حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام
سلسلہ نمبر 5
قسط نمبر 7
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش
اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا اور اپنے دودھ پیتے بچے کو پہاڑوں کے درمیان ایک سنسان وادی میں چھوڑ آؤ۔در اصل اﷲ تعالیٰ آزمائش لے رہا تھا،کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بڑھاپے میں اولاد کا سکھ نصیب ہوا تھا۔اور وہ بھی اکلوتا بیٹا تھا،لیکن آپ علیہ السلام بھی اﷲ کے خلیل تھے،اور اﷲ کے فضل و کرم سے آپ علیہ السلام اِس آزمائش پر پورے اُترے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کھانا اور پانی ساتھ لیا،اور اپنی بیوی اور بچے کو لیکر ایک اونٹ پر سوار ہوئے۔سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا بھی بہت ہی فرماں بردار،صبر داراور اﷲ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے والی خاتون تھیں۔اِس لئے خاموشی سے شوہر کے ساتھ چل پڑیں ،کافی لمبا سفر طے (فلسطین سے مکۂ مکرمہ کا فاصلہ ایک ہزار کلو میٹر سے زیادہ ہی ہو گا) کرنے کے بعد آخر کار اُس جگہ پہنچے جہاں آج خانہ¿ کعبہ ہے۔اُسوقت وہ جگہ بالکل ہی سنسان تھی،چاروں طرف پہاڑیاں تھیں ،اور اُن کے درمیان یہ سنسان علاقہ تھا۔جہاں نہ تو کوئی انسان دکھائی دیتا تھا،اور نہ ہی کوئی جانور دکھائی دیتا تھا۔نہ تو کوئی درخت،پیڑ ،پودا تھا ،اور نہ ہی گھاس تھی۔بلکہ چاروں طرف جدھر بھی نظر دوڑاو¿ ،پہاڑیاں اور ریت(جسے ہم بالو کہتے ہیں)تھی۔نہ تو کہیں سایہ تھا،اور نہ ہی کہیں سایہ دار جگہ تھی۔
اﷲ تعالیٰ ہمیں ضائع نہیں کرے گا
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اِس سنسان وادی میں لا کر سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو صفا اور مروہ پہاڑیوں کے درمیان اُس جگہ اُتار دیا جہاں آج خانہ¿ کعبہ ہے۔تب تک سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے اپنے شوہر سے کچھ نہیں پوچھا تھا۔آپ علیہ السلام نے اپنی بیوی اور بچے کے پاس کھجوروں کا ایک تھیلہ اور پانی کا ایک مشکیزہ رکھ دیا۔اور واپس اپنے اونٹ پر سوار ہو کر خاموشی سے جانے لگے،جب آپ علیہ السلام چلنے لگے تو سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے آکراونٹ کی مہار پکڑ لی،اور چلتی ہوئی کہنے لگیں؛”آپ علیہ السلام ہمیں کس کے بھروسے پر چھوڑ کر جارہے ہیں؟“لیکن آپ علیہ السلام نے کوئی جواب نہیں دیا،اور خاموشی سے آگے بڑھتے رہے۔آپ رضی اﷲ عنہا نے دوسری مرتبہ پوچھا،اور جواب نہ ملنے پر تیسری مرتبہ پوچھا؛”کیا آپ علیہ السلام ہمیں اﷲ تعالیٰ کے بھروسے پر چھوڑ کر جارہے ہیں؟“تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا؛”ہاں “اس کے بعد سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے اونٹ کی مہار چھوڑ دی،اور فرمایا؛”جب یہ اﷲ کا حکم ہے تو آپ جائیں ،اور اﷲ تعالیٰ ہمیں ضائع نہیں ہونے دے گا۔“
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا
حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی بیوی اور بچے کو اس سنسان وادی میں چھوڑ کر جانے لگے،جب آپ علیہ السلام وادی کے اوپر پہاڑی پرچڑھے تو چوٹی پر پہنچ کر رُک گئے۔اور نیچے وادی میں دیکھا تو کھلے میدان میں دھوپ میں سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہااپنے بچے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اپنے سینے سے لگائے بیٹھی ہوئی تھیں۔آپ علیہ السلام نے اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کے لئے ہاتھ اُٹھادیئے۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ ابراہیم میں فرمایا؛ترجمہ؛”(حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی،اور عرض کیا)اے ہمارے رب (پروردگار)!میں نے اپنی کچھ اولاد کو تیرے حُرمت والے گھر کے پڑوس میں ایسی سنسان وادی میں بسا دیا ہے،جس میں کوئی کھیتی باڑی نہیں ہے۔(یعنی بالکل بنجر اور ویران جگہ پر)اے ہمارے رب!یہ اِس لئے تاکہ وہ نماز قائم کریں،بس لوگوں کے دلوں کو شوق و محبت سے اُن کی طرف مائل کر دے۔اور انہیں پھلوں کا رزق عطا فرما ،تاکہ وہ تیر شکر ادا کریں (سورہ ابراہیم آیت نمبر ۷۳)حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دل بیوی اور بچے کی طرف کھنچ رہا تھا، لیکن اﷲ کے حکم کو پورا کرنا تھا۔دعا مانگنے کے بعد آپ علیہ السلام کے دل کو کچھ اطمینان ہوا،پھر آپ علیہ السلام نے آنسو بھری آنکھوں سے نیچے وادی میں اپنی اور بیوی اور بچے کو دیکھا،اور اونٹ کو فلسطین کی طرف موڑ کر واپس چلے گئے۔
کھانا پانی ختم ہو گیا
سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا اور دودھ پیتے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اِس سنسان اور ویران وادی میں چھوڑ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام فلسطین (اُس وقت کا ملک کنعان)واپس چلے گئے۔آپ رضی اﷲ عنہا ایک چھوٹا سا خیمہ لگائے ہوئے تھیں۔ایک کمبل تھا، ایک تھیلہ کھجور اور ایک مشکیزہ پانی تھا۔عرب کے صحراءمیں دن بہت زیادہ گرمی پڑتی ہے،کیونکہ سورج کی روشنی سے ریت یعنی بالو بہت زیادہ گرم ہو جاتا ہے۔اِس طرح اوپر سے سورج کی روشنی کی گرمی اور نیچے سے ریت کی گرمی دونوں ملکر بہت زیادہ گرمی پید کرتی ہیں۔اور عرب کے صحراءرات میں بے حد سرد ہوجاتے تھے ،کیونکہ رات میں خلاءکی سردی صحراءپر جب اُترتی ہے تو ریت بھی بہت زیادہ سرد ہو جاتی ہے،اور اس کی وجہ سے بہت زیادہ سردی پڑتی ہے۔ایسے بے انتہا گرم اور سرد موسم کی شدت برداشت کرتے ہوئے سیدہ ہاجرہ رضی ا ﷲعنہا دن گزار رہیں تھیں۔اور بہت احتیاط سے کھانا اور پانی استعمال کر رہی تھیں۔تاکہ زیادہ سے زیادہ دن چل جائے،اور ہو سکتا ہے کہ اِس دوران شاید کوئی قافلہ اِدھر سے گزرے اور اُس سے کچھ کھانے پینے کا سامان مل جائے۔لیکن وہ جگہ عام رستے سے ہٹ کر تھی ،اِسی لئے کوئی قافلہ اِدھر سے نہیں گزرا۔بہت احتیاط سے استعمال کرنے کے باوجود کھجوریں اور پانی ختم ہو گیا۔اب سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا بھوکی پیاسی رہنے لگیں۔
پانی کی تلاش میں ”سعیٔ
سیدہ ہاجرہ رضی عنہا کھانا اور پانی ختم ہونے کے بعد بھوکی اور پیاسی رہنے لگیں،اِسی طرح کئی دن گزر گئے،اور آپ رضی اﷲ عنہا دن بہ دن کمزور ہوتی جارہی تھیں۔جس کی وجہ سے دودھ بھی کم ہونے لگا تھا،اور حضرت اسماعیل علیہ السلام بھوک اور پیس کی وجہ سے رونے لگے۔سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا بار بار دودھ پلانے کی کوشش کرتیں ،لیکن آپ علیہ السلام روتے ہی جارہے تھے،چپ نہیں ہورہے تھے۔آخرکارسیدہ ہاجرہ بے چینی سے چاروں طرف دیکھنے لگیں،لیکن چاروں طرف اوپر کھلا آسمان تھا،جس میں سورج آگر برسا رہا تھا۔اور نیچے پہاڑوں اور ریت (بالو) تھی،جو سورج کی تپش سے بہت زیادہ گرم ہوچکی تھی۔حضرت اسماعیل علیہ السلام روتے ہی جارہے تھے،اور آپ رضی اﷲ عنہ کی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔یہ بے چینی اتنی بڑھی کہ آپ رضی اﷲ عنہا نے اپنے بچے کو زمین پر چھوڑا ،اور جلتی ہوئی ریت ننگے پاو¿ں بھاگتی ہوئی قریب کی پہاڑی پر چڑھنے لگیں۔یہ ”صفا “پہاڑی تھی،پہاڑی پر چڑھ کر انہوں نے چاروں طرف اِس اُمیدمیں دیکھا کہ شاید کوئی قافلہ جاتا ہوا دکھائی دے۔لیکن کوئی قافلہ دکھائی نہیں دیا،چاروں طرف سنسان پہاڑیاں تھیں۔اور اِس سناٹے میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کے رونے کی آواز اُن کے کانوں میںہتھوڑے کی ضرب کی طرح لگ رہی تھی۔بے چینی سے انہوں نے گھوم کر اپنے بیٹے کی طرف دیکھا،اور ممتا کی ماری تیزی بھاگتی ہوئی بیٹے کے پاس آئی اور اُٹھا لیا۔
زمزم کا چشمہ یا کنواں
سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے آکر بیٹے کو اُٹھا لیا،لیکن وہ بیٹے کو چپ نہیں کرا سکتیں تھیں۔اور وہ مسلسل روئے جارہے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہا نے روتے ہوئے بیٹے کو پھر زمین پر رکھا،اور اِس مرتبہ سامنے والی پہاڑی پر چڑھنے کے لئے بھاگیں۔یہ ”مروہ“پہاڑی تھی،ہانپتے کانپتے آپ رضی اﷲ عنہا مروہ پہاڑی پر چڑھیں،اور اِس اُمید میں چاروں طرف نظر دوڑانے لگیں کہ شاید کوئی قافلہ نظر آجائے۔لیکن کوئی قافلہ نظر نہیں آیا،بیٹے کے رونے کی آواز سن کر واپس بیٹے کے پاس آئیں۔اور پھر قافلے کی تلاش میں بھاگ کر صفا پہاڑی پر چڑھنے لگیں۔حضرت اسماعیل علیہ السلام مسلسل رو رہے تھے،اور اُن کی والدہ محترمہ بے چینی سے کبھی صفا پہاڑی پر چڑھ کر قافلے کو تلاش کرتیں،کبھی بھگ کر اُن کے پاس آجاتیں۔پھر مروہ پہاڑی پر قافلے کی تلاش میں چڑھتیں ،اور پھر بیٹے کی محبت میں بھاگ کر اُس کے پاس آجاتیں۔اِسی طرح سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے صفا اور مروہ پر سات چکر پورے کئے۔اﷲ تعالیٰ کو آپ رضی اﷲ عنہا کی یہ ”سعی ¿‘]اتنی پسند آئی کہ اﷲ تعالیٰ نے سعی ¿ کوحج کا ایک ارکان بنا دیا۔اب قیامت تک ہر حاجی سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا کی سنت کو دہراتے رہیں گے۔آخر کار اﷲ تعالیٰ کواِس ماں پر رحم آگیا،اور جبرئیل علیہ السلام کو حکم دیکر بھیجا۔جبرئیل علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے پیروں کے پاس عصا مارا تو زمین سے پانی نکلنے لگا۔تب تک سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا صفا اور مروہ پر سات چکر لگا چکی تھیں۔ساتویں چکر کے بعد جب آپ رضی اﷲ عنہا واپس بیٹے کے پاس آئیں تو دیکھا کہ اُن کے پیروں کے پاس زمین میں گڑھا بنا ہوا ہے،اور اُس میں سے پانی نکل رہا ہے۔انہیں ایسا لگا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ایڑیاں رگڑنے سے زمین میں گڑھا ہو گیا ہے۔اور اِس گڑھے سے پانی نکل رہا ہے۔سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کیا،اور روتی ہوئی اُس جگہ آئیں جہاں پانی نکل رہا تھا،اور چاروں طرف پھیلتا جارہا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہا جلدی جلدی اُس جگہ کے چاروں طرف منڈیر بنانے لگیں،اور فرمانے لگیں”زمزم“یعنی ٹھہر جا،ٹھہر جا۔تب سے اس کا نام ”زمزم“ہو گیا۔آپ رضی اﷲ عنہا نے اِس پانی کو پیا اور بیٹے کو بھی پلایا۔
زمزم کی خصوصیات
سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے زمزم کو کنویں کی شکل دے دی۔حضرت عبد اﷲ بن عباد رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”اﷲ تعالیٰ سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا کو اپنی رحمتو ں کے سائے میں رکھے،اگر وہ زمزم کے چشمے کو نہیں روکتیں،یا اُس کے حال پر چھوڑ دیتیں تو وہ ایک بہت بڑا چشمہ بن جاتا۔اب سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا کا گذارہ اِسی پانی پر ہونے لگا۔صرف یہ پانی پیتیں،اور آپ رضی اﷲ عنہا کی بھوک اور پیاس دونوں مٹ جاتیں۔یہاں ذہن میں یہ سوال پید ہوتا ہے کہ بغیر کھانے کے انسان صرف پانی پی کر کتنے دن گزارہ کر سکتا ہے،اور کیا وہ کمزور نہیں ہوگا؟اِس کا جواب آج کی سائنس دیتی ہے۔آج زمزم کے پانی کو سائنس دانوں نے بہت باریکی سے چیک کیا ہے،اور مکمل ریسرچ کرنے کے بعد بتایا کہ اِس پانی میں ہر طرح کا وٹامن موجود ہے۔اور یہ پانی قدرتی طور پر نہ صرف صاف ہے بلکہ طاقتور بھی ہے۔یہ برسوں کسی بھی چیز میں بند کر کے رکھا جائے،تب بھی خراب نہیں ہو گا۔اور اگر کوئی شخص کھانا نہیں کھائے،اور صرف زمزم پی کر رہے،تو نہ ہی اُسے بھوک لگے گی،اور نہ ہی اُسے پیاس لگے گی۔بلکہ وہ عام لوگوں کے مقابلے میں زیادہ تندرست اور طاقتور ہوتا جائے گا۔اسی لئے سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم جب تک مکۂ مکرمہ میں رہےتو زیادہ تر زمزم پر گذارہ کرتے تھے۔اور بچپن میں تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم صرف آب زمزم کا استعمال کرتے تھے۔
قبیلہ بنو جرہم کی آمد
سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کا گزارہ زمزم پر ہونے لگا۔جب پانی ملا تو سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے مٹی کی کچی اینٹوں کا ایک چھوٹا سا گھر بنا لیا۔زمزم کا چشمہ بڑھتا ہی جا رہا تھا،اور وہاں ایک نخلستان بن گیا۔انہی دنوں قبیلہ بنو جرہم پانی کی کمی کا شکار ہوئے،اور وہ پانی کی تلاش میں نکلے۔انہوں نے ایک جگہ پہاڑیوں کے درمیان وادی میں قیام کیا ،لیکن وہاں پانی نہیں تھا۔انہوں نے عام راستے سے کافی دور آسمان پر پرندوں کو اڑتے دیکھاتو آپس میں کہنے لگے کہ یہ پرندے ضرور پانی پر منڈلا رہے ہوں گے۔حالانکہ ہم بھی تو اِس وادی میں ٹھہرے ہوئے ہیں،لیکن یہاں پانی کا نام و نشان نہیں ہے۔انہوں نے چند آدمی تحقیقات کے لئے بھیجے تو انہوں نے آکر بتایا کہ وہاں پر پانی ہے۔پورا قبیلہ بنو جرہن وہاں پہنچا تو دیکھا کہ ایک عورت اپنے دودھ پیتے بچے کو لیکر بیٹھی ہے۔انہوں نے اُس سے پانی مانگا تو اُس عورت نے اُنہیں پانی دیا۔انہوں نے دیکھا کہ وہ عورت پانی نکال نکال کر دیتی جارہی ہے،اور پانی کم ہونے کے بجائے اُتنا کہ اُتنا ہی ہے۔یہ دیکھ کر انہوں نے اُس عورت یعنی سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا سے وہاں رہنے کی اجازت مانگی۔آپ رضی اﷲ عنہا نے اِس شرط پر انہیں رہنے کی اجازت دی کہ پانی پر میرا قبضہ رہے گا،اور میں خود ضرورت کے مطابق پانی تقسیم کروں گی۔زمزم کے کنویں کے قریب ہی خانۂ کعبہ کی جگہ ایک ٹیلے کی شکل میں موجود تھی۔سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے زمزم کے کنویں کے پاس اپنا مکان بنا لیا،اور کنواں آنگن میں کر لیا۔اور قبیلہ بنو جرہم کے لوگوں نے خانہ¿ کعبہ کے ٹیلے کے اطراف میں دور دور تک وادی میں اپنے مکانات بنا لئے۔اِس طرح مکۂ مکرمہ آباد ہو گیا۔
سب سے فصیح وبلیغ عربی
زمزم کے چشمہ کی وجہ سے قبیلہ بنو جرہم نے وہیں رہائش اختیار کر لی۔حضرت اسماعیل علیہ السلام جب چلنے پھرنے لگے تو قبیلہ بنو جرہم کے بچوں کے ساتھ تیر اندازی اور گھڑ سواری کرنے لگے۔اور آپ علیہ السلام اتنی صاف اور فصیح و بلیغ عربی بولتے کہ بنو جرہم کے لوگ حیران ہو جاتے تھے۔دراصل سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا عبرانی زبان بولتی تھیں،اور قبیلہ بنو جرہم عربی زبان بولتے تھے۔شروع میں کچھ دنوں تک آپ رضی ا عنہا کو پریشانی ہوئی ،پھر بعد میں آپ رضی اﷲ عنہا نے عربی زبان سیکھ لی، لیکن اُتنی صاف عربی نہیں بول پاتی تھیں۔جبکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام انہیں کے درمیان بڑے ہوئے،اور بچپن سے عربی زبان سیکھ لی۔اکثر روایات میں آیا ہے کہ سب سے پہلے جس شخص نے فصیح و بلیغ عربی میں بات کی،وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام ہیں۔اِس طرح دھیرے دھیرے وقت گزرتا رہا،اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عُمر لگ بھگ تیرہ(13) سال ہو گئی۔اِس درمیان میں وقتاً فوقتاًحضرت ابراہیم علیہ السلام مکہ¿ مکرمہ آتے رہتے تھے۔اور جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کو دیکھتے تو خوشی سے سینہ پھول جاتا تھا۔اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے ایسے قد کاٹھی سے نوازا تھا کہ آپ علیہ السلام نو عمری میں ہی نوجوانوں کی طرح دکھائی دیتے تھے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......



کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں