذمہ داری سونپنے کے بعد حضرت شیث علیہ السلام کا انتقال ہوگیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری نے آپ علیہ السلام کی عمر 930 لکھی ہے۔ لیکن بعض دوسرے علمائے کرام نے 912 سال عمر ذکر کی ہے۔ بعض نے آپ علیہ السلام کے دفن کی جگہ کو کوہ ابوقبیس میں گنج نامی مشہور غار قرار دیا ہے۔ جہاں حضرت آدم علیہ السلام اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کا مدفن بھی کہا جاتا ہے۔ ملک لبنان کے مشرق میں علاقہ بعلبک میں نبی شیث نامی جگہ پر ایک قبر ہے جسے حضرت شیثؑ علیہ السلام سے منسوب کیا جاتا ہے۔. ملک عراق کے شمال میں موصل میں بھی ایک قبر آپ علیہ السلام کے نام سے منسوب ہے۔ حضرت شیث علیہ السلام کا ذکر مکمل ہوا۔ اب ہم ان شاءاللہ حضرت ادریس علیہ السلام کا ذکر شروع کریں گے۔
ختم شد
.png)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں