ہفتہ، 15 اپریل، 2023

حضرت صالح علیہ السلام 9 Story of Prophet Saleh


حضرت صالح علیہ السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 06

قسط نمبر 9

اللہ کا عذاب آگیا

قوم ثمود تین دن میں تھوڑا تھوڑا مرتی رہی۔ آخر کار تیسرے دن انہوںنے اپنے کفن پہن لئے اور اپنے جسموں کو حنوط کر لیا۔ ( پہلے زمانے میں حنوط کرنے کا رواج تھا۔ حنوط اس طرح کیا جاتا تھا کہ مردے کے جسم کے اندر کی الائشیں نکال کر مسالہ بھر دیا جاتا تھا اور اوپر سے بھی جسم پر مسالہ لگا لیا۔ ) ان کا حنوط ایلو ا اور گوند کا تھا۔ اور انکے کفن چمڑے کے تھے ۔ اس کے بعد پوری قوم ثمود لیٹ گئی اور رات بھر اس انتظار میں کبھی آسمان کی طرف دیکھتی کہ شاید ادھر سے عذاب آئے گا اور کبھی زمین کی طر ف دیکھتے تھے۔ کہ شاید عذاب ادھر سے آئے۔ وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ ان پر عذاب کہاں سے آئے گا۔ آسمان سے ان کے اوپر عذاب آئے گا یا زمین سے آئے گا۔ یعنی پتہ نہیں انہیں زمین میں دھنسایا جائے گا یا آسمان سے پتھر برسائے جائیں گے۔ پھر ساری رات اسی دہشت میں گزری اورچوتھے دن صبح ہوتے ہی اللہ کا عذاب آگیا۔ آسمان کی جانب سے انتہائی سخت اور بھیانک اور تیز گرجدار آواز آئی۔ اس میں ہر قسم کی گرج کی آواز تھی۔ اور زمین میں رہنے والی ہر شئے کی آواز بھی تھی۔ یہ آواز اتنی تیز تھی کہ صرف آواز سے ان کے دل ان کے سینوں میں پھٹ گئے اور وہ اپنے گھروں میں ہی زمین پر پڑے رہ گئے۔ ( المستدرک امام حاکم ، تفسیر در منشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیطوطی، تاریخ امم والملوک تاریخ طبری ، قصص الانبیاءعلامہ محمد بن جریر طبری ، قصص الانبیاءعلامہ عماد الدین ابن کثیر) 

قوم ثمود پر عذاب کس طرح آیا

قوم ثمود پر اللہ کا عذاب آیا اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” پس ان کو زلزلہ نے آپکڑا او وہ اپنے گھروں میں اوندھے کے اوندھے پڑے رہ گئے۔ “ ( سورہ الاعراف آیت نمبر78) یہاں اللہ تعالیٰ نے ”رجفة“کا لفظ فرمایا ہے۔ سورہ ہود میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” اور ظالموں کو بڑے زور کی چنگھاڑ نے آدبوچا۔ پھر تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے رہ گئے۔ “ ( سورہ ہود آیت نمبر67) یہاں اللہ تعالیٰ نے ” صیحة“ کا لفظ فرمایاہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الحجر میں فرمایا۔ ترجمہ ” آخر انہیں بھی صبح ہوتے ہوتے چنگھاڑنے آدبوچا۔ پس انکی کسی تدبیر و عمل نے انہیں کوئی فائدہ نہیں دیا۔ “ (سورہ الحجر آیت نمبر83اور 84) یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے ”صیحة “ کا لفظ فرما یا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ حٰم السجدہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) اب بھی لوگ رو گرداں ( یعنی اسلام سے چہرے پھیر لیں اور کفر پر اڑے رہیں) ہوں تو ( ان سے ) کہہ دیں کہ میں تمہیں اس کڑک ( آسمانی عذاب ) سے ڈراتاہوں جو اس کڑک کی طرح ہو گی جو قوم عاد اور قوم ثمود کی طرف بھیجی گئی تھی۔ “ ( سورہ حٰم السجدہ آیت نمبر13) اللہ تعالیٰ نے یہاں ” صاعقہ “ کا لفظ فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الذاریات میں فرمایا۔ ترجمہ اور ثمود ( کے قصے) میں بھی ( عبرت) ہے۔ جب ان سے کہا گیا کہ تم کچھ دنوں تک فائدہ اٹھا لو۔ لیکن انہوںنے اپنے رب کے حکم سے سر تابی کی۔ جس پر انہیں دیکھتے ہی دیکھتے ( تیز و تند) کڑاکے نے ہلاک کر دیا۔ “ ( سورہ الذاریات آیت نمبر43اور 44) یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے ” صاعقہ “کا لفظ فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ القمر میں فرمایا۔ ترجمہ ” ہم نے ان پر ایک چیخ بھیجی۔ پس وہ ایسے رہ گئے جیسے کانٹوںکی اوندھی ہوئی باڑ“( سورہ القمر آیت نمبر31) یہاں اللہ تعالیٰ نے ” صیحة “ کا لفظ فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الحاقہ میں فرمایا ۔ ترجمہ ” اس کھڑ کا دینے والی کو ثمود اور عاد نے جھٹلادیا تھا۔ (جس کے نتیجہ میں ) ثمود تو بے حد خوفناک ( اور اونچی) آواز سے ہلاک کر دیئے گئے۔ ( سورہ الحاقہ آیت نمبر4اور 5) یہاں اللہ تعالیٰ نے ” الحاقہ“ اور ”طاغیہ “ کا لفظ فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں بتایا کہ قوم ثمود پر عذاب کس طرح آیا۔

عذاب زمین و آسمان سے آیا

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کئی جگہ بتایا کہ قوم ثمود پر کس طرح عذاب آیا۔ ہم نے یہاں پر کچھ آیات پیش کی ہیں ۔ اب کچھ علمائے کرام کی تفسیر پیش کر رہے ہیں۔ تا کہ ہمیں یہ سمجھنے میں آسانی ہو کہ قوم ثمود پر عذاب کس طرح آیا تھا۔ علامہ ابن کثیر اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ بدھ کے روز انہوں نے اونٹنی کا قتل کیا اور جمعرات کے رو ز تمام ثمودیوں کے چہرے زرد ( پیلے) ہو گئے۔ جمعہ کے دن آگ کی طرح سرخ ہو گئے او ر سنیچر کے دن جو مہلت کا آخری دن تھا اس دن ان کے چہرے سیاہ ( کالے) ہو گئے۔ تین دن جب گزر گئے تو چوتھے دن اتوار کی صبح ہی صبح سور ج کے روشن ہوتے ہی آسمان سے سخت کڑاکا ہوا۔ جس کی ہولناک اور دہشت انگیز چنگھاڑ نے ان کے دلوں کو پھاڑ دیا۔ ساتھ ہی زمین میں نیچے سے زلزلہ آیا۔ ایک ہی ساعت میں سب کے سب ڈھیر ہو گئے۔ لاشوں سے مکانات، بازار گلیاں اور کوچے ( چوراہے) بھر گئے۔ ہر طرف لاشیں ہی لاشیں دکھائی دے رہی تھیں۔ ( تفسیر ابن کثیر پارہ نمبر8) علامہ ابن کثیر قصص الانبیاءمیں لکھتے ہیں ۔ تیسرا دن بھی گزر گیا تو اتوار کو صبح سویرے انہوں نے خوشبوئیں لگائیں تیاری کی اور عذاب کے انتظار میں بیٹھ گئے۔کہ عذاب کا نزول کس طرح ہوتا ہے ۔ انہیں کچھ اندازہ نہیں تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ اور نہ ہی وہ یہ جانتے تھے کہ ان پر عذاب کس طرح سے آئے گا۔ جب سورج چمکنے لگا تو آسمان سے ایک بہت زبردست آواز آئی اور ساتھ ہی زمین زلزلے کے جھٹکوں سے لرز اٹھی۔ جسموں سے روحیں پرواز کرنے لگیں اور زندگی موت کے گھاٹ اترنے لگی۔ ساری چہل پہل نا پید ہوتی چلی گئی۔ ایک سناٹا چھا گیا اور غفلت کے پردے بنتے چلے گئے۔ تھوڑی دیر میں سب کے سب کافر ہلاک ہو کر گٹھنوں کے بل ہو کر رہ گئے۔ کل تک جو کفر و عناد سے اکڑ کر چلتے تھے آج مردہ جسم تھے۔ جن میں کوئی حرکت نہیں تھی اور نہ ہی روح تھی۔ لوگ کہتے ہیں کہ قوم ثمود کا ایک فرد بھی باقی نہ بچ سکا۔ ( قصص الانبیاءعلامہ عماد الدین ابن کثیر)

ایک عورت نے عذاب کی تفصیل بتائی

اللہ تعالیٰ نے جب قوم ثمود پر اپنا عذاب بھیجا تو پوری قوم ہلاک ہو گئی۔ لیکن دو افراد بچ گئے تھے۔ ان میں سے ایک ابو رغال تھا جو بھاگ کر مکہ مکرمہ کے اندر آگیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے چونکہ مکہ مکرمہ کو امن کا شہر بنایا ہے اس لئے وہ جب تک وہاں رہا تو وہ عذاب سے محفوظ رہا۔ ابو دغال کا ذکر ہم بعد میں آگے کریں گے۔ اس کے علاوہ ایک جوان عورت بھی بچ گئی۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی شان دیکھئے کہ اس واقعہ کی خبر لوگوں تک پہنچانے کے لئے ایک کافرہ عورت کو بچا لیا۔ یہ بہت بڑی خبیثہ تھی اور حضرت صالح علیہ السلام کی بہت بڑی دشمن تھی۔ یہ اپاہج تھی۔ اس کی دونوں ٹانگیں کام نہیں کرتی تھیں۔ یہ لوگوں کو مرتے ہوئے دیکھتی رہی اور قوم ثمود پر کیا گزرتی وہ سب دیکھتی رہی۔ جب پوری قوم ثمود ہلاک ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے اس کے پاﺅں کھول دیئے اور وہ بالکل اچھی ہو کر چلنے لگی۔ جب اس نے دیکھا میں چل سکتی ہوں تو وہ عذاب کی جگہ سے جان بچانے کے لئے بھاگنے لگی۔ بھاگتے بھاگتے وہ دوسرے علاقے میں پہنچ گئی جو عذاب سے محفوظ تھا۔ اور قوم ثمود سے الگ دوسری قوم کا قبیلہ تھا۔ وہاں پہنچ کر اس نے قبیلے کےسردار کے سامنے قوم ثمود پر آنے والے عذاب کی مکمل تفصیل سنائی۔ پھر اس نے پانی مانگا۔ ابھی وہ پانی ہی ہی رہی تھی کہ اس پر اللہ کا عذاب آگیا اور وہ تڑپ تڑپ کر ہلاک ہو گئی۔ ( تفسیر ابن کثیر پارہ نمبر8قصص الانبیاءعماد الدین ابن کثیر) تفسیر جلالین میں لکھا ہے کہ حضرت صالح علیہ السلام کی پیشن گوئی کے مطابق جمعرات کو ان سب کے چہرے زرد اور جمعہ کو سرخ او ر سنیچر کو سیاہ پڑ گئے تھے۔ اور خود ہی کفن پہن کر وہ مرنے کے لئے تیار ہو گئے اور وہ سب لوگ زمین کے زلزلے اور آسمان کی چنگھاڑ کی نذر ہو گئے۔ ( تفسیر کمالین شرح تفسیر جلالین جلد نمبر2امام جلال الدین سیوطی امام جلال الدین محلی، شرح مولانا محمد نعیم دیوبندی)

زلزلہ اور آواز ساتھ میں آئی

اللہ کا عذاب قوم ثمود پر آیا اور وہ سب کے سب ہلاک ہو گئے۔ تفسیر معارف القران میں لکھا ہے کہ جب جمعرات کی صبح ہوئی تو سب کے چہرے ایسے زرد ہو گئے جیسے ان کے اوپر پیلا رنگ کر دیا گیا ہو۔ عذاب کی پہلی علامت کے سچا ہونے کے باوجود ان ظالموں نے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آتے۔ دوسرا دن آیا تو سب کے چہرے سرخ ہو گئے اور تیسرے دن سیاہ ہو گئے۔ اب تو یہ سب کے سب اپنی زندگی سے مایوس ہو کر انتظار کرنے لگے کہ عذاب کس طرف سے کس طرح آتا ہے۔ اسی حال میں زمین سے ایک شدید زلزلہ آیا۔ اور اوپر سے سخت ہیبت ناک چیخ اور شدید آواز آئی۔ جس سے سب کے سب بیک وقت بیٹھے بیٹھے اوندھے منہ گر گئے ۔ رجفة کا ذکر سورہ اعراف میں آیا ہے۔ رجفة کا معنی ہے زلزلہ اور دوسری آیات میں صیحة بھی آیا ہے۔ صیحة کا معنی چیخ اور شدیدآواز ہے۔ اس طرح یہ دونوں طرح کے عذاب ان پر جمع ہو گئے تھے۔ اور جو جس حال میں تھا وہیں ڈھیر ہو گیا۔ ( تفسیر معارف القران جلد نمبر3مولانا مفتی محمد شفیع) تفسیر مدارک میں لکھا ہے کہ رجفة یعنی وہ چیخ جس سے زمین ہلاد ی گئی۔ اور وہ سب بے قرار ہو گئے۔ اور اپنے شہروں میں یا مکانات میں اوندھے بیٹھنے کی حالت میں مردار ہو ئے۔ یعنی اس طرح بیٹھے تھے کہ ان میں حس و حرکت نہیں تھی اور نہ ہی وہ بات کرتے تھے۔ ( تفسیر مدارک تفسیر نسفی جلد نمبر1عبداللہ بن احمد بن محمود نسفی) تفسیر نعیمی میں لکھا ہے کہ جمعرات کے دن ان کے چہرے ایسے پیلے ہو گئے جیسے ان کے منہ پر زعفران مل دیا گیا ہے۔ عورت مرد چھوٹے بڑے سب کا یہی حال ہوا۔ اب انہیں اپنی ہلاکت کا یقین ہو گیا۔ پھر جمعہ کے دن ان کے چہرے ایسے سرخ ہو گئے جیسے ان پر تازہ خون مل دیا گیا ہے۔ یہ رونے اور چیخنے چلانے لگے۔ سنیچر کے دن ان کے منہ ایسے کالے ہو گئے جیسے ان کو تارکول ( ڈامر ) مل دیا گیا ہے۔ اب یہ لوگ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ ہماری ہلاکت کا وقت آگیا ہے۔ صبح اتوار تھا تو حضرت صالح علیہ السلام رات کو ہی مسلمانوں کو لے کر فلسطین چلےگئے۔ اتوار کے دن صبح سویرے یہ لوگ کفن اوڑھ کر خوشبو مل کر مرنے کے لئے زمین پر اوندھے پڑ گئے۔ کبھی منہ اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھتے اور کبھی اپنا چہرہ زمین پر رکھ دیتے۔ اچانک آسمان کیطرف سے ایک کڑک کی سی آواز آئی۔ جس سے زمین میں بڑا عظیم زلزلہ پید ہوا۔ اور ان سب کے دل پھٹ گئے۔ تمام کے تمام مر گئے ۔ ایک اپاہج لونڈی جس کا نام ذرع بنت سالف تھا۔ جسے حضرت صالح علیہ السلام سے بہت ہی عداوت تھی۔ وہ بچ گئی۔ اللہ کیشان دیکھئے کہ اس کے پاﺅں اچھے ہو گئے۔ یہ اس علاقے سے بھاگی حتیٰ کہ وادی القریٰ پہنچی۔ وہاں کے باشندوں کو قوم ثمود کی ہلاکت کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا اور پانی مانگا اور پانی پیتے پیتے وہیں ختم ہو گئی۔ ( تفسیر نعیمی پارہ نمبر8مفتی احمد یار خان نعیمی) تفسیر قرطبی میں لکھا ہے کہ پس انہیں شدید زلزلے نے آلیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ شدید چیخ تھی۔ جس نے ان کے دلوں کو پھاڑ دیا۔ رجفة کا معنی ہے کسی شئے کا کانپنا اور لرزنا یعنی ایسی حرکت جس کے ساتھ آواز بھی ہو۔ اور وہ اپنے گھنٹوں اورمونہوں کے بل زمین سے چپکے رہ گئے۔ یعنی عذاب کی شدت سے مر گئے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ بجلی کی کڑک یعنی صاعقہ کے ساتھ جل گئے۔ ( تفسیر الجامع الاحکام القران المعروف تفسیر قرطبی امام محمد بن احمد قرطبی)

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔


 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں