حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام
سلسلہ نمبر 5
قسط نمبر 8
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
اﷲ کے لئے قربانی کریں
حضرت اسماعیل علیہ السلام اپنی والدہ محترمہ سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا کے ساتھ مکہ¿ مکرمہ میں رہ رہے تھے۔اور اُن کے والد محترم اُس وقت کے ملک کنعان اور آج کے فلسطین میں رہ رہے تھے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ پہلی بیوی سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہارہ رہی تھیں،اُن کی عُمر نوے (90) سال ہوچکی تھی۔اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عُمر لگ بھگ ننانوے(99) سال ہو چکی تھی۔ایک رات آپ علیہ السلام نے خواب دیکھا کہ ایک شخص کہہ رہا ہے اﷲ تعالیٰ کے لئے قربانی کرو۔یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ انبیائے کرام علیہم السلام کے خواب سچے ہوتے ہیں۔اور رات میں جو خواب دیکھتے ہیں ،وہ دن میں حقیقت بن کر سامنے آجاتا ہے۔اِس لئے صبح اُٹھ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دس اونٹ اﷲ تعالیٰ کے لئے قربان کر دیئے۔دوسری رات پھر خواب میں حکم ہوا کہ اﷲ کے لئے قربانی کریں۔صبح اُٹھ کر آپ علیہ السلام غورو فکر میں مبتلا رہے،کافی غورو فکر کرنے کے بعد آپ علیہ السلام نے سوچا کہ شاید میں کم اونٹوں کی قربانی کی ہے۔اِس لئے اُس دن سو(100) اونٹوں کی قربانی کی۔
اپنی سب سے پیاری چیز قربان کرو
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سو(100) اونٹوں کی قربانی کی،لیکن تیسری رات پھر قربانی کا حکم ہوا۔اور اِس بار یہ حکم ہوا کہ اﷲ کے لئے اپنی سب سے پیاری چیز قربان کرو۔صبح آپ علیہ السلام اُٹھے تو غورکرنے لگے کہ میری سب سے پیاری چیز کون سی ہے؟کافی غور و فکر کرنے کے بعد آپ علیہ السلام کی سمجھ میں آیا کہ میں اپنے اکلوتے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہوں۔اِس لئے مجھے اپنے بیٹے کو اﷲ کے لئے قربان کرنا ہوگا۔یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بہت بڑی آزمائش تھی،کیونکہ بڑھاپے میں اﷲ تعالی نے اولاد عطا فرمائی تھی،اور وہ بھی اکلوتی اولاد تھی۔لیکن آپ علیہ السلام جانتے تھے کہ اولاد اﷲ تعالیٰ کی دی ہوئی ہے،اِس لئے وہ جب چاہے واپس لے سکتا ہے۔آپ علیہ السلام نے فوراً سفر کی تیاری کی،اور مکۂ مکرمہ کی طرف چل پڑے۔سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے جب شوہر کو اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اپنے والد محترم کو دیکھا تو خوشی کے مارے آنکھوں میں آنسو آگئے۔اُس وقت حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عُمر لگ بھگ تیرہ (13)یا چودہ(14) سال کے درمیان تھی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بیوی اور بیٹے کو اپنے خواب کے بارے میں بتایا تو دونوں نے سمجھ لیا کہ یہ اﷲ تعالیٰ کا حکم ہے۔
فرمانبردار بیٹا
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ کے حکم کے بارے میں بتایا ۔سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے اﷲ تعالیٰ کی کئی نشانیاں دیکھی تھیں،اِس لئے وہ جانتی تھیں کہ اِس میں بھی اﷲ تعالیٰ کی کوئی مصلحت ہو گی۔پھر بھی ممتا کی ماری نے کانپتے ہوئے دل کو مضبوط کر کے اجازت دے دی۔لیکن حضرت اسماعیل علیہ السلام تو ابھی نوجوانی میں قدم رکھ رہے تھے۔اِس کے بوجود اپنے والد ِ محترم کے اتنے فرمانبردار تھے کہ اِس بات کی پرواہ نہیں کی کہ اِس بات کے نتیجے میں میرا کیا انجام ہو گا؟بلکہ والدِ محترم سے عرض کیا ؛”اباجان !آپ علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے جس کام کا حکم دیا ہے ،وہ کر ڈالیئے،اور انشاءاﷲ آپ علیہ السلام مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔اﷲ تعالیٰ نے اُن باپ بیٹے کی گفتگوکو سورہ الصافات میں بیان فرمایا؛ترجمہ؛”(حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی)اے میرے رب !مجھے نیک بخت اولاد عطا فرما،تو ہم نے اُسے ایک بُرد بار لڑکے کی بشارت دی۔پھر جب وہ (بیٹا) نوعُمر کو پہنچاکہ اُس کے ساتھ چلے پھرے تو ابراہیم (علیہ السلام ) نے کہا؛اے میرے بیٹے !میں خواب میں اپنے آپ کو تجھے ذبح کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔اب بتا تیری کیا رائے ہے؟بیٹے نے جواب دیا؛اباجان !جو حکم آپ (علیہ السلام ) کو ہوا ہے،اُسے بجا لایئے۔اِن شاءاﷲ آپ( علیہ السلام) مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔“(سورہ الصافات آیت نمبر 100 سے 102 تک)
ابلیس شیطان کو کنکریاں مارنا
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنی بیوی اور بیٹے کی فرمانبرداری دیکھی تو بہت زیادہ خوش ہوئے ،اور اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔اِس کے بعد آپ علیہ السلام نے ہاتھ میں چھری لی،اور بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر قربان گاہ کی طرف لے جانے لگے۔ذرا اُسوقت کا تصور کریں۔اُس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عُمر لگ بھگ ننانوے سال تھی،اور بڑھاپے میں اکلوتی اولاد کو ذبح کرنا تھا۔ایسے وقت میں بھی آپ علیہ السلام نے بیٹے سے اپنی محبت کو اﷲ کے حکم پر حاوی نہیں ہونے دیا۔ابلیس شیطان نہیں چاہتا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اِس آزمائش میں کامیاب ہوں۔وہ آپ علیہ السلام کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے ابراہیم(علیہ السلام) ! یہ کیسا پاگل پن ہے؟ایسے کوئی اپنی اولاد کو ذبح کرتا ہے کیا؟اور یہ تو تمہارا اکلوتا بیٹا ہے،تمہارے بڑھاپے کا سہارا ہے۔آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”یہ اﷲ کا حکم ہے، اور میں اِسے ضرور پورا کروں گا۔اور تُو مجھے بہکا رہا ہے،تو ضرور ابلیس شیطان ہے۔“اور آپ علیہ السلام نے سات کنکریاں اُٹھائیں ،اور اُسے مارا تو وہ وہاں سے بھاگا۔پھر ابلیس شیطان بھاگ کر سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا کے پاس آیااور بولا کہ بی بی جی!یہ ابراہیم(علیہ السلام) کیا کرنے جارہا ہے؟اُسے روکو،تمہارا شوہر پاگل ہو گیا ہے،کیا بڑھاپے میں کوئی اپنی اولاد کو اِس طرح ذبح کرتا ہے؟سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا؛”وہ اﷲ تعالیٰ کا حکم پورا کرنے جارہے ہیں،اور میں انہیں اﷲ کا حکم پورا کرنے سے نہیں روکوں گی۔اور تُو مجھے بہکا رہا ہے،تُو ضرور ابلیس شیطان ہے۔“یہ فرما کر آپ رضی اﷲ عنہا نے سات کنکریاں اُٹھائیں اور اُسے ماری تو ابلیس شیطان وہاں سے بھاگا۔اب وہ بھاگتا ہوا حضرت اسماعیل علیہ السلام کے پاس آیا اور بولا کہ بیٹے یہ تمہارے کھیلنے اور کھانے کے دن ہیں،ابھی تم نے دنیا دیکھی ہی کہاں ہے؟تمہارا باپ بڑھاپے میں سٹھیا گیا ہے،کیا اِس طرح کوئی اپنی اولاد کو ذبح کرتاہے؟حضرت اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا؛”میرے والد اﷲ تعالیٰ کا حکم پورا کرنے جارہے ہیں،اور میں اﷲ تعالیٰ کا حکم پورا کرنے میں اُن کی ضرور مدد کروں گا،اور تُو مجھے بہکا رہا ہے،تُو ضرور ابلیس شیطان ہے۔“اور آپ علیہ السلام نے بھی سات کنکریاں اُٹھا کر اُسے ماری ،اور ابلیس شیطان بھاگ گیا۔حاجی شیطان کو جو کنکریاں مارتے ہیں،یہ اُنہی مقدس ہستیوں کی سنت ہے۔
گلے پر چھری رکھ دی
حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کولیکر قربانی کی جگہ پہنچ گئے۔یہاں پہنچ کر حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اپنے والدِ محترم سے عرض کیا؛”اے میرے اباجان!ذبح کرنے سے پہلے میرے ہاتھ اور پیر مضبوطی سے باندھ دیں،تاکہ میں زیادہ تڑپ نہ سکوں،اور آپ علیہ السلام کو ذبح کرنے میں آسانی ہو۔اور اپنے کپڑوں کو مجھ سے بچا کر رکھنا،تاکہ میرا خون آپ علیہ السلام کے کپڑوں پر نہ لگ جائے۔اور میری والدہ محترمہ کو یہ خون دیکھ کر تکلیف نہ ہو۔میرے حلق پر چھری جلدی جلدی چلانا،تاکہ مجھ پر موت آسانی سے آئے،اور جب میری والدہ کے پاس جانا تو اُس سے میرا سلا م کہنا۔“کچھ روایات میں یہ بھی ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے یہ بھی کہا؛”اباجان!آپ علیہ السلام اپنی آنکھوں پر پٹی باند ھ لیں،کہیں ایسا نہ ہو کہ میری تکلیف دیکھ کر آپ علیہ السلام کو رحم آجائے،اور آپ علیہ السلام سے اﷲ تعالیٰ کا حکم پورا کرنے میں نعوذ باﷲ کوتاہی نہ ہو جائے۔“یہ سن کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے پیارے بیٹے کے ہاتھ اور پیر باندھ دیئے،اور اپنی آنکھوں پر بھی پٹی باندھ لی۔اور اپنے پیارے فرمانبردار بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا،اورگلے پر چھری رکھ دی۔بس چھری چلانے کی دیر تھی۔
ابراہیم کی چھری بعد میں چلے،پہلے اسماعیل کو ہٹاؤ
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کے گلے پر چھری رکھ دی تھی۔ اﷲ تعالیٰ کا فضل اور اُس کی رحمت اِن مخلص بندوں کے عمل کو دیکھ کر بہت زیادہ جوش میں آگئی۔اور اﷲ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام سے فرمایا؛”جرئیل! ابراہیم کی چھری بعد میں چلے ،اُس سے پہلے اسماعیل کو ہٹا کر اُس کی جگہ دنبہ رکھ دو۔“جبرئیل علیہ السلام دنبہ لیکر بہت تیزی سے قربانی کی جگہ پہنچے ،اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی چھری چلنے سے پہلے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ہٹا کر اُن کی جگہ دنبہ رکھ دیا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پوری طاقت سے چھری چلا دی،اور گلہ کٹ گیا۔گرم گرم خون آپ علیہ السلام کے ہاتھوں پر لگ رہا تھا۔اور دنبہ تڑپ رہا تھا،جب آپ علیہ السلام کو اطمینان ہو گیا کہ ذبح مکمل ہو گیا ہے،تو آنکھوں سے پٹی اُتاری۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنی آنکھوں سے پٹی اُتاری تو دیکھا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام سامنے کھڑے مسکرا رہے تھے۔
اے ابراہیم!تم کامیاب ہوئے(خواب سچ کر دکھایا)
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو سامنے مسکراتے ہوئے کھڑا پایا تو آپ علیہ السلام کو بڑی حیرانی ہوئی ۔اور جب قربانی کی جگہ دیکھا تو وہاں ایک دنبہ ذبح کیا ہوا پڑا دیکھ کراور زیادہ حیران ہوئے۔اور آپ علیہ السلام کو صدمہ ہوگیا کہ کہیں مجھ سے اﷲ تعالیٰ کا حکم پورا کرنے میں کتاہی تو نہیں ہوگئی ۔اُسی وقت جبرئیل علیہ السلام نے آواز لگائی ”اﷲ اکبر،اﷲ اکبر“یہ سن کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا؛”لا الہ الا اﷲ واﷲ اکبر“جب حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اپنے والدِ محترم سے یہ سنا تو فرمایا؛”اﷲاکبر واﷲ الحمد “اﷲ تعالیٰ کو یہ کلمات اتنے پسند آئے کہ اِن کلمات کو اﷲ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول صلی اﷲ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی اُمت پر عیدین کے دن پڑھنا واجب کردیا۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ الصافات میں فرمای؛ترجمہ؛”جب دونوں مطیع ہوگئے(یعنی قربانی کے لئے تیار ہوگئے)اور اُس نے(باپ نے) اُس کو (بیٹے کو)پیشانی کے بل لٹا دیا تو ہم نے آواز دی ،اے ابراہیم ! بے شک تم نے اپنے خواب کو سچا کر دکھایا۔(یعنی کامیاب ہوگئے)بے شک ہم نیکی کرنے والوں کو اِسی طرح جزا دیتے ہیں۔بے شک یہ کھلی آزمائش تھی،اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اُس کے فدیہ میں دے کر اُسے (حضرت اسماعیل علیہ السلام کو) بچا لیا۔“(الصافات آیت نمبر 103سے 107تک)اِس طرح اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعے ایک دنبہ ذبح کروایا۔اس کے بعد آپ علیہ السلام ہر سال قربانی رہے۔اور ہم ہر سال دس ذی الحجہ کو جو قربانی کرتے ہیں،یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔
دنیا کے امام
اﷲ تعالیٰ نے کئی مرتبہ حضرت ابراہیم کو آزمایا۔کبھی آگ میں ڈال کر آزمائش کی،کبھی بیوی اور بچے کو سنسان اور ویران وادی میں چھوڑدینے کا حکم دیکر آزمائش کی،اور کبھی بیٹے کی قربانی کے ذریعے آزمائش کی۔اس کے علاوہ بھی کئی اور باتوں میں آزمایا،اِس کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا؛ترجمہ؛”جب ابراہیم (علیہ السلام) کو اُن کے رب نے کئی کلمات (باتوں) سے آزمایا۔اور انہوں نے سب کو پورا کردیا تو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تمہیں لوگوں کا امام بنانے والا ہوں۔(آپ علیہ السلام نے) عرض کیا؛اور میری اولاد کو؟(اﷲ نے فرمایا)میرا وعدہ ظالموں کے متعلق نہیں ہے۔ہم نے بیت اﷲ (خانہ¿ کعبہ کو)لوگوں کے لئے ثواب اور امن و امان کی جگہ بنائی ۔تم مقام ابراہیم کو جائے نماز مقرر کر لو۔ہم نے ابراہیم(علیہ السلام)اور اسماعیل(علیہ السلام)سے وعدہ لیاکہ تم میرے کہ تم میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع ،سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک صاف رکھو۔جب ابراہیم(علیہ السلام) نے کہا؛اے میرے رب !تُو اِس جگہ کو امن والا شہر بنا،اور یہاں کے باشندوں کو جو اﷲ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں،انہیں پھلوں کا رزق دے۔اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛میں کافروں کو بھی تھوڑا(یعنی دنیا کی زندگی میں جو بہت تھوڑی ہے)فائدہ دوں گا۔پھر انہیں آگ کے عذاب کی طرف بے بس کر دوں گا۔اور یہ پہنچنے کی بُری جگہ ہے۔“(سورہ البقرہ آیت نمبر 124 سے 126تک)اﷲ تعالیٰ نے کن کلمات میں آپ علیہ السلام کو آزمایا؟اِس بارے میں تفاسیر میں کئی روایات ہیں۔یہاں تک کہ سید المفسرین حضرت عباﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے کئی روایات مروی ہیں۔جو کئی تفاسیر میں درج ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ سے ایک روایت میں ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مناسک ِ حج کا حکم دیا،جو انہوں نے پورا کیا ۔اور دوسری روایت میں ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو دس احکام دیئے،جن میں سے پانچ سر کے متعلق ہیں،اور پانچ بقیہ جسم سے متعلق ہیں۔1)مونچھیں کاٹنا،2)کُلی کرنا،3)ناک میں پانی ڈالنا،(جیسے کہ ہم وضو میںکرتے ہیں،حدیث میں اِس کو ”استفشاق“کہا گیا ہے)،4)مسواک کرنا،5)سر کے بالوں مانگ نکالنا،یہ پانچ سر کے احکام ہیں۔اور 6)ناخن کاٹنا،7)ناف کے نیچے کے بال صاف کرنا،8)ختنہ کرنا،9)بغلوں کے بال صاف کرنایا اُکھاڑنا،10)پیشاب اور پاخانہ کے بعد پانی استنجا کرنا۔
دنیا میں سب سے پہلے سفید بال
صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اﷲ کے رسول حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسی(80) سال کی عُمر میں ”قدوم“کے مقام پر اپنی ختنہ کی۔حضرت سعید بن مسیّب سے منقول ہے کہ حضرت ابراہیم خلیل اﷲ علیہ السلام وہ شخص ہیں جنہوں نے سب سے پہلے مہمان نوازی کی ،اور سب سے پہلے ختنہ کی،اور سب سے پہلے مونچھیں تراشی اور آپ علیہ السلام سب سے پہلے وہ شخص ہیںجن کے بال سفید ہوئے،اُن سے پہلے کسی کے بال سفید نہیں ہوئے تھے۔جب آپ علیہ السلام نے سفید بالوں کو سیکھا تو اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا؛”اے میرے رب !یہ کیا ہے؟“تو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”یہ وقار ہے(یعنی بزرگی ہے)“اِس پر آپ علیہ السلام نے عرض کیا؛”اے میرے رب ! میرا وقار اور بڑھا دیجیئے۔“(موطا)حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے مروی تیسری روایت میں یہ ہے کہ جن احکام کے ذریعے اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش کی۔اِن میں سے کچھ چیزیں انسانی جسم کے متعلق ہیں۔1)ناف کے نہچے کے بال صاف کرنا،اور بغل کے بال اُکھاڑنا،2)ختنہ کرانا،3)ناخن کاٹنا،4)مونچھیں تراشنا، 5)مسواک کرنا ،۶) جمعہ کے دن غسل کرنا،اور باقی چار احکام حج کے متعلق ہیں ۔1)طواف کرنا،2)صفا اور مروہ کے درمیان سعیٔ کرنا،3)جمرات(شیطان کو کنکریاں مارنا،4)طوف زیارت کرنا۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں