تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر 06
قسط نمبر 7
اونٹنی کا قتل
اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کے مطالبے پر حضر ت صالح علیہ السلام کی دعا کو قبول کرتے ہوئے پہاڑ سے عجیب الخلقت اونٹنی نکالی تھی۔ وہ اونٹنی اتنی بھاری بھرکم اور بڑی تھی کہ جس دن وہ پانی پیتی تھی تو قوم ثمود کو پانی نہیں ملتا تھا۔ لیکن حضر ت صالح علیہ السلام ان سے کہتے کہ اس کا دودھ نکال لو تو پوری قوم ثمود اپنے اپنے برتن میں دودھ نکال لیتی تھی۔ اور اتنا دودھ نکلتا تھا کہ پوری قوم ثمود دو دنوں تک استعمال کرتی تھی۔ یہ ان کا بہت بڑا فائدہ تھا لیکن ان کا نقصان یہ تھا کہ اس اونٹنی کی خوراک بہت زیادہ تھی۔ وہ اتنا زیادہ کھاتی تھی کہ قوم ثمود کو اپنے جانوروں کی خوراک میں کمی کرنی پڑتی تھی۔ اسی لئے وہ لوگ اس اونٹنی کو دل ہی دل میں نا پسند کرتے تھے۔ اور جب انہوں نے آپ علیہ السلام پر قاتلانہ حملہ کیا تو وہ اس اونٹنی سے بہت زیادہ پریشان ہو چکے تھے۔ اور اس کے قتل کا بہانہ تلاش کر رہے تھے۔ اور قاتلانہ حملہ میں ناکامی اور اپنے نو سرداروں کی ہلاکت کے بعد ان کا صبر کا باندھ ٹوٹ گیا وہ بہت زیادہ غصے میں آگئے اور ان کو پنڈتوں اور پجاریوں نے جمع کر کے اونٹنی کے قتل پر اکسانا شروع کر دیا۔ بھڑکی ہوئی قوم ثمود نے اونٹنی کو گھیر لیا اور اس پر حملے کرنے لگے۔ لیکن کسی کا حملہ کا ر گر نہیںہو رہا تھا۔ آخر کار وہی بد بخت بچہ جو اب جوان ہو چکا تھا وہ آگے بڑھا اور اونٹنی کو قتل کر دیا۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” پس انہوں نے اس اونٹنی کو قتل کر دیا۔ اور اپنے رب کے حکم سے سر کشی کی ۔ اور کہنے لگے اے صالح ( علیہ السلام ) جس کی ( عذاب کی) آپ دھمکی دے رہے ہیں تو اگر آپ سچے ہیں تو اس کو منگوائیے۔ “ ( سورہ الاعراف آیت نمبر77) اللہ تعالیٰ نے سورہ ہود میں فرمایا۔ ترجمہ ” پھر بھی ان لوگوں نے اس اونٹنی کے پاﺅں کاٹ ڈالے۔ اس پر صالح ( علیہ السلام ) نے فرمایا۔ اچھا اب تم اپنے گھر وںمیں تین دن تک رہ لو ،یہ وعدہ جھوٹا نہیںہے۔ “ ( سورہ ہود آیت نمبر65) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” پھر بھی انہوں نے اس کی کوچیں کاٹ ڈالیں بس وہ پشیمان ہو گئے۔ “ ( سورہ الشعراءآیت نمبر157) اللہ تعالیٰ نے سورہ القمر میں فرمایا۔ ترجمہ ” انہوںنے ( قوم ثمود نے) اپنے رفیق کو آواز دی۔ جس نے وار کیا اور کوچیں کاٹ دیں۔“ ( سورہ القمر آیت نمبر29) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشمس میں فرمایا۔ ترجمہ ” قوم ثمود نے اپنی سر کشی کے باعث جھٹلایا جب اُن میں کا ایک بڑا بد بخت اٹھ کھڑا ہوا ۔ انہیںاللہ کے رسول ( حضر ت صالح علیہ السلام ) نے فرما دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی اونٹنی کی اور اس کے پانی پینے کی باری کی ( حفاظت کرو) ان لوگوںنے رسول کو جھوٹا سمجھ کراس اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں۔ پس ان کے رب نے ان کے گناہوں کی وجہ سے ان پر ہلاکت ڈال دی۔ اور پھر ہلاکت کو عام کر دیا اور اس بستی کو برابر کر دیا۔ “ ( سورہ الشمس آیت نمبر11سے 14تک)
قوم ثمود نے اس بد بخت جوان کے ساتھ مل کر اونٹنی کا قتل کیا
قوم ثمود اونٹنی کو قتل کرنے کے لئے چلی تو سب سے آگے وہی بد بخت جوان تھا ۔ جس کے بارے میں حضر ت صالح علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ وہی اونٹنی کو قتل کرے گا۔ وہ بد بخت جوان آگے بڑھا اور قوم ثمود کے لوگوںکو پکارا کہا آگے بڑھو اور اونٹنی پر حملہ کرو ۔ قوم ثمود کے کافرسرداریعنی پنڈت اور پجاری وغیرہ بھی حوصلہ افزائی کر رہے تھے۔ اور پوری قوم اونٹنی کو گھیرے ہوئے تھی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں اب یہ سب لوگ جمع ہو کر اونٹنی کو ذبح کرنے کے لئے چلے ۔ اونٹنی حوض کے پاس کھڑی تھی۔ ان میں سے ایک بد بخت شخص نے ایک آدمی کو پکارا کہ آ، اور اسے ذبح کر دے۔ وہ شخص آگے بڑھا اور بہت کوشش کی کہ اونٹنی کو ذبح کر دے۔ لیکن ہر طرح کا وار کرنے کے بعد ناکام ہو گیا۔ جب اس نے دیکھا کہ یہ کام اس کی طاقت کے باہر ہے تو وہ واپس چلا گیا۔ اور اسی طرح بہت سے آدمی آگے بڑھے اور اونٹنی کو ذبح کرنے میں ناکام ہونے کے بعد واپس چلے گئے۔ اور اس بد بخت شخص سے کہا تم ہی کچھ کرو۔ وہ بد بخت بہت ہی طاقتور اور وحشی تھا۔ آخر کار وہی بد بخت آگے بڑھا اور ایک ہی وار میں اونٹنی کا قتل کر دیا۔ ( قصص الانبیاءعلامہ ابو جعفرمحمد بن جریر طبری، تاریخ امم والملوک المعروف تاریخ طبری علامہ محمد بن جریر طبری) تفسیر در منشور میں لکھا ہے کہ جب انہوں نے حضر ت صالح علیہ السلام کو قتل کرنے کے لئے تاک میں بیٹھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اوپر چٹان گرا دی اور انہیں کچل ڈالا۔ پس انہوں نے دیکھا کہ وہ سب کچلے ہوئے پڑے ہیں۔ لوگ چیختے چلاتے بستی کی طرف بھاگے کہ صالح علیہ السلام کو تمہارے بچوں کو قتل کر کے چین نہیں آیا کہ تمہارے سرداروں کو بھی قتل کر دیا۔ اس کے بعد اونٹنی کو مارنے کے لئے سب لوگ جمع ہو گئے۔ ہر کسی نے کوشش کی لیکن ہر کوئی ڈر کے مارے پیچھے ہٹ گئے مگر اس دس سالہ بچے نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ ( تفسیر درمنشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی )
اونٹنی کا قتل پوری قوم کی مرضی سے ہوا
قوم ثمود کے ساتھ اونٹنی لگ بھگ دس بارہ سال رہی۔ اور اتنے عرصے میں پوری قوم اللہ کی اس نشانی سے بیزار ہو چکی تھی کیوں کہ اسکی وجہ سے انہیں کھانے اورپانی کی بہت پریشانی ہو رہی تھی۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ جب یہ سلسلہ طویل ہو ا تو قوم کے لوگ اکٹھے ہوئے اوریہ طے پایا کہ اونٹنی کی کوچیں کاٹ ڈالی جائیں۔ تاکہ وہ چین سے رہ سکیں اور انہیں ضرورت بھر پانی میسر آسکے۔ شیطان ابلیس نے ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالا کہ بہت اچھے تم حق پر ہو۔ کچھ بھی نہیں ہوتا۔ اس فتنے سے بچاﺅ کی یہی صورت ہے۔ جس شخص نے اونٹنی کو قتل کر نے کی حامی بھری وہ ان کا سردار قدار بن سالف تھا۔ ( یہ وہی بچہ تھا جس کے بارے میں آپ علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ وہ اونٹنی کو قتل کرے گا۔ (وہ دس سال کی عمر میں بھر پور جوانوں سے بڑا دکھائی دیتا تھا)اس کا رنگ گورا اور بال سرخ تھے۔ اور مشہور تھا کہ وہ ولد الزنا ہے ۔ لیکن چونکہ سالف کے یہاں پیدا ہوا تھا اس لئے اس کا بیٹا کہلاتا تھا۔ در اصل اس کا باپ اسکی ماں کا ایک عاشق تھا۔ جس کا نام صبیان تھا۔ اونٹنی کا قتل تمام لوگوں کی متفقہ رائے سے ہوا تھا۔ اسی لئے اسے پوری قوم کی طرف منسوب کیا گیا۔ ( قصص الانبیاءعلامہ عماد الدین ابن کثیر ) تفسیر در منشور میں لکھا ہے کہ اونٹنی کو قتل کرنے والے نے کہا۔ میں اسے اس وقت تک قتل نہیں کروں گا جب تک کہ پوری قوم کی مرضی نہیں ہوگی۔ اسی لئے وہ ایک ایک فرد سے ملا۔ یہاں تک کہ پردہ دار عورتوں سے بھی پوچھا کہ کیا تم اونٹنی کے قتل پر راضی ہو؟ تو سب نے کہا ہاں ہم چاہتے ہیں کہ اونٹنی قتل ہو جائے۔ اس نے قوم کے ایک ایک بچے سے پوچھا اور ہر بچے نے رضا مندی ظاہر کی۔ تو اس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ ( تفسیر درمنشورجلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی)
اونٹنی کے قاتلوں کو دو عورتوں نے اکسایا
اللہ کی اونٹنی سے پوری قوم ثمود دشمنی کر رہی تھی۔ لیکن ان میں دو عورتیں سب سے آگے آگے تھیں۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ علامہ محمد بن جریر طبری اور دوسرے مفسرین نے لکھا ہے کہ قوم ثمود کی دو عورتوں کا اونٹنی کے قتل میں خصوصی کردار ہے۔ ان میں سے ایک کا نام ” صدوقہ“ بتایا جاتا ہے۔ جو محیا بن زبیر کی بیٹی تھی۔ یہ عورت حسب نسب میں اعلیٰ اور شیریں گفتار تھی۔ صدوقہ کی شادی ایک ایسے شخص سے ہوئی تھی جس نے بعدمیں اسلام قبول کر لیا تھا۔ اس نے اسلام قبول نہیں کیا اور کافرہ ہی تھی۔ اسی لئے دونوں میں طلاق ہو گئی۔ شوہر حضر ت صالح علیہ السلام کیوجہ سے اس سے الگ ہوا تھا۔ اس لئے وہ آپ علیہ السلا م کی سب سے بڑی مخالف تھی۔ صدوقہ نے اپنے چچا زادبھائی مصرع بن مہرج کو بلایا۔ او راس سے کہا ۔ اگر تو اونٹنی کی کونچیں کاٹ دے گا تو میں اپنے آپ کو تیرے حوالے کر دوں گی۔ دوسری عورت کا نام عنیزہ تھا۔ جو غنیم بن مجلو کی بیٹی تھی۔ اور اُم غنمہ کی کنیت سے مشہور تھی۔ یہ بوڑھی عورت تھی اور بتوں کی پجارن تھی۔ اس کا شوہر زواب بن عمرو اپنے قبیلہ کا سردار اور قوم ثمود کا سب سے بڑا مذہبی رہنما یعنی پنڈت اور پجاری تھا۔ ( آپ کو زواب بن عمرو یا د ہوگا یہ ان ہی حضرت جندع بن عمرو کا بھائی ہے جنہوں نے اونٹنی کا معجزہ دیکھ کر اپنے قبیلے اور ساتھیوں کےساتھ اسلام قبول کر لیا تھا۔ اور یہ بد بخت قوم ثمود کو بھڑکا کر اسلام قبول کرنے سے روک رہا تھا) اس بوڑھی پجارن کی چار کافر خوب صورت بیٹیاں تھیں۔ اس بوڑھی پجارن نے قدار بن سالف ( یہ وہی بد بخت ہے جس کے بارے میں آپ علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ اونٹنی کو قتل کرے گا) سے کہا کہ اگر تو اونٹنی کو قتل کر دے گا تومیری جس بیٹی پر ہاتھ رکھ دے گا وہ تیری ہو گی۔ دونوں جوانوں نے اونٹنی کو قتل کرنے کی حامی بھر لی۔
پوری قوم ثمود اونٹنی کے قتل پر راضی ہو گئی
قوم ثمود کی ان دو بد بخت عورتوں نے دو بد بخت جوانوں کو اونٹنی کے قتل کے لئے راضی کر لیا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ دونوں جوانوں نے اونٹنی کو قتل کرنے کی حامی بھر لی اور اپنی قوم کو اس کام کےلئے راضی کرنے لگے۔ اس کام میں ان دونوں نے سات اور جوانوں کو شامل کر لیا۔ اس طرح ان کی تعداد نو ہو گئی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور اس بستی میں نو شخص تھے جو فتنہ و فساد برپا کرتے تھے۔ اور اصلاح کی کوئی کوشش نہیں کرتے تھے۔ “ ( سورہ نمل ) یہ لوگ پوری قوم ثمود میں گھوم گھوم کر اونٹنی کے قتل کے بارے میں لوگوں کو راضی کرنے لگے۔ اور اس کے فوائد بتانے لگے۔ قوم کے لوگ پہلے ہی اس اونٹنی سے نالاں تھے۔ اس لئے سب نے ان کی ہاں میں ہاں ملائی اور انہیں شاباشی دینے لگے۔ اور اس کام میں ساتھ دینے کا وعدہ کیا۔ اس طرح پوری قوم ثمود نے اونٹنی کے قتل پر رضا مندی ظاہر کر دی۔ تو بدمعاشوں کا یہ گروہ گھات لگا کر اونٹنی کے انتظار میں بیٹھ گیا۔ جیسے ہی اونٹنی اپنے بچے کے ساتھ پانی پینے کے لئے آئی تو تو سب سے پہلے مصرع نے تیر مارا اور باقی ساتھیوں کو بھی تیر مارنے کو کہا۔ اور قدار انہیں تیر مارنے پر اکسا رہا تھا۔ انہوںنے اونٹنی پر تیروں کی بارش کر دی۔ لیکن اس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکل رہا تھا۔ آخر کار قدار بن سلف نے تیر اندازی بند کر نے کا اشارہ کیا اور تلوار لے کر اونٹنی پر حملہ آور ہو گیا اور اسے قتل کر دیا۔ اونٹنی کا بچہ بھاگا اور ایک پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر تین مرتبہ بلبلایا۔ ( یعنی چلّایا) (قصص الانبیاءعلامہ عماد الدین ابن کثیر)
قوم ثمود کی سر کشی اور پھر پشیمانی
اللہ کی نشانی اونٹنی کو قوم ثمود کے بد بختوں نے قتل کر دیا۔ اس قتل کے لئے بڑے بڑے کافر سردار اور مذہبی رہنما یعنی پنڈت اور پجاری عوام کے ساتھ مل کر ان جوانوں کی حوصلہ افزائی کر رہے تھے۔ ہر ایک پر جنون سوار تھا۔ مسلمانوں نے فوراً جا کر حضر ت صالح علیہ السلام کو خبر دی تو آپ علیہ السلام دوڑتے بھاگتے ہوئے اس جگہ پہنچے تو دیکھا کہ پوری قوم ثمود جمع ہے۔ اور قدار بن سلف کے ہاتھ میں خون آلود تلوار ہے۔ اور اونٹنی دم توڑ چکی ہے۔ قدار بن سلف اور پنڈتوں اور پجاریوں نے جب آپ علیہ السلام کو دیکھا تو کہا ہم نے اس اونٹنی کو قتل کر دیا ہے۔ اب تم وہ عذاب ہمارے اوپر لے آﺅ جس کی ہمیں دھمکیاں دےا کرتے تھے۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” پس انہوں نے اونٹنی کو قتل کر دیا۔ اور اپنے رب کے حکم سے سر کشی کی۔ اور کہنے لگے۔ اے صالح ( علیہ السلام ) جس کی ( عذاب کی ) آپ ہمیں دھمکی دے رہے ہیں۔ اگر سچے ہیں تو اس کو منگوائیے۔ ( سورہ الاعراف آیت نمبر77) آپ علیہ السلام نے اونٹنی کی لاش کو دیکھا اور پوری قوم ثمود کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا۔ تم لوگوں نے وہی کیا جس سے میں نے تمہیں منع کیا تھا۔ اب اللہ کا عذاب آنا تم لوگوں پر واجب ہو گیا ہے۔ یہ سن کر قوم ثمود کے تمام لوگوں کو جیسے ہوش آگیا اور انہیں تب سمجھ میں آیا کہ ہم کتنا خطرناک کام کر چکے ہیں۔ سب لوگ آپ علیہ السلام کے سامنے صفائی دینے لگے۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ” پھر بھی انہوں نے اس کی کوچیں کاٹ ڈالیں۔ بس وہ پشیمان ہو کر رہ گئے۔ “ ( سورہ الشعراءآیت نمبر157) وہ لوگ پچھتانے لگے اور آپ علیہ السلام سے عذاب سے چھٹکارے کی درخواست کرنے لگے۔
بچہ کو ڈھونڈو اگر مل گیا تو عذاب ٹل جائے گا
قوم ثمود نے اونٹنی کو قتل کر دیا۔ اور جب حضر ت صالح علیہ السلام نے فرمایا کہ اب اللہ کا عذاب آنا تم پر واجب ہو گیا ہے تو انہیں سمجھ میں آیا کہ ہم نے جوش جذبے اور نفرت سے کام لے کر اپنی ہلاکت مقدر کر لی ہے۔ تو پوری قوم آپ علیہ السلام کے سامنے گڑ گڑانے لگی۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اونٹنی کے بچہ کو ڈھونڈو اگر وہ مل جائے تو اس کی خدمت کرو۔ ہو سکتا ہے اس طرح تم پر سے اللہ کا عذاب ٹل جائے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ جب حضر ت صالح علیہ السلام بستی میں داخل ہوئے تو اونٹنی کا بچہ بھاگتا ہوا ملا۔ وہ آپ علیہ السلام کےسامنے آکر رونے لگا اور تین مرتبہ خوف سے بلبلایا۔ ( یعنی چلّایا) اسے کے بعد بھاگتا ہوا ایک پہاڑی پر چڑھ گیا۔ آپ علیہ السلام جب وہاں پہنچے جہاں اونٹنی کی لاش پڑی تھی اور پوری قوم ثمود جمع تھی جب آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اب اللہ کا عذاب تم پر واجب ہو گیا ہے تو قوم والے آپ علیہ السلام سے معذرت کرنے لگے۔ اور کہنے لگے کہ ہم نے اونٹنی کو ذبح نہیں کیا ہے بلکہ فلاں شخص نے اسے ذبح کیا ہے۔ اس کام میں ہمارا کوئی جرم نہیں ہے۔ آپ علیہ السلام سے اللہ کے عذاب کوروکنے کی دعا کرنے کی درخواست کرنے لگے۔ آ پ علیہ السلام نے فرمایا۔ اگر تم اس اونٹنی کے بچے کو ڈھونڈ کر لے آﺅ گے تو ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر سے عذاب دور کر دے ۔ اب پوری قوم اونٹنی کے بچے کو تلاش کرنے لگی۔ لیکن اونٹنی کے بچے نے جب دیکھا کہ اس کی ماں پر حملہ ہو رہا ہے تو وہ وہاں سے بھاگ کر قارہ نام کی ایک پہاڑی پر چڑھ گیا تھا۔ قوم ثمود کے لوگ اس پہاڑی پر اس بچے کو تلاش کرنے لگے۔ لیکن وہ نہیں ملا۔ اور یہ لوگ ناکام واپس آئے۔ ( قصص الانبیاءعلامہ محمد بن جریر طبری) علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ اونٹنی کا بچہ بھاگ کر ایک بلند و بالا ناقابل عبور چوٹی پر چڑھ گیا اورتین مرتبہ بلبلایا ۔ امام عبدالرزاق کی روایت میں ہے کہ اس بچے نے پہاڑ پر کھڑے ہو کر انسانوں کی سی زبان میں کہا۔ اے میرے رب، میری ماں کہاں ہے؟ پھر اسی چٹان میں داخل ہوگیا اور کسی کو نظر نہیں آیا۔ کچھ لوگ یہ بھی بیان کرتے ہیں ان بد بختوں نے بچے کو بھی قتل کر دیا تھا۔ ( قصص الانبیاءعلامہ عماد الدین ابن کثیر)
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں