بدھ، 26 اپریل، 2023

حضرت لوط علیہ السلام مکمل Life of Prophet Loot



حضرت لوط علیہ السلام مکمل

سلسلہ نمبر 8

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قارئین کرام ،اس سے پہلے ہم آپ کی خدمت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے حالات پیش کر چُکے ہیں ۔اسکے بعد حضرت اسحاق علیہ السلام ، حضرت یعقوب علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام کے حالات پیش کرنا تھا ۔ لیکن اُسے روک کر ہم آپکی خدمت میں حضرت لوط علیہ السلام کے حالات پیش کر رہے ہیں ۔ کیونکہ یہ حالات حضرت ابراہیم علیہ کی زندگی میں ہی پیش آئے تھے ۔ اس لئے ہم پہلے حضرت لوط علیہ السلام کا ذکر پیش کر رہے ہیں ۔ تاکہ تسلسل قائم رہے اور ذہین میں کوئی اُلجھن پید ا نہ ہو۔ اسکے بعد ہم حضرت اسحاق ،حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہ السلام کے حالات پیش کریں گے ۔ کیونکہ اِ ن کے حالات ، حضرت لوط علیہ السلام کے بعد پیش آئے ہیں۔

حضرت لوط علیہ السلام کا سلسلئہ نسب 

حضرت لوط علیہ السلام کے سلسلہ نسب کے بارے میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ حضرت لوط علیہ اسلام ، حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے بھائی ہاران بن تارخ کے بیٹے ہیں ۔جسے آذربھی کہا جاتا ہے ۔ حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے دو بھائی ہاران اور ناحور تھے ۔ اِس طرح حضرت لوط علیہ اسلام کا سلسلہ نسب اس طرح ہے ۔حضرت لوط علیہ اسلام بن ہاران بن تارخ ۔اس طرح تارخ پر جاکر آپ علیہ السلام کا سلسلئہ نسب حضرت ابراہیم علیہ السلام سے مِل جاتا ہے ۔ اور حضرت لوط علیہ السلام کے سگے چچا حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں ۔

حضرت لوط علیہ السلام کی ہجرت 

ٍایک روایت میں ہے کہ حضرت لوط علیہ السلام کے باپ کانا م ہاران نہیں حران تھا۔ اور وہ ایک دوسرے علاقے میں جاکر بس گیا تھا اور اُسکے نام پر وہاں کی بستی کا نام حران پڑگیا تھا۔اور آگ سے نکلنے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام ہجرت کرکے پہلے اپنے بھائی کے پاس گئے او اُسے اسلام کی دعوت دی ۔ اُس نے تو اسلام قبول نہیں کیا لیکن حضرت لوط علیہ السلام اپنے چچا علیہ السلام پر ایمان لے آئے ۔ اب حقیقت کا علم تو صر ف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے ۔ ہرحال جب حضرت ابراہیم علیہ السلام پر صر ف سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا اورحضرت لوط علیہ السلام ہی ایمان لائے ۔ اور اِن تینوں مقدس ہستیوں نے اللہ کے لئے ہجرت کی اور مِصر گئے ۔وہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو سید ہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا ملیں ۔ اور یہ چاروں اُس وقت کے ملُک کنعان جو بعد میں ملُک شام کا ایک صوبہ کہلایا اور اب مُلک فلسطین کہلاتا ہے ، اُسکی طرف ہجرت کرگئے ۔ راستے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام کو بھی نبوت سے سرفراز فرمایا ۔ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کوحُکم دیا کہ وہ اپنے بھتیجے کو اسلام کی دعوت دینے کے لئے قوم سدوم کی طرف بھیجیں تو اُنھوں نے حضرت لوط علیہ السلام کو قوم سدوم کی طرف بھیج دیا۔

قومِ سدوم کا علاقہ

حضرت لوط علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے قوم سدوم کی طرف نبی بنا کر بھیجا ۔ علامہ غلام رسول سعیدی اپنی تفسیر تبیان القران میں لکھتے ہیں ۔ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم جس علاقہ میں رہتی تھی اُس کو آج کل” شرق اردن “کہا جاتا ہے ۔یہ جگہ عراق اور فلسطین کے درمیان ہے ۔ توریت میں اس علاقے کے صدر مقام (راجدھانی) کا نام سدوم بتایا گیا ہے۔جو یا تو بحیرئہ مردار کے قریب کسی جگہ واقع تھا ۔ یاپھر اب بحیرئہ مردار ہی اس کی ایک یادگار کے طور پر رہ گیا ہے۔ جسے آج تک بحرلوط کہا جاتا ہے ۔اردن کے اُس جانب جہا ں بیحرئہ مُردار یا بحرلوط واقع ہے۔ اُس کے قر یب رہنے والوں کا اعتقاد ہے کہ یہ تمام حصہ جواب سمندر نظر آرہا ہے کسی زما نہ میں یہ خشک زمین تھا اور اِس پر شہر آباد تھے ۔ سدوم اور عامورا وغیرہ یہیں تھے ۔ جب قوم لوط پر عذاب آیا اوراس زمین کا تختہ اُلٹ دیا گیا اور سخت زلزلے آئے ۔ تب یہ زمین تقریباًچار سو میڑ سمندر سے نیچے چلی گئی اور پانی اُبھر آیا ۔اس سے اسکا نا م بحر مُردار اور بحر لوط ہے۔اس زمانے کے محققین نے بحر مُردارکے ساحل پر تبا ہ شدہ بستیوں کے آثار دیکھ کر یقین کرلیا ہے کہ یہی وہ جگہ ہے۔ جس کا اللہ اتعالیٰ نے قرآن پاک میں ذکر فرمایا ہے ۔ مولاناسید ابو الاعلیٰ مودودی تفہیم القران میں لکھتے ہیں ۔ یہ قوم اس علاقہ میں رہتی تھی ۔جسے آج کل ”شرق اردن “کہا جاتا ہے ۔ اور عراق اور فلسطین کے درمیان میں واقع ہے ۔بائیبل میں اِس قوم کے صد ر مقام (راجدھانی ) کانام سدوم بتایا گیا ہے۔ جو تو بحرمُردار کے قریب کسی جگہ واقع تھا یا اب بحر مُردار میں غرق ہوچکا ہے ۔ تلمود میں لکھا ہے کہ سدوم کے علاوہ اُن کے چار بڑے شہر اور بھی تھے اور ان شہروں کے درمیان کا علاقہ ایسا گلزار بنا ہوا تھا کہ میلوں تک بس صرف باغ ہی باغ تھے ۔ جسکے جمال کو دیکھ کر انسا ن پر مستی طاری ہونے لگتی تھی ۔ مگر اب اس قوم کا نام ونشان دنیا سے بالکل ناپید ہوچکا ہے ۔اور یہ بھی متعین نہیں ہے اس کی بستیاں ٹھیک کس مقام پر واقع تھیں ۔ اب صرف بحر مُردار ہی ایک یادگار کے طور باقی رہ گیا ہے جسے آج کل بحر لوط کہا جاتا ہے۔ 

حضرت لوط علیہ لسلام کا اعلان نبوت 

حضرت لوط علیہ السلام ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے ہیں ۔ اپنے چچا محترم کے ساتھ عراق سے نکلے اور کچھ مدت تک شام ،فلسطین اور مصر میں گشت لگا کر دعوت و تبلیغ کا تجربہ حاصل کرتے رہے۔ پھر مستقل نبوت کے منصب پر سرفراز ہوکر اِس بگڑی ہوئی قوم کی اصلاح پر مامور ہوئے ۔ اہل سدوم کو اِس لحاظ سے اُن کی قوم کہا گیا ہے کہ غالباًاُن کا رشتہ داری کا تعلق اِس قوم سے تھا ۔ مولانا مفتی محمد شفیع تفیسر معارف القران میں لکھتے ہیں ۔حضرت لوط علیہ السلام ، حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے بھتیجے ہیں۔ دونوں کا اصل وطن مغربی عراق میں بصرہ کے قریب ارض بابل کے نام سے معروف تھا۔ اِس میں بت پرستی پر عام رواج تھا۔خلیل اللہ علیہ السلام کا گھر انہ بُت پرستی میں مبتلا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اُن کی ہدایت کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو رسول بناکر بھیجا ۔ قوم نے مخالفت کی اورآگ میں ڈال دیا۔ خود باپ نے گھر سے نکل جانے کاحُکم دیا ۔ صرف بیوی سیدہ سارہ رضی اللہ عنھا اور بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام ایمان لائے ۔بالآخر اُن دونوں کو لیکر ملک شام کی طرف ہجرت فرمائی ۔ نہراُردن کے پاس پہنچ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حُکم سے ملک کنعان کی طرف روانہ ہوئے اور حضرت لوط علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے نبوت عطا فرما کر اردن اور بیت المقدس کے درمیان مقام سدوم کے لوگوں کی ہدایت کے لئے مبعوث فرمایا ۔یہ علاقہ پانچ اچھے خاصے بڑے شہروں پر مشتمل تھا۔جن کے نام سدوم عمورہ ، ادمہ ،صبوبیم ار بالع یا صوغر تھے ۔ ان کے مجموعہ کوقران پاک نے ”موتفکہ“ اور” موتفکات “کے الفاظ میں کئی جگہ بیان فرمایا ہے۔سدوم اِن شہروںکا دارلحکومت اور ”مر کذ“سمجھا جاتا تھا۔حضرت لوط علیہ السلام نے یہیں قیام فرمایا،زمین سرسبزو شاداب تھی،اورہر طرح کے غلے اور پھلوں کی کثرت تھی۔مفتی احمد یارخان نعیمی لکھتے ہیں۔حضرت لوط علیہ السلام نے اپنے چچا کے ساتھ ہجرت کی اور تین لوگوں کا یہ قافلہ روانہ ہوا ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی زوجہ کے ساتھ فلسطین چلے گئے ۔ اور حضرت لوط علیہ السلام مُلک شام کے شہر حمص کے پاس ایک بستی اردن میں قیام پذیر رہے ۔ آپ علیہ السلام وہاں کی چار بستیوں کے بنی ہوئے ۔ ان کے نام سدوم ، آمور ، عامور ،صبویر ، برلین ہے۔ اِن میں سے ہر شہر کی آبادی ایک لاکھ جوان پر مشتمل تھی ۔بوڑھے ،بچے اور عورتیں اِن کے علاوہ تھے۔ سدوم سب سے بڑا شہر تھا وہیں حضرت لوط علیہ السلام نے قیام فرمایا ۔ انھی بستیوں کو” موتفکا ت “یعنی اُلٹی جانے والی بستیاں کہاگیا ہے ۔ 

قوم سدوم کی بُر ائیاں

حضرت عبداللہ بن عبا س رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ حضرت لوط علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے جن بستیوں کی طرف نبی بناکر بھیجا ۔ یہ چار شہروں پر مشتمل تھیں ۔یعنی سدوم ،امورا،عامور اور صبویر۔ہر بستی میں ایک لاکھ جنگجوتھے ۔ اور ان میں سے سب سے بڑا شہر سدوم تھا۔حضرت لو ط علیہ السلام نے اسی شہر میں سکونت اختیار فرمائی ۔ یہ شہر ملک شام کے شہروں میں سے ایک تھا اورفلسطین سے ایک دن اور ایک رات کی مسانت پر ہے۔قوم سدوم کے لوگ بہت امیر تھے اُن کے پانچوں شہروں میں پھل فروٹ اور اناجوں اور ہر قسم کی قدرتی نعمتیں اللہ تعالیٰ نے عطافرمائی تھیں ۔ ہر قسم کی پیداوار کی فراوانی تھی ۔ان کے علاوہ یہ پانچوں شہر تجارتی شاہراہ پر واقع تھے۔ اور اِسی وجہ سے ان پانچوں شہروں میں بڑی بڑی تجارتی منڈیاں تھیں ۔ اِن منڈیوں میں دوسرے علاقوں کے لوگ اپنا مال فروخت کرتے تھے۔اورقوم ِسدوم کے یہاں پیدا ہوئے پھلوں اور دوسری چیزوں خرید کر لے جاتے تھے۔ اِسطرح قوم سدوم کا ہر شخص دولت مند تھا۔ اور دولت اور عیش وآرام نے اِس قوم میں طرح طرح کی بُرائیاں پیدا کردی تھیں۔مولانا محمد آصف قاسمی تفسیر بصیرت القران میں لکھتے ہیں ۔ کہ نعمتوں کی فراوانی اور دولت کی ریل پیل نے اِس قوم کو سرکش بنادیا تھا۔آگے لکھتے ہیںکہ اللہ تعالیٰ نے قران پاک میں فرمایاہے کہ جب انسان دیکھتا ہے کہ وہ کسی کا محتاج نہیں ہے تو وہ سرکشی کرنے لگتا ہے۔ یہی حال سدوم کے رہنے والوں کا ہوا۔ وہ عیش وعشرت میں اتنے مُبتلاہوئے کہ زنا کاری کی نئی نئی راہیں ایجاد کرلیں ۔

قوم سدوم کی سب سے بڑی بُرائی

قوم سدوم طرح طرح کی بُرائیوں میں مُبتلا ہوگئی تھی۔ ابلیس شیطان نے اُنھیں ایسی ایسی بُرائیوں میں مُبتلا کر دیاتھاکہ ایک اچھا انسان اسکا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اِس قوم میں چوری کر نا عام ہوگیا تھا۔مسافروں کو ستانا اور اُن کو ذلیل کرنا اُن کے لئے عام بات تھی ۔اور غریبوںپر ظلم کرنا اُن کی عادت بن گئی تھی ۔اور سب بڑی برُائی اُن میں یہ آگئی تھی کہ مرد، مرد سے جنسی خواہش پوری کر تے تھے اور عورتیں ، عورتوںسے جنسی خواہش پوری کر تے تھے۔امام ااسحاق بن مبشراور امام ابن عساکرنے حضرت محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ کی سند سے بیان کرتے ہیں کہ قوم سدوم جب طرح طرح کی بُرائیوں میں مُبتلا ہوگئی تو ابلیس شیطان نے اِن کی سرکشی اور بُرائیوں کو دیکھ کر ایک انتہائی خوب صورت نوجوان لڑکے کی شکل میں اِن کی مجلس میں آیا ۔ اور اُن کووہ گناہ کرنے کی دعوت دی جواُن سے پہلے کبھی کسی نے نہیں کیا تھا۔ پھر اُنھوں نے اُس سے جنسی خواہش پوری کی ۔ پھر اسکے بعد تو دھیرے دھیر ے پوری قوم میں یہ بُرائی عام ہوگئی ۔ حضرت عبداللہ بن عبا س رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قوم سدوم کے گھروں اور باغات میں بے شمار پھل لگے ہوئے تھے۔ اور وہ پھل راستے کی جانب باہر لٹکے ہوئے تھے ۔ ایک مرتبہ اُن پر قحط آگیااو ر پھلوں کی قلت ہوگئی ۔ تو اُن کے دلوں میں شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اُنھوں نے آپس میں مشورہ کیاکہ اگر تم اس ظاہر سامنے والے پھل کو مسافروں سے محفوظ رکھوگے تو اس میں تمھارے لئے عیش و خوشحالی ہوگی۔اُنھوں نے کہا ہم کون سی چیزکے سبب اس پھل کو بچاسکتے ہیں؟ تو اُنھوں نے کہا ۔ تم یہ اصول بنا کر کہ اپنے شہرمیں جس اجنبی شخص کو پکڑوتو اُس کے بارے میں یہ طریقہ اختیا ر کرو کہ تم اُس شخص کے ساتھ ہم جنسی (بد فعلی) کر و۔ کیونکہ جب تم اس طرح کروگے تو لوگ تمھارے شہرکی طرف نہیں آئیں گے۔ بس یہی وہ شئے ہے (جسکے ذریعے شیطان نے وسوسہ پیداکرکے ) جس نے اُنھیں اتنی بڑی بے حیائی کے ارتکاب پرا ُبھاراجس کا ارتکاب اس سے پہلے دنیا کی کسی قوم نے نہیں کیا۔

قوم سدوم کے مرد اور عورت دونوں ہم جنس پرست تھے

قوم سدوم (حضرت لوط علیہ السلام کی قوم ) بہت ذیادہ بے حیائی اور برُائیوں میں مُبتلا تھی ۔ امام بیہقی اور امام ابن عساکر اپنی سند سے روایت کرتے ہیں کہ قوم سدوم نے پہلے اپنی عورتوں کے پچھلے حصّے کو استعمال کیا اور چالیس برسوں تک استعما ل کرتے رہے ۔ پھر مردوں کے ساتھ ہم جنسی شروع کردی ۔قوم سدوم کے مرد تو بے حیائی اور اِس بُرے فعل میں مُبتلا تھے ہی اُن کی عورتیں بھی اُن کی طرح بے حیائی اور ہم جنسی میں مُبتلا تھیں ۔ امام ابن ابی الدنیا اور امام ابن عساکر نے حضرت طاﺅس رحمتہ اللہ علیہ سے نقل کیا ہے کہ اُن سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو عورت کے پچھلے حِصّے کے ذریعے ملاپ کرتا ہے تو انھوں نے کہا ۔ اس کا آغاز قو م سدوم (حضر ت لوط علیہ السلام کی قوم نے کیا) پہلے مردوں نے عورتوں سے یہ فعل کیا اور پھر یہی فعل مردوں کے ساتھ کیا۔قوم سدوم اتنی ذیادہ بے حیائی میں مُبتلا ہوگئے تھے کہ مرد عورتوں سے بے پرواہ ہوگئے تھے اور عورتیں مردوں سے بے پرواہ ہوگئیں تھیں۔ امام بیہقی اور اما م ابن عساکر نے حضرت حذیفہ رحمتہ اللہ علیہ سے یہ قو ل نقل کیا ہے کہ قو م سدوم یعنی حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کے بارے میں پختہ قول یہ ہے کہ اُس وقت عورتیں عورتوں کے سبب اور مرد مردوں کے سبب ایک دوسرے سے مستعنی اور بے نیاز تھے ۔ حضرت ابو حمزہ رحمتہ علیہ فرماتے ہیں ۔ میں نے حضرت محمدبن علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے قوم سدوم کی عورتوں کو اُن کے مردوں کے سبب عذاب دیاہے؟تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں عدل وانصاف کیا ہے ۔ کیونکہ اُس وقت مرد ، مردوں سے اور عورتیں عورتوں سے لطف اندوز ہواکرتے تھے ۔ 

حضرت لوط علیہ السلام نے قوم سدوم کو سمجھایا

اللہ تعالیٰ نے لو ط علیہ السلام کو اپنا نبی بنا کر قوم سدوم کی طرف بھیجا ۔آپ علیہ السلام اِن پانچوں شہروں میں گھوم گھوم کر قوم سدوم کو سمجھاتے رہے ۔ اُس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام ملک کنعان میں فلسطین کے شہر ”الخلیل“ میں تشریف فرماتھے۔آپ علیہ السلام اللہ کے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام پر دس صحیفے نا زل فرماتے تھے۔ اور حضرت لوط علیہ السلام اپنے چچا کی شریعت پر کار بند تھے۔اور اُسی کے مطابق قوم سدوم کو اسلام کی دعوت دیتے تھے اور بے حیائیوںاور برائیوں سے روکنے کی کوشش کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا ۔ ترجمہ” قوم لوط نے بھی نبیوں کو جھُٹلایا ۔ جب اُن کے بھائی لو ط (علیہ السلام ) نے کہا ۔ کیا تم اللہ کا خوف نہیں رکھتے ؟ میں تمھاری طرف امانت دار رسول ہوں ۔ پس تم اللہ سے ڈرواور میر ی اطاعت کرو ۔ میں تم سے اِس کا کو ئی صِلہ یا بدلہ نہیں مانگتا ۔ میر ا اجر صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ اور تم تمام جہاں والوں میں سے اکیلی قوم ہوجو مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو۔اور جن عورتوںکو اللہ تعالیٰ نے تمھارا جوڑا بنا یا ہے اُن کو چھوڑدیتے ہو۔ تم تو حد سے گذرجانے والی قوم ہو۔“(سورہ الشعراءآیت نمبر 160 سے 166 تک۔)

میں تمھاری دولت کا محتا ج نہیں ہوں 

اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءکی آیا ت نمبر ۰۶۱ سے ۶۶۱ میں جو فرمایا ہے۔ اُسکی تفسیر میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ کہ اب اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور نبی حضرت لوط علیہ السلام کا ذکر بیا ن فرمارہاہے ۔ ان کا نا م لوط بن ہاران بن آذرتھا۔ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے ہیں۔ اُنھیں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی میں ہی بہت بڑی اُمت کی طرف بھیجا تھا۔ یہ سدوم اور اس کے آس پاس بسے ہوئے تھے۔ بالآخر یہ بھی اللہ کے عذابوں میں پکڑے گئے ۔ سب کے سب ہلاک ہوئے اور اُن کی بستیوں کی جگہ ایک جھیل سڑے ہوئے گندے کھارے پانی کی باقی رہ گئی ہے۔ یہ اب بھی بلادغور کے نام سے مشہور ہے جو بیت المقدس اور کرک اورشوبک کے درمیان ہے ۔اِن لوگوں نے بھی اللہ کے نبی حضرت لوط علیہ السلام کو جھٹلایا ۔آپ علیہ السلام نے اُنھیں اللہ کی معصیت چھوڑنے اور اللہ کی اور اپنی اطاعت یعنی اسلام کی دعوت دی اور اُن کے درمیان اعلان نبوت فرمایا۔ اُنھیں اللہ کے عذاب سے ڈرایا ۔ اور اعلان کردیاکہ میں تمھارے پیسے ٹکے یعنی دولت کا محتاج نہیں ہوں ۔ میں صرف اللہ کے لئے تمھاری خیرخواہی کررہا ہوں ۔ تم اپنے اِس خبیث فعل سے باز آجاﺅ ۔ یعنی عورتوں کو چھوڑکر مردوں سے حاجت روائی کر نے سے رُک جاﺅ ۔لیکن اُنھوں نے اللہ کے نبی علیہ السلام کی نہیں مانی۔بلکہ آپ علیہ السلام کو ایذائیں اور تکلیفیںدینے لگے ۔ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اُن کی خاص بد کرداری سے روکا۔ کہ تم مردوں کے پاس شہوت سے نہیں آﺅ ۔ ہاں اپنی حال بیویوں سے اپنی خواہشیںپوری کرو جنھیں اللہ تعالیٰ نے تمھارا جوڑا بنایا ہے ۔ رب یعنی اللہ کی مقرر کی ہوئی حدوں کا ادب واحترام کرو۔ 

فطرت کے خلاف حرکت مت کرو۔

اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءکی اِن آیات میں جو فرمایا ہے۔ اُسکی تفسیر میں مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں ۔ کہ حضرت لوط علیہ السلام جو اللہ کے نبی علیہ السلام ہیں۔سدوم اور عامورہ کی بستیوں میں رہنے والے بدکر دار لوگوں کی اصلاح کے لئے بھیجے گئے تھے۔یہ وہ قوم تھی جو اپنی شہوت پر ستی کی حدووکو پھلانگ چکی تھی ۔ اُن کے لئے اُن کی عورتیں فطری خواہش کے لئے ناکافی تھیں اور وہ لڑکوں سے غیر فطری فعل بدمیں کھلم کُھلاّ بغیر کسی شرم وحیا کے مُبتلا تھی۔ اِس قوم کے لوگ اپنی اس ناجائز اور غیر فطری خواہش کو پورا کر نے کے لئے لڑکوں کے پیچھے ایسے دیوانے ہو چکے تھے کہ جب حضرت لوط علیہ السلام نے اُن سے فرمایاکہ اے میری قوم!تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اپنی فطری خواہش کو پورا کرنے کے لئے لڑکوں کے پیچھے دیوانہ وار دوڑرہے ہو ۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے جو فطری طریقہ مقرر فرمایا ہے۔یعنی عورتوں کو تمھارا جوڑا بنایا ہے۔ تاکہ تم اُن سے نکاح کر کے اپنے فطری تقاضوں کو حلال اور جائز طریقے سے پورا کرو۔تم نے فطر ت کے قانون کو توڑکر جس راستے کو اپنایاہے اُس کاانجام بہت بھیانک ہے۔ میںاللہ کی طرف سے نبی اور امانت دار پیغمبر بناکر بھیجاگیا ہوں۔ اللہ سے ڈرو اور میری بات مانواور میر ی اطاعت کرو۔ میں یہ سب کہنے پر تم سے کوئی اجرت اور معاوضہ تو نہیں مانگ رہاہوں ۔میرا صِلہ اور بدلہ تو اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ کتنی بدترین بات ہے کہ تم فطری اور جائز راستے کوچھوڑکر لڑکو ں کے پیچھے لگے ہوئے ہو۔اِس سے باز آجاﺅ یہ قوم اِس گندے اورخبیث فعل کی وجہ سے بے شرمی کی انتہا کو پہونچ چُکی تھی۔ اس لئے ان کے لئے کسی بڑے سے بڑے ناجائز فعل کو کر گزرنے میں کوئی رُکاوٹ نہیں تھی ۔اور یہ بد بخت مسافروں کولوٹتے تھے، ڈاکے ڈالتے تھے شراب نوشی میں بد مست ہوچکے تھے۔

تم انسانیت سے نیچے گرِ گئے ہو۔

اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءکی آیات نمبر 160 سے 166 تک میں جو فرمایا ہے اُسکی تفسیر میں محمد لقمان سلفی لکھتے ہیں۔کہ حضرت لوط علیہ السلام نے سدوم اور عموریہ والوں کو پہلے تو ان کے شرک ومعاصی کی وجہ سے عذاب سے ڈرایا ۔ اپنی اطاعت اور اتباع کی دعوت دی اور اپنے بے لوث جذبہ اصلاح کی وضاحت کی کہ مجھے کسی منفعت کی لالچ نہیں ہے۔اسکے بعد اُنھوں کے گھناونے گناہ (مردوں کے ساتھ بد فعلی ) پر عاردلایا اور فرمایا کہ تم لوگ انسانیت سے نیچے گِر گئے ہواور حیوانی شہوت نے تمھاری عقلوں پر اِس طرح پر دہ ڈال دیا ہے کہ تم مردوں کے ساتھ بد فعلی کرتے ہو۔ اور اللہ تعالیٰ نے تمھارے لئے جو بیویاں پیدافرمائی ہیں ۔ اُن کے اند ر تمھارے لئے کوئی رغبت باقی نہیں رہ گئی ہے۔ تمھاری فطرت مسنح ہو کر رہ گئی ہے۔اور حق وباطل اور حلال و حرام کے درمیان کی تمام حدوںکو تم پھلانگ گئے ہو۔

وہ بُر ا عمل جو پہلے کسی نے نہیں کیا۔

اللہ تعالیٰ نے سورہ لاعراف میں فرمایا ۔ ترجمہ ۔”اورہم نے لوط (علیہ السلام ) کو بھیجا اور اُنھوں نے اپنی قوم سے فرمایا ۔ تم ایسا فحش کا م کرتے ہو جس کو تم پہلے کسی نے دنیا میں نہیں کیا ہے۔تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو،تم حد سے گذرگئے ہو۔“ (سورہ الاعراف آیت نمبر 80 اور 81 ) اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا ۔ترجمہ” اور لوط (علیہ السلام ) کا ذکرکرو۔ جب اُنھوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم عورتوں کو چھوڑکر مردوں کے پاس شہوت سے آتے ہو ۔ حقیقت یہ ہے کہ تم بہت بڑی نادانی کر رہے ہو۔“ (سورہ نمل آیت نمبر 54 اور 55 ) اللہ تعالیٰ نے سور ہ العنکبوت میں فرمایا ۔ ترجمہ ۔ اور لوط علیہ السلام کا بھی ذکر کرو۔ جب اُنھوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم تو ایسی بدکا ری پر اُتر آئے جیسی تم سے پہلے دنیا بھر میں کسی نے نہیں کیا ہے ۔ کیا تم مردوں کے پاس بدفعلی کے لئے آتے ہو اور راستے بند کرتے ہو اور اپنی عام مجلسوںمیںبے حیائیوںکاکام کر تے ہو(سورہ العنکبوت آیت نمبر 28 اور 29)

جان بو جھکر بے حیائی کر رہے ہو

اِن آیات کی تفسیر میں مولانا عاشق الہٰی مہاجرمدنی لکھتے ہیں۔ حضرت لوط علیہ السلام جن کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ یہ لوگ بہت برُے کام کرتے تھے۔یعنی مردمردوں سے شہوت پوری کرتے تھے۔ آپ علیہ السلام نے ان کو ایمان کی دعوت دی اور یہ سمجھایا کہ اِس بے حد گھناﺅنے اور برُے کام کو چھوڑدو۔ جسکے بارے میں تمھارا دِل بھی جانتا ہے کہ یہ کام اچھا نہیں ہے۔ یہ جاہلوں کا کام ہے ۔ تم پر جہالت سوارہے کہ تم یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ برُاکا م ہے۔ بھر بھی اسے نہیں چھوڑرہے ہو۔ مولانا سیدابو اعلیٰ مودودی اپنی تفہیم میں لکھتے ہیں ۔ کہ اِس ارشاد کے کئی معنی ہوسکتے ہیں۔ اور غالباً سب ہی مرُاد ہیں ۔ ایک یہ کہ تم اِس فعل کے فحش اور کاربد (برُاکام) ہونے سے ناواقف نہیں ہو۔ بلکہ جانتے بوجھتے اس کاارتکاب کررہے ہو۔ دوسرے یہ کہ تم اِس بات سے بھی نا واقف نہیں ہو کہ مردکی خواہش نفس کے لئے مرد پیدا نہیںکیاگیا ہے۔ بلکہ عورت پیدا کی گئی ہے۔ اور مرد اور عورت کا فرق ایسا نہیں کہ تمھیں تمھاری آنکھوں سے نظر نہیں آتا ہو۔ مگر تم کھلی آنکھوں کے ساتھ یہ جیتی مکھی نگلتے ہو۔ تیسرے یہ کہ تم علانیہ (کھلے عام ) یہ بے حیائی کاکام کرتے ہو جب کہ دیکھنے والی آنکھیں تمھیں دیکھ رہی ہیں ۔ جیسا کہ آگے سورہ عنکبوت میں آرہاہے۔ ترجمہ۔اور تم اپنی مجلسوں میں برُا کام کرتے ہو۔( آیت 29) امام قرطبی اِس کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ ہم نے حضرت لوط علیہ السلام کو بھیجا یا حضرت لوط علیہ السلام کا ذکر کر و۔ قوم سے مرُاد اہل سدوم ہیں ۔ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا۔ ”تم ایسا فحش کام کرتے ہو۔“فاحشہ سے مراد ایسا فعل جو قبیح اور شنیع ہو جبکہ تم دیکھ رہے ہوکہ یہ بے حیا ئی ہے۔ (اس کے بعد بھی کررہے ہو۔) یہ تمھارا سب سے بڑا گنا ہ ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ایک دوسرے کے پاس جاتے ہو جبکہ تم اسے دیکھ رہے ہوتے ہو۔ وہ سرکشی اور تمرّدکی وجہ سے پردہ پوشی نہیں کرتے تھے۔ 

تم کھلے عام بے حیائی کر رہے ہو۔

اللہ تعالیٰ نے سورہ عنکبوت کی آیت نمبر 28 اور29 میں فرمایا ہے۔ اسکی تفسیر میں امام قرطبی لکھتے ہیں ۔کہ حضرت لوط علیہ السلام کو یاد کرو کہ اُنھوں نے اپنی قوم کو شرمند ہ کرتے ہوئے اور ڈراتے ہوئے فرمایا کہ تم وہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے کسی نے نہیں کیا ہے ۔قوم سدوم کے بارے میں ابن زید کہتے ہیں کہ وہ ڈاکوتھے ۔ ایک قول میں ہے کہ وہ اپنی خواہش کو پورا کرنے کے لئے راستوں سے لوگوں کا اُٹھالیا کرتے تھے۔ یہ ابن شجرہ کا قول ہے۔وہب بن منبہ کا قول ہے کہ عورتوں سے بے ر غبتی اور مردوں سے رغبت کرنا ۔ نئی نسل کو قطع (کاٹ) کرنا ہے۔اور مردوں کی وجہ سے وہ عورتوں سے بے پرواہ ہوگئے تھے۔ میں (امام قرطبی)کہتاہوں کہ یہ سب بیماریوں اِن میں موجود تھیں وہ ڈاکہ مارتے تھے تاکہ مال دولت حاصل ہو۔اور بد فعلی کریں اور اسی وجہ سے وہ عورتوں سے مستغنی (بے پرواہ) ہوگئے تھے۔اور اپنی کھُلی مجلسوں میں گناہ کرتے تھے ۔ ایک جماعت کا کہنا ہے کہ وہ عورتوںکو کنکریاں مارا کرتے تھے۔اور وہ اجنبی اور باہرسے آنے والوں کو حقیر سمجھتے تھے۔سیدہ اُم ہانی رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں ۔ میں نے رسول اللہ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ کے اِس فرمان کہ وہ کھُلی مجلسوں میں منکر کرتے تھے کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جواُن کے پاس سے گذرتا تھا اُسے کنکریاں مارتے تھے ۔ اور اُس کا مذاق اُڑاتے تھے۔ یہی وہ منکر عمل تھا جو وہ کرتے تھے۔(جامع ترمذی) حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔حضرت لوط علیہ السلام کی قوم اپنی مجالس میں جب بیٹھا کرتی تھی تو ہر آدمی کے پاس ایک پیالہ ہوتا تھا۔جس میں مارنے کے لئے کنکریاں ہوتی تھیں ۔ جب کوئی اُن کے پاس سے گذرتا تھا وہ اُس پر کنکریاں پھینکتے تھے۔جسکی کنکری اُس کو لگ جاتی تھی وہ اُسکا ذیادہ مستحق ہوتا تھا۔یعنی وہ اُسے بد کاری کے لئے لے جاتا تھا۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ اپنی مجالس میں زور سے گوز (پیچھے سے ہوا) چھوڑتے تھے۔حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ (جلیل القدرتابعی ) فرماتے ہیں کہ وہ اپنی مجلسوں میں مردوں سے خواہش پوری کرتے تھے۔جبکہ وہ سب دیکھ رہے ہوتے تھے۔اور اُن کا معمول تھا۔ وہ کبوتروں سے کھیلتے ، انگلیوں میں مہند ی لگاتے ،سیٹیا ں بجاتے اور تمام کاموں میں بے حیائی کرتے۔ 

پوری قوم بے حیائی میں مُبتلا تھی۔

حضرت لوط علیہ السلام مسلسل قوم ِسدوم کو سمجھاتے رہے اور طرح طرح سے حکمتوں سے اُنھیں قائل کرنے کی کوشش کر تے رہے۔لیکن وہ بد بخت قوم اِتنی برُی طرح ابلیس شیطان کے قبضے میں تھی کہ کئی سال تک مسلسل سمجھانے کے باوجود وہ گناہوں بلکہ انتہائی غلیظ گناہوں میں مُبتلا ہے ۔اور مرد تو مرد اُن کی عورتیں بھی ہم جنس ہر ستی میں مُبتلا ہوگئی تھیں۔جسکا نتیجہ یہ ہوا کہ مرد اور عورت ایک دوسرے سے بے پراوہ ہوگئے تھے۔اور قوم ِسدوم میں نئی نسل کی پیدائش ختم ہوگئی تھی۔ اور پوری قوم کھلم کھلا بے حیائی میں مبتلا تھی ۔سورہ عنکبوت کی آیت نمبر ۸۲ اور ۹۲ کی تفسیر میں مولانا محمدآصف قاسمی لکھتے ہیں۔حضرت لوط علیہ السلام سدوم اور عمورہ کی بستیوں کی اصلاح کے لئے نبی بناکر بھیجے گئے تھے۔وہاں کے لوگوں کا یہ حال تھاکہ وہ غیر فطری فعل کو کھلم کھلا اِس طرح کرتے تھے کہ اس کے خلاف بات کرنے اور نصیحت سننے کے لئے تیار نہیں تھے۔حضرت لوط علیہ السلام نے اِس پوری قوم کو للکارا کہ تم نے ایک ایسے فعل کو رواج دیا ہے جو آج تک دنیا میں کسی نے نہیں کیا ہے۔یعنی کسی قوم نے ایسا برُا فعل نہیں کیا ہے۔تم اپنی نفساتی خواہشات کے لئے عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے بد فعلی کر تے ہو۔تمھاری شیطانی ہرکتوں سے ہر شخص عاجز آچکا ہے۔لوگوں کے لئے راستہ چلنا دشوار ہوگیاہے۔چوری ،ڈاکہ اور لوٹ مار سے کسی کی جان محفوظ نہیں رہی ہے۔تم کھلے عام بے شرمی اور بے حیائی کے کام کر تے ہو۔ تمھاری گفتگواور بات چیت میں شائستگی اور تہذیب دم توڑچکی ہے۔اگر تم نے اللہ سے توبہ نہیں کی اور اِس فعل سے باز نہیں آئے تو جس طرح پہلے کی قوموں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا تھا۔اسی طرح تم پر قہر ٹوٹ پڑے گا۔ مولانا سیدابواعلیٰ مودودی اِن دوآیات کی تفہیم میں لکھتے ہیں۔کہ یعنی ان سے شہوت رانی کرتے ہو جیسا کہ سورہ اعراف میں ہے کہ تم خواہش نفس پوری کر نے کے لئے عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس جاتے ۔ آگے لکھتے ہیں کہ یہ فحش کام چھپ کر بھی نہیں کرتے ہو۔ بلکہ اپنی مجلسوں میں علانیہ (کھلے عام ) ایک دوسرے کے سامنے اسکاارتکاب کرتے ہویہی بات سورہ نمل میں فرمائی ۔ کیا تم اتنے ذیادہ بگڑگئے ہو کہ دیکھنے والی آنکھوںکے سامنے فحش کا ری کرتے ہو۔

سب سے پہلے اللہ کی راہ میں جہاد

حضرت لوط علیہ السلام مسلسل کئی سال تک قوم ِ سدوم کو سمجھاتے رہے۔ لیکن وہ آپ علیہ السلام کا مذاق اڑاتے رہے اور اپنی برائیوں پر ڈٹے رہے لیکن آپ علیہ السلام بھی صبر اور حکمت سے اللہ کی طرف بُلا تے رہے اور اُنھیں بے حیائیوں سے روکنے کی کوشش کرتے رہے۔ آخر قوم آپ علیہ السلام سے عاجز آگئی ۔ اور اپنی ایک دوست قوم سے ملکر سازش کی۔ اُس قوم نے قومِ سدوم پر حملہ کیا اور حضرت لوط علیہ السلام کو گرفتار کر کے لے گئے ۔ یا پھر قومِ سدوم کے لوگوں نے آپ علیہ السلام کو گرفتار کروایا کہ ان سے جان چھوٹ جائے۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں۔حضرت لوط علیہ السلام اپنے اہل وعیال اور مال کو لیکر اردن کی سرزمین (قومِ سدوم) کی طرف چلے گئے ۔آپ علیہ السلام اسی مقام پر اسلام کی دعوت و تبلیغ کا کام کر رہے تھے کہ فلسطین کے رہنے والے ایک قبیلے نے حملہ کرکے آپ علیہ السلام کو اور گھروالوں کو گرفتار کرکے لے گئے ۔جب حضرت لوط علیہ السلام کی گرفتاری کی خبر ملی تو آپ علیہ السلام نے اپنے اہل اور غلاموں اور علاقے کے لوگوں کے ساتھ ملکر اُس قبیلے پر حملہ کر دیا۔اُس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ تین سو مجاہدین تھے ۔اور آپ علیہ السلام اللہ کے لئے سب سے پہلے جہاد کر نے والے ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی مد د فرمائی اور فتح عطافرمائی ۔اور آپ علیہ السلام نے حضرت لوط علیہ السلام اور اُن کے گھروالوں کو رہائی دلائی۔اِسکے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام تو ”الخلیل “میں واپس آگئے اور حضرت لوط علیہ السلام پھر قوم سدوم کو سمجھانے کے لئے اُن کے پاس چلے گئے ۔ لیکن وہ بد بخت قوم کفر اور بے حیائیوں پر اڑی رہی۔ 

حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی قوم ِسدوم کو سمجھاتے تھے

حضرت لوط علیہ السلام تو مسلسل قومِ سدوم سمجھاتے رہتے تھے۔اسکے علاوہ آپ علیہ السلام کے چچاحضرت ابراہیم علیہ السلام بھی وقتاً فوقتاً اپنے بھتیجے کے پاس آتے تھے۔اور اِس بد بخت قوم کو سمجھاتے رہتے تھے۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔حضرت لوط علیہ السلام قوم ِسدوم کے سب سے بڑے شہر سدوم میں پذیر تھے۔یہ شہر اُس وقت مُلک کنعان کا ایک شہر تھا۔اور آج (حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے وقت ) ملک شام میں ہے۔اور فلسطین سے ایک دِن اور ایک رات کی مسافت پر ہے۔ اللہ تعالیٰ قوم سدوم کو مہلت دیتا رہا۔اور اُنھوں نے اسلام کا پردہ چاک کردیا اور محارم کی آبروریزی کرنے لگے۔اور فاحشہ کبُریٰ (یعنی مردوں سے بد فعلی )کا ارتکاب کر نے لگے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے خچر پر سوار ہوکر قومِ سدوم کے شہروں کی طرف آئے اور اُنھیں وعظ ونصیحت فرمائی لیکن اُنھوں نے قبول کر نے سے انکار کردیا۔اسکے بعد جب بھی آپ علیہ السلام اپنے بھتیجے سے ملنے آتے تھے تو قوم سدوم کو ضرور سمجھاتے تھے۔ اور فرماتے تھے اے قومِ سدوم ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمھارے لئے ایک دن مقررہے ۔وہ کون سا ہے میں بھی نہیں جانتا۔ بلاشبہ اس نے یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں (کفر اور ایسی برائیو ں سے ) منع فرمایاہے ۔اس لئے تم اللہ کے عذاب کو دعوت مت دو ۔ 

قوم سدوم نے بستی سے نکال دیا

اللہ تعالیٰ نے سورہ اعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ۔ اور اُن کی (حضرت لوط علیہ السلام کی ) قوم سے کوئی جواب نہیں بن پڑا سوائے اسکے کہ وہ آپس میں کہنے لگے کہ اِن لوگوں کو اپنی بستی سے نکال دو ۔ یہ لوگ بڑے پاک صاف بنتے ہیں ۔ (سورہ اعراف آیت نمبر 82۔ ) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ۔ اُنھوں نے (قوم سدوم کے لوگوں نے ) جواب دیا۔ کہ اے لوط (علیہ السلام )، اگر تم باز نہیں آئے تو ہم یقیناتمھیں (اپنی بستی سے) نکال دیںگے۔آپ علیہ السلام نے فرمایا ۔ میں تمھارے کاموں سے سخت ناخوش اور ناراض ہوں۔ (سورہ شعراءآیت نمبر 176 اور 186۔) اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ۔ قوم کا جواب سوائے یہ کہنے کہ اور کچھ نہیں تھاکہ آپ لوط کو اپنے شہر سے شہر بدِر کردو۔ یہ بڑے پاک باز بن رہے ہیں۔(سورہ نمل آیت نمبر 56۔) حضرت لوط علیہ السلام قوم ِسدوم کو بڑی محبت اور نرمی سے سمجھاتے رہے لیکن اِن کی آنکھوں پر ابلیس شیطان نے تکبّر اور گھمنڈکی پٹی باندھ رکھی تھی۔اِس لئے اِن بد بختوں نے آپ علیہ السلام سے دشمنی شروع کردی اور دشمن قبیلے نے اِن پر حملہ کر کے اِن لوگوں کو گرفتار کر لیا تھا اُن میں حضرت لوط علیہ السلام بھی تھے۔آپ علیہ السلام نے اپنے چچاکی مدد سے آزادی حاصل کی اور قوم ِسدوم کے لوگوں کو بھی آزاد کروایا ۔لیکن یہ احسان فراموش اور بے حیا قوم نے آپ علیہ السلام کو شہر میں داخل ہونے نہیں دیا۔پہلے زمانے میں ہر شہر اور گاﺅں کے اطراف ایک بلند دیوار ہوتی تھی۔ جو پورے شہر یاپوری بستی کو گھیر ے میں لئے ہوئے ہوتی تھی ۔اسے شہرپناہ یا پھر فصیل کہا جاتا تھا۔جس میں بڑے بڑے گیٹ یعنی دروازے ہوتے تھے۔اِس بد بخت قوم سدوم نے حضرت لوط علیہ السلام اور اُن کے گھروالوں کو بستی کے باہر نکال دیا ۔ اور آپ علیہ السلام بستی کے باہر اپنا گھر بناکر رہنے لگے اور پانچوں شہروں میں گھوم گھوم کر اُنھیں سمجھاتے رہے۔

قوم سدوم کو اچھے لوگوں کاوجود گوارا نہیں تھا

اللہ تعالیٰ نے سورہ اعراف کی آیت نمبر 82 میں جو فرمایا ہے کہ اسکی تفہیم میں مولانا سید ابواعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔اِس سے معلوم ہواکہ یہ لوگ صرف بے حیا ، بدکر دار اور بد اخلاق ہی نہیں تھے۔ بلکہ اخلاقی پستی میں اِس حد تک گِر گئے تھے کہ انھیں اپنے درمیان چند نیک انسانوں اور نیکی کی طرف بلانے والوں او ربرُائی پر ٹوکنے والوں کا وجود تک گوارا نہیں تھا۔وہ بدی (برُائی) میں یہاں تک غرق ہوگئے تھے۔کہ اصلاح کی آواز کو بھی برداشت نہیں کرسکتے تھے۔اور پاکی کے اِس تھوڑے سے عنصرکو بھی نکال دینا چاہتے تھے۔جو اُن کی گھناونی فضا میں باقی رہ گیاتھا۔اِسی حد کو پہنچ جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن کے استیصال کا فیصلہ صادر ہو ا۔ کیونکہ جس قوم کی اجتماعی زندگی میں پاکیزگی کا ذرا سا عنصر بھی باقی نہ رہ سکے تو اُسے زمین پر زندہ رکھنے کی کوئی وجہ نہیں رہتی ہے۔ سڑے ہوئے پھلوں کے ٹوکرے میںجب تک چند اچھے پھل موجود ہوں اُس وقت تک ٹوکرے کو رکھاجاتا ہے۔ مگر جب وہ اچھے پھل بھی نکل جائیں تو پھر اِس ٹوکرے کا مصرف اِس کے سِوا اور کچھ نہیں رہتا ہے کہ اُسے کو ڑے پر اُلٹ دیا جائے ۔ 

یہ ہمیں روکنے والے کو ن ہوتے ہیں

سورہ اعراف کی آیت نمبر 82 کی تفسیر میں مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔ کہ اِس حرکت کی ابتداءاِس طرح ہوئی کہ حضرت لوط علیہ السلام کی اِس قوم کی چاروں پانچوں بستیاں نہایت ہی سر سبز و شاداب تھیں ۔ ان میں باغات ، سر سبز کھیت اور نہریں وغیر ہ بہت تھیں ۔ اِن بستیوں کے آس پاس کے علاقوں کی زمین قریباً خشک تھی۔(یعنی دوسرے علاقوں میں خوراک پانی اور پھلوں وغیرہ کی بہت کمی تھی۔)اِسی لئے خشک زمین کے لوگ اور اُن کے لڑکے اِس سرسبز علاقہ میں آتے تھے۔اور اُن کے باغات کے پھل وغیر چوری کرکے لے جاتے تھے۔قومِ لوط کے لوگ اِن سے بہت پریشان تھے۔ایک دِن ابلیس شیطان نہایت حسین و جمیل لڑکے کی شکل میں آیا ۔ اور ایک باغ کے پھل توڑنے لگا۔باغ والے نے اسے پکڑ لیا اور مارنا پیٹنا چاہا تو ابلیس نے کہا ۔ تم مجھے مارومت بلکہ میرے ساتھ ایسی حرکت کرو ۔باغ والے نے ابلیس کے بتانے کے مطابق اُسکے ساتھ ویسی حرکت کی تو اُسے بہت لذت محسوس ہوئی ۔ پھر ابلیس بولا۔ اب جو بھی لڑکا تمھارے باغ کا پھل توڑنے آئے تو اُسے مارنا نہیں بلکہ یہی حرکت کرناتو تمھیں لطف حاصل ہوگا۔ اور اِس ڈرسے لڑکے تمھارے باغ میں آنا چھوڑدیں گے۔ اُس شخص نے دوسرے لوگوں کو بھی یہ واقع بتایا ۔ اور دوسرے لوگ بھی ایسا ہی کرنے لگے او ر ہوتے ہوتے یہ حرکت قومِ سدوم میںعام ہوگئی ۔ (اِسی لئے جب حضرت لوط علیہ السلام نے اُنھیں اِس حرکت سے منع فرمایا تو)اُنھوں یہی کہا کہ اِن کو اور اِن کے ساتھ اِن کے بال بچوں کو بھی اپنی بستی سے نکال دو ۔ وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ اِس حرکت کو سب لوگ اچھاکہتے ہیں ۔ اور یہ اکیلے بُرا کہتے ہیں۔ جمہور (اکثریت) کے مقابلے میں ایک شخص کی بات نہیں ماننی چاہیے ۔اور ہماری قوتیں ، طاقتیںاور دولت ہماری اپنی چیز یں ہیں ۔ جس طرح چاہیںخرچ کریں۔یہ روکنے والے کون ہوتے ہیں۔اور انسان آزاد ہے جو چاہے کر لے ۔یہ ہماری آزادی سلب کررہے ہیں۔ لہذااِنھیں نکال دو۔اِن بدنصیوں نے رب کے مقابل سب کی با ت مانی ۔ اپنی دولت اور قوت کو اپنی چیز سمجھا۔ یہی غلطیاں گناہوں کی جڑ ہیں۔ اور اِسی لئے وہ لوگ حضرت لوط علیہ السلام کا مذاق اڑاتے تھے۔ کہ یہ تو بڑے صاف ستھر ے بنتے ہیں ۔اور ایسے مزے دار لذیذ کا م سے ہمیں روکتے ہیں ۔ ہماری بستی میں اِن کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ یہ یہاں نہیں ہوں گے تو ہمیں اپنی ہوس کو پوری کرنے کی آزادی ہوگی اور ہم کوکوئی روکنے والا نہیں ہوگا۔ اُن بد بختوں کا مطلب یہ تھا کہ (نہایت غلیظ اور بُرا) کام نہایت پاکیزہ ستھرا ہے۔ اور حضرت لوط علیہ السلام اِس کام سے بچنے کو پاکیزگی سمجھتے ہیں یہ اُن کی غلط فہمی ہے۔ 

قومِ سدوم نے عذاب کی مانگ کی۔ 

اللہ تعالیٰ نے سورہ العنکبوت میں فرمایا ترجمہ ۔”(حضرت لوط علیہ السلام نے فرمایا۔)تم مردوں کے ساتھ بدفعلی کرتے ہو۔اور راستے بند کر تے ہو۔ اوراپنی عام مجلسوں میں بے حیائیوں کا کام کرتے ہو۔ اسکے جواب میں اُن کی قوم نے کہا۔ اب تم جاﺅ اور اگر سچے ہو تو ہمارے پاس اللہ کا عذاب لے آﺅ۔“ (سورہ العنکبوت آیت نمبر 29) قوم سدوم مسلسل بے حیائی میں مُبتلا رہی اور حضرت لوط علیہ السلام کا مذاق اُڑاتی رہی۔ آپ علیہ السلام مسلسل اُنھیں سمجھاتے رہے۔اِن لوگوں نے آپ علیہ السلام کو روکنے کی ہر کوشش کرلی۔ یہاں تک کہ آپ علیہ السلام کو بستی سے نکال دیا۔ لیکن آپ علیہ السلام پھر بھی اِن پانچوں شہروںمیں جاکر اُنھیںبھلائی کا حُکم دیتے رہے ۔ اور بُرائی سے روکتے رہے۔ اِس طرح لگ بھگ بیس سال کا عرصہ گذرگیا ۔ لیکن قوم سدوم بُرائیوں پر ڈٹی رہی۔ اور اب اِس بد بخت قوم نے آپ علیہ السلام کو یہ جواب دینا شروع کردیا کہ تم جس عذاب سے ہمیں ڈرا رہے ہو وہ ہم پر لے آﺅ۔ اب حضرت لوط علیہ السلام جسے بھی سمجھاتے تھے تو وہ یہی کہتا تھاکہ میں تو وہی کروں گا جو کررہا ہوں۔ اگر تم واقعی سچے ہو تو ہمیں جس عذاب کی دھمکی دے رہے ہو اُسے لے آﺅ۔ اب ہم عذاب دیکھ کر رہیں گے۔

حضرت لوط علیہ السلام کی دعا 

اللہ تعالی نے سورہ العنکبوت میں فرمایا ۔ ترجمہ۔”حضرت لوط علیہ السلام نے دُعا کی۔ اے میر ے رب پروردگار، اِس مفسدقوم پر میری مد د فرما۔ (سورہ العنکبوت آیت نمبر 30 ) جب اِن بدبختوں نے یہی رویہ اختیا ر کرلیا۔ کہ جسکو بھی حضرت لوط علیہ السلام سمجھانے لگتے تو وہ یہی کہتا کہ اگر تم سچے ہو تو جس عذاب سے ہمیں ڈرا ہے ہو وہ عذاب ہم پر لے آﺅ۔ جب قوم سدوم کاہر فرد عذاب کی مانگ کر نے لگا تو آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دُعا مانگی۔ کہ اے اللہ تعالیٰ ، میں نے ہر طریقے سے اِس قوم کو سمجھانے کی کوشش کی ۔لیکن اِن کی بدبختی کہ یہ میری بات کو سمجھنے کے بجائے مجھ سے عذاب کی مانگ کررہے ہیں ۔ او رزمین پر فساد پھیلا رہے ہیں ۔اے ا للہ تعالیٰ اِن فسادی لوگوں کے مقابلے میں میری مدد فرما۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ حضرت لوط علیہ السلام اپنے چچا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اجازت اور حُکم سے سرزمین ”غورزغر“ کے ایک شہر سدوم میں جاکر آباد ہوگئے تھے۔سدوم اس علاقے کا مرکزی شہر تھا۔ جسکے مضافات میں کئی دوسری بستیاں ،چراگاہیں اور چھوٹے چھوٹے شہر بسے ہوئے تھے۔سدوم کے لوگ علاقہ بھر میں فاجر وفاسق اور اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور دین کے منکر تھے۔ نہ تو ان کے اجتماعی طور طریقے اچھے تھے۔اور نہ ہی اِن کے انفرادی کردار بہتر تھے۔ وہ لوگوں کو لوٹتے تھے۔ سرعام فسادکرتے تھے۔لیکن کوئی اُن کو روکنے والا نہیں ہوتا تھا۔ اُنھوں نے ایک ایسی بُرائی کی بنیاد ڈالی جو بنی آدم (حضرت آدم علیہ السلام کی تمام اولاد)میں اِس سے پہلے کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھی ۔وہ مردوں سے بد فعلی کرتے تھے۔اور عورتوں کے قریب نہیں جاتے تھے۔ جن سے نکاح کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے ۔ حضرت لوط علیہ السلام نے اُنھیں اللہ وحدہُ لاشریک کی طرف بُلایا۔ اور اُنھیں گناہوں اور فحش کاموں سے روکا۔ اُنھیں بتایاکہ یہ قباحتیں اور بُرائیاں انسان کو زیب نہیں دیتیں ۔لیکن اُن گمراہی اور سرکشی میں اضافہ ہی ہوتا گیا ۔کسی نے آپ علیہ السلام کی بات نہیں سُنی ۔وہ فسق وفجور اور کفر کی راہوں پر گامزن رہے۔اس کے بعد علامہ ابن کثیر دوسری جگہ لکھتے ہیں ۔ اگرکوئی اُنھیں نصیحت کی بات کر تا بھی تو اُسے مذاق میں اُڑا دیتے تھے۔ نہ تو اُنھیں اپنے پچھلے گناہوں پر ندامت تھی اور نہ ہی مستقبل میں بُرائیوں اور گناہوں کو چھوڑنے کا کوئی ارادہ تھا۔وہ حضرت لوط علیہ السلام کو کہا کرتے تھے ۔ترجمہ۔”اے لوط (علیہ السلام) ،اگر سچے ہو تو ہم پر اللہ کا عذاب لے آﺅ۔©©“ (سورہ العنکبوت ) اِن بدبختوں نے اللہ کے نبی علیہ السلام سے مطالبہ کیا کہ وہ عذاب الیم لے آئیں اور جس ہلاکت کی باتیں کرتے ہو اُسے کر گزرو۔ حضرت لوط علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اس مفسد قوم کے مقابلے میں میری مدد کی جائے ۔ اللہ تعالیٰ کی غیرت بھڑک اُٹھی اور اُسکی صفت عضب جوش میں آگئی اور اللہ تعالیٰ نے دُعا قبول کرلی۔ 

عذاب کے فرشتے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مہمان

اللہ تعالیٰ نے سورہ ھود میں فرمایا۔ ترجمہ۔ ”اور ہماری طرف سے خوش خبری دینے والے ابراہیم (علیہ السلام ) کے پاس پہونچے او رسلام کہا۔ اُنھوں نے بھی سلام کا جواب دیا اور بغیر کسی تاخیر کے گائے کا بُھنا ہوا بچھڑا لے آئے ۔ اب جو دیکھا کہ اُن کے ہاتھ تو کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے ہیں تو اُنھیں انجان پاکر دِل ہی دل میں ان سے خوف کر نے لگے۔ اُنھوں نے کہا ۔ آپ علیہ السلام پریشان نہ ہوں۔ ہم تو قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ اُن کی بیوی کو کھڑی ہوئی تھی وہ ہنس پڑی تو ہم نے اسے اسحاق (علیہ السلام) اور اسحاق کے پیچھے یعقوب (علیہ السلام ) کی خوش خبری دی۔ وہ کہنے لگی ہائے میر ی کم بختی ، میر ے ہاں اولاد کیسے ہوسکتی ہے۔میں خود بوڑھی ہو چُکی ہوں اور میر ے شوہر بھی بڑی عمر کے ہیں۔یہ تو یقینا عجیب بات ہے۔ فرشتوں نے کہا ۔ تم اللہ کی قدرت پر تعجب کررہی ہو؟ تم پر اس گھر کے لوگو، اللہ کی رحمت اور برکتیں نازل ہوں۔بے شک اللہ تعالیٰ ہی حمد و ثنا کے لائق ہے۔ اور بڑی شان والا ہے ۔ جب ابراہیم (علیہ السلام ) کو اطمینان ہوگیا اور اُسے بشارت مِل چُکی تو ہم سے لوط (علیہ السلام) کی قوم کے بارے میں کہنے سننے لگے۔یقینا ابراہیم (علیہ السلام ) بہت تحمّل والے نرم دِل اور اللہ کی طرف جھکنے والے تھے۔ اے ابراہیم (علیہ السلام ) !اِس خیال کو چھوڑ دیں(کہ قوم سدوم کوچھوڑ دیا جائے گا)آپ (علیہ السلام)کے رب کا حُکم آپہنچا ہے اور ان پرنہ ٹالے جانے والا عذاب ضرور آنے والا ہے۔ (سورہ ھود آیت نمبر 69 سے 76 تک۔)

حضرت ابراہیم علیہ السلام ہر انسان کی بھلائی چاہتے تھے

اس آیت کی تفسیر میں مولانا عاشق الہٰی مہاجرمدنی لکھتے ہیں۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اطمینان ہو ا تو آپ علیہ السلام حضرت لو ط علیہ السلام کی قوم کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنے لگے کہ اُن کو ہلاک نہ کیا جائے ۔ کیو نکہ اُن کے اند ر حضرت لوط علیہ السلام موجود ہیں۔اُن کے اسی جذبے کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ کہ بے شک حضر ت ابراہیم علیہ السلام بہت تحمّل والے اور نرم دِل ہیں۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کی بستیوں کو ہلاک کرنے کا فیصلہ ہوچکا تھا۔ اسی لئے جو فرشتے آئے تھے ۔ اُنھوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ تمھارے رب کا فیصلہ ہو چُکا ہے۔ اُن پر عذاب ضرور آئے گا جو ہٹنے والا اور واپس ہونے والا نہیں ہے۔ 

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بحث کر نا

اِس آیت کی تفسیر میں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام قوم ِلوط کے بارے میں کہنے سننے لگے امام ابن ابی حاتم لکھتے ہیں ۔ حضرت سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ فر ماتے ہیں کہ جب جبرئیل علیہ السلام اپنے ساتھ فرشتو ں کو لیکر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئے اور آپ علیہ السلام کو بتایا کہ وہ قوم لوط کو ہلاک کر نے والے ہیں تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کیا تم اُس بستی کو ہلاک کردو گے جس میں چار سو 400 مومن ہوں۔ تو اُنھوں نے جواب دیا نہیں کریںگے۔ پھر آپ علیہ السلام نے فرمایا جس بستی میں تین سو ۰۰۳ مومن ہوں تو فرشتوں نے جواب دیا ۔ ہم اُس بستی کو ہلاک نہیں کریں گے۔پھر آپ علیہ السلام نے پو چھا اگر دو سو مومن ہوں تب کیا کرو گے۔ تو اُنھوں نے کہا ۔ ہم ہلاک نہیں کریں گے۔پھر آپ علیہ السلام نے فرمایا اگر سو 100 مومن ہو تو ہلاک کردو گے؟ فرشتوں نے کہا ۔ نہیں ہلاک کریں گے۔ پھر آپ علیہ السلام نے پوچھا ۔ اگر اُس بستی میں پچاس 50 مومن ہوں تو ؟ فر شتوں نے کہا ، ہم اُس بستی کو ہلاک نہیں کریں گے۔ پھر آپ علیہ السلام نے فرمایا ۔ اگر وہا ں چالیس مومن ہوں تب بھی اُس بستی کو ہلاک کردہ گے۔ تو فرشتوں نے کہا نہیں۔ آپ علیہ السلام نے پھر پوچھا۔ اور اگر اُس بستی میں چودہ مومن ہوں تو ؟ فرشتوں نے کہا تب بھی ہلاک نہیں کریں گے۔ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ سوچ کر چودہ مومن فرمایا کہ حضرت لوط اسلام کے اہل بیت کل ملا کر چودہ تھے۔

پانچ مومن ہوں تو عذاب نہیں دیں گے

حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ (جلیل القدرتابعی ) فرماتے ہیں کہ جب فرشتوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خبر دی کہ ہم لوط علیہ السلام کی قوم کو عذاب دینے جا رہے ہیں تو آپ علیہ السلام نے فرمایا ۔ تمھاراکیا خیال ہے اگراُن میں پچاس 50 مومن ہوں تو؟ اُنھوں نے جواب دیا ۔ اگر پچاس مسلمان ہوں گے ہم اُنھیں عذاب نہیں دیں گے۔ پھر آپ علیہ السلام نے فر مایا۔ اگر اُن میں چالیس مسلمان ہوں تو؟ فرشتوں کے کہا اگر چالیس مسلمان بھی ہوگے تو عذاب نہیں دیں گے۔ آگے فرمایا۔اگر تیس مسلمان ہوں تب بھی عذاب نہیں دوگے۔ تو اُنھوں نے کہا ۔ ہاں۔ یہاں تک کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اگر دس مسلمان اُس بستی میں ہوں تو؟ فرشتوں نے کہا اگر دس مسلمان ہوں گے تب بھی ہم عذاب نہیں دیں گے۔ یہ سُن کر آپ علیہ السلام نے فرمایا ۔ کوئی قوم ایسی نہیں ہوتی ۔ جس میں دس افراد ایسے نہ ہو ں جن میں خیر اور نیکی نہ ہوں۔پھر حضرت قتاد رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا۔ بے شک قومِ سدوم کی بستی میں چار لاکھ افراد تھے،یا ان میں سے جتنے اللہ چاہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ کہ جب فرشتے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئے تھے تو اُنھو ں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا۔ اگر اُن میں پانچ افراد بھی نماز پڑھتے ہوں گے تو اُن پر عذا ب اُٹھالیا جائے گا۔

اُن میں حضر ت لوط علیہ السلام ہیں

اللہ تعالیٰ نے سورہ العنکبوت میں فرمایا ۔ترجمہ۔”اور جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام ) کے پاس بشارت لیکر پہنچے تو کہنے لگے کہ اُس بستی (قوم ِسدوم) والوں کو ہم ہلاک کرنے والے ہیں ۔ یقینا یہاں کے رہنے والے گنگار ہیں۔ (حضرت ابراہیم علیہ السلام نے )کہا ۔ اُس میں لو ط علیہ السلام ہیں۔ فرشتوں نے کہا ۔ وہاں جو ہیں اُنھیں ہم بخو بی جانتے ہیں ۔ لوط (علیہ السلام ) کو اور اُن کے خاندان کو ہم بچا لیں گے۔ سوائے اُن کی بیوی کے ،کیونکہ وہ عورت پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔ (سور ہ العنکبوت آیت نمبر 31 اور 32۔) مفتی احمد یار خان اس کی تفسیر میں لکھتے تو جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پریشانی دور ہوگئی اور فرشتوں کی حقیقت معلوم ہوگئی اور بیٹے اور پوتے کی خوش خبری مل گئی تو فرشتوں کی طرف متوجہ ہوئے ۔اور جان لیا کہ اِس وقت رب کریم کا رحمت کا دریائے محبت جوش میں ہے۔ اس وقت جو چاہا جائے گا مل جائے گا۔ دِل میں خیال آیا کاش قوم لوط کو کچھ اور مہلت مل جائے ہو سکتا ہے وہ قوم راہ راست پرآجائے اور مومن ہوجائے ۔ میرارب تو حمید اور مجید ہے۔اُسکے قانو ن پر اُسکی قدر ت ، اُس کے غضب پر اُسکی رحمت غالب ہے۔ وہ ہزاروں قانونوں کو توڑکر اپنے پیاروں کے لئے قدرت کا کرشمہ دکھادیتاہے۔ اگر چہ عذاب کا فیصلہ ہو ُچکا ہے۔مگر اُس کا ٹا لنا اُسکی قدرت کےلئے کیامشکل ہے۔ وقت بھی کرم کا ہے بشارت عظمیٰ ابھی ابھی ملی ہے۔اِس بنا ءپر یجاد لُنا ۔ ہم سے یعنی ہمارے فرشتوں سے یا بلاواسطہ ہم سے ہی۔اپنے سجدوں ، دُعاﺅں میں بڑے ہی ناز سے جھگڑا کرنے لگے۔قوم ِلوط کے اُس وقت چھٹکا رے کے بارے میں ۔یہ ایسا ہی جھگڑا تھا، جیسا کہ لاڈلا شاگر د اپنے مہربا ن اُستاد سے یا غلام اپنے کریم آقا سے یا محبوب اپنے حبیب سے کسی کی سفارش میں کرتا ہے۔یہ جھگڑا کریم آقا،مہربان اُستاداورحبیب کو برُا نہیں لگتا بلکہ اسِی ضدوں سے تو اور پیا ر ا لگتا ہے۔یہ ضیف کا جھگڑا قوی سے ہے ۔ فقیر محتاج کا جھگڑا کریم غنی سے ہے۔ اِس جھگڑے کا ذکر کرکے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شان بتائی جارہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقامِ خلیل کیاہے ؟جھگڑا اِس طرح ہواکہ اے میر ے رب کے معزز فرشتو، تم اُس قوم کو سب کو ہلاک کردو گے چاہے اُس میں پچاس مومن ہوں۔ فرشتوں نے کہا نہیں اگر پچاس مومن ہوں گے تو ہم اُس قوم کو ہلاک نہیں کریں گے۔پھر فرمایا اگر چالیس ہوں تو؟ فرشتے بولے نہیں ۔پھر فرمایا ۔ اگر تیس ہوں ، بیس ہوں، دس ہوںاور پانچ ہی ہوںتو؟ ہر مرتبہ فرشتے کہتے رہے نہیں ہم ہلاک نہیں کریں گے۔یہاں تک کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا۔ اور اگر صرف ایک ہی مومن ہوتو؟ فرشتوں نے کہا۔ اگر ایک مومن بھی ہوں گے تو ہم عذاب نہیں دیں گے۔ یہ سُن کر آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اُن میں تو حضرت لوط علیہ السلام موجود ہیں ۔ پھر کس طرح اُس قوم پر عذاب آئے گا ؟ فرشتوں نے کہا۔ ہم اُن کو اُس بستی سے نکال لیں گے اُن کو بچانے کا وعدہ ہو چُکا ہے۔ اور اُسی بستی پر عذاب دیں گے جس میں ایک بھی مومن نہیں ہوگا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اللہ سے محبت اور ناز

اِس آیت کی تفہیم میں مولانا سیدابو اعلیٰ مودودی لکھتے ہیں کہ ”جھگڑے“ لفظ سے یہ موقع اُس انتہائی محبت او ر ناز کو ظاہر کررہاہے ۔ جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے اللہ تعالیٰ کے ساتھ رکھتے تھے۔ اِس لفظ سے یہ تصویر آنکھوں کے سامنے پھر جاتی ہے کہ بندے اور اللہ کے درمیان بڑی دیر تک ردوکد جاری رہتی ہے۔ بندہ اصرار کررہا ہے کہ کسی طرح قوم لوط پر سے عذاب ٹال دیاجائے ۔ اور اللہ جواب میں کہہ رہاہے کہ یہ قوم اب خیر سے خالی ہو چُکی ہے۔اور اس کے جرائم اُس حد سے گذر چُکے ہیں کہ اس کے ساتھ کوئی رعایت کی جائے ۔ مگر بندہ ہے کہ پھر بھی یہی کہے جارہاہے کہ پروردگار ، اگر کچھ تھوڑی سی بھلائی بھی اس میں باقی ہوتو اسے ذرامہلت دیدے ۔ شاید کہ وہ بھلائی کچھ پھل لاسکے۔ بائیبل میں اِس جھگڑے کی کچھ تشریح بھی بیان ہوئی ہے۔ لیکن قرآن پاِک کا مجمل بیان اپنے اندر اُس سے زیادہ معنوی وسعت رکھتاہے۔ 

حضرت لوط علیہ السلام کے مہمان 

اللہ تعالیٰ نے سورہ ھود میں فرمایا ۔ ترجمہ ۔”جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے لوط (علیہ السلام ) کے پاس پہونچے تو وہ اُن کی وجہ سے بہت غمگین ہوگئے۔ اور دِل ہی دِل میں کڑھنے لگے۔ اور کہنے لگے کہ آج کا دِن بڑی مصیبت کا دِن ہے۔ “(سورہ ھود آیت نمبر ۷۷۔) اللہ تعالیٰ نے سورہ العنکبوت میں فرمایا۔ ترجمہ۔”پھر جب ہمارے قاصد لوط (علیہ السلام ) کے پاس پہونچے تو وہ اُن کی وجہ سے غمگین ہوگئے ۔ اور دِل ہی دِل میں رنج کر نے لگے۔“ (سورہ العنکبوت آیت نمبر ۳۳) حضرت لوط علیہ السلام کی دعوت و تبلیغ سے عاجز آکر قوم ِسدوم نے اُنھیں شہر سے باہر نکال دیاتھا۔اور آپ علیہ السلام شہر سے باہر مکان بناکر اپنے اہل وعیال کے ساتھ رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے قومِ سدوم پر عذاب دینے کے لئے جن فرشتوں کو بھیجا تھا ۔ وہ پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس گئے اور اُنھیں بیٹے اور پوتے کی بشارت دینے کے بعد حضرت لوط علیہ السلام کے پاس آئے ۔ اُس وقت شام ہورہی تھی۔ یعنی سورج غروب ہورہاتھا۔ اور ہلکا اندھیر اچھانے لگا تھا۔

حضرت لوط علیہ السلام کی پریشانی 

حضرت لوط علیہ السلام کے مہمانو ں کے بارے میں مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں ۔ حضرت لوط علیہ السلام شہر سدوم میں رہتے تھے۔ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام چھ میل اُدھر مقام ”الخلیل “ میں جو فلسطین کے سرحد ی علاقوں سے ہے۔ پہلے اِس کا نام کچھ اور تھا اب اسکا نام الخلیل ہے۔ ایک روایت ہے کہ فرشتے بغیر راستہ پو چھے حضرت لوط علیہ السلام کے پاس پہنچے۔اور دوسری روایت میں ہے کہ فرشتے بستی کے ایک کنویں پر پہنچے،وہاں حضرت لوط علیہ السلام کی بیٹیا ں اور کچھ عورتیں پا نی بھر رہی تھیں۔ اِن اجنبی لڑکوں کو دیکھا تو پوچھا کہ تم یہاں کیوں آئے ہو؟ جاﺅ جلد سے بھاگ جاﺅ۔ ورنہ یہاں کے لوگ پکڑ کر تمھیں غلام بنا لیں گے۔ یہ بات اُنھوں نے بد ل کر بہت شرم سے کہی تھی۔ فرشتے بولے، یہاں کوئی مہمان نواز نہیں ہے کیا؟جو ہمیں کچھ دیر اپنے گھر میں ٹھہرائے۔ تو حضرت لوط علیہ السلام کی بیٹی محترمہ نے اپنے گھرکی طرف اشارہ کیا کہ وہاں چلے جائیے ۔ وہ بزرگ آ پ لوگوں کو اپنے یہاں مہمان بنالیں گے۔ وہ سب فر شتے حضرت لو ط علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلام کیا۔آپ علیہ السلام اپنے کھیت میں کام کررہے تھے۔ اجنبی مہانوں کو دیکھا جو خوب صورت قر یب البلوغ لڑکو ں کی شکل میں تھے،دیکھتے ہی گھبرا کر کھڑے ہو گئے ۔ پریشان ہو گئے اور غم زدہ بھی ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان سِئی کا مطلب یہی ہے کہ ایک پریشانی نازل ہونا جس سے آدمی ہو ش و ہواس کھو بیٹھے ۔ یہاں مُراد ہے انتہا ئی دُکھ اور افسوس ۔ اِس فعل سے ثابت ہو اکہ حضرت لو ط علیہ السلام اِن نوجوان لڑکو ںکو دیکھ کر اُن کو بچانے کی فکر اور پریشانی میں اُنھیں غور سے نہیں دیکھ سکے۔ اگر توجہ اور سکون سے دیکھنے کا موقع ملتا تو ضرور سمجھ جاتے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں ۔ لیکن آپ علیہ السلام تو اسی فکر میں تھے کہ میر ی قوم والوں کو اِن نوجوانوں کے بارے میں معلوم نہ ہو۔ 

حضرت لوط علیہ السلام کی پر یشانی کی وجہ

سور ہ ھود کی آیت نمبر 77 کی تفسیر میں مولانا مفتی محمدشفیع لکھتے ہیں۔کہ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کا فر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ایسی خبیث بد کا ری اور بے حیائی میں مبتلا تھی جو دُنیا میں اس سے پہلے کبھی نہیں پائی گئی تھی۔اور جس سے جنگل کے جانور بھی نفرت کرتے تھے۔ کہ مرد،مرد کے ساتھ منہ کالا کرے جسکا وبال عام بدکاری سے کہیں زیادہ ہے۔اِسی لئے اِس قوم پر ایسا شدید اور عجیب عذاب آیا جو عام بے حیائی اور بدکاری کرنے والوں پر نہیں آیا ۔ حضر ت لوط علیہ السلام کا واقعہ جواِن آیا ت میں مذکو رہے ۔ وہ اِس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے چند فرشتے جن میں جبرئیل علیہ السلام بھی تھے ۔اِس قوم پر عذاب نازل کرنے کے لئے بھیجے۔ جو پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس فلسطین گئے تھے۔ جسکا واقعہ پہلی آیا ت میں بیان ہوچُکاہے۔ اُسکے بعد حضرت لوط علیہ السلام کے پاس آئے جنکا مقام وہاں سے دس بارہ میل کے فاصلے پر تھا۔ اللہ تعالیٰ جس قوم کو عذاب میں پکڑتے ہیں۔ تو اُسی مناسبت سے اُن پر حجّت قائم فرماتے تھے۔ اِس موقع پر بھی اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حسین نوجوان لڑکوں کی شکل میں بھیجا۔ جب وہ حضرت لوط علیہ السلام کے گھر پہونچے تو اُنھیں انسانی شکل میں دیکھ کر آپ علیہ السلام نے مہمان سمجھا اور اُس وقت وہ سخت فکر اور غم میں مُبتلا ہوگئے کہ مہمانوں کی مہمانی نہ کی جائے تو یہ شان پیغمبری کے خلاف ہے۔ (آپ علیہ السلام کی قوم نے دھمکی دی تھی کہ تم مہمان نہیں بنانا بلکہ ہمارے سامنے مہمان کو پیش کر دینا)اور اگر اِن کو مہمان بنالیں تو اپنی قوم کی خباثت معلوم تھی۔ اسکا خطرہ تھا کہ وہ مکان پر چڑھ آئیں گے اور مہمانوں کو اذیت پہونچائیں گے۔ اور آپ علیہ السلا م مدافعت نہیں کر سکیں گے۔اور دِل میں فر مایا کہ آج بڑی سخت مصیبت کا دِن ہے۔ 

حضرت لوط علیہ السلام کی گواہی

سور ہ ھود کی آیت نمبر ۷۷ کی تفسیر میں امام قرطبی لکھتے ہیں۔جب فرشتے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے نکلے اور حضر ت لوط علیہ السلام کے پاس پہونچے ۔اِن دونو ں بستیوں کے درمیان چار فرسخ یعنی بارہ میل کا فاصلہ ہے۔ جب فرشتوں نے حضرت لو ط علیہ السلام کی بیٹی کو نہر سدوم سے پانی بھرتے ہوئے پایا۔ اُنھوں نے اُس سے پوچھا کہ کیا یہاں ہم کسی کے مہمان بن سکتے ہیں؟ لڑکی اِن خوب صورت نوجوانوں کو دیکھ کر ڈر گئی کیونکہ وہ اپنی قوم کی خباثت سے واقف تھی ۔ اُس نے کہا ۔ تم یہیں رُکو میں ابھی آتی ہوں۔ پھر والد محترم کی خدمت میں گئی اور مہمانوں کی خبر دی تو آپ علیہ السلام جلد ی جلدی فرشتوں کے پاس تشریف لائے تو فرشتوں نے کہا ۔ آج رات آپ علیہ السلام ہماری میزبانی کریں تو ہم پر مہربانی ہوگئی ۔ آپ علیہ السلام نے فر مایا ۔ مجھے مہمان بنانے میں کو ئی اعتراض نہیں ہے۔لیکن کی تم نے میر ی قوم کے عمل کے بارے میں سُنا ہے؟ فرشتوں نے پوچھا۔ کون سا عمل؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ۔ اللہ کی قسم یہ اِس زمین پر سب سے بد ترین قوم ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا تھاکہ جب تک حضر ت لوط علیہ السلام چار مرتبہ اس قوم کے خلاف گواہی نہیں دیں گے تب تک عذاب نہیں دینا ۔ اِدھر آپ علیہ السلام کو یہ فکر تھی کہ یہ خوب صورت نوجوان اگر میر ی مہمان بن گئے تو میر ی قوم کی خباثت کا شکا ر ہو جائیں گے۔ اس لئے آ پ علیہ السلام چاہتے تھے کہ یہ لوگ یہاں سے چلے جائیں ۔ اسی لئے دوسری مرتبہ بھی آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ بہت بد ترین قوم ہے ۔ لیکن فرشتے مہمان بننے پر اصرار کر رہے تھے۔ اِس لئے تیسری اور چوتھی مرتبہ بھی آپ علیہ السلام نے اُنھیں سمجھا نے کے لئے اپنی قوم کی خباثت کے بارے میں بتایا۔ 

مہمانوں کو بچانے کے لئے گواہی دی۔

سورہ ھو د کی اِس آیت کی تفسیر میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حضر ت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا بھیدبتاکر فرشتے وہاں سے چل دیئے ۔ اور حضرت لوط علیہ السلام کے پاس اُن کی زمین یا اُن کے مکان میں پہونچے۔ فرشتے خوب صورت لڑکوں کی شکل میں تھے۔تاکہ قومِ لوط کی پوری طرح سے آزمائش ہوجائے۔ حضرت لو ط علیہ السلام مہمانوں کو دیکھ کر سٹپٹا گئے۔ دِل ہی دِل میں پیچ وتاب کھانے لگے۔ کہ اگر مہمان بناتا ہوں تو ممکن ہے خبر پاکر لو گ چڑھ دوڑ یں ۔ اور اگر مہمان نہیں بناتا ہوں تو یہ سیدھے بستی میں جائیں گے ۔اور اُنھی کے ہا تھ پڑجائیں گے۔ زبان سے نکل گیا کہ آج کا دِن بڑی مصیبت والا ہے۔ قوم والے شرارت سے باز نہیں آئیں گے۔ اور مجھ میں مقابلے کی طاقت نہیں ہے۔ کیا ہوگا؟ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ (جلیل القدر تابعی ) فرماتے ہیں۔ حضرت لو ط علیہ السلام اپنی زمین میں کھیتی باڑی کر رہے تھے کہ فر شتے خوب صورت نوجوانوں کی شکل میں آئے اور مہمان بنے۔ شرماشرمی میں انکار نہیں کر سکے اور اُنھیں لیکر گھر کی طرف چلے۔ راستے میں صرف اس نیت سے کہ یہ اب بھی واپس چلے جائیں اُن سے فرمایا۔ اللہ کی قسم ،یہاں کے لوگوں سے زیادہ برُے اور خبیث اور کہیں نہیں ہیں۔ کچھ دور جاکر پھر یہ فرمایا۔ تاکہ یہ بے چارے پردیسی واپس چلے جائیں اور گھر پہونچنے تک دو مرتبہ اور فر مایا ۔ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کا یہی حکم تھا کہ جب تک اس کا نبی علیہ السلام چار مرتبہ اُن کے خلاف گواہی نہ دی دے تب تک اس قوم پر عذاب نہیں کرنا۔ امام سدی فرماتے ۔ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے یہ فرشتے دِن ڈھلے نہر سدوم پر پہونچے ۔ وہاں حضر ت لو ط علیہ السلام کی صاحبزادی پانی لینے گئی تھی وہ مل گئی ،اُن سے اُنھوں نے پوچھا کہ یہاںہم کہیں ٹھہر سکتے ہیں ؟ اُس نے کہا ۔ آپ لوگ یہیں رکیئے ،میں واپس آکر جواب دوں گی۔ اُنھیں ڈرلگاکہ پردیسی نوجوان اگر قوم والوں کے ہاتھ لگ گئے تو اُن کی بڑی بے عزتی ہوگی۔ یہاں آکر والد صاحب سے ذکر کیا کہ چند نو عمر پردیسی آئے ہیں۔ میں تو آج تک نہیں دیکھے۔ آپ اُن سے ملاقات کر لیں اور اُنھیں سمجھائیں ورنہ ہماری قوم کے لوگ اُنھیں ستائیں گے۔قوم سدوم کے لوگوں نے حضرت لو ط علیہ السلام کو کہہ رکھا تھا کہ دیکھو کسی با ہر والے کو اپنا مہمان نہیں بنانا۔ بلکہ ہمارے پاس بھیج دیاکر نا۔ ہم ہی سب کچھ کرلیں گے۔ آپ علیہ السلام نے اِن خوب صورت نو جوانوں کو دیکھا تو خاموشی سے انھیں گھر لے آئے ۔ اور کانوں کان کسی کو خبر نہیں ہونے دی۔ 

حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی نے قوم کو خبر کر دی

حضرت لوط علیہ السلام اپنے مہمانوں کو گھر لے آئے ۔ اور اپنی بیوی سے کہا کہ اِن مہمانوں کے بارے میں قوم کو خبر نہ ہو۔ مفتی احمد یار خان لکھتے ہیں۔ حضرت لو ط علیہ السلام کو پریشانی اِس لئے ہوئی کہ اِس سے پہلے بھی آپ علیہ السلام اجنبی مہمانوں کو پناہ دیتے تھے۔ جو اس بد معاش قوم سے گھبرا کر پناہ کی تلاش میں آتے تھے۔ آپ علیہ السلام کی قوم آپ علیہ السلام سے لڑتی تھی۔ کہ تم اِن کو کیوں چھپاتے ہو ۔ہمارے حوالے کر دیا کرو ۔حضرت لو ط علیہ السلام اُن کو جھڑکتے تھے اور لعنت ملا مت کرتے تھے۔ حضرت لو ط علیہ السلام کی بیوی کو کافروں نے لالچ دیکر کا فربنا لیا تھا۔ وہ چھپے ہوﺅں کی مخبری جاکر کر تی تھی تو قوم آکر جھگڑتی تھی۔ اِس سے چند دِنوں پہلے اِس قسم کا واقعہ ہو چکا تھا۔ اور قوم سدوم کے لوگوں نے صاف کہہ دیا تھا کہ اب اگر آپ علیہ السلام نے کسی مہمان کو گھر میں رکھا یا پناہ دی تو ہم جبراً گھر میں گھس کر اُنھیں اُٹھا لے جائیں گے۔ آپ علیہ السلام پھر بھی مہمانوں کو گھر لیکر آئے۔ پھر اپنی بیوی کو دیکھا اور فر مایا۔ تجھ کو ہلاکت ہو، اند ر جا کر چھپ جا اور کسی کو نہیں بتانا ۔کافروں سے اُس کو لالچ تھی، تھوڑی دیر تو صبر کئے بیٹھی رہی ۔ پھر پیشاب یا کسی ضرورت کا بہانہ کر کے باہر نکلی اور گھر گھر میں جاکر خبر دیتی آئی اور بتائی آئی کہ ایسے خوب صور ت جسم والے اور ایسے لباس والے اور خوشبو دار نوجوان لڑکے ہمارے گھر آئے ہیں۔امام قر طبی لکھتے ہیں کہ حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کا فرہ تھی ۔ جب اُس نے مہمانوں کو دیکھا اور اُن کی خوب صورتی اور جمال کو دیکھا تو وہ چپکے سے گھرسے نکلی ۔ اور قوم سدوم کی مجلس میں آئی ،اور اُن کو بتا یا کہ حضرت لوط علیہ السلام کے پا س آج رات ایسے نوجوان مہمان ہیں کہ خو ب صورتی میں اُن کے جیسا نہیں دیکھا گیاہے۔ 

حضر ت لوط السلام کی بیوی پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے

اللہ تعالیٰ نے سورہ التحریم میں فرمایا ۔ترجمہ ۔”اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لئے نوح (علیہ السلام ) اور لوط (علیہ السلام ) کی بیویوں کی مثال بیان فر مائی ہے۔ یہ دونوں ہمارے بندوں میں سے دو نیک بندوں کے گھر میں تھیں ۔ پھر اُن کی اُنھوں نے خیانت کی بس دونوں (نیک بندے بھی ) ان سے اللہ کے عذاب کو نہیں روک سکے۔اور حُکم دے دیا گیا کہ دوزخ میں جانے والوں کے ساتھ تم دونو ں بھی چلی جاﺅ۔(سورہ التحریم آیت نمبر۰۱۔) اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ۔”تو ہم نے لوط (علیہ السلام ) کو اور اُن کے گھروالوں کو بچالیا۔ سوائے اُن کی بیوی کے ،کہ وہ اُن لوگوں میں رہی جو عذاب میں رہ گئے تھے۔“(سورہ الاعراف آیت نمبر 83۔) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ۔”پس ہم اُسے (حضرت لوط علیہ السلام )اور اُسکے متعلقین کو سب کو بچالیاسوائے ایک بڑھیاکے ۔وہ پیچھے رہ جانے والوں میں تھی۔“ (سور ہ الشعراءآیت نمبر 170اور 171۔) اللہ تعالیٰ نے سورہ النمل میں فرمایا۔ ترجمہ ۔”پس ہم نے اُسے (حضرت لوط علیہ السلام ) کو اور اُسکے گھروالوں کو سوائے اُسکی بیوی کے سب کو بچالیا۔ اس کا اندازہ تو پیچھے رہ جانے والوں میں ہم لگا چکے تھے۔ (سورہ النمل آیت نمبر 57۔) اللہ تعالیٰ نے سورہ العنکبوت میں فرمایا۔ تر جمہ ۔ ” (حضرت ابراہیم علیہ السلام نے )کہا ۔ اُس میں تو لوط (علیہ السلام ) ہیں۔ فرشتوں نے کہا۔ ہم اُنھیں بخوبی جانتے ہیں۔ لوط علیہ السلام کو اور اُن کے گھر والوں کو بچالیا جائے گاسوائے اُن کی بیوی کے۔ کیونکہ وہ عورت پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔“ (سورہ العنکبوت آیت نمبر 32۔) اللہ تعالیٰ نے سورہ الصافات میں فر مایا۔ تر جمہ ۔” بے شک لوط(علیہ السلام بھی ) پیغمبروں میں سے ہیں ۔ ہم نے اُنھیں اور اُن کے گھر والوں کو سب کو نجات دی سوائے اُس بڑھیاکے۔ جو پیچھے رہ جانے والوں میں رہ گئی۔“ (سورہ الصافات آیت نمبر 133 سے 135 تک۔)

حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کی خیانت

اللہ تعالیٰ نے سور ہ التحریم میں حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت صالح علیہ السلام کی بیویوں کے بارے میں فرمایا کہ اُن دونوں نے اپنے شوہر وں سے خیانت کی ۔ وہ خیا نت یہ تھی کہ اُن دونوں عورتوں نے اسلام کی راہ میں اپنے کا شوہروں کا ساتھ نہیں دیا بلکہ قوم کے کافروں کا ساتھ دیتی رہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فر ما تے ہیں۔ کسی بنی کی بیوی کبھی بد کار نہیں رہی ہے۔ اِن دونوں عورتوں کی خیانت دراصل دین کے معاملہ میں تھی۔ اُن دونوں نے حضرت نو ح علیہ السلام اور حضرت لو ط علیہ السلام کا دین قبول نہیں کیا تھا۔ حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی اپنی قوم کے سرداروں یعنی مذہبی پیشواﺅں کو مسلمانوں کے بارے میں خبر یں پہنچا یا کرتی تھی۔ اور حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی اپنے شوہر کے یہاں آنے والے مہمانوں کی خبر اپنی بدکردار اوربے حیا قوم کو دیا کر تی تھی۔ 

قوم سدوم نے گھر کو گھیر لیا

اللہ تعالیٰ نے سورہ ھود میں فر مایا۔ تر جمہ ۔”اور اُس کی (حضرت لوط علیہ السلام کی قوم دوڑتی ہوئی آئی۔ وہ لوگ تو پہلے ہی بد کاری میں مُبتلا تھے ۔ لوط علیہ السلام نے فر مایا۔ اے میرے قوم کے لوگو، یہ میر ی (قوم کی ) بیٹیاں ہیں ۔جو تمھارے لئے بہت ہی پاکیزہ ہیں ۔اللہ سے ڈرو اور مُجھے میرے مہمانوں کے بارے میں رسوانہ کرو۔ کیا تم میں ایک بھی بھلاآدمی نہیں ہے۔ اُنھوں نے جوا ب دیا۔ آپ (علیہ السلام ) بخوبی جانتے ہیں کہ ہمیں لڑکیوں سے کوئی مطلب نہیں ہے ۔اور آپ (علیہ السلام ) ہماری کا اصلی چاہت سے خوب واقف ہیں۔ لوط علیہ السلام نے فر مایا ۔ کاش کہ مجھ میں تم مقابلہ کر نے کی قوت ہوتی یا میں کسی زبردست کا سہارا لے لیتا۔“ (سورہ ھود آیت نمبر 78سے 80 تک۔) اللہ تعالیٰ نے سورہ الحجر میں فر مایا۔ تر جمہ ۔”اور شہروالے خوشیاں مناتے ہوئے آئے ۔(حضر ت لوط علیہ السلام نے ) فرمایا۔ یہ لوگ میر ے مہمان ہیں ،تم مُجھے رسوامت کرو، اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور مُجھے (میرے مہمانوں کے سامنے) رسوامت کرو۔ وہ بولے کیاہم نے تمھیں دنیا بھر کی (ٹھیکیداری) سے منع نہیں رکھا تھا۔ (سورہ الحجر آیت نمبر 67 سے 70 تک۔)

حضرت لوط علیہ السلام نے قوم کو سمجھایا

حضرت لوط علیہ السلام نے اپنے بیوی کو منع فرمایاتھا کہ اِن مہمانوں کے بارے میں ہماری بے حیا اور بد کردار قوم کو نہیں بتانا۔ لیکن اُس بد بخت بُڑھیا نے آپ علیہ السلام کی نا فرمانی کی اور اپنی قوم کو جاکر بتا دیا کہ ہمارے گھر میں بہت خوب صورت چندنوجوان مہمان بن کر آئے ہیں۔ یہ خبر پوری قوم کو ہو گئی۔ اور پوری قوم کے لوگ خوشیاں مناتے ہوئے ڈھول تاشے بجا تے ہوئے آئے اور آپ علیہ السلام کے گھر کو گھیرلیا۔ اور حضرت لوط علیہ السلام سے اِن نو جوان مہمانوں کے بارے میں یہ مانگ کر نے لگے کہ اِن نوجوانوں کو ہمارے حوالے کردو۔آپ علیہ السلام اُنھیں سمجھا یا کہ دیکھویہ انتہائی گٹھیا اور غیر اخلاقی حرکت ہے ۔ تمھارے لئے بہتر یہ کہ تم اپنی قوم کی بیٹیوں سے نکاح کرو اور جائز طریقے سے جس کا اللہ تعالیٰ نے حُکم دیا ہے ۔ اُس طریقے سے فائدہ حاصل کرو۔ امام محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ فرشتے حضرت لوط علیہ السلام کے پاس آئے اور اُن کی قوم کو یہ خبر ملی کہ حضرت لوط علیہ السلام کے یہاں حسین و جمیل خوب صورت نوجوان لڑکے آئے ہیں ۔اُن کو یہ خبر حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی نے دی تھی۔ اُس نے قوم سدوم سے کہا۔ میں نے اِس سے پہلے اتنے حسین اور خوب صور ت لڑکے نہیں دیکھے ہیں۔ اور وہ لوگ عورتوں کے بجائے مردوں سے اپنی شہوت پوری کرتے تھے۔ اور اُن سے پہلے کسی نے یہ خلاف فطرت کام نہیں کیا تھا۔ تو وہ دوڑتے ہوئے حضرت لوط علیہ السلام کے پاس آئے اور کہا ۔کیا ہم نے آپ علیہ السلام سے یہ نہیں کہا تھا کہ آ پ علیہ السلام کے پاس کوئی شخص نہیں آئے ۔اور اگر کوئی آیا ہے تو ۔ہم اُس سے بے حیائی کا کام کریں گے۔تب حضرت لوط علیہ السلام نے فر مایا ۔اے میر ے قوم کے لوگو۔ یہ میر ی قوم کی بیٹیاں ہیں۔ یہ تمھارے لئے پاکیزہ ہیں ۔میں اِن بیٹیوں سے نکاح کر نے کو اپنے مہمانوں کے فدیہ کے طور پر حُکم دیتا ہوں۔ اور آپ علیہ السلام کی دعوت یہ تھی کہ وہ حرام کام کو چھوڑیں اور حلال نکاح کرلیں ۔ حضرت سعید بن جبیر رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں۔یعنی قوم کی عورتوں سے نکاح کر لو جو اُن کی بیٹیا ں ہیں۔ اور وہ اُن کے نبی ہیں ، کیونکہ نبی اُمت کا باپ جیسا ہوتاہے۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ہے کہ سورہ احزاب میں ہے۔ترجمہ۔” اور نبی(صلی اﷲ علیہ وسلم) کی ازواج اُمت کی مائیں ہیں۔“ 

قومِ سدوم کی اخلاقی پستی

حضرت لوط علیہ السلام کے گھر کوجب پوری قوم سدوم نے گھیر لیا اور مہمانوں کی مانگ کرنے لگے تو آپ علیہ السلام نے دروازہ بند کر لیا۔ اور اوپر بالا خانے (بالکنی یا ٹیرس) پر کھڑے ہو کر اپنی قوم کو سمجھانے لگے کہ اِس حرام کام کو چھوڑ کر تم عورتوں سے نکاح کر و اور جائز راستہ اپناﺅ۔ لیکن قوم سدوم انتہائی اخلاقی پستی میں گِر چُکی تھی ۔ اِن لوگو ں نے آپ علیہ السلام کو جو جواب دیا اُسکے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔تر جمہ ۔” اُنھوں نے (قوم سدوم کے لوگوں نے ) جواب دیا۔ آپ علیہ السلام اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہمیں عورتوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اور آپ علیہ السلام اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہماری چاہت کیا ہے ؟ (سورہ ھود آیت نمبر 79) اِس آیت کی تفہیم میں مولانا مودودی لکھتے ہیں۔ یہ فقرہ اُن لوگوں کے نفس کی پوری تصویر کھنیچ دیتا ہے کہ کس قدر خباثت میں ڈوب گئے تھے۔ بات صرف اِس حد تک نہیں رہی تھی کہ وہ فطرت اور پاکیزگی کے راستے سے ہٹ کر ایک گندے اور خلاف فِطرت کے راستے پر چل پڑے تھے۔ بلکہ نوبت یہا ں تک پہونچ گئی تھی کہ اُن کی ساری رغبت اور دلچسپی اب اسی گندے راستے کی طرف ہی تھی۔ اُنہیں صِرف اُس گندگی کی ہی طلب رہ گئی تھی۔ اور وہ فطرت اور پاکیزگی کے اصل راستے کے متعلق یہ کہنے میں بھی شرم محسوس نہیں کر رہے تھے کہ یہ راستہ ہمارے لئے بنا ہی نہیں ہے۔ یہ اخلاق کے زوال اور نفس کے بگاڑ کی انتہائی پستی ہے کہ اِس سے زیادہ پستی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے ۔اُس شخص کا معاملہ تو بہت ہلکا ہے جو صرف نفس کی کمزروی کی وجہ سے حرام میں مُبتلا ہو جاتا ہے۔مگر حلال کو کرنے کے قابل اور حرام کو بچنے کے قابل چیز سمجھتا ہو۔ایسا شخص کبھی بھی سُد ھر سکتا ہے۔اور نہ بھی سُدھر ے تو تب بھی زیادہ سے زیادہ یہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایک بگڑا ہوا انسان ہے ۔ مگر جب کسی شخص کی ساری رغبت صرف حرام کی طرف ہوا ور وہ یہ سمجھے کہ حلا ل میرے لئے ہے ہی نہیں ۔تو اُس کا شمار انسانوں میں نہیں کیا جاسکتا ۔وہ دراصل ایک گندا کیڑا ہے جو غلاظت میں ہی پڑا رہتاہے۔ 

حضرت لوط علیہ السلام کو اللہ کا سہارا

حضرت لو ط علیہ السلام اپنی قوم کو سمجھارہے تھے اور قوم ہے کہ گندگی پر اصرار کررہی تھی۔ آپ علیہ السلام کو اپنے نوجوان مہمانوں کی فکر تھی۔ آخر کا ر آ پ علیہ السلام اپنے آپ کو بے بس محسوس کر نے لگے ۔ اللہ تعالیٰ نے اِسکے بارے میں قرآن پاک میں فرمایا۔ تر جمہ ”لوط علیہ السلام نے کہا۔ کاش کہ مجھ میں تم سے مقابلہ کرنے کی قوت ہوتی۔ یا میں کسی زبردست کا سہارا لے لیتا۔“ (سورہ ھود آیت نمبر 80۔) حضرت قتادہ رحمتہ اﷲعلیہ (جلیل القدر تابعی) فر ماتے ہیں ہمیں یہ بتا یا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب یہ آیت پڑھا کرتے تھے تو فرماتے تھے اللہ تعالیٰ حضرت لوط علیہ السلام پر رحم فرمائے۔بے شک وہ مضبوط سہارے کی پناہ لیتے رہے۔ہمیں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام کے بعد جس نبی کو بھی بھیجا۔ اُسے اپنی قوم میں صاحب ثروت بنایا ہے۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے تمھارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کوبھی اپنی قوم میں ثروت و سطوت کے ساتھ بھیجا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں کہ اِس آیت کی تفسیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ حضر ت لوط علیہ السلام کو اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے۔ سب کو اپنی قوم میں (اعلیٰ نسب ، مضبوط خاندان یا قبیلہ ) خوش حال اور صاحب مال بنایا۔ 

حضرت لوط علیہ السلام کی اللہ تعالیٰ نے مدد کی۔

حضرت لوط السلام اپنے آپ کو بے بس محسوس کر رہے تھے۔ کیونکہ قوم سدوم کے لوگوں نے آپ علیہ السلام کے مکان پر چاروں طرف سے حملہ کر دیا تھا۔اور دروازوں اور کھڑکیوں کو دھکے مارمار کر تو ڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔اللہ تعالیٰ نے جب آپ علیہ السلام کی مدد کا ارادہ فرمایا تو جبرئیل علیہ السلام کو حُکم دیا کہ اب اپنے آپ کو ظاہر کردو۔ تب جبرئیل علیہ السلام نے حضرت لو ط علیہ السلام سے فرمایا کہ آپ علیہ السلام گبھرائیں نہیں ۔ ہم اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اِسکے بارے میں فرماتے ہیں۔ ترجمہ ۔”اب فرشتوں نے کہا۔ اے لوط علیہ السلام ، ہم آپ علیہ السلام کے پروردگار کی طر ف سے بھیجے ہوئے (فرشتے )ہیں ۔ اور اِن لوگوں کا آپ علیہ السلام تک پہنچنا ناممکن ہے۔“ (سور ہ ھود آیت نمبر 81۔) اللہ تعالیٰ نے سور ہ الحجر میں فر مایا۔ تر جمہ جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے حضرت لوط علیہ السلام کے پاس پہونچے تو اُنھوں نے فر مایا۔ تم لوگ کچھ انجان سے معلوم ہورہے ہو۔ اُنھوں نے کہا۔ نہیں بلکہ ہم آپ علیہ السلام کے پاس وہ چیز (اللہ کا عذاب) لیکر آئے ہیں۔جس میں لوگ شبہ کررہے تھے۔ہم تو آپ علیہ السلام کے پاس حق لیکر آئے ہیں ۔اور ہم بالکل سچے ہیں ۔“(سورہ الحجرآیت نمبر 61 سے 64 تک۔)اللہ تعالیٰ نے سورہ العنکبوت میں فرمایا۔ ترجمہ۔”پھر جب ہمارے قاصد (فرشتے )لوط علیہ السلام کے پاس پہونچے ۔ تو وہ اُن کی وجہ سے غمگین ہوگئے ۔ اور دِل ہی دِل میں رنج کر نے لگے۔ تو قاصدوں نے کہا۔ آپ علیہ السلام گھبرائیے مت اور نہ ہی غمزدہ ہوں۔ ہم آپ علیہ السلام کو گھروالوں کے ساتھ بچا لیں گے۔ مگر آپ علیہ االسلام کی بیوی پر عذاب نازل ہوگا۔“(سورہ العنکبوت آیت نمبر 31 سے 33 تک۔)

عذاب کی شروعات ، قوم سدوم کو اندھا کردیا

اللہ تعالیٰ کے حُکم سے جبرئیل علیہ السلام نے حضرت لوط علیہ السلام کو تسلی دی ۔ اور عرض کیا کہ آپ علیہ السلام اُداس نہ ہوں ۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں اِس لئے بھیجا ہے کہ ہم قوم سدوم کو عذا ب دیں ۔اور آپ علیہ السلام کو اپنے گھروالوں کے ساتھ بچالیا جائے گا۔ لیکن آپ علیہ السلام کی بیوی عذاب کا شکار ہوگی۔ اِن کے درمیان یہ سب باتیں ہورہی تھیں کہ قوم سدوم کے لوگوں نے دروازوں اور کھڑکیوں کو توڑدیا اور اندر داخل ہوگئے۔اور فرشتوں کو گھیرلیا۔اللہ تعالیٰ کے حُکم سے جبرئیل علیہ السلام نے اپنا پر مارا تو پوری قوم سدوم اندھی ہوگئی۔اللہ تعالیٰ نے سور ہ القمر میں فرمایا۔” بے شک (حضرت لوط علیہ السلام نے)اُنھیں ہماری پکڑ سے ڈرایا تھا۔ لیکن اُنھوں نے ڈرانے والوں میں (شک وشبہ اور )جھگڑا کیا۔اوراُن کو (حضرت لوط علیہ السلام کو ) اُن کے مہمانوں کے بارے میں پھسلایا۔ پس ہم نے اُن کی آنکھیں اندھی کردیں۔ (اور فرمادیا) میراعذاب اور میر ا ڈرانا چکھو۔“ (سور ہ القمر آیت نمبر ۶۳ اور ۷۳ ۔) حضرت حذیفہ بن یمان رضی عنہ فرشتوں سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بات چیت ، اُسکے بعد حضرت لوط علیہ السلام کے گھر مہمان بنے اور آپ علیہ السلام کی بد بخت بیوی کے قوم کو خبر دینے کے بارے میں تفصیل سے بتا نے کے بعد فرماتے ہیں۔پس وہ یعنی قوم سدوم دوڑتے ہوئے آپ علیہ السلام کے گھر پر آئے اور اُنھوں نے دروازوں اور کھڑکیوں کو دھکیلنا شروع کردیا۔یہاں تک کہ وہ آپ علیہ السلام پر عذاب آنے کے قریب ہوگئے ۔ توایک فرشتے نے اپنے پر کے ساتھ اُن پر دروازہ بند کر دیا۔اُ س وقت آپ علیہ السلا م نے بڑی بے بسی محسوس کی اور اللہ تعالیٰ سے بڑی حسرت سے فریاد کی تو اللہ تعالیٰ کے حُکم سے فرشتے نے عرض کیا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے۔اور ایک فرشتے نے پر مارا تو قوم سدو م کا ہر فرد پر لگنے کی وجہ سے اندھا ہوگیا۔پس اُنھوں نے اندھے ہو کر اانتہائی تکلیف میں رات گذاری۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ جب قوم سدوم کے لوگ دروازوں کو توڑکر اندر داخل ہوگئے اور فرشتوں کے قریب پہونچ گئے تو جبرئیل علیہ السلام نے اُنھیں اپنا پر مارا۔تو وہ اند ھے ہو کر چلنے لگے۔اور ایک دوسرے سے ٹکرانے لگے۔یہاں تک کہ جب وہ اُن لوگوں کے پاس پہونچے جو دروازے کے باہر تھے تو اُنھوں نے کہا۔ہم تمھارے پاس سب سے بڑے جادوگرکے پا س سے ہو کر آئے ہیں۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت لوط علیہ السلام نے مہمانوں کو گھر کے اندرلیکر دروازہ بند کردیا۔پس وہ (قوم سدوم) کے لوگ آئے اور دروازہ تو ڑ کر اندر داخل ہوگئے ۔ جبرائیل علیہ السلام نے اُن کی آنکھوں پر اپنے پر سے ضرب لگائی تو اُن کی بینائی ختم ہوگئی یعنی وہ اندھے ہوگئے۔اُنھوں نے کہا ۔ اے لوط علیہ السلام ،تم ہمارے پاس جادوگر لیکر آئے ہو۔اور پھر وہ آپ علیہ السلام کو دھمکیاں دینے لگے۔ 

اپنے گھروالوں کو لیکر نکل جائیں ۔

حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کے سب لوگ اندھے ہوچکے تھے۔لیکن یہ بدبخت پھر بھی آپ علیہ السلام کو دھمکیاں دینے لگے تو آپ علیہ السلام نے خیال کیا کہ قو م کے لوگ کہیں نقصان نہ پہونچائیں ۔اِسی لئے آپ علیہ السلام نے فر مایا کہ نہ جانے کب صبح ہوگی تو جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ صُبح بہت قریب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسکے بارے میں سورہ ھود میں فرمایا۔ترجمہ۔”اب فرشتوں نے کہا۔ اے لوط علیہ السلام ، ہم آپ کے پروردگار کی طرف سے بھیجے گئے ہیں ۔اور یہ ناممکن ہے کہ یہ لوگ آپ علیہ السلام تک پہونچ جائیں۔پس آپ علیہ السلام اپنے گھر والوں کو کچھ رات رہے۔(یعنی صبح صادق کے وقت )لیکر اِس علاقے سے کافی دور نکل جانا۔ اور آپ سب لوگوں میں کسی کو بھی پیچھے مڑکر دیکھنا نہیں چاہیئے،سوائے آپ علیہ السلام کی بیوی کے ۔ اس لئے کہ اُسے بھی وہی (عذاب) پہونچنے والاہے ۔جوان سب کو( قوم سدوم) کو پہونچنے گا۔یقینااُس وعدے کے وقت صُبح کا ہے کیا صبح بالکل قریب نہیں ہے۔“(سورہ ھود آیت نمبر81۔) قوم سدوم کے لوگ اندھے ہوگئے تھے۔شروع میں تو اُنھوں نے اسے جادو سمجھا،اور آپ علیہ السلام کو دھمکی دینے لگے۔لیکن جیسے جیسے رات گزرتی جا رہی تھی ،ویسے ویسے اُن کی سمجھ میں آتا جارہا تھا کہ اُن لوگوں پر کوئی جادووغیر ہ نہیں کیا گیا ہے بلکہ یہ تو اُسی عذاب کی شروعات لگتی ہے جسکے بارے میں حضرت لوط علیہ السلام سمجھارہے تھے۔اب قوم سدوم کے لوگوں نے آپ علیہ السلام کے مہمانوں کا خیال اپنے دِل سے نکال دیا تھا۔اور اُنھیں اپنی آنکھوں کی فکر لگ گئی تھی۔اِسی لئے سب لوگ واپس چلے گئے۔جبرائیل علیہ السلام نے حضر ت لوط علیہ السلام کو سمجھایا کہ جب رات کا کچھ حصہ باقی رہ جائے گا تو آپ علیہ السلام اپنے گھر والوں کو لیکر یہاں سے نکل جانا اور ہم لوگ صبح ہوتے ہی عذاب دینے لگ جائیں گے۔اور تم میں سے کوئی بھی کسی بھی قسم کی آواز سننے کے باوجود پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا۔

بیوی نہیں بچے گی۔

حضرت لوط علیہ السلام کو فرشتوں نے تسلی دی۔علامہ ابن کثیر اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں۔کہ اُن کی یعنی حضرت لوط علیہ السلام کی افسردگی ،کامل ملال اور سخت تنگ دِلی کے وقت فرشتوں نے اپنے کو ظاہر کر دیا کہ ہم اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ ہم تک یا آپ علیہ السلام تک نہیں پہونچ سکیں گے۔آپ علیہ السلام رات کے آخری حصّے میں اپنے اہل وعیال کو لیکر یہاں سے نکل جائیے۔ خود اِن سب کے پیچھے رہیئے اور سیدھے اپنی راہ چلے جائیے۔قوم والوں کی آہ وبکا پر اور اُن کے چلاّنے کی آواز سُنکر بھی کوئی بھی پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھنا۔پھر اِس اثبات سے حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کا استثناءکرلیا۔کہ وہ اِس حُکم کی پابند ی نہیں کرسکے گی۔وہ عذاب کے وقت کی ہائے اور تکلیفوں کی آواز سُنکر مڑکر دیکھے گی۔ اس لئے کہ رحمانی قضامیں اُس کا بھی ان کے (قوم سدوم کے ) ساتھ ہلاک ہونا طے ہوچکاہے۔کچھ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام کی بیوی بھی یہاں سے نکلنے میں آپ علیہ السلام کے ساتھ تھی لیکن عذاب کے نازل ہونے پر قوم کا شور سُن کر صبر نہیں کر سکی۔اور مڑکر اپنی قوم کی طرف دیکھا (اور اُن کی خراب حالت دیکھ کر بولی) اور اُس کی زبان سے نکل گیا کہ ہائے میری قوم ، اُسی وقت اوپر سے ایک (گندھک اور تیز ابیت سے بھراہوا) پتھر آیا اور اُسے لگا اور وہ وہیں ڈھیر ہوگئی۔( یعنی جل کر راکھ ہوگئی ہوکر پگھل گئی) آ پ علیہ السلام کی تشفی کے لئے فر شتوں نے اِس بد بخت قوم کی ہلاکت کا وقت بھی بیان کر دیا کہ صبح ہوتے ہی اِس خبیث قوم کو تباہ کر دیا جائے گا۔ اور صبح بالکل قریب ہے۔مولانا مفتی محمد شفیع اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ فرشتوں نے جب حضرت لوط علیہ السلام کا یہ اضطراب دیکھا تو حقیقت کھول کر بتا دی کہ ہم اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں ۔ آپ علیہ السلام دروازہ کھول دیں۔اب ہم اِن کو عذاب کا مزہ چکھاتے ہیں۔دروازہ کھولا تو جبرائیل علیہ السلام نے اپنے پر کا اشارہ اُن کی آنکھوں کی طرف کیا تو سب لوگ اندھے ہوگئے اور واپس بھاگنے لگے۔اُس وقت فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے حُکم سے حضرت لوط علیہ السلام سے عرض کیا کہ آپ علیہ السلام رات کے آخری حِصّے میں اپنے اہل وعیال کو لیکر یہاں سے نکل جائیں ۔ اور سب کو یہ ہدایت کر دیں کہ اِن میں سے کوئی بھی پیچھے مُڑکر نہیں دیکھے ۔سوائے آپ علیہ السلام کی بیوی کے ۔کیونکہ اُس پرتو وہی عذاب آنے والا ہے جو اس قوم پر آئے گا ۔ اسکے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ بیوی کو ساتھ نہ لیں ۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بیوی ہونے کی وجہ سے وہ آپ علیہ السلام کے گھروالوں کے ساتھ چلے گی مگر وہ آپ علیہ السلا م کے حکم پر عمل نہیں کر ے گی۔بعض روایات میں آیا کہ یوں ہی ہوا کہ یہ بیوی بھی ساتھ چلی گی مگر جب قوم پر عذاب آنے کا دھماکہ سُنا تو پیچھے مڑ کر دیکھا اور قوم کی تباہی پر افسوس کا اظہار کر نے لگی۔اُسی وقت ایک پتھر آیا جس نے اُسکا بھی خاتمہ کردیا۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام اور گھر والوں کو بچالیا۔

اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرائیل علیہ السلام نے قوم سدوم کے لوگوں کو اندھا کردیا۔ پوری قوم اندھی ہوچکی تھی۔قوم سدوم پر اللہ کے عذاب کی شروعات ہوچکی تھی ۔جب رات کا آخری پہر شروع ہو اتو فرشتوں نے آپ علیہ السلام سے عرض کیا ۔ اب آپ علیہ السلام اپنے اہل بیت (گھر والوں ) کو لیکر نکل جائیں اور صبح ہونے تک آپ لوگ محفوظ مقام پر پہونچ چکے ہوں گے ۔ تب ہم اِس بد بخت قوم پر عذاب کی شروعات کریں گے۔حضرت لوط علیہ السلام اپنے گھروالوں کو لیکر اپنے مکان سے نکلے تو قوم سدوم کو بہت تکلیف میں مُبتلا پایا۔ہر طرف اندھے دکھائی دے رہے تھے۔جو ٹٹول ٹٹول کر چل رہے تھے۔آپ علیہ السلام تیزی سے اپنے اہل بیت کو لیکر اپنے چچا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف روانہ ہوئے۔اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے لئے زمین لپیٹ دی تھی۔اور سفر تیز ی سے طے ہورہاتھا۔امام قرطبی لکھتے ہیں ۔ بعض مفسرین نے کہا کہ حضرت لوط علیہ السلام طلوع فجر کے وقت اپنے گھروالوں کو لیکر نکلے۔تو فرشتوں نے عرض کیا ۔کہ اللہ تعالیٰ نے یہ پورا علاقہ (جو پانچ بستیوں پر مشتمل تھا۔) اُن فر شتوں کے سُپرد فرمادیاہے۔جن کے ساتھ بادلوں کے جیسے کی آواز بجلی کا کو ند نا اور دوزخ کی بھڑکنے کی کڑکڑاہٹ ہے۔اور ہم نے اُن کو یعنی فرشتوں کو کہہ دیا ہے کہ حضرت لوط علیہ السلام نکل رہے ہیں۔لہذا اُنھیں تم کوئی تکلیف نہیں دینا۔اور اے حضرت لوط علیہ السلام ، جو کچھ آپ علیہ السلام اور گھروالے دیکھیں گے اُسے دیکھ کر خوف میں مُبتلا نہیں ہونا۔بلکہ خاموشی سے اور تیزی سے آگے بڑھتے چلے جانا پس حضرت لوط علیہ السلام باہر نکلے تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی خاطر زمین کو لپیٹ دیا۔یہاں تک کہ آپ علیہ السلام نے اپنے گھر والوں کے ساتھ نجات حاصل کرلی ۔اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس پہونچ گئے۔

اللہ کی مد د

اللہ تعالیٰ نے لوط علیہ السلام اور اُن کے گھر والوں کو بچالیا۔اِس بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ترجمہ۔” ہم نے لوط علیہ السلام کو ااور اُن کے گھروالوں کو بچالیا۔ سوائے اُن کی بیوی کے کہ وہ اُن ہی لوگوں میں رہی جن کو عذاب دیا گیاتھا۔“ (سورہ الاعراف آیت نمبر 83۔) اللہ تعالیٰ نے سورہ الانبیا ءمیں فر مایا۔ تر جمہ ” ہم نے لوط علیہ السلام کو بھی حکم اور علم دیا اور اُسے اُس بستی سے نجات دی ۔جہاں کے لوگ گندے کاموں میں مُبتلا تھے۔ اور وہ تھے بھی بہت بد ترین گنہ گار ۔اور ہم نے لوط علیہ السلام کو اپنی رحمت میں داخل کرلیا۔بے شک وہ نیک لوگوں میں سے تھا۔“ (سورہ الابنیا ءآیت نمبر 74 اور 75۔) اللہ تعالیٰ نے سور ہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ۔”(حضرت لوط علیہ السلام نے دعا کی ۔) اے میرے پر وردگار، مجھے اور میر ے گھر انے کو اِس (وبال) سے بچالے جو یہ کررہے ہیں۔ بس ہم نے اُسے اور اُسکے گھر انے والوں کو سب کو بچالیا ۔سوائے ایک بڑھیا کے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں ہوگئی ۔“ (سورہ الشعراءآیت نمبر 69سے 71 تک۔)اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا ، ترجمہ ۔ ”پس ہم نے اُسے اور اُسکے گھر والوں کو سوائے اُسکی بیوی کے سب کو بچالیا۔ اس کا اندازہ تو باقی رہ جانے والوں میں ہم لگاہی چکے تھے۔“(سورہ النمل آیت نمبر 57) اللہ تعالیٰ نے سورہ الصافات میں فرمایا ۔” بے شک لوط علیہ السلام پیغمبروں میں سے ہیں ۔ہم نے اُن کو اور اُن کے گھروالوں کو نجات دی۔سوائے اس بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں رہ گئی ۔“(سورہ الصافات آیت نمبر 133سے 135 تک۔) اللہ تعالیٰ نے سورہ الذاریات میں فرمایا۔ترجمہ ۔”پس جتنے ایمان والے وہاں تھے ہم نے اُنھیں نکال لیا۔ اور ہم نے وہاں مسلمانوں کا صرف ایک ہی گھر پایا۔“ (سورہ الذاریات آیت نمبر 35 اور 36۔) حضرت لوط علیہ السلام کی بستیوں سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بستی بارہ میل (یعنی لگ بھگ 25 پچیس کلو میڑ،) کے فاصلے پر تھی ۔اور آپ علیہ السلام فجر طلوع ہونے تک لگ بھگ آدھا راستہ طے کر چکے تھے۔

بیوی عذاب کا شکار ہوگئی

حضرت لوط علیہ السلام اپنے گھر والوں کو لیکر تیز ی سے اپنے چچا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف رواں دواں تھے۔اور لگ بھگ آدھے سے زیادہ راستہ طے کر چکے تھے کہ فجر طلوع ہوئی اور فرشتوں نے عذاب کی شروعات کردی ۔ سن سے پہلے اِن پانچوں شہروں کو اُٹھا کر پلٹ دیا اور اُن کے اوپر کیمیائی پتھروں کی بارش کر دی ۔یہ بارش اتنی شدید تھی کہ کئی میل دور حضرت لوط علیہ السلام تک پہونچ رہی تھی۔مفتی احمد یارخان نعیمی لکھتے ہیں۔حضرت لوط علیہ السلام چل پڑے اور بستی سے کافی دور آکر ایک پہاڑی پر بیٹھے تہجد کا وقت تھا اور آپ علیہ السلام اور گھر والے ذکر الٰہی میں مشغول تھے۔اور بیوی غفلت میں پڑی رہی اُسے اپنی قوم کی فکر تھی۔ جب فجر طلوع ہوئی تو عذاب نازل ہوگیا۔آپ علیہ السلا م اپنے اہل بیت کو لیکر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف چل پڑے ۔ بیوی پیچھے پیچھے قوم کی یادلئے ہوئے آرہی تھی۔ہواﺅں اور پتھروں کی شائیں شائیں برابر آرہی تھی۔ بیوی نے اچانک مڑکر دیکھا اور مرتے ہوﺅں کو دیکھ کر بولی ۔ ہائے میر ی قوم ، بس ایک پتھرآیا اور اُسے لگا اور اُس کا کام تمام ہوگیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بستی حالانکہ چھ میل کے فاصلے پر تھی ، مگر اللہ تعالیٰ نے یہ سفر آن کی آن میں پورا کرا دیا اور آپ علیہ السلا م خیریت سے چچا کے پاس پہونچ گئے۔ 

قومِ سدوم کی بستیوں کو پلٹ دیا گیا

اللہ تعالیٰ نے سورہ ھود میں فرمایا۔ ترجمہ ۔”پھر جب ہمارا حُکم (عذاب) آپہونچا۔تو ہم نے اس بستی کو زیر وزبر دیا۔اوپرکا حصّہ نیچے اور نیچے کا اوپرکردیا۔“ (سورہ ھود آیت نمبر 82۔) اللہ تعالیٰ نے سورہ النجم میں فرمایا ؛ترجمہ”اورموئتفکہ(اُلٹی ہوئی بستیوںیا شہروںکو)اُسی نے اُلٹ دیا۔“(سورہ النجم آیت نمبر 53)اﷲتعالیٰ نے فرشتے یافرشتوں کو حُکم دیاکہ قوم سدوم کے پانچوں شہر یا بستیاں اُٹھا کر پلٹ دی جائیں ، روایات میں جبرائیل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام کے نام آئے ہیں ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اِن دونوں فرشتوں نے قوم سدوم کے علاقے کو پلٹ ہو یا پھر اِن دونوں میں سے کسی ایک فرشتے نے پلٹاہو۔ اب حقیقت کیا ہے اِسکا عِلم صِرف اللہ تعالیٰ کوہی ہے ۔ یہاں ہم دونوں طرح کی روایات پیش کررہے ہیں۔حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ (جلیل القدرتابعی ) سے مروی ہے کہ میکائیل علیہ السلام نے اپنا پروں پر قوم سدوم کے گھروں ،سامان ،چوپایوں اور ہر قسم کے سامان کو اُٹھالیا یہاں تک کہ آسمان والوں نے اُن کے کتوں کے بھونکنے کے آواز سُنی اور پھر اُنھیں زمین پر پٹک دیا۔ حضرت مجاہد سے دوسر ی روایت ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اپنے دائیں بازو پر اُٹھایا۔ حضرت مجاہد سے تیسری روایت میں ہے کہ جب صبح کا وقت ہو ا تو جبرائیل علیہ السلام نے اس بستی کو چاروں کو نوں سے اپنے پروں پر اُٹھالیا۔ حضرت مجاہد سے چوتھی روایت میں ہے کہ جبر ائیل علیہ السلام نے اپنے پروں پر ساری بستیوں کو اُٹھالیا اور پھر اتنی اوپر لے گئے کہ پہلے آسمان کے فرشتوں نے اُن کے کتوں کے بھونکنے کی آواز سُنی ۔ پھر اُنھیں نیچے پٹک دیا۔ اور اُن کے بڑے لوگ یعنی سردار پہلے نیچے گرائے گئے ۔ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ (جلیل القدرتابعی ) سے مروی ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے درمیا ن سے بستی کو اُٹھایا اور اتنی اوپر اُٹھایاکہ پہلے آسمان پر رہنے والوں نے اُن کے کتوں کے بھونکنے کی آواز سنی ۔ پھر اُنھیں ایک دوسرے پر ڈال کر نیچے پٹک دیا۔اُس وقت اس بستی میں چار لاکھ سے زیا دہ افراد تھے۔اور یہ بھی روایت ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے شہر الخلیل سے عذاب کا یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ زیادہ تر روایات یہ ہیں کہ جبرئیل علیہ السلام نے اِن شہر وں کو پلٹ دیا۔

بنیادوں سے اُکھاڑکر پلٹ دیاگیا

اللہ تعالیٰ نے جتنا بھیانک عذاب قومِ سدوم(قوم لوط ) کو دیا۔ اُتنا کسی قوم کو نہیں دیا۔ پہلے تو اُنھیں اندھا کردیا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرئیل علیہ السلام نے اپنا پر مارا تو قوم کے تمام لوگ اندھے ہوگئے اور رات بہت تکلیف سے گذاری کیونکہ ایک روایت میںیہ بھی ہے اُن کی آنکھیں پھوٹ گئیں یا بہہ گئیں یا پھر باہر نکل گئیں ۔ ابھی قوم کے لوگوں کو اِس تکلیف سے راحت نہیں ملی تھی کہ فجر طلوع ہوتے ہی جبرئیل علیہ السلام نے اِن شہروں پر حملہ کیا اور اُنھیں اُن کی بنیادوں سے ہلا دیا۔ پھر اپنا پر ان کے نیچے داخل کیا۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ السلام نے جبرئیل علیہ السلام کو اصل شکل میں دیکھا ہے۔ اُن کے پر اتنے بڑے بڑے ہیں کہ دوپر سے پوری زمین ڈھک جائے گی۔) اور اُنھیں (پانچوں شہروںکو) اور اُن میں موجود ہر شئے کے ساتھ اُٹھالیا۔ اور اتنی اوپر لے گئے کہ پہلے آسمان والوں نے اِن شہروں کے مرغوں کی بانگ اور کتوں کے بھونکنے کی آواز سُنی ۔ اِسکے بعد اِن تمام شہروں کو پلٹ دیا اور اِتنی تیزی سے لاکر پٹخاکہ وہ پانچوں شہر چار سو 400 میڑ گہرائی میں چلے گئے۔ اور جہاں قوم ِسدوم کے پانچ شہر تھے وہاں چارسو میڑ گہرا گڑھا بن گیا۔ اِن میں سب سے پہلے نیچے گرِے وہ ان کی بالا خانے تھے۔ اور کسی قوم کو وہ عذاب نہیں دیا گیاجو اُنھیں دیاگیا تھا۔پہلے تو اللہ تعالیٰ نے اُن کی آنکھوں کی ضائع کردیا۔ پھر اُن کی بستیوں کو اُلٹا کردیا۔ اور پھر اُن پر آگ سے پکے ہوئے پتھر برسائے ۔ ایک روایت میں ہے کہ جبرئیل علیہ السلام نے قوم ِسدوم کے شہر وں کے نیچے کی زمین کو اُکھیڑا اور پھر اُسے اُٹھا کر آسمان تک لے گئے او رپھر نیچے پٹک دیا۔ اور پھر اُن پر گندھک اور آگ برسائی ۔ 

قوم سدوم پر پتھروں کی بارش

اللہ تعالیٰ نے سور ہ اعراف میں فرمایا۔ترجمہ۔”اور ہم نے اُن پر کئی طرح کا مینہ (بارش) برسایا۔ پس دیکھو تو سہی اِن مجرموں کا انجام کیساہوا؟“ (سورہ الاعراف آیت نمبر 84۔) اللہ تعالیٰ نے سورہ ھود میں فرمایا۔ ترجمہ ۔”اور اُن پر کنکریلے پتھر برسائے جو تہ بہ تہ تھے اور تمھارے رب کی طرح سے نشان لگے ہوئے تھے۔اور وہ اِن ظالموں سے کچھ بھی دور نہیں تھے۔“(سورہ ھود آیت نمبر 82 اور 83۔) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ۔”پھر ہم نے باقی اور سب کو ہلاک کردیا۔اور ہم نے اُن پر ایک خاص قسم کا مینہ (بارش) برسایا۔ پس بہت ہی بُرا مینہ تھا جو ڈرائے گئے ہوئے لوگوں پر برسا۔ اِس واقعہ میں بھی سراسر عبرت ہے۔اوران میں سے اکثر مسلمان نہیں تھے۔ بے شک تمھارارب ہی غلبے والا اور مہربانی والاہے۔“ (سورہ الشعراءآیت نمبر 172سے 175 تک۔) اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ۔ ”اور اِن پر ایک (خاص قسم کی )بارش برسادی۔ بس اِن دھمکائے ہوئے لوگوں پر بُری بارش ہوئی۔“ (سور ہ النمل آیت نمبر 58۔)اللہ تعالیٰ نے سورہ الذاریات میں فرمایا۔ ترجمہ ۔” ( حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ) کہا کہ اے اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتو، تمھارا کیا مقصد ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ ہم گنہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں ۔ تاکہ ہم اِن پر مٹی کے کنکر برسائیں ۔ جو تمھارے رب کی طرف سے نشان لگائے ہوئے تھے۔ اُن حد سے گذرجانے والوں کے لئے ۔(سورہ الذاریات آیت نمبر 31 سے 34 تک۔)

قوم سدوم پر کئی طرح کا عذاب

حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر کئی طرح کے عذاب آئے ۔ مولانا عاشق الہٰی لکھتے ہیں۔ جب صبح ہوئی تو اللہ کاحکم آگیا۔ جو فرشتے عذاب کے لئے بھیجے گئے تھے اُنھوں نے اِن بستیوں کا تختہ اُٹھا کر پلٹ دیا۔ نیچے کی زمین اوپر اور اوپر کی زمین نیچے ہوگئی ۔ وہ سب لوگ اِس میں دب کر مرگئے ۔اور اللہ تعالیٰ نے اوپر سے پتھر بھی برسادیئے جو کنکرکے پتھر تھے۔ وہ لگاتا ر برس رہے تھے۔ اور ان پرنشان بھی لگے ہوئے تھے۔ بعض علمائے تفسیر نے فرمایا ہے ہر پتھر جس شخص پر پڑتا تھا اُس پراُس شخص کا نام لکھا ہوا تھا۔ اِسی کو ”مسومة‘ ‘ یعنی نشان لگا ہوا فرمایا۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ جو لوگ اِس علاقہ میں موجود تھے اُن پر زمین اُلٹنے کا عذاب آیا اور جو اِدھر اُدھر نکلے ہوئے تھے یعنی تجارتی سفروغیرہ تو اُن پر پتھر برسے اوروہ پتھر وں کی بارش سے ہلاک ہوئے ۔ حضرت مجاہد تابعی رحمتہ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا ۔ کیا قوم لوط میں سے کوئی رہ گیا تھا۔ تو اُنھوں نے جواب دیا کوئی باقی نہیں رہ گیا تھا۔ہاں ایک شخص زندہ بچ گیا تھا۔جو مکہ مکرمہ میں تجارت کے لئے گیا ہو اتھا۔ وہ چالیس دِن کے بعد مکہ مکرمہ سے باہر نکلا تو اُسے بھی پتھر آکرلگا جسکی وجہ سے وہ ہلاک ہوگیا ۔ سورہ حجرمیں زمین کا تختہ الٹنے کا تذکرہ کرنے سے پہلے یہ بھی فرمایا کہ ”سورج نکلتے نکلتے اُنھیں چیخ نے پکڑلیا۔ “ اِس سے معلوم ہوا کہ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر تین طرح کا عذاب آیا۔ پہلے چیخ نے پکڑا پھر زمین کا تختہ پلٹ دیا گیا اور پھر اُن پر پتھر برسائے گئے۔

ایٹم بموں جیسے پتھروںکی بارش۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قوم ِسدوم پر کئی طرح کی بارش کی گئی ہے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ سورج نکلنے کے وقت اُن پر عذاب آگیا اور اُن کی بستیاں سدوم سمیت تہہ وبالاہوگئیں ۔عذاب نے اوپر تلے اُنھیں ڈھانک لیا۔آسمان سے پکی ّ مِٹی کے پتھر اُن پر برسنے لگے ۔ جو سخت وزنی اور بہت بڑے بڑے تھے۔صحیح بخاری میں ہے کہ سجین اور سجیل دونوں ایک ہی ہیں ۔ منضود سے مراد پے درپے ،تہہ بہ تہہ ، ایک کے بعدایک (یعنی لگاتار)ہیں ۔ اِن پتھروں پر قدرتی طور سے اُن لوگوں کے نام لکھے ہوئے تھے۔ جس کے نام کا پتھر تھا اُسی پر گرِتاتھا۔ وہ پتھرطوق کی طرح تھے اور سرُخی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ (یعنی آگ میں نکلے ہوئے سرخ سرخ انگاروں کی طرح تھے اور جس پر جہاں پڑتے تھے وہ وہیں سے جلنا اورپگھلنا شروع ہوجاتاتھا۔) یہ اِن (پانچوں شہروں کے ) شہریوں پر بھی برسے اور جولو گ گاﺅں گوٹھ میں تھے اُن پر بھی گرِ ے۔ اِن میں سے جو جہاں تھا وہیں پتھروں سے ہلاک کر دیا گیا۔ کوئی کھڑا کسی سے باتیں کر رہا تھا کہ وہیں آسمان سے پتھر آیا اوراُسے ہلاک کر گیا ۔غرض یہ کہ اُن میں سے ایک ابھی نہیں بچا۔ مذکو رہے کہ قوم سد وم کی چار بستیاں تھیں اور ہر بستی کی آبادی ایک لاکھ سے ذیادہ تھی۔ 

موتفکات۔

اللہ تعالیٰ نے اِس بدبخت قوم کی اُلٹی ہوئی بستیوں کو ”مو¿تفکات“اور مو¿تفکہ “فرمایاہے۔مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں۔پھر اس عذاب کا واقعہ قرآن پاک میں (اللہ تعالیٰ ) نے اس طرح بیان فرمایاہے۔ کہ جب ہمارا عذاب آگیا تو ہم نے اِن بستیوں کے اوپر کا حصّہ نیچے کر دیا اور ان پر ایسے پتھر برسائے جن پر ہر ایک کے نام کی علامت لکھی ہوئی تھی۔روایات میں ہے کہ یہ چار بڑے بڑے شہر تھے جن میں یہ لوگ بستے تھے، انھی بستیوں کو قرآن پاک میں دوسری جگہ ”موتفکات “ کے نام سے فرمایا گیاہے۔ جب اللہ تعالیٰ کا حُکم ہوا تو جبرئیل امین نے اپنا پر اِن سب شہروں کی زمین کے نیچے پہنچا کر سب کو اس طرح اوپر اُٹھا لیا کہ ہر چیز اپنی جگہ پر رہی ۔ پانی کے برتن سے پانی بھی نہیں گرِا۔اور آسما ن کی طرف سے کتوں اور جانوروں اورانسانوں کی آوازیں آرہی تھیں ۔ اِن سب بستیوں کوآسما ن تک سیدھااُٹھانے کے بعد اوندھا کر کے پٹخ دیا گیا جو اِن کے عمل خبیث کے مناسب حال تھا۔ مفتی احمد یارخان نعیمی لکھتے ہیں ۔کہ پس جب ہمارا عذاب صبح کے مقررہ وقت پر آگیا تو ہم نے اپنی پوری قدرت کا ملہ سے بذریعہ¿ ملائکہ (فرشتوں ) کے ذریعے اِن کو الٹا کر دیا۔ کہ اِس طرح جبرئیل علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم پر ان پانچ شہروں والے صوبے کواٹھایا اور بلند یوں پر لے جاکر اُلٹا کر نیچے پھینک دیا۔کہ نیچے کی جگہ اوپر اور اوپر کی جگہ نیچے ہوگئی ۔قوم لو ط یعنی قو م سدوم کی تعداد چار لاکھ سے ذیادہ تھی۔ جو قریبی پانچ شہر وں میں آباد تھی۔اس صوبے کا نام ”مو¿تفکات “ تھا۔اِن میں سب سے بڑا شہر سدوم تھا۔ یہیں حضرت لوط علیہ السلا م رہائش پذیر تھے۔ کوئی بھی ایمان نہیں لایا تو پانچوں بستیاں اُلٹادی گئیں ۔ اور ساتھ ہی ہم نے اِن بستیوں پر پتھر برسائے جو کھردرے تھے ۔ یعنی سارے پتھروں کی حالت کھردری نوک دار تھی۔چکنے اور صاف پتھر نہیں تھے۔ کیونکہ چکنے اور صاف پتھر کی چوٹ سے کم زخم لگتے ہیں ۔ اور برسائے بھی اس طرح پے درپے کہ موسلا ھار بارش کی طرح برسائے ۔اور اللہ کی قدرت دیکھئے کہ اِن پر ہر مجرم کا نام لکھا ہواتھا۔ اور وہ اُسی کو لگتا تھاجس کا نام لکھا ہواتھا۔ اے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم ، وہ پتھر یاوہ عذاب یاوہ پتھروں کی لکھائی آپ ﷺ کے رب کی طرف سے تھی۔اِن پتھروں سے کوئی کا فر نہیں بچ سکا۔ جو باہر سفر میں تھے اُن کو سفر میں ہی جالگا اور وہیں ہلاک کردیا۔ روایت ہے کہ ایک کافر حرم کعبہ میں چھپ گیا تو اُس کے نام کا پتھر چالیس دن تک زمین اور آسمان کے درمیان لٹکا دیا۔ جب وہ مطمئن ہوکر حرم پاک (مکہ مکرمہ) سے نکلا تو وہ پتھر لگا اور وہ مرگیا۔ 

کیمیائی پتھروں کی بارش

اللہ تعالیٰ نے قوم سدوم پر پتھروں کی بارش کی۔ وہ کوئی عام پتھر نہیں تھے۔ بلکہ اِن بد بختوں پر اللہ تعالیٰ نے کیمیائی پتھروں کی بارش کی ۔ مولانا سیدابواعلیٰ مودودی لکھتے ہیں ۔ غالبا ً عذاب ایک سخت زلزلے اور آتش فشانی انفجار کی شکل میں آیا تھا۔ زلزلے نے اِن کی بستیوں کو تل پٹ کردیا اور آتش فشاں مادے کے پھٹنے سے اُن کے اوپر پتھر اﺅ ہوا۔ پکی ہوئی مٹی کے پتھروں سے مُراد شاید وہ متحجرمٹی ہے جو آتش فشانی علاقے میں زیر زمین حرارت اور لاوے کے اثر سے پتھرکی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ آج تک بحر لوط کے جنوب اور مشرق کے علاقے میں اِس انفجار کے آثار ہر طرف نمایاںہیں ۔ اور ہر ہر پتھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نامزد کیا ہوا تھا کہ اُسے تباہ کاری کا کیاکام کرنا ہے۔اورکس مجرم پر پڑنا ہے۔ یہ پکی ہوئی مٹی کے پتھر ممکن ہے کہ شہاب ثاقب کی نوعیت کے ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آتش فشانی انفجار کی بدولت زمین سے نکل کر اُڑے ہوں اور پھر اُن پر بارش کی طرح برس گئے ہوں ۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایک سخت آندھی نے پتھراﺅ کیاہو۔ایک ایک پتھر پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رب کی طرف سے نشان لگادیا گیا تھا کہ اُسے کس مجرم کی سرکوبی کرنا ہے۔سورہ ھود اور سورہ حجرمیں اس عذاب کی تفصیل یہ بتائی گئی کہ اُن کی بستیوں کو تلپٹ کردیا گیا اور اوپر سے پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسائے گئے۔ اس سے یہ تصور کیا جاسکتا ہے شدید زلزلے کے اثر سے پورا علاقہ اُلٹ دیا گیا اور جو لوگ زلزلے سے بچ کر بھاگے اُن کو آتش فشاں مادّے کے پتھروں کی بارش نے ختم کردیا۔

قوم سدوم پر چار طرح کا عذاب 

اللہ تعالیٰ نے قوم سدوم پر چار طرح کا عذاب دیا۔1)اندھے ہونے کا۔2) دہشت ناک چنگھاڑ۔ 3) زلزلے کا۔4) پتھروں کی بارش کا ۔ لیکن اکثر علمائے کرام نے تین طرح کے عذاب کا ذکر کیاہے۔مفتی احمد یا رخان نعیمی لکھتے ہیں۔ حضرت لوط علیہ السلام سے اپنا تعارف کرایا اور اپنے پاس بلالیا۔ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے اجتماع (قوم ِسدوم ) کی طرف انگلی لہرادی۔اچانک سب اندھے ہوگئے اور تن بدن میں جلن سی پڑگئی ۔ بس پھرکیا تھا ساری شہوت فنا ہوگئی اور چیختے چلاتے پیچھے بھاگے کہ ہائے مرگئے۔ارے یہ مہمان تو جادوگر ہیں ۔یہ عصر اور مغرب کا درمیانی وقت تھا۔رات کو صبح تک جوہوا سوہوا۔ اسکے بعد آگے لکھتے ہیں۔کہ رات بھر یہ لوگ درد اور اندھے پن سے چیختے چلاّتے اور تڑپتے رہے۔فیصلہ کے مطابق فجر کے وقت پہلے چیخ اور انتہائی ڈر اور کٹرک آئی ۔ جس سے مردوں کے پتے پھٹ گئے اور بچے اور جانور اور عورتیں ہلاک ہوگئے ۔ کیونکہ بدکاری کا عذاب صِرف مردوں کو ملنا تھا۔اور کفر کا عذاب عورتوں کو بھی ۔ اُس وقت مشرق سے فجر طلوع ہورہی تھی۔ یہ عذاب طلوع فجر کے وقت سے شروع ہوا اور کی اشراق کے وقت اَسکی انتہائی ہوئی ۔ پھر بنادیا ہم نے اِس پوری بستی کی آبادی کے اوپر کو نیچا یا اسی چیخ کے ذریعے کہ چیخ کی ہولنا کی سے زلزلے کی شکل ہوئی ۔ زمین شدت سے کا نپی اور پھٹ گئی ۔ اور تمام عمارات بڑی بڑی مضبوط پختہ پتھر یلی حویلیاں اور قلعے آن واحد میں زمین بوس ہوگئے ۔ یا چیخ کے بعدقدرتی زلزلہ آیا۔ یا جبرئیل علیہ السلام نے اُتنی زمین کو اُٹھا کر اُلٹا کردے مارا ۔ مگر پہلا قول ذیادہ درست ہے۔اِس لئے کہ ان کے قوم سدوم کے تین بڑے جُرم تھے۔ 1) کفر ۔2)نبی علیہ السلام کی گستاخی ۔3) بد فعلی ۔ اس لئے ترتیب سے ان پر تین عذاب آئے ۔1) دھشت ناک چنگھاڑ۔2)زلزلہ لیکن ابھی مرے نہیں تھے۔3) پتھروں کی بارش اور ہر پتھر پر نام لکھاتھا اُسی کو لگا۔ اور پتھر وہ تھے جو مٹی کو پکاکر پکاکر بنائے گئے تھے۔ اور یہ سب قدرتی تھا۔ یہ بارش بھی قدرتی تھی فرشتوں کے ہاتھوں سے نہیں تھی۔ اگر جبرئیل علیہ السلام بستی کو اُٹھاکر اُلٹا تے تو پھر پتھر برسنے سے پہلے ہی سب مر جاتے اور پتھر اﺅ بیکار ہوجاتا۔اور یہ پتھریلی بارش عام تھی۔ یہاں تک کہ جو جہاں تھا۔ بستی میں یا باہر یا جنگل میں یا سفر میں وہیں جاکر پتھر اُس کو لگا۔ جس پتھر پر حضرت لوط علیہ السلا م کی بیوی کا نام لکھا تھا۔ وہی اُسے جاکر لگا اور ہلاک کردیا۔ چیخ سے بچے ،بوڑھے اور عورتیں مرے ۔زلزلے سے گھر ٹوٹے اور پتھریلی بارش سے بدکارمرے ،اور منٹوں میں تباہی نے نام ونشان مٹاکر عبرت کےلئے نشانی قائم کردی۔

قوم سدوم پر عذاب سائنسی نظر یہ سے۔

اللہ تعالیٰ نے قوم سدوم پر عذاب بھیجا۔ سائنسی نظریہ سے یوں ہوا تھا کہ اُس پورے علاقے پر ایک بہت زبردست زلزلہ آیا۔ اور زلزلہ اِس لئے آیا کہ وہاں اندر جو لاوا بہت زیادہ شدت سے اُبلنے لگا۔ جس سے بہت شدید چنگھاڑ کی آواز پیدا ہوئی اور وہ پورا علاقہ مسلسل لرزنے لگا۔ اِسکے بعد قوم سدوم کی پانچوں بستیاں جس زمین پرتھی وہ زمین پوری طاقت سے زمین سے ٹوٹ کرالگ ہوئی اور بھک سے اُڑگئی ۔اور اُڑ کر خلا ءمیں بہت دور تک گئی ۔پھر زمین کی کشش ثقل نے اُسے دوبارہ اپنی طرف کھنیچ لیا۔ اور جس جگہ سے وہ حصّہ ٹوٹا تھا۔ وہاں شدت سے لاوااُبل رہاتھا اور وہیں کی کشش ثقل سب سے زیادہ تھی ۔ اسی لئے الگ ہوا زمین کا حصّہ پلٹ گیا اور تیزی سے اتنی تیزی سے اُسی جگہ واپس آیا اور ٹکرا یا کہ لاوے کے اندر چار سو میڑ تک دھنس گیا۔اورواپس ہوتے وقت جو لاوے کے فوارے جلتے ہوئے پتھر وں کی شکل میں اُڑرہے تھے۔ وہ بارش کی طرح قوم سدوم پر برس پڑے۔ یہ اِس طرح ہواکہ جب جبرئیل علیہ السلام نے قوم سدوم کے شہروں کے نیچے کی زمین کے نیچے اپنا پر گھُسا نا شروع کیا تو زبردست آواز اور زلزلہ پیدا ہوا۔ اُنھوں نے اُس علاقے کی زمین جتنی لاوے تک تھی ۔ وہ پوری اُکھا ڑلی۔ یعنی اپنا پَر وہاں گُھسا یا جہاں سخت زمین ختم ہوتی ہے اور لاواشروع ہوتاہے۔(زمین کی ساخت کو سمجھنے کے لئے ہمارا سلسلہ نمبر ۱ حضر ت آدم علیہ السلام پڑھیں ) اِس طرح اُس علاقے کی پوری سخت زمین جبرئیل علیہ السلام نے اُکھاڑی اور اوپر (یعنی خلاءمیں ) لیکر چلے تو لاوا پوری شدت سے جوش مار کر وہاں اُچھلنے لگا۔ جس کے نتیجے میں اُس علاقے کی زمین کا بچا کچا حصّہ پک کر پتھروں کی شکل میں اڑا۔ اور جب جبرئیل علیہ السلام نے وہ زمین کا ٹکڑا اُسی جگہ لاکر دھنسا دیا تو اس دوران قوم سدوم پر پتھروں کی بارش نیچے سے ہوئی۔ اور جب وہ حصّہ واپس زمین میں دھنس گیاتو جو بہت ساری مٹی پک کر پتھروں کی شکل میں فضا میں اُڑی تھی۔ وہ پتھروں کی شکل میں اُس علاقے پر اور اُن لوگوں پر برسنے لگی جو اُس علاقے سے دور سفر میں جنگل میں کہیں بھی تھے۔اب حقیقت کیا ہے اِسکا علِم تو صِرف اللہ تعالیٰ کوہی ہے۔ واللہ اعلم ۔ ہم صِرف اتنا کہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قوم سدوم کو سخت عذاب دیا۔ اور اللہ تعالیٰ کچھ بھی کرسکتا ہے۔

اللہ کی نشانی۔

اللہ تعالیٰ نے قوم سدوم پر عذاب نازل فرمایا تھا۔اُسے قیامت تک کے لئے لوگوں کے سامنے نشانی بنادی ۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ حجر میں حضرت لوط علیہ السلام اور قوم سدوم کا واقعہ بتانے اور پھر عذاب کی تفصیل بتانے کے بعد فرمایا۔ ترجمہ ۔”بے شک نصیحت حاصل کرنے والے کے لئے اِس میں (اللہ کے عذاب میں ) بہت سی نشانیاں ہیں۔یہ بستی ایسے راستے پر ہے۔ جو برابر چلتا رہتاہے۔ (یعنی ایساراستہ ہے کہ الگ بھگ ہر علاقے کے لوگ وہاں سے گذرتے رہتے ہیں۔) اور اِس میں ایمان والوں کے لئے بڑی نشانی ہے۔“ (سورہ الحجرآیت نمبر 75سے 77 تک۔) مولانا سیدابواعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔حجاز سے شام اور عراق سے مِصر جاتے ہوئے یہ تباہ شدہ علاقہ راستہ میں پڑتاہے۔اور عموماًقافلوں کے لوگ تباہی کے اُن آثار کو دیکھتے ہیں جو اِس پورے علاقے میں نمایاں ہیں۔یہ علاقہ بحر لوط (بحیرئہ مردار) کے مشر ق اور جنوب میں واقع ہے۔اور خصوصیت کے ساتھ اِس جنوبی حصّے کے متعلق جغرافیہ دانوں کا بیان ہے کہ یہاں اِس درجہ ویرانی پائی جاتی ہے کہ جس کی نظیرپوری رُوئے زمین پر کہیں اور نہیں دی دیکھی گئی ہے۔بحیرئہ مردار Dead Sea کے جنوب اور مشرق میں جو علاقہ آج انتہائی ویران او رسنسان حالت میں پڑا ہوا ہے۔اِس میں کثرت سے پُرانی بستیوں کے آثار ملتے ہیں۔حالانکہ اب یہ علاقہ اتنا شاداب نہیں ہے کہ اتنی آبادی کا بوجھ سنبھال سکے۔ آثار قدیمہ کے ماہرین کا اندازہ ہے کہ اِس علاقے کی آبادی اور خوش حالی کا دور 2300 قبل مسیح (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے دوہزارتین سو سال پہلے ) سے لیکر 1900 قبل مسیح (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے اُنیس سو سال پہلے) تک رہاہے۔اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق مورخین کا اندازہ یہ ہے کہ وہ دو ہزار 2000 قبل میسح کے لگ بھگ زمانے میں گذرے ہیں ۔ اِس لحاظ سے آثار قدیمہ کی شہادت اِس بات کی تائید کرتی ہے کہ یہ علاقہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اُن کے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام کے عہد (زمانے) ہی میں برباد ہواہے۔

عذاب کا علاقہ ایمان والوں کے لئے عبرت کی جگہ۔

اللہ تعالیٰ نے فر مایا ہے کہ اِس میں (قوم سدوم کے شہروں میں ) ایمان والوں کے لئے نشانی ہے۔ اِس علاقے کے بارے میں مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔اِس علاقے کا سب سے زیادہ آباد اور سر سبز وشاداب حصّہ وہ تھاجسے بائیبل میں ”سدیم کی وادی“ کہا گیا ہے۔جسکے متعلق بائیبل کا بیان ہے کہ وہ اس سے پیشترکہ خدا وند نے سدوم اور عمورہ کو تباہ کیا۔خداوند کے باغ (عدن) اور مِصر کے مانند خوب سیراب تھی۔(کتاب پیدائش باب نمبر 13 آیت نمبر 10۔) موجودہ زمانے کے محققین کی عام رائے یہ ہے کہ وہ سدوم کی وادی اب بحیرئہ مُردار کے اندر غرق ہے ۔اور یہ رائے مختلف آثار کی شہادتوں سے قائم کی گئی ہے۔قدیم زمانے میں بحیرئہ مُردار اتناوسیع نہیں تھا جتنا اب ہے شرق اُردن کے موجودہ شہر الکرک کے سامنے مغرب کی جانب اس بحیرے میں جو ایک چھوٹا ساجنریرہ نما”اللّسان “ پایا جاتاہے۔ قدیم زمانے میں بس یہی پانی کی آخری سرحد تھا۔اس کے نیچے کا حصّہ جہاں اب پانی پھیل گیا ہے۔پہلے ایک سر سبزوادی کی شکل میں آباد تھا، اور یہی وہ وادی سدیم تھی جس میں قوم لوط کے بڑے بڑے شہر سدوم، عمورہ ،آدمہ ،صبویم اور ضفرواقع تھے ۔دوہزار قبل مسیح کے لگ بھگ زمانے میں الگ زبردست زلزلے کی وجہ سے یہ وادی پھٹ کر دب گئی اور بحیرئہ مردار کا پانی اس کے اوپر چھاگیا۔آج بھی یہ بحیر ے کا سب سے زیادہ اُتھلا حصّہ ہے۔مگر رومی عہدمیں یہ اِتنا اُتھلا نہیں تھا۔اور لوگ اللسان سے مغربی ساحل تک چل کر پانی میں گزر جاتے تھے۔اِس وقت بھی یعنی آج بھی جنوبی ساحل کے ساتھ ساتھ پانی میں ڈوبے ہوئے جنگلات صاف نظرآتے ہیں ۔ بلکہ یہ شبہ بھی کیا جاتا ہے کہ پانی کے اندر کچھ عمارات کے کھنڈر ڈوبے ہوئے ہیں۔بائیبل اور قدیم یونانی اور لاطینی تحریروں سے معلوم ہوتو ہے کہ اس علاقے میں جگہ جگہ نقطہ (پٹرولی) اور اسفالٹ کے گڑھے تھے۔اور بعض جگہ زمین سے آتش گیر گیس بھی نکلتی ہے۔اب بھی وہاں زیر زمین پٹرول اور گیسوں کا پتہ چلتاہے۔طبقات الارضی مشاہدات سے اندازہ کیاگیاہے۔ کہ زلزلے کے شدید جھٹکوں کے ساتھ پٹرولی ، گیس اور اسفالٹ زمین سے نکل کر بھڑک اُٹھے ۔ اور سارا علاقہ بھک سے اُڑگیا تھا۔بائیبل کا بیان ہے کہ اِس تباہی کی اطلاع پاکر حضرت ابراہیم علیہ السلام جب حبرون ( الخلیل ) سے اِس وادی کا حال دیکھنے آئے تو زمین سے اِس طرح دھواں اُٹھ رہا تھا جیسے بھٹی کا دھواں اُٹھتا ہے۔

عقل والوں کے لئے عبرت کی نشانی۔

اللہ تعالیٰ نے سورہ عنکبوت میں حضرت لوط علیہ السلام اور قوم سدوم اور اُس پر عذاب کے واقعہ کو بیان فرمانے کے بعد فرمایا۔ ترجمہ۔ ”یقینا ہم نے اِس بستی کو صریح عبرت کی نشانی بنادیا اُن لوگوں کے جو عقل رکھتے ہیں۔“ (سورہ العنکبوت آیت نمبر۵۳۔) مولانا سیدابواعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔اِس کُھلی (صریح) نشانی سے مراد بحیر ئہ مُردار ہے ۔جسے بحیر لوط بھی کہا جا تا ہے ۔قرآن پاک میں متعدومقامات پر کفّا رمکہ کو (خصوصی طور سے اور قیامت تک آنے والے تمام انسانوںکو عمومی طورسے) خطاب کرکے فرمایا گیا ہے کہ اِس ظالم قوم پر اس کے کرتوتوں کی بدولت جو عذاب آیا ہے۔ اُسکی ایک نشانی آج بھی شاہراہ عام (ہائی وے) پر موجود ہے۔ جسے تم ملک شام کی طرف اپنے تجارتی سفروں میں جاتے ہوئے شب اور روز دیکھتے ہو۔ موجودہ زمانے میں یہ بات قریب قریب یقین کے ساتھ تسلیم کی جارہی ہے کہ بحیرئہ مردار کا جنوبی حصّہ ایک ہولناک زلزلہ کی وجہ سے زمین میں دھنس جانے کی بدولت وجود میں آیا ہے۔ اور اِسی دھنسے ہوئے حصے میں قوم لوط کا مرکذی شہر سدوم واقع تھا۔ اِس حصّے میں پانی کے نیچے کچھ ڈوبی ہوئی بستیوں کے آثارا ب بھی پائے جاتے ہیں۔حال ہی میں جدید آلات غوطہ خوری کی مدد سے یہ کوشش شروع ہوئی ہے کہ کچھ لوگ پانی میں نیچے جاکر اِن آثار کی جستجوکریں ۔ لیکن ابھی تک اِن کو ششوں کے نتائج سامنے نہیں آئے ہیں۔ اورا نشااللہ کوئی بھی اِس بارے میں جان نہیں پائے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قوم سدوم پر عذاب کے وقت ایسی کیمیائی بارش برسائی تھی کہ اُسکی وجہ سے بحر مردار کا پانی ایسا ہوگیا ہے کہ اُس پانی میں کوئی ڈوب ہی نہیں سکتا۔ چاہے اُسے تیرنا آتا ہو یا نہیں آتا ہو۔اور کوئی بھی اِس پانی میں نیچے جانے کی کوشش کرے گا یا کرتاہے تو وہ پانی اُسے اوپر پھینک دیتا ہے۔

ہم جنس پرست کے لئے آج بھی اللہ کا عذاب ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں متعدد مقامات پر حضرت لوط علیہ السلام اور قوم سدوم اور اُن کے بُرے فعل ہم جنس پر ستی اور اُن پر عذاب کے بارے میں تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔ اور سورہ ھود میں تو سب بیان فرمانے کے بعد فرمایا ترجمہ۔ ”اور وہ اِن ظالموں سے دور نہیں ہیں۔“ (سور ہ ھود آیت نمبر 83۔) مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں کہ آیت کے آخر میں قومِ لوط کا عذاب ذکر کرنے کے بعد موجودہ اقوام دنیا کو متنبہ کرنے کے لئے ارشاد فرمایا کہ پتھراﺅ کا عذاب آج بھی ظالموں سے کچھ دور نہیں ہے۔ جو لوگ اُس قوم (قوم سدوم ) کے طرح ظلم وحیائی پر جمے رہیں گے وہ اپنے آپ کو اُس عذاب سے دُور نہیں سمجھیں ۔ آج بھی یہ عذاب آسکتاہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اُمت میں بھی کچھ لوگ وہ عمل کریں گے جو حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کرتی تھی۔ جب ایسا ہونے لگے تو انتظار کرو کہ اُن پر بھی وہی عذاب آئے گا جو قوم لوط پر آیا تھا۔ اسکے بارے میں مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔ اے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم !وہ عذاب اب بھی کچھ دور نہیں ہے ۔اگر ظالم ،ظلم و بد کاری سے باز نہیں آئے تو اب بھی اُس طرح کا عذاب آ سکتا ہے۔یہ کفار توآپ صلی اﷲ وعلیہ وسلم کے طفیل بچے ہوئے ہیں ۔ امام قرطبی لکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔دِن اور رات کا سلسلہ چلتا رہے گا۔ حتیٰ کہ اس اُمت کے مرد ،مردوں کی پشت کو حلال کرلیں گے جیسا کہ اُنھوں نے عورتوں کی پشت کو حلال کرلیا۔ پھر اُمت کے لوگوں پر پتھروں کی بارش ہوگی ۔یہاں یہ بات ذہین میں رکھیں کہ یہودی اور عیسائی اور کافر بلکہ تمام انسان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت ہیں۔ ہاں اُمت مسلمہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ سے دُعا کہ وہ ہمیں اِس لعنتی عمل سے بچائے۔

ہم جنس پرست آدمی کی سزا۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور ِخلافت میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے خط لکھا کہ اُنھوں نے عرب کے نواح میں ایک آدمی کو ہم جنس پرستی کرتے ہوئے پایا ہے۔ اور اُنھوں نے اِس پر شواہدقائم کردئیے ۔تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا۔ تو حضر ت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ بے شک یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ سوائے ایک اُمت کے کسی اور اُمت نے اِس طرح اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اُس ایک اُمت کے ساتھ جو سلوک کیا ہے اُسے آپ سب جانتے ہیں،میری رائے یہ ہے کہ اُسے آگ میں جلا دیا جائے۔اور تمام صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم بھی اِس بات پر متفق ہو گئے کہ اُس آدمی کو جلادیا جائے ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا کہ وہ اُسے آگ میں جلادیں۔ پھر حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِحکومت میں ہم جنس پرستوں کو جلا دیا تھا۔ پھر ہشام بن عبدالملک نے بھی ہم جنس پر ستوں کو جلانے کی سزا دی۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ وہ آدمی جسے تم پاﺅ کہ وہ قوم سدوم کے جیسا عمل کررہاہے۔یعنی اگر کسی کو ہم جنسی کرتے ہوئے دیکھوتو فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کردو۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ ہم جنس پر ست کی یعنی ہم جنسی کرنے والے کی سزا کیا ہے۔؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ اسے شہر یا گاﺅں کی سب سے اونچی عمارت پر کھڑا کرکے (لوگوں کو ) دکھایا جائے ۔ اور اوندھاکر کے وہا ں سے نیچے پھینک دیا جائے ۔ پھر اُس پر پتھر برسائے جائیں ۔ حضرت یزید بن قیس رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہم جنس پرست کو رجم کیا ہے۔(یعنی زمین آدھا گاڑکر پتھر مار مار کر قتل کردیا۔) حضرت امام ابن شہاب رحمتہ اﷲعلیہ فرماتے ہیں کہ ہم جنسی کرنے والے کو رجم کیا جائے ۔ چاہے وہ محصن ہو یا نہ ہو ۔ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی کے لئے مناسب ہوتا کہ اُسے دوبارہ رجم کیا جائے تو یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ ہم جنسی کرنے والے کو دوباررجم کیا جاتا۔ 

ہم جنس پرست پر اللہ کا غضب 

حضر ت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛” چا ر قسم کے لوگ اپنی صبح بھی اللہ تعالیٰ کے غیظ وغضب کی حالت میں کرتے ہیں۔(یعنی اللہ تعالیٰ بہت زیادہ ناراض رہتاہے۔) اور اپنی شام بھی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں کرتے ہیں۔“ عرض کیا گیا۔ یارسول اللہ صلی علیہ وسلم وہ چار قِسم کے لوگ کون ہیں؟ توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛” پہلی قِسم اُن مردوں کی ہے۔ جو عورتوں کی مشابہت اختیا ر کرتے ہیں ۔دوسری قِسم اُن عورتوں کی ہے جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں ۔تیسری قِسم اُن مردوں اور عورتوں کی ہے جو چوپایو ں کے ساتھ بد فعلی کرتے ہیں۔ اور چوتھی قِسم اُن مردوں اور عورتوں کی ہے جو ہم جنسی کرتے ہیں۔ “

آج کے زمانے کے ہم جنس پرست۔

اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اُس نے ہمیں ایمان کی نعمت عطا فرمائی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ پوری اُمت مسلمہ کو ہم جنسی کی لعنت سے بچائے ۔ آمین ۔ آج کے زمانے میں دنیا کا کنٹرول یہوویوں (اسرائیل ) اور عیسائیوں (امریکہ) کے ہاتھ میں ہے۔ یہودیوں اور عیسائیوں کی مذہبی موت ہو چکی ہے، اور امریکہ ، برطانیہ ، فرانس ، جرمنی اور لگ بھگ پورے یورپ میں خاندانی رشتے تباہ ہو چکے ہیں۔ اِن میں آسڑیلیا اور اسرائیل بھی شامل ہے۔ اِن ممالک میں ہم جنس پرستی کو قانونی حق دیا جارہا ہے۔اُن کی تہذیب مرچُکی ہے اور اُ ن کے اخلاق کاجنازہ نکل رہا ہے۔اور وہ چاہتے ہیں کہ پوری دنیا اُن کی طرح جانور بن جائے ۔افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے ہندوستان میں بھی اُن کی تقلید کی جارہی ہے۔ اور ابھی حال ہی میں کلکتہ میں ہم جنس پرستوں نے ہم جنسی کو قانونی اجازت دینے کی مانگ کی تھی ۔ ایسے وقت میں ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم دنیا والوں کو اِس لعنتی عمل کے نقصانات بتائیں اور اِس سے بچانے کی کوشش کریں ۔اللہ تعالیٰ سے ہی دُعا ہے کہ اُمت مِسلمہ کی نوجوان نسل اِسکے نقصانات کو سمجھے اور دوسروں کو بھی سمجھائے۔

حضرت لوط علیہ السلام کا وصال۔

حضرت لوط علیہ السلام اپنے گھروالوں کو لیکر اپنے چچا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس فلسطین میں الخلیل میں چلے گئے ۔ اور بقیہ زندگی وہیں گذاری یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آ پ علیہ السلام کو اپنی جو ارِرحمت میں بُلا لیا۔ 

اگلی کتاب

قارئین کرام ،حضرت لوط علیہ السلام کو ذکر مکمل ہوا۔

 اب انشااللہ آپ کی خدمت میں حضرت اسحاق ،حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہ السلام کے حلات پیش کریں گے۔

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں