حضرت نوح علیہ السلام
تحریر:شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر4
قسط نمبر 9
طوفان رُکا اور کشتی کوہِ جودی پہاڑ پر ٹھہر گئی
طوفان کس طرح رکا؟ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہیں۔ ترجمہ ” اور حکم فرمایا گیا۔ اے زمین اپنا پانی نگل لے ۔ اور اے آسمان تھم جا ۔ اور پانی خشک کر دیا گیا اور کافروں کا کام تمام ہوا۔ اور کشتی کوہِ جودی پر ٹھہری۔ “ ( سورہ ہود آیت نمبر44) اس طرح حضرت نوح علیہ السلام اور ایمان والے اور تمام جانوروں اور پرندوں کے جوڑے بچ گئے۔ اس آیت کی تفسیر میں انورالبیان میں لکھا ہے کہ پانی کا طوفان آیا جو خوب زیادہ تھا۔ پہاڑوں کی چوٹیوں سے بھی اوپر پہنچ گیا ۔ اور اس کی موجیں بھی پہاڑوں کی طرح تھیں۔ اتنے کثیر پانی سے کون بچ سکتا تھا۔ سوائے ان مومن مخلص بندوں کے جو حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی میں سوار تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں محفوظ رکھا۔ یہ طوفان کتنے دن رہا۔ اس کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ کشتی ایک سو پچاس دن تک پانی پر رہی۔ اور ایک قول یہ ہے کہ وہ چھ مہینے تیرتی رہی۔ صحیح علم اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ کو طوفان ختم کرنا منظور ہوا تو زمین کو حکم دے دیا کہ اپنے پانی کو نگل لے۔ اور آسمان کو حکم دیا کہ پانی برسانا بند کر دے۔ لہٰذا پانی کم ہوگیااور کافروں کے غرق ہونے کا جو حکم اللہ تعالیٰ کیطرف سے ہوا تھا اس کے مطابق وہ ہلاک ہو گئے۔ کشتی چلتے چلتے جودی پہاڑ پر جا کر رک گئی۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ندا دے دی گئی کہ ظالموں کے لئے اللہ کی رحمت سے دوری ہے۔ کشتی پہاڑ پر ٹھہر تو گئی لیکن اس سے اترنا کب ہوا؟ اس کے بارے میں مفسرین نے لکھا ہے کہ ایک مہینہ تک جودی پہاڑ پر رہے۔ جب حضرت نوح علیہ السلام کو یہ معلوم ہو گیا کہ پانی ختم ہو گیا ہے اور زمین اس لائق ہو گئی ہے کہ اس پر قیام کیا جائے تو وہاں سے نیچے تشریف لے آئے۔ اور پھر ان سے دنیا بسنی شروع ہو ئی۔ اور ان کے تینوں بیٹوں سے آگے دنیا میں نسل چلی۔ جن کے یہ نام مشہور ہیں۔ سام ، حام ، یافث
صرف مومنین زندہ بچے
تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے کہ روئے زمین کے سب لوگ اس طوفان میں جو در حقیقت غضب الٰہی اور مظلوم پیغمبر کی دعا کا عذاب تھا ، غرق ہو گئے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس پانی کو نگل لینے کا حکم دیا جو اس کا اُگلا ہوا تھا اور آسمان کا برسایا ہوا تھا۔ ساتھ ہی آسمان کو بھی پانی برسانے سے رک جانے کا حکم ہو گیا۔ پانی گھٹنے لگا اور کام پورا ہو گیا۔ یعنی تمام کافر ہلاک ہو گئے۔ صرف کشتی پر سوار مومن بچے۔ کشتی اللہ تعالیٰ کے حکم سے کوہ جودی پر رکی۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں۔ مہینے بھر تک یہیں لگی رہی۔ اس کے بعد سب اتر گئے اور کشتی کو لوگوں کی عبرت کے لئے یہیں ثابت و سالم رکھا گیا۔ یہاں تک کہ اس اُمت ( امت محمدیہ) کے اول لوگوں نے بھی اسے دیکھ لیا۔ حالانکہ اس کے بعد کی بہترین اور مضبوط سینکڑوں کشتیاں بنیں اور بگڑیں بلکہ راکھ اور خاک ہو گئیں ۔ ضحاک کہتے ہیں۔ جو دی نام کا پہاڑ موصل میں ہے۔ بعض کہتے ہیں ۔ طور پہاڑ کو ہی جودی کہتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں اسّی 80آدمی تھے۔ ایک سو پچاس دن تک وہ سب کشتی میں ہی رہے۔ اللہ تعالیٰ کشتی کا رخ مکہ مکرمہ کی طرف کر دیا۔ یہاں وہ چالیس دن تک خانہ کعبہ کا طواف کرتی رہی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسے جودی کی طرف روانہ کر دیا۔ اور وہاں ٹھہر گئی۔ ( تفسیر ابن کثیر علامہ عماد الدین ابن کثیر) تفسیر معارف القران میں اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ اس آیت میں طوفان کے ختم ہونے اور حالات کے ہموار ہونے کا بیان اس طرح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو خطاب کر کے فرمایا۔ اے زمین تو اپنا پانی نگل لے۔ مطلب یہ کہ زمین سے جتنا پانی نکلا تھا اس کے لئے حکم دیا کہ اس زمین پھر اپنے اندر اتار لے۔ اور آسمان کو حکم دیا گیا کہ اب پانی برسانا بند کر دے۔ اس طرح زمین سے نکلا ہوا پانی پھر زمین میں واپس چلا گیا۔ اور آسمان سے برسا ہوا پانی جتنا پانی زمین پر موجود تھا اس کو اللہ تعالیٰ نے دریاﺅں اور ندیوں اور نہروں کی شکل دے دی۔ جس سے انسان فائدہ اٹھائے۔
کشتی نے بیت اللہ یا حرم شریف ( مکہ مکرمہ) کا طواف کیا
حضرت نوح علیہ السلام 10ماہ رجب کو کشتی میں سوار ہوئے تھے۔ چھ مہینے تک یہ کشتی طوفان کے اوپر چلتی رہی ۔ جب بیت اللہ یا حرم شریف ( مکہ مکرمہ ) کے مقام پر پہنچی تو سات مرتبہ طواف کیا۔ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ ( خانہ کعبہ) کو غرق ہونے سے بچا لیا تھا۔ پھر 10محرم الحرام یوم عاشورہ میں کو ہ جودی پر ٹھہری حضرت نوح علیہ السلام اور تمام مسلمانوں اور جانوروں نے اس دن شکرانے کا روزہ رکھا۔ (تفسیر معارف القران جلد نمبر 4مولانا مفتی محمد شفیع، تفسیر مظہری جلد نمبر5قاضی ثناءاللہ پانی پتی تفسیر الجامع الحکام القران تفسیر قرطبی امام محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ ایک وسیع و عریض وادی کے کنارے حضرت نوح علیہ السلام نے کشتی تیار کی۔ اور یہیں سے طوفان ظاہر ہوا۔ پس حضرت نوح علیہ السلام کشتی پر سوار ہوئے ۔ آپ علیہ السلام کے ساتھ سام، حام اور یافث تھے۔ اور کنعان نہیں تھا۔ وہ طوفان میں غرق ہوا۔ اور تینوں بیٹوں کی بیویاں اور بنو شیث میں سے تہتر73لوگ جو ایمان لائے تھے۔ پس کشتی میں اسّی80لوگ تھے۔ اور آپ علیہ السلام نے اپنے ساتھ ہر ہر جنس سے نر اور مادہ کو بھی سوار کر لیا۔ کشتی کی لمبائی تین سو گز تھی۔ اور یہ گز آپ علیہ السلام کے باپ دادا کا مقرر کیا ہوا تھا۔ ( اس وقت انسان کی لمبائی کم سے کم نوّے فٹ90تھی) اور ان کے ایک ہاتھ کی لمبائی کو ایک گز کہا گیا ہے) اور کشتی کی چوڑائی پچاس 50گز تھی۔ اور آسمان کی جانب اس کی بلندی تیس30گزتھی۔ اور وہ چھ گز پانی کے باہر تھی اور وہ کشتی ڈھکی ہوئی تھی۔ آپ علیہ السلام نے اس کے تین دروازے بنائے۔ اور وہ ایک دوسرے سے نیچے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے چالیس دن تک بارش برسائی اور جب بارش وحشی جانوروںچوپائیوں اور پرندوں کو پہنچی تو وہ سب کے سب آپ علیہ السلام کے پاس حاضر ہوئے۔ اور آپ علیہ السلام نے ہر جنس کا جوڑا سوار کر لیا۔
حضرت آدم علیہ السلام کا جسم کشتی میں
آپ علیہ السلام نے اپنے ساتھ حضرت آدم علیہ السلام کے جسم مبارک کو بھی کشتی میں سوار کر لیا تھا۔ اور اسے مردوں اور عورتوں کے درمیان رکاوٹ بنا دیا تھا۔ پس وہ سب کے سب 10دس رجب المرجب کو کشتی میں سوار ہوئے اور پانی دو حصوں میں ظاہر ہوا۔ ایک حصہ آسمان سے اور ایک حصہ زمین سے۔ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” اور آسمان کے دروازوں سے پانی انڈیل دیا گیا۔ “ ( سورہ القمر)اور ہم نے زمین کو پھاڑ دیا پس پانی مل گیا جتنا مقد ر کیا گیا تھا۔ (سورہ القمر) اور زمین کے بلند ترین پہاڑ ( ہمالیہ) سے بھی پندرہ گز اوپر تک پانی بلند ہوا۔ پس کشتی انہیں لے کر چلی۔ اور چھ ماہ تک پوری زمین پر گھومتی رہی۔ اور کہیں بھی نہیں رکی۔ یہاں تک کہ حرم پاک ( مکہ مکرمہ) میں آئی۔ لیکن اس کے اندر داخل نہیں ہوئی۔ اور ایک ہفتہ حرم کے گر د طواف کرتی رہی۔ اس وقت وہ کعبہ جو حضرت آدم علیہ السلام نے بنایا تھا اسے اٹھالیا گیا تھااور غرق ہونے سے بچا لیا گیا تھا۔ اور وہی ” بیت المعمور“ ہے۔ اور حجر اسود کو جبل ابو قبیس پر اٹھا لیا گیا تھا۔ پس جب کشتی نے حرم کا طواف کر لیا تو وہاں سے نکلی اور زمین پر چلتی رہی۔ یہاں تک کہ جودی پر جا کر رکی۔ جودی سرز مین موصل میں حفین کے ساتھ ایک پہاڑ ہے۔ سال کی تکمیل کے چھ مہینے بعد وہاں کشتی جا کر ٹھہری۔ ( تفسیر در المنشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی)
پانی خشک ہونے کی تحقیق
حضرت نوح علیہ السلام کے جو دی پہاڑ پر ٹھہرنے کے بعد بھی ایک مہینے تک کشتی میں ہی رہے۔ اور مسلسل تحقیق کرتے رہے کہ زمین رہنے کے لائق ہوئی یا نہیں۔ اس کے لئے وہ لگاتار پرندوں کو بھیجتے رہے۔ طوفان کا پانی ہمالیہ پہاڑ سے بھی پندرہ گز اوپر تھا۔ اسے زمین نے سوکھنا شروع کیا تو اسے سوکھتے سوکھتے ایک مہینہ لگ گیا۔ ادھر کشتی پر سے روزانہ حضرت نوح علیہ السلام نے کوے کو بھیجا تو زمین پانی سوکھ چکی تھی۔ اور ہر طرف کیچڑ تھا۔ اور اس میں کچھ مردے پڑے ہوئے تھے۔ کوّے نے مردے دیکھے تو انہیں کھانے لگا۔ اور کشتی پر واپس نہیں آیا ۔ بس آپ علیہ السلام نے اس پر لعنت فرمائی۔ اسی وجہ سے اسے حرم میں بھی قتل کیا جا سکتا ہے۔ پھر فاختہ کو بھیجا ۔ سو،وہ گئی لیکن اسے زمین پرکہیں جگہ نہیں ملی تو سر زمین سبا میں وہ ایک درخت پر بیٹھی اور زیتون کا پتہ اٹھایا اور حضرت نوح علیہ السلام کی طرف لوٹ آئی۔ تو آپ علیہ السلام کو معلوم ہو گیا کہ اب زمین پر بہت کم پانی رہ گیا ہے۔ اور درخت پیڑ پودے پنپنے لگے ہیں ۔ پھر اسے چند دنوں بعد بھیجا پس وہ نکلی اور وادی حرم ( مکہ مکرمہ ) میں پہنچ گئی۔ پانی جب جذب ہوا تو سب سے پہلے مکہ مکرمہ کی زمین اوپر آئی اور پھر دھیرے دھیرے تمام زمین اوپر آنے لگی۔ مکہ مکرمہ کی مٹی سرخ تھی۔ پس اس نے اپنے پاﺅں کو اس رنگ سے رنگا اور پھر آپ علیہ السلام کے پاس واپس آگئی اور کہا مبارک ہو زمین نے قرار حاصل کر لیا ہے۔ آپ علیہ السلام نے اپنا دست مبارک اس کی گردن پر پھیرا اور اسے ہار پہنایا۔ اور اس کی ٹانگوں کو سرخی عطا کی۔ ( تفسیر در المنشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی) ایک اور روایت میں ہے کہ آپ علیہ السلا م نے کوے کو بھیجا کہ وہ زمین خشک ہونے کی تحقیق کرکے آئے تو اس نے مردار دیکھا تو اسے کھانے میں مگن ہو گیا۔ آپ علیہ السلام نے اس کے لئے خوف اور ڈر کی دعا کی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ گھروں کو پسند نہیں کرتا ہے۔ پھر آپ علیہ السلام نے کبوتری کو بھیجا ۔ تو وہ اپنی چونچ میں زیتون کا پتہ اور اپنے پاﺅں کے ساتھ مٹی لگا کر لائی۔ اس سے معلوم ہو ا کہ شہر غرق ہو چکے ہیں۔ پس جو سبز رنگ کا ہار اس کی گردن میں ہے وہ آپ علیہ السلام نے پہنایا ہے۔ اور اس کے لئے دعا فرمائی کہ وہ اُنس اور امان میں رہے۔ سو وہ اسی وجہ سے گھروں سے محبت کرتی ہے۔ (تفسیر ابن کثیر پارہ نمبر12علامہ عماد الدین ابن کثیر ، تفسیر الجامع الحکام القران تفسیر قرطبی امام محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی جلد نمبر5، تفسیر در المنشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی)
حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کا علاقہ
حضرت نوح علیہ السلام کا ظہور اس سرزمین میں ہوا تھا جو دجلہ اور فرات کی وادیوں میں واقع ہے۔ دجلہ اور فرات آرمینیا کے پہاڑوں سے نکلی ہیں۔ اور بہت دور الگ الگ چلتے ہوئے عراق کے زیر یں علاقے میںجا کر آپس میں مل گئی ہیں۔ اور پھر خلیج فارس میں جا کر سمندر میں گر گئی ہیں۔ آرمینیا کے یہ پہاڑ ارارات یا اراراط میں واقع ہیں۔ اسی لئے تو ریت میں اسے ارارات یا اراراط کا پہاڑ کہا گیا ہے۔ لیکن قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے اس پہاڑ کا ذکر فرمایا جس پر کشتی جا کر ٹھہری تھی اور وہ جودی کا پہاڑ ہے۔ زمانہ حال کے بعض شارحین توریت کا خیال بھی اسی بات کی تصدیق کر رہا ہے۔ اور کم از کم یہ تاریخی واقعہ ہے کہ آٹھویں صدی عیسوی تک وہاں ایک معبد ( عبادت گاہ) موجود تھا۔ جس کا نام لوگوں نے کشتی کا معبد رکھا تھا۔ (تفسیر جلالین جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی اور امام جلا ل الدین محلی) جودی پہاڑ آج بھی اسی نام سے قائم ہے۔ اس کا محل وقوع حضرت نوح علیہ السلام کے اصلی وطن موصل عراق کے شمال میں جزیرہ ابن عمر کے قریب آرمینیا کی سرحد پر ہے۔ یہ ایک بہت بڑا پہاڑ ی سلسلہ ہے۔ جس کے ایک حصے کا نام جودی ہے۔ اس کے ایک حصہ کو ارارات یا اراراط کہا جاتا ہے۔ موجودہ توریت میں کشتی کے ٹھہرنے کے مقام کو کوہِ ارارات یا اراراط بتایا گیا ہے۔ (تفسیر معارف القران جلد نمبر4مولانا مفتی محمد شفیع ) دریائے دجلہ کی مشرقی سمت میں جو پہاڑی سلسلہ ہے اس کو کوہِ ارارات یا اراراط کہتے ہیں۔ اس کی ایک چوٹی کا نام جودی ہے۔ اس کی سب سے اونچی چوٹی کا نام بھی ارارات یا اراراط ہے۔ اس کی بلندی سولہ ہزار نو سو چھیالیس16946فٹ ہے۔ جب کہ کوہ جودی کی بلندی تیرہ ہزار 13000فٹ ہے۔ (تفسیر نعیمی پارہ نمبر12مفتی احمد یا ر خان نعیمی)
آدم ثانی اور سوق الشمانین
حضرت نوح علیہ السلام کو آدمِ ثانی بھی کہا جاتا ہے۔ کیوں کہ ان سے پھر نئے سرے سے دنیا آباد ہوئی۔ حضرت نوح علیہ السلام نے کوہ جودی کے قریب جزیرہ قروی میں اسّی 80گھر تعمیر کئے اور ہر شخص کے حوالے ایک مکان کر دیا۔ یہ علاقہ آج بھی ”سوق ثمانین“ ( یعنی اسّی 80لوگوں کا بازار) کے نام سے مشہور ہے۔ بازار کو عربی میں سوق کہا جاتا ہے۔ یہ سب مسلمان تھے۔ اور ان کی اولاد بھی مسلمان رہی۔ طوفان کے بعد حضرت نوح علیہ السلام لگ بھگ ڈھائی سو250برس زندہ رہے۔ اور اس دوران ان کی اولاد اور مسلمانوں کی آبادی بڑھتی رہی۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام کوہِ جودی کی نچلی جانب اترے اور ایک گاﺅں آباد کیا اور اس کا نام ” ثمانین “ رکھا۔ پس ایک دن صبح ہوئی تو وہ اسّی 80لوگ الگ الگ زبانیں بول رہے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے اتنی زبانیں الگ الگ سیکھا دی تھی۔ اور وہ ایک دوسرے کی زبان سمجھ نہیں پا رہے تھے۔ اُن اسّی 80زبانوں میں ایک عربی زبان بھی تھی۔ حضرت نوح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے سب زبانیں سکھائی تھی۔ اور آپ علیہ السلام ان کی ترجمانی کر تے تھے۔
دنیا کانئے سرے سے آباد ہونا
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام کوہِ جودی سے اترے اور ایک گاﺅ ں آباد کیا۔ اور ان میں سے ہر آدمی کے لئے ایک گھر بنایا۔ اور اس گاﺅں کا نام ”سوق ثمانین“ رکھا۔ بنو قابیل سارے کے سارے غرق ہو چکے تھے۔ پھر ان کی آبادی بڑھنے لگی۔ اور سوق ثمانین کا گاﺅں ان کے لئے تنگ ہو گیا۔ تو وہ بابل کی طرف چلے گئے۔ اور بابل نام کا شہر آباد کیا۔ اور اس کی تعمیر کی ۔ یہ فرات اور صراة کے درمیان واقع ہے۔ وہ وہاں ٹھہرے رہے۔ حتیٰ کہ ایک لاکھ تک پہنچ گئے۔ اور وہ سب مسلمان تھے۔جب حضرت نوح علیہ السلام کشتی سے اترے تھے تو حضرت آدم علیہ السلام کے جسم مبارک کو بیت المقدس لے جا کر دفن کیا۔ ( تفسیر در منشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی، تفسیر ابن کثیر علامہ ابن کثیر)حضرت نوح علیہ السلام کے چار بیٹے تھے۔ ایک کنعان تو طوفان میں ڈوب کر ہلاک ہو گیا تھا ۔ باقی تینوں بیٹوں کے نام سام، حام اور یافث تھے۔ ان کی بھی اولاد بڑھتی جا رہی تھی۔ اور دھیرے دھیرے دنیا میں پھیلنے لگی تھی۔ یہ تینوں بیٹے مسلمان تھے۔ اور ان کی اولاد بھی مسلمان ہی رہی۔ سام کی اولاد عرب اور آس پاس کے علاقوں میں آباد ہو گئی۔ حام کی اولاد آگے بڑھ کر یورپ تک پہنچ گئی۔ اور یافث کی اولاد افریقہ میں بس گئی۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر ہندوستا ن تک پہنچ گئی۔
حضرت نوح علیہ السلام کی عمر
حضرت نوح علیہ السلام کی عمر مبارک کے بارے میں بہت سی روایات ہیں۔ کسی روایت میں آپ علیہ السلام کی عمر ساڑھے بارہ سو1250سال بتائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا کہ حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال رہے۔ اس سے علمائے کرام نے یہ نتیجہ نکالا کہ آپ علیہ السلام نے 950سال تک تبلیغ کی۔ پچاس سال کی عمر میں نبوت ملی۔ یہ کل ایک ہزار سال ہو گئے۔ اس کے بعد طوفان آیا۔ اور طوفان کے بعد بعض روایات میں ڈھائی سو250سال اور بعض روایات میں تین سو پچاس سال 350کا آیا ہے۔ کہ طوفان کے بعد اتنے سال زندہ رہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جس دن حضرت نوح علیہ السلام کی پیدائش ہوئی اس وقت کے بادشاہ کو حکومت کرتے ہوئے بیاسی 82سال ہو چکے تھے۔ اس زمانے میں گناہ روکنے والا کوئی نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو اپنا رسول بنا کر ان کی طرف بھیجا ۔ اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر چار سو اسّی480سال تھی۔ پھر آپ علیہ السلام نے ایک سو بیس120 سال تک اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی بنانے کا حکم دیا۔ آپ علیہ السلام نے کشتی بنائی اور اس میں سوار ہوئے۔ اس وقت آ پ علیہ السلام کی عمر چھ سو600سال تھی۔ اور جس کو غرق ہونا تھا ہو گیا۔ پھر کشتی سے اترنے کے بعد تین سو پچاس350برس تک آپ علیہ السلام زندہ رہے۔ ( تفسیر در منشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی) حضرت نوح علیہ السلام کی عمر چاہے جو بھی ہو ہمیں صرف یہ دیکھنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن پاک میں یہ بتایا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم میں نو سو پچاس 950سال رہے۔ اس لئے ہم یہ بات دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ آ پ علیہ السلام کی عمر مبارک کم سے کم نو سو پچاس950سال رہی۔ اس سے زیادہ ہو سکتی ہے کم نہیں ہو سکتی۔ اور زیادہ بھی کتنی؟ یہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔
ابلیس شیطان کی کوششوں سے دنیا بُت پرستی میں مبتلا
طوفان کے بعد برسوں گزر گئے۔ اور دنیا کی آبادی پھر سے بڑھ گئی۔ تو اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو اپنی جوارِ رحمت میں بلا لیا۔ حضرت نوح علیہ السلام کے بعد کافی عرصے تک سب لوگ مسلمان رہے۔ لیکن ابلیس شیطان انسان کی گھات میں لگا ہوا تھا۔ اور دھیرے دھیرے اس نے اپنے کام میں کامیابی حاصل کرنی شروع کر دی۔ حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد ، ان کے پوتوں ان کے پڑ پوتوں اور ان کی اولاد کو بھی بہکاتا رہا۔ لیکن اتنا کامیاب نہیں ہوا تھا۔ لیکن کئی نسلیں گزر گئیں تو ابلیس کو دھیرے دھیرے کامیابی ملتی گئی۔ اور لوگ بت پرستی میں مبتلا ہو تے گئے۔ ابلیس شیطان نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ بادشاہوں کے دماغ میں بھی یہ وسوسہ ڈالا اور یقین پید ا کیا کہ ( نعوذ باللہ ) وہ خدا ہے۔ ایسا ہی ایک بادشاہ نمرود تھا۔ جس کے علاقے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اعلان نبوت کیا تھا۔
حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر مکمل ہوا ۔ اب انشااللہ آپ کی خدمت میں حضرت ہود علیہ السلام کے بارے میں تفصیل سے پیش کریں گے۔ اور اس کے بعد حضرت صالح علیہ السلام کے بارے میں تفصیل سے پیش کریں گے۔ اس کے بعد انشا اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں تفصیل سے پیش کریں گے۔
٭........٭........٭
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں