حضرت ہود علیہ السلام
سلسلہ نمبر05
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 9
حضرت ہود علیہ السلام اورمسلمانوں کی حالت
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ جس وقت یہ آندھی نما طوفان آیا۔ اس وقت حضرت ہود علیہ السلام اور اسلام قبول کرنے والوںپر کیا گزری ہوگی۔ تو بات یہ ہے کہ جب آسمان کے کنارے پر وہ شئے جو بادل جیسی دکھائی دیتی تھی جب وہ نمودار ہوئی۔ یہ دیکھ کر آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کے کافروں کو سمجھایا کہ جسے تم پانی والابادل سمجھ رہے ہو وہ اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے۔ توقوم کے کافروں نے پھر آپ علیہ السلام کا مذاق اڑایا۔ یہ دیکھ کر آپ علیہ السلام اپنے ساتھ اسلام قبول کرنے والوں کو لے کر قوم عاد کی بستیوں سے کافی دور نسبتاً محفوظ علاقے میں چلے گئے۔ اس آندھی نما طوفان کے اثرات وہاں بھی پہنچ گئے تھے لیکن بس اتنا ہی تھا کہ وہ لوگ سکون بخش ٹھنڈک اور اچھی پر سکون ہوا محسوس کر رہے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے انہیں عذاب کی تباہی سے محفوظ رکھا ۔ حضرت ہود علیہ السلام اور اسلام قبول کرنے والوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ” پھر ہم نے نجات دے دی۔ حضرت ہود علیہ السلام کو اور جو اُن کے ساتھ ( اسلام قبول کرنے والے ) تھے۔ اپنی خاص رحمت سے انہیں نجات دی۔ اور ان لوگوں( کافروں ) کی جڑیں کاٹ کر رکھ دی۔ جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے۔ اور ایمان نہیں لاتے تھے۔“ اللہ تعالیٰ سورہ ہود میں فرماتے ہیں۔ ” اور جب ہمارا حکم (عذاب ) آگیا۔ تو ہم نے اپنی رحمت سے حضرت ہود علیہ السلام اورجو ایمان لائے تھے ان کو اس ( عذاب سے ) سے نجات دے دی۔ اور یہ سخت عذاب تھا۔ قوم عاد کے لئے انہوں نے اپنے رب کی آیتوں کا انکار کیا اور رسول کی نافرمانی کی۔
اللہ نے حضرت ہود علیہ السلام اورمسلمانوں کو بچا لیا
جب اللہ تعالیٰ نے عقیم ( تباہ و برباد کر دینے والی ہوا) کی طرف وحی فرمائی کہ وہ قوم عاد پر چلے ۔ اور انہیں تباہ وبرباد کر دے۔ تو وہ بیل کے نتھنے کے برابر سوراخ سے نکلی اور اس کی وجہ سے مشرق و مغرب کے درمیان کی ساری زمین کانپ گئی۔ تو خزان ( خازن الامیر) نے فریاد کی۔ اے ہمارے رب ، ہم اسے ہرگز برداشت نہیں کر سکتے۔ اگر یہ اسی حالت میں نکلتی رہی تو زمین پر موجود ہر شئے کو ہلاک اور تباہ و برباد کر دے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فریاد سن لی اور اسے واپس بلا لیا۔ پھر اسے حکم دیا تو وہ انگوٹھی کے حلقے کے برابر سوراخ سے نکلی۔ تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ہود علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ وہ اپنے ساتھ مسلمانوں کو لے کر ایک باڑے میں علیحدگی اختیار کر لیں۔ آپ علیہ السلام اپنی قوم سے الگ ہو گئے اور کافی دور جا کر ایک باڑہ بنا لیا۔ ہوا وہاں بھی آئی مگر باڑے میں مکمل طور سے داخل نہیں ہوئی۔ اور حد سے آگے نہیں بڑھی۔ ہاں ان پر صرف اتنی مقدار میں ہوا چلی کہ ان کو خوش گوار ٹھنڈک محسوس ہوئی اور ان کی جسمانی جلدیں نرم رہیں۔ لیکن قوم عاد کے اوپر زمین و آسمان کے درمیان پوری شدت سے چلتے ہوئے گزری۔ اور انہیں زخمی کرتی ، ہلاک کرتی اور تباہ و برباد کرتی ہوئی گزری۔ اور اللہ تعالیٰ نے سانپوں اور بچھوﺅں کو حکم دیا کہ وہ قوم عاد کے راستوں پر بیٹھ جائیں اور انہیں بھاگنے نہ دیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر ہوا کو بھیجا تو حضرت ہود علیہ السلام مسلمانوں کو لے کر الگ ہو گئے اور ایک باڑے میں قیام فرمایا۔ ان کے پاس صرف اتنی مقدار میں ہی ہوا پہنچی کہ جس سے ان کی جلدیں نرم رہیں۔ اور وہ لطف اندوز ہوتے رہے۔ لیکن قوم عاد پر وہ اتنی شدت سے چلتی رہی کہ انہیں زمین و آسمان کے درمیان اٹھا لیتی اور پتھروں پر ان کے سر پٹک دیتی تھی۔ ( تفسیر در منشور جلد نمبر3امام جلا ل الدین سیوطی، تفسیر انوارالبیان جلد نمبر2مولانا محمد عاشق الہٰی مہاجر مدنی، تفسیر معارف القران جلد نمبر3مولانا مفتی محمد شفعی ، تفسیر نعیمی پارہ نمبر8مفتی احمد یار خان نعیمی۔ تفسیر تبیان القران جلد نمبر3علامہ غلام رسول سعیدی، تفسیر ابن کثیر پارہ نمبر8علامہ عماد الدین ابن کثیر، تفسیر تیسر الرحمن لبیان القران محمد لقمان سلفی)
عذاب دیکھنے کے بعد بھی ایمان نہیں لایا
حضرت ہود علیہ السلام نے جب دیکھا کہ آسمان کے کنارے سے بادل نمودار ہورہا ہے۔ اور اسے دیکھ کر قوم عاد خوشیاں منا رہی ہے۔ تو آپ علیہ السلام نے انہیں پھر سمجھایا کہ یہ برسنے والا بادل نہیں ہے بلکہ اللہ کا عذاب ہے۔لیکن قوم عاد نے ان کا مذاق اڑایا۔ اور بدستور خوشیاں مناتے رہے۔ یہ دیکھ کر آپ علیہ السلام نے مسلمانوں کو ساتھ لیا اور خاموشی سے ان سے دور جانے لگے۔ قوم عاد کے سب سے بڑے سردار خلجان نے جب آپ علیہ السلام کو جاتے دیکھا تو وہ اپنے سات دوستوں کو لے کر ان کے پیچھے گیا اور باڑے میں ایک کونے میں یہ لوگ چھپ گئے ۔ جب قوم عاد پر سے ہوا کو روک دیا گیا تو وہ اپنے ساتوں دوستوں کے ساتھ باڑے سے باہر آیا اور بولا ۔ چلو آﺅ یکھتے ہیں وادی میں ہماری قومکے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا ہے۔ وہ لوگ جیسے ہی وادی میں پہنچے تو ہوا نے ان پر حملہ کر دیا اور خلجان کے سوا سب کو ہلاک کر دیا۔ اب خلجان وہاں سے بھاگا اور حضرت ہود علیہ السلام کے پاس پہنچا۔ آپ علیہ السلام نے اسے اسلام کی دعوت دی اور فرمایا۔ اسلام قبول کر لو عذاب سے محفوظ رہو گے۔ خلجان نے کہا گر میں اسلام قبول کروں تو تمہار ارب مجھے کیا عطا کرے گا؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ وہ تمہیں جنت عطا کرے گا۔ خلجان نے کہا اچھا یہ بتاﺅ وہ لوگ کون تھے جنہیں میں نے بادلوں میں دیکھا ہے ، آپ علہ السلام نے فرمایا۔ وہ اللہ کے فرشتے تھے۔ اس نے کہا اگر میں اسلام قبول کرلوں تو کیا تمہارا رب مجھے ان سے محفوظ رکھے گا۔ حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا۔ کیا تو نے کبھی یہ دیکھا ہے کہ کوئی بادشہ اپنے سپاہیوں کو عوام سے دور رکھتا ہو۔یہ سن کر خلجان نے کہا ۔ اگر یہ بات ہے تو میں اسلام قبول کرنے سے انکار کرتا ہوں۔ اور اپنی قوم کی طرح کافر رہنا پسند کرتا ہوں۔ اس کا یہ کہنا تھا کہ ایک زور کی آندھی آئی اور اسے اٹھا کرپٹک کر ہلاک کر کے ا س کی قوم سے ملا دیا۔ ( تاریخ اُمم والملوک ،المعروف تاریخ طبری نمبر01علامہ محمد بن جریر طبری)
ریزہ ریزہ کر دینے والی ہوا
اللہ تعالیٰ نے سورہ الذاریات میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور قوم عاد ( کے قصہ) میں نشان عبرت ہے۔جب ہم نے ان پر خیر و برکت سے خالی آندھی بھیجی اور وہ کسی چیز کو نہیں چھوڑتی تھی اور جس پر سے گزرتی تھی تو اسے ریزہ ریزہ کر دیتی تھی۔ “ ( سورہ الذاریات آیت نمبر41اور 42) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ جو ہوا قوم عاد پر بھیجی گئی تھی وہ کتنی خطرناک بھیانک اور خوفناک تھی۔ وہ ہوا ہر قسم کی خیر اور برکت سے خالی تھی اور صرف تباہی اور بربادی پھیلانا اس کا کام تھا۔ قوم عاد کے لوگوں کا قد لگ بھگ سو فٹ تھا۔ اوروہ اپنے زمانے میں سب قوموں سے زیادہ طاقتور تھے۔ اسی لئے وہ بڑے اونچے اونچے محل بناتے تھے۔ ایک روایت میں ہے کہ ان کے مونگ پھلی کے دانے ہمارے تربوز کے برابر ہوتے تھے۔ اور ان کے تربوز اتنے بڑے ہوتے تھے کہ ہم اسکے چھلکے کو کشتی کی طرح چلاتے ۔ وہ ہوا اتنی زبر دست اور خوفناک تھی کہ اس نے تمام انسانوں ، تمام مویشیوں ، تمام درختوں اور تمام محلوں کو توڑ پھوڑ ڈالا اور ریزہ ریزہ کر دیا۔ قوم عاد کے اونچے اونچے محلات کی چھتیں کہیں اڑگئیں اور کہیں گر گئیں اور تمام محلات کی دیواریں بھی ریزہ ریزہ کر دیا۔ اس سخت اور تیز و تند اور ٹھنڈی آندھی سے قوم عاد کا ہر کافر ختم ہو گیا۔ یہاں تک کہ کچھ کافر جو پہاڑوں کے غاروں میں گھس گئے تھے وہاں بھی یہ آندھی پہنچ گئی ۔ اور انہیں غار میں ہی اٹھا اٹھا کر پٹخنا شروع کر دیا ۔ یہاں تک کہ وہ ہلاک ہو گئے۔
قوم عاد کی جڑ کاٹ دی گئی
اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو اپنے عذاب سے اس طرح ہلاک کیا کہ ان کا دنیا سے نام و نشان مٹ گیا۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرماےا۔ ترجمعہ”اور ان لوگوں کی(قوم عاد کی) جڑ کاٹ دی ۔ جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔ اور وہ ایمان والے نہیں تھے۔“(سورہ الاعراف آےت نمبر 72) سورہ ہود میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ترجمعہ” یہ تھی قوم عاد، جنہوں نے اپنے رب کی آیتوں کا انکار کیا۔ اور اسکے رسولوں کی نا فرمانی کی اور ہر سرکش نافرمان کے حکم کی تابعداری کی۔ دنیا میں بھی ان کے پیچھے لعنت لگادی گئی اور قیامت کے دن بھی (ان پر لعنت ہوگی)۔ دیکھ لو قوم عاد نے اپنے رب سے کفر کیا۔ ھود علیہ السلام کی قوم عاد پر دوری ہو۔(سورہ ھود آےت نمبر 59اور60)اللہ تعالیٰ نے سورہ الفرقان میں فرمایا۔ترجمعہ” اور قوم عاد اور قوم ثمود اور کنویں والوں کو اور ان کے درمیان بہت سی امتوں کو (ہلاک کر دیا۔) اور ہم نے ان کے سامنے مثالیں بیان کیں۔ پھر ہر ایک کو بالکل ہی تباہ و برباد کردیا۔ “(سورہ الفرقان آےت نمبر 38اور39)۔ سورہ الشعراءمیں اللہ تعالیٰ نے فرماےا۔ ترجمعہ” چونکہ قوم عاد نے حضرت ہود علیہ السلام کو جھٹلایا۔ اسلئے ہم نے انھےں تباہ کرکے رکھ دیا۔ یقینا اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر بے ایمان تھے“۔ (سورہ الشعراءآیت نمبر139اور 140) اللہ تعالیٰ نے سورہ الحاقہ میں فرماےا۔ ترجمعہ۔” کیا ان میں (قوم عادمیں ) سے کوئی بھی تجھے باقی نظر آرہا ہے؟“ (سورہ الحاقہ آےت نمبر 8) مولانا مورودی لکھتے ہیں کہ جڑ کاٹ دی ، یعنی ان کا استحصال کردیا اور ان کا نام و نشان تک دنیا میں باقی نہ چھوڑا۔ یہ بات خود اہل عرب کی تارےخی رواےات سے بھی ثابت ہے۔ اور موجودہ اثری اکتشافات بھی اس پر شہادت دےتے ہیں کہ عاد اولیٰ بالکل تباہ ہوگئے اور ان کی یادگاریں تک دنےا سے مٹ گئےں۔ چنانچہ مورخین عرب انھےں امم بائدہ (معدوم اقوام) میں شمار کرتے ہیں۔ پھر یہ بات بھی عرب کے تارےخی مسلمات میں سے ہیں کہ عاد کا صرف وہ حصہ باقی رہا جو حضرت ہود علیہ السلام کا پیرو تھا۔ انھی بقایائے عاد کا نام تارےخ میں عادِ ثانیہ ہے۔ (تفہیم القرآن سورہ الاعراف حاشیہ نمبر 56مولانا سےد ابو اعلیٰ مودودی)۔
حضرت ہود علیہ السلام کا حج
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج پر تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر وادی¿ عسفان کے پاس ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اس مقام سے حضرت ہود علیہ السلام اور حضرت صالح علیہ السلام سرخ اونٹوں پر گزرے ہیں۔ ان کی مہاریں کھجور کی چھال کی تھیں۔ وہ چوغے پہنے ہوئے تھے اور ان پر دھاری دار چادریں تھیں۔ وہ تلبیہ کہتے ہوئے بیت عتیق کا حج کرنے گئے تھے۔ ( مسند امام احمد بن حنبل ، تفسیر در منشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی )
حضرت ہود علیہ السلام کی عمر اور قبر مبارک
حضرت ہود علیہ السلام کی عمر کے بارے میں کئی روایات ہیں۔ ایک روایت میں ابو الشیخ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت بیان کی ہے کہ حضرت ہود علیہ السلام کی عمر مبارک چار سو بہتر472سال تھی۔ امام ابن سعد اور امام ابن عسا کر نے اسحاق بن عبداللہ سے یہ قول بیان کیا ہے کہ تین انبیائے کرام علیہم السلام کے سوا کسی بھی نبی علیہ السلام کی قبر کا علم نہیں ہو سکا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قبر مبارک رکن اور بیت اللہ کے درمیان میزاب رحمت کے نیچے ہے۔ حضرت ہود علیہ السلام کی قبر یمن کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ کے نیچے ریت میں ہے۔ اس پر درخت ہے اور وہ جگہ انتہائی گر م ہے۔ اور تیسری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک ہے۔ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ہود علیہ السلام کی قبر مبارک حضر موت کے ایک سرخ ٹیلہ میں ہے ۔ا ور آپ علیہ السلام کے سر کی جانب بیری کا درخت ہے۔ ( تفسیر طبری علامہ محمد بن جریر طبری ، تاریخ الکبیر امام محمد بن اسماعیل بخاری ، تفسیر در منشور جلد نمبر 3امام جلال الدین سیوطی ،قصص الانبیاءعلامہ عماد الدین ابن کثیر) ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت ہود علیہ السلام کی قبر دمشق کی جامع مسجد کے احاطہ میں قبلہ کیطرف ایک جگہ ہے۔ ( تفسیر در منشور جلد نمبر3قصص الانبیاءعلامہ ابن کثیر) محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عاد کا علاقہ عمان سے یمن تک پھیلا ہوا تھا۔ اور قرآن پاک ہمیں بتاتا ہے کہ ان کا اصل وطن احقاف تھا۔ جہاں سے نکل کر وہ آس پاس کے ممالک میں پھیلے اور کمزور قوموں پر چھا گئے۔ آج کے زمانے تک بھی جنوبی عرب کے باشندوں میں یہی بات مشہور ہے کہ عاد اسی علاقے میں آباد تھے۔ موجودہ شہر مُکلاّ سے تقریباً ایک سو پچیس 125میل کے فاصلے پر شمال کی جانب حضر موت میں ایک مقام ہے۔ جہاں لوگوں نے حضرت ہود علیہ السلام کا مزار بنا رکھا ہے۔ اور حضرت ہود علیہ السلام کی قبر کے نام سے مشہور ہے۔ ہر سال پندرہ 15شعبان المعظم کو وہاں عرس ہوتا ہے۔ اور عرب کے مختلف علاقوں سے ہزاروں آدمی وہاں جمع ہوتے ہیں۔ یہ قبر اگر چہ تاریخی طور پر ثابت نہیں ہے لیکن اس کا وہاں بنایاجانا اور جنوبی عرب کے لوگوں کا کثرت سے اس کی طرف رجوع کرنا کم از کم اس بات کا ثبوت ضرور ہے کہ مقامی روایات اسی علاقہ کو قوم عاد کا علاقہ قرار دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ حضر موت میں متعدد خرابے ( Ruins) ایسے ہیں جن کو مقامی باشندے نے آج تک دارِ عاد کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ ( تفہیم القران سورہ الاحقاف حاشیہ نمبر25مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی)
الاحقاف ۔جہاں قوم عاد پر عذاب آیا تھا
عمان اور یمن کا درمیانی علاقہ قوم عاد کا علاقہ کہلاتا ہے۔ ان دونوں ملکوں کے درمیان بہت بڑا بہت عظیم ہزاروں لاکھوں مربع کلو میٹر پر محیط صحرا ہے۔ اس صحرائے اعظم کا عمان اور یمن کے درمیان کا پورا شمالی علاقہ مشرق سے مغرب تک ” الربع الخالی“ کہلاتا ہے۔ اور جنوبی حصہ حضر موت کہلاتا ہے۔ اور درمیان کا علاقہ صحرائے الاحقاف کہلاتا ہے۔ احقاف جمع ہے۔ اور اس کا واحد حقف ہے۔ اور لغت میں اس کے معنی ہیں۔ ریت کے وہ لمبے لمبے ٹیلے جو بلندی میں پہاڑوں کی حدکو نہ پہنچے ہون آج احقاف کا پورا صحرا ویران ریگستان ہے اور وہاں کوئی آبادی نہیں ہے۔ الاحقاف کی موجودہ حالت کو دیکھ کر کوئی شخص یہ گمان بھی نہیں کر سکتا کہ کبھی یہاں ایک شاندار تمدن رکھنے والی طاقتور قوم آباد رہی ہوگی۔ اغلب یہ ہے کہ ہزاروں سال پہلے یہ ایک سر سبز و شاداب علاقہ رہا ہو گا۔ اور بعدمیں آب و ہوا کی تبدیلی نے اسے ریگ زار ( ریگستان) بنا دیا ہوگا۔ آج اس کی حالت یہ ہے کہ وہ ایک لق و دق ریگستان ہے۔ جس کے اندرونی حصوں میں جانے کی کوئی بھی ہمت نہیں رکھتا ہے۔ 1843 عیسوی میں بوریا کا ایک فوجی آدمی اس کے جنوبی کنارے پر پہنچ گیا تھا۔ وہ کہتا ہے کہ حضر موت کی شمالی سطح مرتفع پر سے کھڑے ہو کر دیکھا جائے تو یہ صحرا ایک ہزار فٹ نشیب میں نظر آتا ہے۔ اس میں جگہ جگہ ایسے قطعے ہیں۔ جن میں اگر کوئی چیز گر جائے تو وہ ریت میں غرق ہوتی چلی جاتی ہے۔ اور بالکل بوسیدہ ( ریزہ ریزہ) ہو جاتی ہے۔ عرب کے بدّو ( دیہاتی لوگ) ( یا خانہ بدوش) اس علاقے سے بہت ڈرتے ہیں۔ اور کسی قیمت پر وہاں جانے کےلئے راضی نہیں ہوتے ہیں۔ ایک موقع پر جب بِدّو اسے لے جانے پر راضی نہیں ہوئے تو وہ اکیلا وہاں گیا۔ اس کا بیان ہے کہ وہاں کی ریت بالکل باریک سفوف کی طرح ہے۔ میں نے دور سے ایک شاقول اس میں پھینکا تو وہ پانچ 5منٹ کے اندر اس میں غرق ہو گیا۔ اور اس کی رسی کا سرا گل گیا جس کےساتھ وہ شاقول بندھا ہوا تھا۔ ( تفہیم القران سورہ الاحقاف حاشیہ نمبر25مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی)
ہزاروں سال بعد بھی اللہ کے عذاب کا اثر
ہزاروں سال پہلے صحرائے الربع الخالی ، صحرائے الاحقاف اور حضر موت کے علاقوں میں قوم عاد آباد تھی۔ اور یہ پورا علاقہ انتہائی سر سبز و شاداب اور ہرا بھرا تھا۔ ہر طرف ندیاں ، نہریں اور چشمے تھے۔ اناج پھلوں اور میووں اور ہر نعمت کی بہتات تھی۔ لیکن وہاں پر آباد قوم عاد نے کفر و شرک کرنا شروع کر دیا اور حضرت ہود علیہ السلام کو جھٹلایا اور اللہ کا عذاب مانگا۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے اس پورے علاقے پر اپنا عذاب بھیج دیا۔ وہ عذاب اتنا خوفناک اور بھیانک تھا کہ وہ پورا سر سبز و شاداب ہر ا بھرا علاقہ ایک بہت وسیع و عریض تپتے ہوئے ریگستان میں تبدیل ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس علاقہ سے اپنی نعمتوں کو اٹھا لیا اور اسے بنجر بغیر پانی کے سنسان اور بے گرم صحرا یعنی ریگستان میں تبدیل کر دیا۔ جہاں آج بھی اللہ کے عذاب کے اثرات دکھائی دیتے ہیں۔ حالانکہ اللہ کے عذاب کو آئے ہزاروں سال گزر چکے ہیں۔ لیکن آج بھی اس علاقے میں عذاب کی ہیت اور ہولناکی صاف سمجھ میں آتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جن علاقوں میں اللہ کا عذاب آیا ہے ان علاقوں میں مت جاﺅ بلکہ راستہ کاٹ کر گزر جاﺅ۔ اور اگر (مجبوراً ) ان علاقوں میں داخل ہونا پڑے تو روتے ہوئے داخل ہو کیوں کہ اگر روتے ہوئے داخل نہیں ہوگے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ تم بھی اللہ تعالیٰ کے عذاب میں جکڑ جاﺅ۔ اسی لئے اس علاقے کے مسلمان الاحقاف کے صحرا میں نہیں جاتے ہیں۔ اور یہودی اور عیسائی وغیرہ جاتے ہیں تو انہیں اللہ کے عذاب کے اثرات آج بھی دکھائی دیتے ہیں۔ جنہیں وہ اس علاقے کی خرابی سمجھتے ہیں۔ اس طرح قوم عاد کا عبرت ناک انجام ہوا۔
ہماری اللہ تعالیٰ سے یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں سیدھے راستے پر چلائے۔ تمام انبیائے کرام علیہم السلام پر ہم ایمان رکھیں ۔ اللہ تعالیٰ کی تمام کتابوں پر ایمان رکھیں ۔ ان کتابوں پر جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں پر اتاری ۔ اور ان میں صرف قرآن پاک محفوظ ہے۔ ورنہ دوسری کتابوں میں خرد برد اور ملاوٹ کر دی گئی ہے۔ ہم یہ بات دوبارہ دہرا رہے ہیں کہ ان ملاوٹ شدہ کتابوں پر نہیں بلکہ ان کتابوں پر جو رسولوں پر نازل ہوئیں۔ اللہ کے فرشتوں پر ایمان رکھیں اور آخرت اور قیامت کے دن پر ایمان رکھیں۔ اور ہمارے پیارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دل و جان سے محبت کریں۔ ان کے ہر حکم کو پورا کرنے کی کوشش کریں۔ ان کے ہر عمل کی نقل کرنے کی کوشش کریں۔ اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔ ہر حال میں اسی پر بھروسہ رکھیں۔ اور اسی سے مدد مانگیں۔
آمین !
ختم شدہ
٭........٭........٭
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں