حضرت صالح علیہ السلام
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر 06
قسط نمبر 8
تین دن دنیا میں رہ لو
حضر ت صالح علیہ السلام نے قوم ثمود سے فرمایا تھا کہ بچہ کو ڈھونڈو اگر وہ مل گیا تو ہو سکتا ہے کہ اللہ کا عذاب ٹل جائے لیکن جب وہ لوگ ناکام واپس آئے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تمہیں تین دن کی مہلت ہے دنیا میں جتنا فائدہ اٹھا سکتے ہو اٹھا لو پھر اللہ تعالیٰ کا عذاب تمہیں جکڑ لے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ ہود میں فرمایا۔ ترجمہ ” پھر بھی اُن لوگوں نے اس اونٹنی کے پاﺅں کاٹ ڈالے۔ اس پر صالح علیہ السلام نے فرمایا۔ اچھا اب تم اپنے گھروں میں تین دن رہ لو۔ یہ وعدہ جھوٹا نہیں ہے۔ “ (سورہ ہود آیت نمبر65) تفسیر در منشور میں لکھا ہے کہ پھر وہ اکٹھے ہو کر اونٹنی کے پاس گئے۔ وہ اس وقت اپنے حوض پر کھڑی تھی ۔تو ان میں سے ایک بد بخت انسان آگے بڑھا اور ان میں سے ایک آدمی کو دعوت دی کہ وہ آگے بڑھ کر اونٹنی کو قتل کر دے۔ وہ آگے بڑھا مگر اس کو بہت بڑا کام سمجھ کر پیچھے ہٹ گیا۔ اس بد بخت نے دوسرے کو بلایا تو اس نے بھی اسے انتہائی عظیم کام سمجھ کر انکار کر دیا۔ اس طرح اس نے کئی افراد کو بلایا اور حملے کی دعوت دی۔ لیکن کسی کی ہمت اور جرا¿ت نہیں ہوئی کہ وہ اونٹنی پر حملہ کر سکے۔ آخر کار وہ بد بخت خود ہی آگے بڑھا اور تیزی سے اس کی کونچوں پر ضرب لگائی۔ جس کے نتیجے میں اونٹنی گر گئی اور پاﺅں مارنے لگی۔ اسی دوران حضر ت صالح علیہ السلام کو خبر دی گئی تو آپ علیہ السلام آئے تو قوم والے معذرت کرنے لگے ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ بچہ کو ڈھونڈو اگر وہ مل گیا تو بچ سکتے ہو۔ بچے نے جب ماں کو تڑپتے دیکھا تو قارہ نام کے پہاڑ پر چڑھ گیا تھا۔ ان لوگوں نے تلاش کیا مگر وہ نہیں ملا۔ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تمہیں تین دن کی مہلت ہے۔ دوسری روایت میں ہے کہ اونٹنی کے بچے نے جب آپ علیہ السلام کو دیکھا تو رونے لگا۔ یہاں تک کہ اس کے آنسو بہنے لگے۔ پھر وہ خوب شدت سے بلبلایا۔ پھر دوسری بار اور پھر تیسری بار بھی اسی طرح بلبلایا۔ تو آپ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا۔ ہر بار بلبلانے کے بدلے ایک موت ہے۔ پس تم تین دن تک اپنے گھروں میں لطف اندوز ہو لو۔ اور یہ ایسا وعدہ ہے جسے جھٹلایا نہیںجا سکتا۔
اونٹنی کا گوشت تقسیم کر لیا
تفسیر انوار البیان میں ان دونوں عورتوں اور مصدع اور قدار کا واقعہ پیش کرنے کے بعد آگے لگھا ہے کہ پھر قدار نے اس کو ذبح کر دیا۔ اور بستی کےلوگ نکلے اور اس کا گوشت آپس میں تقسیم کرلیا۔ جب انہوں نے ایسا کیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تم لوگ تین دن اپنے گھرں میں فائدہ اٹھالو۔ اور یہ جھوٹا وعدہ نہیں ہے۔ ( تفسیر انوارالبیان جلد نمبر2مولانامحمد عاشق الٰہی مہاجر مدنی) تفسیر نعیمی میں لکھا ہے کہ پس ان سب نے اونٹنی کے ٹخنے کی پچھلی رگیں کاٹ دیں۔ جس سے سار ا خون بہہ گیا اور وہ مر گئی۔ ذبح کرنے اور کاٹنے والا صرف ایک شخص قدار بن سالف تھا مگر چونکہ سب کافروں کے مشورے اور حکم سے ایسا کیا تھا اسی لئے اللہ تعالیٰ نے جمع کا صیغہ استعمال کیا ہے۔ پھر گوشت بنا کر سب نے تقسیم کر کے کھالیا۔ کافروں کی یہ خبائت دیکھ کر حضر ت صالح علیہ السلام نے فرمایا۔ ۔ تین دن تک عیش کر لو اپنے گھروںمیں۔ (تفسیر نعیمی پارہ نمبر12مفتی احمد یار خان نعیمی) تفسیر تبیان القران میں لکھا ہے کہ امام ابن ابی حاتم اپنی سند کے ساتھ امام محمد بن اسحاق سے روایت کرتے ہیں۔ جب اونٹنی پانی پی کر لوٹ رہی تھی تو وہ اس کی گھات میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک چٹان کے ایک حصے کے پیچھے قدار اوردوسرے حصے کے پیچھے مصدع بیٹھاہوا تھا۔ جب وہ اس کے پاس سے گزری تو مصدع نے پنڈلی کے گوشت پر تاک کر تیر مارا اور قدار اس پر تلوار لے کر حملہ آوار ہوا۔ اور اس کی کونچوں پر تلوار ماری۔ وہ چیخ مار کر گر پڑی۔ انہوں نے اس کی ٹانگوں کو باندھ دیا۔ پھر اس کے لُبّہ ( گردن کے نچلے حصہ) پر نیزہ مار کر اس کو نحر ( ذبح) کر دیا۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم ) ابو ازیل نے بیان کیا ہے کہ جب اس اونٹنی کی کونچیں کاٹی گئیں تو اس کا بچہ چیختا ہوا پہاڑوں کی طرف بھاگ گیا۔ پھر دوبارہ اس کو نہیں دیکھا گیا۔ ( تفسیر ابن ابی حاتم) پھر حضر ت صالح علیہ السلام نے فرمایا۔ کہ تین دن اپنے گھروں میںعیش کر لو۔ (تفسیر تبیان القران جلد نمبر5علامہ غلام رسول سعیدی)
اللہ کے عذاب کی علامتیں
جب قوم ثمود اونٹنی کے بچہ کو نہیں لا سکی تو حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا۔ اب تم تین دن تک اپنے گھروں میں اس دنیا کے لطف اٹھا لو ۔ اس کے بعد اللہ کا عذاب آئے گا۔ قوم ثمود کے پنڈت اور پجاری آپ علیہ السلام کا مذاق اڑانے لگے کہ کوئی عذاب وغیرہ کچھ نہیں آئے گا۔ تب آپ علیہ السلام نے انہیں بتا یا کہ تمہیں تین دنوں کی مہلت دی گئی ہے۔ اس میں عذاب کی علامتیں ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گی۔ پہلے دن تمہارے چہرے زرد ( پیلے) ہو جائیں گے۔ دوسرے دن تمہارے چہرے سرخ ( لال ) ہو جائیں گے۔ اور تیسرے دن تمہارے چہرے سیاہ (کالے) ہو جائیں گے۔ تفسیر تیسر الرحمن لبیان القران میں لکھا ہے کہ انہوں نے بدھ کے دن اونٹنی کو قتل کیا تھا اس کے بعد تین دن ( جمعرات ، جمعہ اور سنیچر) زندہ رہے۔ اور اتوار کے دن صبح کے وقت ان پر اللہ کا عذاب آیا۔ ( تفسیر تیسر الرحمن لبیان القران محمد لقمان سلفی) تفسیر معارف القران میں لکھا ہے ۔ کہ اب وہ عذاب اس طرح آیا کہ ان کو تین روز کی مہلت دی گئی اور بتلا دیا گیا کہ چوتھے روز تم سب ہلاک کئے جاﺅ گے۔ تفسیر قرطبی میں ہے کہ یہ تین روز جمعرات ، جمعہ اور سنیچر تھے۔ اور اتوار کے روز ان پر عذاب نازل ہوا۔ ( تفسیر معارف القران جلد نمبر4مولانا مفتی محمد شفیع ) تفسیر نعیمی میں لکھا ہے کہ حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا۔ کر لو عیش تین دنوں تک اپنے شہروں میں یا اپنے علاقوں میں یا اپنے گھروں میں یا اپنے ٹھکانوں میں اور صرف تین دن۔ ان لوگوں نے بدھ کی رات کو اونٹنی کو ذبح کیا ۔ (تفسیر نعیمی پارہ نمبر12مفتی احمد یا ر خان نعیمی)
عذاب سے پہلے تین موت
حضرت صالح علیہ السلام نے جب قوم ثمود سے فرمایا کہ تین دنوں کے بعدا للہ تعالیٰ کا عذاب آئے گا۔ تو کافر سرداروں یعنی پنڈتوں اور پجاریوں نے عوام سے کہا کہ کوئی عذاب وغیرہ نہیں آئے گا۔ تب آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ عذاب آنے سے پہلے تم لوگ تین موت مرو گے اور عذاب کی علامتیں بتائی۔ پہلے دن صبح ہوئی تو پوری قوم ثمود نے پہلی علامت کو دیکھا تو ان کے ہوش اڑ گئے۔ پنڈتوں اور پجاریوں کا بھی وہی حال تھا۔ جو عوام کا تھا۔ اب پوری قوم سمجھ گئی تھی کہ حضرت صالح علیہ السلام سچے ہیں اور ہمارے مذہبی رہنما یعنی پنڈت اور پجاری اور پروہت وغیرہ جھوٹے ہیں۔ خود وہ مذہبی رہنما عوام کے سامنے شرمندہ شرمندہ تھے۔ اور اقرار کر لیا تھا کہ ہم جھوٹے ہیں۔ اب تو بہ کا وقت بھی گزر گیا تھا۔ اور حضرت صالح علیہ السلام مسلمانوں کو لے کر ان کے علاقے سے دور چلے گئے تھے۔ پہلے دن پوری قوم پہلی موت کا شکار ہوئی۔ یعنی انہیں یقین ہو گیا کہ دو دنوں بعد ہم ہلاک ہو جائیں گے۔ یہ ایسی حالت تھی کہ وہ کھانا پینا اور دنیا کی ہر چیز بھول گئے اور صرف افسوس کرتے بیٹھے تھے۔ دوسرے دن دوسری موت یہ ہوئی کہ ان لوگوں نے ہنسنا بولنا چھوڑ دیا۔ بس ایک دوسرے کے چہرے دیکھتے تھے اور ہر ایک کی آنکھوںمیں حسرت ، یاس ، مایوسی اور خوف نظر آرہاتھا۔ اور تیسرے دن تیسری موت یہ ہوئی کہ پوری قوم یہ سمجھ گئی تھی کہ یہ ہماری زندگی کا آخری دن ہے۔ اگر کسی شخص کو معلوم ہو جائے کہ آج میرا آخری دن ہے اور کل مجھے موت آجائے گی تو پورا دن اس کے لئے بے انتہا اذیت بھرا گزرے گا۔ اوریہی اذیت ان کی تیسری موت تھی۔
تین دنوںمیں قوم ثمود کی حالت
حضرت صالح علیہ السلام کےسامنے تین مرتبہ اونٹنی کا بچہ چلایا تھا یعنی بلبلایا تھا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تین مرتبہ بلبلانے کے بدلے تین موت ہے۔ اب تم تین دنوں تک ( اس دنیا میں )اپنے گھروں میں مزے کر لو ۔ اور یہ ایسا وعدہ ہے جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا ہے۔ خبردار، عذاب کی نشانی یا علامت یہ ہے کہ پہلے دن تمہارے چہرے زرد ( پیلے) ہو جائیں گے۔ دوسرے دن سرخ ہو جائیں گے۔ اور تیسرے دن سیاہ ( کالے ) ہو جائیں گے۔ جب انہوں نے صبح کی تو ان کے چھوٹے بڑے اورمردوں اور عورتوں کے چہرے اس طرح زرد یعنی پیلے پڑ چکے تھے گویا ان پر زعفران کا طلاءکر دیا گیا ہے۔ (پوری قوم کے بچے، جوان ، بوڑھے مردا ور عورتیں جب صبح اٹھے تو ایک دوسرے کے چہروں کو دیکھ کر دہشت زدہ ہو گئے۔ ہر ایک کا چہرہ پیلا نظر آرہا تھا۔ اور اتنا زیادہ پیلا تھا کہ جیسے ہلدی کا لیپ لگایا ہو۔ ہر جگہ گھروںمیں ، گلیوں میں ، محلوںمیں، بازاروںمیں، چوک میں صرف پیلے پیلے چہرے نظر آرہے تھے) جب اس دن کی شام ہوئی تو پوری قوم ثمود کا ہر فرد چیخنے چلانے لگا کہ موت کا پہلا دن گزر گیا ہے اور عذاب قریب آگیا ہے پھر جب دوسرے دن صبح ہوئی ان کے چہرے سرخ ہو چکے تھے۔ گویا انہیںخون سے رنگ دیا گیا ہے۔ ( پوری قوم ثمود کے چہرے لال ہو چکے تھے ایسا لگ رہا تھا جیسے ہر شخص کا چہرہ خون سے نہایا ہو اہے۔ اور وہ خوف زدہ اور مایوس ہو کر ایک دوسرے کے چہروں کو دیکھ رہے تھے) پوری قوم ثمود چیخ و پکار کرنے لگی۔ شور و غوغامچانے لگی۔ اور قوم کا ہر فرد رونے لگا۔ اور انہیں پورا یقین ہو گیا کہ یہ عذاب ہے۔ پھر جب دوسرے دن شام ہو ئی تو پوری قوم ثمود کے لوگ رونے اور چلانے لگے کہ دو دن گزر گئے اور عذاب اور زیادہ قریب آچکا ہے۔ اس کے بعد جب تیسرے دن صبح ہوئی تو ان سب کے چہرے سیاہ ہو چکے تھے۔ اور ایسا لگ رہا تھا جسیے ان کے چہروں پر ڈامر لیپ دیا ہو۔ وہ حسرت ، مایوسی اور اداسی سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے) پھرقوم ثمود کا ہر فرد رونے ، چلانے اور ماتم کرنے لگا۔ ( حضرت صالح علیہ السلام نے ان سے فرمایا تھا کہ تین دن مزے کر لو لیکن وہ تین دن ان کے لئے انتہائی اذیت ناک گزرے اور مزے کرنے کی بجائے ان لوگوںکے تین دن رونے اور ماتم کرنے میں گزرے ۔ پوری قوم ثمود کے لوگ کھانا پینا بھول گئے۔ بلکہ سونا بھی بھول گئے اور ان کی آنکھوں کی نیند بھی اڑ گئی تھی) تیسرا دن بھی گزر گیا اور شام ہوئی تو سب کے سب چلانے لگے۔ کہ اب ہم پر عذاب آگیا ہے۔ پس انہوںنے کفن پہن لئے اور حنوط لگا لیا ( تفیسر در منشور جلد نمبر 3امام جلال الدین سیوطی، قصص الانبیاءعلامہ محمد بن جریری طبری)
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں