حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام
سلسلہ نمبر 5
قسط نمبر 9
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
تمام آزمائشوں پر کھرے اُترے
حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے چوتھی روایت میں یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے تین احکامات حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیئے۔اِن میں سے دس سورہ توبہ میں مذکور ہیں۔دس سورہ المومنون میں مذکور ہیں۔اور دس سورہ الاحزاب میں مذکور ہیں۔حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے پانچویں روایت میں ہے کہ جن کلمات میں اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابرہیم علیہ السلام کو مبتلا فرمایا،اور آزمایا۔وہ یہ ہیں۔1)اﷲ تعالیٰ کے لئے اپنی قوم سے جدا ہوجانا۔2)اﷲ تعالیٰ کی توحید کے بارے میں نمرود سے مباحثہ کرنا۔اور جان کا خطرہ ہوتے ہوئے بھی جابر کے سامنے کلمۂ حق(اسلام)کی دعوت دینا۔3)آگ میں ڈالے جانے کے وقت بھی اﷲ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ رکھنا۔4) اﷲ کے لئے اپنے وطن کو چھوڑ کر ملک مصر اور ملک شام اور ملک کنعان کی طرف ہجرت کرنا۔5) اﷲ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں (مہمانوں یا حاجیوں)کی ضیافت کے لئے مامور ہونا۔اور اپنی جان و مال سے اِس پر ثابت قدم رہنا۔6) اپنے بیٹے کو ذبح کرنا۔جب و¿پ علیہ السلام اِن سب آزمائشوں پر کھرے اُتر گئے ،اور کامیاب ہو گئے تو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”اَسلِم“یعنی فرمانبردار ہو جاؤ۔تو آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”اَسلَمتُ رَبِّ العَالَمِینَ“میں رب العالمین کا فرمانبردار ہو گیا۔
مکۂ مکرمہ امن کا شہر
اﷲ تعالیٰ نے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام سے فرمایا کہ میں تمہیں دنیا کاامام بنانے والا ہوں،تو آپ علیہ السلام نے عرض کیا؛کیا یہ وعدہ میری اولاد کے لئے بھی ہے۔تو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛میرا وعدہ ظالموں کے متعلق نہیں ہے۔اِس سے آپ علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ اُن کی اولاد میں نیک لوگ بھی ہوں گے،اور اُن کے لئے اﷲ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔لیکن آپ علیہ السلام کی اولاد میں ظالم (گنہ گار،ظلم کرنے والے)لوگ بھی ہوں گے ۔جن کے متعلق اﷲ تعالیٰ وعدہ نہیں ہے۔جیسے کہ یہودی اور عیسائی یعنی اہل کتاب وغیرہ۔اِس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب مکہ¿ مکرمہ کے لئے امن کا شہر بنانے کی دعا مانگی تو یہ عرض کیا؛”اے میرے رب !تُو اِس جگہ کو امن والا شہر بنا اور یہاں کے باشندوں کو جو اﷲ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں(یعنی مسلمان ہوں اور نیک ہوں)انہیں پھلوں کا رزق عطا فرما۔“تو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ چاہے مومن ہو یا کافر،نیک ہوں یا برا ہو،دنیا میں تو میں سب کو رزق دوں گا ۔لیکن کافروں اور ظالموں کوقیامت کے دن پکڑوں گا،اور آگ کا مزہ چکھاؤں گا۔
مکۂ مکرمہ میں دنیا بھر کے پھل
اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاکو قبول کیا،اور مکۂ مکرمہ کو امن والا شہر بھی بنایا۔اور دنیا بھر سے پھل بھی وہاں پہنچاتا ہے۔جیسا کہ اﷲ تعالیٰ نے سورہ القصص میں فرمایا؛ترجمہ؛”کیا ہم نے اُن کو امن و امان والے حرم (شہر مکۂ مکرمہ) میں جگہ نہیں دی۔یہاں ہر قسم کے پھل کھنچے چلے آتے ہیں۔جو ہمارے پاس سے انہیں کھانے کو ملتا ہے۔لیکن اُن میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔“(سورہ القصص آیت نمبر 57) مکۂ مکرمہ کے قریب ہی طائف شہر آباد ہے،اور وہ سر سبزو شاداب علاقہ ہے۔ہمیشہ سے وہاں سے طرح طرح کا پھل مکۂ مکرمہ پہنچتا رہا ہے،اور آج بھی پہنچ رہے ہیں۔اس کے علاوہ مکۂ مکرمہ تجارتی مرکذ بن گیا تھا۔جس کی وجہ سے پوری دنیا سے اور تمام اطراف و اکناف سے طرح طرح کے پھل آتے رہے ،اور آج بھی آرہے ہیں۔شاید ہی دنیا کوئی پھل ایسا ہو جو مکۂ مکرمہ نہیں پہنچتا ہو۔جبکہ وہاں نہ تو زراعت ہوتی ہے،اور نہ ہی شجر کاری ہوتی ہے،اور نہ ہی وہاں کسی قسم کی صنعت ہے۔لیکن اس کے باجود دنیا بھر کے پھل فروٹ اور مصنوعات مکۂ مکرمہ میں ملتی ہیں۔
انبیائے کرام علہیم السلام کے باپ
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے دنیا کا امام بنانے کے ساتھ ساتھ انبیائے کرام علیہم السلام کا باپ بھی بنایا ہے۔آپ علیہ السلام کے ایک بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد ”بن اسماعیل “کہلائی۔اور دوسرے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام (اِن کا ذکر آگے انشاءاﷲ آئے گا)کی اولاد”بن اسرائیل “کہلائی ۔اِس کے علاوہ تیسری بیوی سے بھی اولاد ہوئی ،اور سب کی اولاد میں انبیائے کرام علیہم السلام آئے۔مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں۔اب ”واذ بتلیٰ“سے اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ذکر خیر فرمایا ہے۔تاکہ بنی اسرائیل کو اُن کے منصب ِامامت سے معزول کر کے بنی اسماعیل یعنی اُمت محمدیہ کو قیامت تک کے لئے دنیا کی امامت سونپ دی جائے۔اور اِیسی ہدایات دی جائیں ،جو اُن کے لئے ہمیشہ مشعل ِ راہ ہو۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ملک مصر ،عراق،فلسطن اور ملک شام سے لیکر ریگستان جزیرہ نمائے عرب کے کونے کونے میں گھوم گھوم کر وہ راہ انسانوں کو اﷲ تعالیٰ کے ابدی پیغام(اسلام) کی طرف دعوت دی۔انہوں نے اس مقصد اور مشن کی تکمیل کے لئے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اندرون ِعرب یعنی حجاز میں،حضرت اسحاق علیہ السلام کو فلسطین میں اور اپنے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام کو شرقِ اُردن کے علاقے میں مقرر فرمایا۔تاکہ دنای کے اِس مرکذ میں رہنے والے انسانوں کو پھر سے اﷲ کی اطاعت اور فرمانبرداری کی دعوت دی جا سکے۔جن علاقوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولادوں کو مقرر فرمایا۔اﷲ تعالیٰ نے اُن کو اور اُن کی اولادوں کو اپنی نعمتوں سے نوازا۔حضرت اسماعیل علیہ السلام جو اپنے چھوٹے بھائی حضرت اسحاق علیہ السلام سے اٹھارہ سال بڑے تھے۔انہیں جزیرہ نمائے عرب میں پروان چڑھایا۔قریش اور بعض دوسرے قبائل اُنہیں کی اولاد ہیں۔دوسری طرف حضرت اسحاق علیہ السلام کی اولاد فلسطین اور ملک شام میں خوب پھولی پھلی۔حضرت یعقوب علیہ السلام ،حضرت یوسف علیہ السلام،حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت داو¿د علیہ السلام،حضرت سلیمان علیہ السلام، حضرت یحییٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام وغیرہ اُن کی اولاد میں سے ہیں۔چونکہ حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب ”اسرائیل “تھا،اِس لئے اُن کے بارہ بیٹوں کی اولاد ”بنی اسرائیل “کہلائی۔اور جب یہی بنی اسرائیل تنزل میں مبتلا ہوئی تو پہلے یہودیت پیدا ہوئی ،اور پھر عیسائیت پید ا ہوئی۔اِن دونوں بیٹوں کے علاوہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دوسرے بیٹوں کی اولاد میں بھی انبیائے کرام علیہم السلام آئے۔اِن میں حضرت شعیب علیہ السلام ،حضرت ایوب علیہ السلام ،حضرت یونس علیہ السلام الگ الگ بیٹوں کی اولاد میں الگ الگ علاقوں میں آئے۔اِسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام دنیا کے امام ہونے کے ساتھ ساتھ انبیائے کرام علیہم السلام کے باپ بھی ہیں۔اِس لئے یہودیوں،عیسائیوں اور مسلمانوں سب نے انہیں اپنا بڑا اور اپنا رسول مانا ہے۔
سب سے پہلے ختنہ
اِس دنیا میں سب سے پہلے ختنہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کی۔آپ علیہ السلام کو جب ختنہ کا حکم ملا تو آپ علیہ السلام کی عُمر اسی(80) سال تھی۔آپ علیہ السلام نے جلدی سے کلہاڑی سے ختنہ کر لی۔جس کی وجہ سے آپ علیہ السلام کو بہت تکلیف ہوئی ۔آپ علیہ السلام نے اﷲ تعالیٰ کا پکارا تو اﷲ تعالیٰ نے وحی فرمائی کہ تم نے ہمارے آلہ بتانے سے پہلے جلدی کرلی۔آپ علیہ السلام نے عرض کیا؛”یارب میں نے تیرا حکم سنتے ہی تاخیر کو پسند نہیں کیا۔امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا۔؛”حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کلہاڑی سے ختنہ کی،اُس وقت آپ علیہ السلام کی عُمر تیس (30) تھی۔(صحیح مسلم)امام بیہقی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت کی ہے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ختنہ کیا۔اُس وقت آپ علیہ السلام کی عُمر ایک سو بیس (120) سال تھی۔آپ علیہ السلام نے کلہاڑی سے ختنہ کیا۔اِس کے بعد آپ علیہ السلام اسی(80) سال زندہ رہے۔امام محمد بن سعد نے حی بن عبداﷲ سے روایت کی ہے ،فرماتے ہیں۔مجھے ملی کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ختنہ تیرہ (13) سال کی عُمر میں ہوا۔امام بیہقی کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت اسحاق علیہ السلام کا ختنہ ساتویں دن کیا ،اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کا اُن کی بلوغت کے وقت کیا۔امام بیہقی حضرت جابر بن عبداﷲ کی روایت بیان کرتے ہیں کہ روسل اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت حسن رضی اﷲ عنہ اور حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کا ختنہ ساتویں دن کرایا۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام کا نکاح
حضرت ابراہیم علیہ السلام قربانی کے بعد ملک کنعان واپس چلے گئے۔آپ علیہ السلام براق پر سوار ہو کر آتے جاتے تھے۔اِدھر مکۂ مکرمہ میں حضرت اسماعیل علیہ السلام بالغ ہوئے تو اُن کی والدہ سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے اپنے پیارے بیٹے کا نکاح قبیلہ بنو جرہم کی ایک لڑکی سے کر دیا۔اِس کے کچھ دنوں بعد آپ رضی اﷲ عنہا کا انتقال ہو گیا۔اور انہیں ”حطیم“میں دفن کر دیا گیا۔اُس وقت خانۂ کعبہ نہیں تھا،اور اُس کی جگہ ایک بلند ٹیلہ تھا۔کچھ دنوں بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام بیٹے سے ملنے آئے تو وہ اُس وقت کسی لمبے سفر پر گئے ہوئے تھے۔اُن کی بیوی سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا کے انتقال کی خبر ملی۔بہو سے حال چال پوچھا تو اُس نے کہا؛”بڑا برا حال ہے،اور بڑی تنگی چل رہی ہے۔“آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”اچھا تمہارے شوہر آئیں تو انہیں میرا سلام کہنا،اور یہ کہہ دینا کہ اپنے گھر کی چوکھٹ بد ل دیں۔“جب حضرت اسمعیل علیہ السلام واپس آئے تو بیوی سے پوچھا ؛”کیا کوئی مجھ سے ملنے کے لئے آیا تھا؟“تو اُس نے کہا؛”ایسے ایسے حلیہ میں ایک بوڑھا آیا تھا،آپ کے بارے میں پوچھا پھر گھر کے حالات کے بارے میں پوچھا۔تو میں نے کہا کہ بہت تنگی میں گھر چل رہا ہے۔آپ علیہ السلام نے پوچھا؛”کیا انہوں نے اور کچھ کہا تھا؟“تو اُس نے بتایا کہ وہ آپ کو سلام کہہ گئے ہیں،اور کہا ہے کہ آپ کے کہوں کہ آپ گھر کی چوکھٹ بدل دیں۔آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”وہ میرے والد صاحب تھے،اور مجھ سے تمہارے ذریعے یہ فرماگئے ہیں کہ تم سے الگ ہو جاؤں۔پھر آپ علیہ السلام نے اُسے طلاق دیکر قبیلہ بنو جرہم کی ہی دوسری لڑکی سے نکاح کر لیا۔ایک روایت میں ہے کہ پہلی بیوی قبیلہ عمالقہ کی تھی۔بہر حال کچھ عرصے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام پھر بیٹے سے ملنے آئے،لیکن اِس مرتبہ بھی حضرت اسماعیل علیہ السلام کہیں باہر گئے ہوئے تھے۔بہو سے ملاقات ہوئی ،بیٹے کے بارے میں پوچھا تو بہونے کہا کہ باہر گئے ہوئے ہیں۔آپ آئیں جو کچھ بھی ہے،اﷲ کا نام لیکر تناول فرمائیں۔آپ علیہ السلام نے گھر کے حالات پوچھے تو اﷲ تالیٰ کا شکر ادا کیا،اور اﷲ تعالیٰ کی تعریف بیان کی ۔آپ علیہ السلام نے پوچھا؛"تمہاری خوراک کیا ہئ؟“تو عرض کی کہ گوشت ہے۔پھر پوچھا؛”پینا کیا ہے؟“تو عرض کیا پانی ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی؛”اے اﷲ تعالیٰ !اِن کے گوشت اور پانی میں برکت دے۔‘ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”اگر اناج بھی اُن کے پاس ہوتا اور وہ کہتیں تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اُن کے لئے اناج کی برکت کی بھی دعا کر دیتے۔اب اِس دعا کی برکت سے مکہ¿ مکرمہ والے صرف گوشت اور پانی پر بھی گذارہ کر سکتے ہیں۔اور دوسرے علاقے کے لوگ نہیں کر سکتے ۔اِس کے بعد حضرت ابراہیم علیہالسلام نے فرمایا؛”اچھا تو میں چلتا ہوں،تم اپنے شوہر کو میرا سلام کہنا اور کہنا کہ تمہاری چوکھٹ بہت اچھی ہے ،اسے ہمیشہ قائم رکھنا۔“بعد میں حضرت اسماعیل علیہ السلام آئے تو اُن کی بیوی نے بتایا کہ ایک بہت ہی پیارے بزرگ ایسے ایسے حلیئے کے آئے تھے،اور نہوں نے ایسا ایسا کہا ہے۔تو آپ علیہ السلام نے بتایا کہ وہ میرے والدِ محترم ہیں،اور مجھے حکم دے کر گئے ہیں کہ میں تمہیں ہمیشہ ساتھ رکھوں ۔یہ واقعہ لگ بھگ ہر تفسیر میں درج کیا گیا ہے ،صرف الفاظ میں کچھ فرق ہے۔
تعمیر خانۂ کعبہ
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عُمر مبارک لگ بھگ ننانوے سال یا اُس سے کچھ زیادہ ہوئی تو اﷲ تعالیٰ نے خانہ¿ کعبہ کی تعمیر کا حکم دیا۔اِس سے پہلے ہم آپ کو حضرت آدم علیہ السلام کے حالات میں خانۂ کعبہ کے بارے میں بتا چکے ہیں۔لیکن یہاں مختصر میں بتا دیں تاکہ تشنگی محسوس نہ ہو۔ایک روایت میں ہے کہ سب سے پہلے خانۂ کعبہ کی تعمیر حضرت آدم علیہ السلام اور سیدہ خوا رضی اﷲ عنہ نے کی تھی۔ایک اور روایت کے مطابق فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کی نگرانی میں خانۂ کعبہ کی تعمیر کی تھی۔ایک اور روایت میں ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے جنت ایک بہت بڑا یاقوت اُتارا تھا،جسے اُس جگہ رکھ دیا گیا تھا جہاں آج خانۂ کعبہ ہے۔اب اصل حقیقت کا علم تو صرف اﷲ تعا لیٰ کو ہی ہے۔جب طوفان نوح آیا تو ایک روایت کے مطابق خانۂ کعبہ بہہ گیا تھا۔اور ایک روایت کے مطابق خانۂ کعبہ اُٹھا لیا گیا تھا،اور ساتویں آسمان کے اوپر رکھ دیا گیا تھا۔اور وہی ”بیت المعمور “فرشتوں کا کعبہ ہے۔اﷲتعالی کے حکم کو پورا کرنے کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام مکہ¿ مکرمہ آئے تو اِس بار بیٹے سے ملاقات ہو گئی۔حضرت اسماعیل علیہ السلام زمزم کے کنویں کے پاس بیٹھے تیر بنا رہے تھےاور سیدھا کر کے رکھ رہے تھے۔والد محترم کو دیکھا تو دوڑتے ہوئے آگے بڑھے اور ادب سے والد صاحب کو سواری سے اُتارا۔کافی لمبے عرصے بعد دونوں باپ بیٹے ملے تو آنکھوں میں آنسو آگئے، اور سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا دونوں کو یاد آگئیں۔حضرت اسماعیل علیہ السلام نے والد محترم کو حترام سے لا کر گھر میں بٹھایا۔تھوڑا سکون ملنے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا؛”بیٹا!اﷲ تعالیٰ نے مجھے ایک کام کرنے کا حکم دیا ہے۔“بیٹا بھی اتنا فرمانبردار کہ یہ نہیں پوچھا کہ کون سا کام ہے؟بلکہ فوراً کہا؛”اباجان جس کام کا حکم اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو دیا ہے وہ کر ڈالیئے۔“تب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے پیارے بیٹے سے فرمایا؛”بیٹے !اﷲ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں لوگوں کے لئے یہاں مکۂ مکرمہ میں ”اﷲ کا گھر “بناؤں۔“
خانۂ کعبہ کی بنیادیں اور حدود
دونوں باپ بیٹے نے تیاری مکمل کر لی،لیکن یہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ خانۂ کعبہ کی بنیادیں کہاں کھودیں،اور اُس کی حدود کتنی رکھیں۔اِس بارے میں ایک روایت ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے ایک ہوا بھیجی جس کا نام سکینہ ہے جس کے سانپ کی طرح دو سر تھے۔اور وہ اُس جگہ پر ٹھہر گئی جہاں آج خانہ¿ کعبہ ہے تو دونوں حضرات علیہم السلام نے اِس کی حد میں بنیادیں کھودیں۔ایک اور روایت میں ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے ایک بادل کا ٹکڑا بھیجا اور فرمایا اِسکا سایہ خانۂ کعبہ کی حدود ہیں،اِس کے مطابق بنیادیں کھودو،نہ کم ہو نہ زیادہ ہو۔ایک اور روایت میں ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو خانۂ کعبہ کی حدود بتا کر بھیجا۔اور انہوں نے آکر اﷲ تعالیٰ کے حکم کے مطابق نشانات اور اشارات بتائے،اور دونوں حضرات علیہم السلام نے ان کے مطابق خانہ¿ کعبہ کی بنیاد کھودی۔آج جو خانۂ کعبہ ہم دیکھ رہے ہیں،وہ مربع نما یعنی چوکور ہے۔لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے جو خانۂ کعبہ بنایا تھا،وہ اِس سے بڑا اور مکعب نماتھا۔حطیم کا پورا حصہ جو ابھی خانۂ کعبہ کے باہر ہے،وہ اندر تھا۔اور اِس میں دو دروازے تھے جو زمین سے لگ کر تھے۔بعد میں جب قریش نے بوسیدہ خانۂ کعبہ کو توڑ کر بنایا تو پیسے کی کمی کی وجہ سے اُس کی لمبائی کو کم کر دیا اور اُسے مربع نما بنا دیا۔اور صرف ایک دروازہ کر دیا،اور وہ بھی زمین سے کافی اُونچائی پر کر دیا۔فتح مکہ کے بعد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے فرمایا؛”اے عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا!تمہاری قوم نے ابھی ابھی اسلام قبول کیا ہے۔(یعنی نئے نئے اسلام میں دخل ہوئے ہیں)اگر ایسا نہیں ہوتا(اور اُن کا ایمان مضبوط ہو چکا ہوتا)تو میں خانۂ کعبہ کو توڑ دیتا،اور اُسے اُن بنیادوں اور حدود پر بناتا ،جن حدود پر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بنایاتھا۔اِس کا دروازہ زمیں کے برابر کر دیتا اور ”حطیم“کو خانۂ کعبہ کے اندر کر دیتا۔“اور دوسری ایک روایت میں فرمایا کہ”میں اِس میں دو دروازے بنا دیتا۔“(صحیح مسلم)رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے خانۂ کعبہ کو ویسا ہی رہنے دیا،جیسا قریش نے بنایا تھا۔بعد میں حضرت امام حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت عبد اﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے اپنی حکومت کے دوران”مکۂ مکرمہ “کو دارالخلافہ بنایا،اور خانۂ کعبہ کو توسیع دیکر اُسی طرح بنا دیا،جس طرح حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام نے بنایا تھا۔لیکن بعد میں عبد الملک بن مروان کے حکم پر اُس کے سپہ سالار حجاج بن یوسف نے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو شہید کر کے خانہ¿ کعبہ اُسی طرح بنا دیا،جیسا قریش نے بنایا تھا۔ بعد میں عباسیہ خاندان کے حکمراں ہارون رشید نے امام مالک رحمتہ اﷲ علیہ سے مشورہ کیا کہ خانۂ کعبہ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی حدود اور بنیاد پر پھر سے بنادوں؟تو انہوں نے فرمایا؛”اے امیر المومنین ! خانۂ کعبہ کو بادشاہوں کا کھلونا نہ بنائیں کہ جو بھی آئے وہ توڑا کرے اور بنایا کرے۔اِس طرح اﷲ کے اِس گھر کی ہیبت جاتی رہے گی۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!
.jpeg)
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں