حضرت ہود علیہ السلام
سلسلہ نمبر05
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 8
طاقتور قو م عاد طوفانی آندھی کے سامنے تنکا تھی
سورہ القمر کی آیت 18سے20تک کی تفسیر میں تفسیر در منشور میں لکھا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ قوم عاد کے لوگ پتھر کے دروازے بناتے تھے۔ اگر عاد میں سے کوئی آدمی آج ہوتا اور اپنے استعمال کے لئے دروازے کے دو پٹ پتھر کے بناتا تو اس امت کے پانچ سو لوگ مل کر بھی اس دروازے کے پٹ کو اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتے۔ اور قوم عاد کا کوئی آدمی اگر زمین پر اپنا پاﺅں مارتا تھا تو وہ زمین میں گڑ جاتا تھا۔ جب ہواآئی عاد اس کی طرف اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے آپس میں ایک دوسرے کے ہاتھ پکڑ لئے اور اپنے پاﺅں زمین میں گاڑ لئے اور کہنے لگے۔ کون ہے جو ہمارے پاﺅں زمین سے اکھاڑ ے اگر وہ سچا ہے ۔تو،اللہ تعالیٰ نے اُن پر اتنی شدید تیز ہوا بھیجی جو لوگوں کو (تنکوں کی طرح ) اکھاڑ پھینکنے لگی۔ گویا وہ کھڑی ہوئی کھجور کے تنے ہیں۔ (تفسیر در منشور جلد نمبر6امام جلال الدین سیوطی) سورہ الحاقہ کی آیت نمبر6اور 7کی تفسیر میں تفسیر درمنشور میں لکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اُن پر ( قوم عاد پر ) سخت سرد اور بے حد تیز و تند آندھی بھیجی یہاں تک کہ ان کے دل پھٹ گئے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ہر قسم کی ہوا کو ایک مخصوص پیمانے پر بھیجتا ہے۔ اور ہر بارش کا ہر قطرہ ایک مخصوص پیمانے پر بھیجتا ہے۔ مگر حضرت نوح علیہ السلام کی قوم اور حضرت ہود علیہ السلام کی قوم پر ان دونوں چیزوں کو ( بہت زیادہ پیمانے پر کہ وہ پیمانہ انسانوں کی حد سے بہت زیادہ تھا)بغیر کسی پیمانے اور حد کے بھیجا۔ (جس کی وجہ سے دونوں اقوام ہلاک ہو گئیں) اسی تفسیر میں آگے لکھا ہے۔ کہ جب بھی ہوا چلتی ہے تو جو فرشتے اس پر مقرر ہوتے ہیں وہ اس کی مقدار ، اس کا عدد اور اس کے وزن سے واقف ہوتے ہیں۔ مگر وہ ہوا جو قوم عاد پر بھیجی گئی تھی وہ اتنی تیزی سے نکلی کہ فرشتوں کے قابو سے باہر ہو گئی۔ اور اس کا سبب یہ تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا غضب تھا۔ اسی لئے اس کا نام ”عاتیہ “ رکھا گیا۔ اور پانی کی بھی یہی کیفیت تھی جب اسے قوم نوح کی تباہی کا حکم دیا گیا تھا۔ اسی لئے اس کا نام ” طاغیہ“ رکھا۔ قوم عاد مسلسل سات رات اور آٹھ دن اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوا کے عذاب میں زندہ رہے۔ اور جب آٹھویں دن کی شام ہوئی تو وہ مر گئے۔ پھر ہوا نے انہیں اٹھایا اور سمندر میں پھینک دیا ۔ (تفسیر در منشور جلد نمبر6امام جلال الدین سیوطی ) یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں اتنے شدید عذاب میں مبتلا کیا کہ آٹھ دن اور سات راتیں انہیں شدید عذاب میں مبتلا رکھا اور آٹھویں دن انہیں موت دی۔
عذاب کے دوران قوم عاد کی حالت
سورہ القمر کی آیت نمبر18سے 20تک تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے ۔ اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ قوم عاد نے بھی اللہ کے رسولوں کو جھوٹا کہا۔ اور بالکل قوم نوح کی طرح سر کشی پر اتر آئے تو ان پر سخت ٹھنڈی مہلک ہوا بھیجی گئی۔ وہ دن ان کے لئے منحوس تھا۔ برابر اُن پر ہوائیں چلتی رہیں اور انہیں تہہ وبالا کر تی رہیں۔ دنیا وی اور آخرت دونوں عذاب میں گرفتار کر لئے گئے۔ ہوا کا ( بے انتہا تیزی ) جھونکا آتا اور ان میں سے کسی کو اٹھا کر لے جاتا۔ یہاں تک کہ وہ زمین والوں کی نظروں سے اوجھل ہو جاتا ۔ پھر اسے وہ جھونکا زمین پر اوندھے منہ پھینک دیتا۔ اس کا سر کچل جاتا ۔ بھیجا نکل پڑتا ۔ سرد ھڑ سے الگ ہو جاتا اور دھڑ زمین پر پڑا ہوا ایسا لگتا تھا۔ جیسے کھجور کے بغیر پتوںکے ٹنڈے تنے پڑے ہیں۔ ( تفسیر ابن کثیر پارہ نمبر27 علامہ عماد الدین ابن کثیر) سورہ الحاقہ کی آیت نمبر6اور 7کی تفسیر میں لکھا ہے کہ قوم عاد کی ٹھنڈی ہواﺅں کے تیز جھونکوں سے جنہوں نے ان کے دل چھید کر رکھ دیئے تہس نہس کر دیا گیا۔ اور قوم عاد بے حد تیز و تند ہوا سے ہلاک کر دیئے گئے۔ یہ آندھیاں جو خیر و برکت سے خالی تھیں اور فرشتوں کے قابو سے نکلی جا رہی تھیں ۔ مسلسل ، برابر ، پے در پے ، لگاتا ر سات راتو ں اور آٹھ دنوں تک ان کے اوپر چلتی رہی۔ وہ دن قوم عاد کے لئے بربادی اور نحوست والے تھے۔ حضرت ربیع فرماتے ہیں یہ جمعہ کے دن شروع ہوئی اور بعض علمائے کرام فرماتے ہیں بدھ کے دن سے شروع ہوئیں۔ ان ہواﺅں کو عرب لوگ اعجاز اس لئے کہتے ہیں کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے ان عادیوںکی حالتیں اعجاز یعنی کھوکھلے کھجوروںکے تنوں جیسی بیان فرمائی ہے۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ عام طور سے یہ ہوائیں سردیوں کے آخر میں چلا کر تی ہیں۔ اور عجز کہتے ہیں آخر کو۔ اور یہ وجہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ قوم عاد کی ایک بوڑھی عورت ایک غار میں گھس گئی تھی۔ جو ان ہواﺅں سے آٹھویں دن وہیں پر ہلاک ہو گئی۔ اور بوڑھی عورت کو عربی میں عجوز کہتے ہیں۔ واللہ اعلم ۔ خاویہ کے معنی ہیں خراب، سڑا ، گلا ، کھوکھلا، مطلب یہ ہے کہ ان ہواﺅں نے انہیں اٹھا اٹھا کر الٹا پٹک دیا۔ جس سے ان کے سر پھٹ گئے۔اُن کا سر چورا چور اہو گیا۔ اور باقی جسم ایسا رہ گیا جیسے کھجور کے درخت کا سر اپتوں والا کاٹ کر صرف تنا رہنے دیا گیا ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ میری مدد بادِ صبا یعنی پُرویا ( مشرقی ہوا) سے کی گئی ہے۔ اور قوم عاد دبور سے یعنی مغربی ہوا سے ہلاک کئے گئے ہیں۔ ( تفسیر ابن کثیر پارہ نمبر29علامہ عماد الدین ابن کثیر)
وہ ہوائیں جڑوں سے اکھاڑ دیتی تھیں
اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر جن ہواﺅں کا عذاب تھا وہ ہوائیں مضبوط سے مضبوط درخت کو جڑوں سے اکھاڑ کر اپنے لپیٹے میں لے کر اوپر بہت اوپر اٹھا تی تھی پھر زمین پر تیزی سے پٹک دیتی تھی۔ تفسیر قرطبی میں لکھا ہے کہ وہ ہوا انہیں ان کی جگہوں سے اٹھالیتی تھی۔ ایک روایت میں ہے کہ ہوا نے انہیں ان کے قدموں کے نیچے سے اس طرح اٹھا لیا جس طرح کھجور کو اس کی جڑ سے اکھاڑ دیا جاتا ہے۔ حضرت مجاہد ( جلیل القدر تابعی اور مفسر) فرماتے ہیں۔ وہ ہوا انہیں زمین سے اٹھاتی اور سر کے بل اس طرح گراتی کہ ان کی گردنیں پس جاتیں اور انکے سر ان کے جسموں سے الگ ہو جاتے ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ وہ ہوا ان لوگوں کو ان کے گھروں سے نکال کر اٹھاتی اور پٹک دیتی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ انہوں نے گڑھے کھودے اور اس میں داخل ہو گئے وہ ہوا انہیں وہاں سے نکال کر اٹھاتی اور ریزہ ریزہ کر دیتی تو وہ گڑھے یوں رہ جاتے تھے ۔وہ کھجور کے کھوکھلے تنے ہوں ۔ا یک اور روایت میں ہے کہ ان میں سے سات افراد نے گھڑے کھودے اور انمیں کھڑے ہو گئے تا کہ ہوا کا مقابلہ کر سکیں۔ محمد بن اسحاق کی روایت میں ہے کہ جب ہوا شدت اختیار کر نے لگی تو سات افراد اپنے گھر والوں اور خاندان والوں کو لے کر دو پہاڑوں کے درمیان کی گھاٹی میں پہنچے اور اپنے بیوی بچوں اور خاندان والوں کو دونوں پہاڑوں کی درمیانی گھاٹی میں داخل کر کے گھاٹی کے کنارے پر ہوا کے سامنے صف بنا کر ساتوں افراد کھڑے ہو گئے۔ یہ ساتوں افراد قوم عاد میں سب سے زیادہ لمبے اور چوڑے اور طاقتور اور جسیم تھے۔ یہ ساتوں افراد اپنے پیروں کو زمین میں گاڑ کر ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اس تیز و تند ہوا کے سامنے تن کر کھڑے ہو گئے۔ تیز آندھی نے ایک ایک کر کے ان ساتوں کو اڑانا اور پٹکنا شروع کیا اور ان ساتوں کے بعد ان کے گھروالوں او رخاندان والوں کو ہلاک کر دیا۔ تفسیر طبری میں ہے کہ وہ ہوا ان لوگوںکو اوپراٹھاتی اور انہیں یوں چھوڑتی تھی جیسے وہ کھجور کے ایسے تنے ہوں جنہیں ان کی جڑوں سے اکھاڑ دیا گیا ہو۔ ( تفسیر الجامع الحکام القران المعروف تفسیر قرطبی امام محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی)
قوم عاد کی ہلاکت
قوم عاد کے بارے میں تفسیر نعیمی میں لکھا ہے کہ تفسیر خازن ، تفسیر روح البیان ، تفسیر روح المعانی اور تفسیر مدارک میں قوم عاد کی ہلاکت کا بہت تفصیلی واقعہ بیان کیا گیا ہے۔جس کا ہم اجمالی ذکر پیش کر تے ہیں۔ قوم عاد مقام احقاف میں آباد تھی۔ یہ علاقہ یمن کا ایک بڑا وسیع حصہ تھا۔ اور عمان سے لے کر حضر موت تک پھیلا ہوا تھا۔ اسے رمل، عالج یعنی ریگ رواں اور دہقان بھی کہتے تھے۔ یہ لوگ بڑے شہ زور ، مالدار ، بڑے سر کش اور ظالم تھے۔ جب اُن کی سر کشی حد سے بڑھ گئی اور ان کے نبی حضرت ہود علیہ السلام ان سے تنگ آگئے تو آپ علیہ السلام نے عذاب کی دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر بارش بند کر دی۔ جب بارش کو بند ہوئے تین سال گزر گئے اور یہ لوگ قحط اور گرمی سے بہت تنگ آگئے تو انہوں نے اپنی قوم میں سے ستر 70آدمی مکہ مکرمہ دعا مانگنے کے لئے روانہ کئے۔ اور اس وفد کا سردار دو شخصوں قیل بن عنز اور حضرت مرثد بن سعد کو بنایا۔ اس زمانہ میں ہر قوم کے لوگ مصیبت میں مکہ مکرمہ دعا کے لئے جاتے تھے۔ وہاں قوم عمالقہ آباد تھی ۔ ان کا سردار معاویہ بن بکر تھا۔ اس کی ماں قوم عاد سے تھی۔ اس لئے اس نے قوم عاد کے وفد کا بہت اکرام کیا۔ وہ وفد عیش و عشرت میں مشغول ہو گیا اور اپنے مقصد کو بھول گیا۔ معاوی بن بکر نے لونڈیوں کے ذریعے ان مقصد کو یاد دلایا تو وفد کے لوگ دعا کے لئے جانے لگے تو ان کے ایک سردار حضرت مرثد بن سعد جو خفیہ طور پر حضرت ہود علیہ السلام پر ایمان لا چکے تھے۔ انہوں نے اپنے ایمان کو ظاہر کیا اور کہا۔ تمہاری دعا اس وقت تک قبول نہیں ہو گی جب تک کہ تم اللہ پر اور حضرت ہود علیہ السلام پر ایمان نہیں لاﺅ گے۔ تو دوسرا سردار قیل بن عنز انہیں چھوڑ کر باقی وفد کے لوگوں کو لے کر دعا کرنے چلا گیا۔ وہ دعا مانگتاتھا اور باقی لوگ آمین کہتے تھے۔ اچانک آسمان پر سفید، سرخ اور سیاہ( کالا) بادل ظاہر ہوئے اور آواز آئی اپنی قوم کے لئے کسی ایک بادل کا انتخاب کر لو ۔ قیل بن عنز نے کہا میں اپنی قوم کے لئے سیاہ یعنی کالا بادل اختیار کر تا ہوں۔ کیونکہ اس میں پانی زیادہ ہوتا ہے۔ جب وہ وفد احقاف پہنچا تو ان کا مانگا ہوا سیاہ بادل احقاف پر چھا گیا۔ وہ لوگ خوش ہو کر بولے یہ بادل ہم پر خوب برسے گا۔ مگر وہ تو اللہ تعالیٰ کا عذاب اور آندھی تھی۔ آخر کار شوال کی بائیس22تاریخ بدھ کی صبح کے وقت آندھی شروع ہوئی اور سات رات اور آٹھ دن تک اُن پر مسلط رہی۔ ( تفسیر صاوی) ساری قوم عاد کے کافر مردوں اور عورتوں ، بچوں اور بوڑھوں اور جوانوں اور ان کے مویشیوں کو اس طرح ہلاک کر ڈالا کہ ہو ا اُن کو آسمان کی فضا ءمیں اوپر تک اٹھاتی تھی اور وہاں سے تیزی سے نیچے گراتی تھی۔ یہ لوگ اپنے گھروں میں گھس گئے اور دروازے بند کر لئے ۔ مگر اللہ کے عذاب سے کون پناہ دے سکتا ہے۔ ہوا نے ان کے دروازے توڑ دیئے اور دیواریں اکھیڑ دیں۔ اور انہیں ہلاک کر ڈالا۔ پھر غیب سے پرندے ظاہر ہوئے انھوں نے لاشوں کو سمندر میں پھینک دیا۔ تما م احقاف کی زمین لاشوں سے پٹی پڑی تھی۔ ( تفسیر نعیمی پارہ نمبر 8مفتی احمد یا ر خان نعیمی)
قوم عاد کا انجام
حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کے لئے بد دعا کی کہ اے اللہ ، تو ان پر اپنا عذاب بھیج دے۔ اس دعا کے بعد عاد پر خوشگوار ہو ا چلائی گئی۔ اور بادلوں کو وادی میں بھیج دیا گیا۔ عادیہ دیکھ کر خوش ہونے لگے کہ یہ بادل ہم پر پانی برسائیں گے۔ لیکن جب بادل ان کے قریب گئے تو انہوں نے دیکھا کہ ہوا اونٹوں اور انسانو ں کو لے کر زمین اور آسمان کے درمیان چکر لگا رہی تھی۔ یہ دیکھتے ہی قوم عاد کے لوگ جلدی جلدی اپنے گھروں میں گھس گئے۔ لیکن آندھی نے ان کووہاں بھی ہلاک کر دیا اور گھروں سے باہر نکال پھینکا یہ عذاب ان پر سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل مسلط رہا۔ اور قوم عاد کے لوگ جو لمبے قد والے اور انتہائی طاقتور تھے ہوا نے انہیں ہلاک کر کے کھوکھلے تنے کے مانند گرادیا۔ جب پوری قوم عاد کو ہلاک کر دیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے سیاہ رنگ کا پرندہ بھیجا ۔ جس نے لاشوں کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دیا۔ اور بستی کو لاشوں سے خالی کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کو قرآن پاک میں اس طرح بیان فرمایا ہے۔ ترجمہ ” (تم وہاں ہوتے تو) دیکھتے کہ وہ وہاں اس طرح بکھرے پڑے تھے جیسے کھجور کے بوسیدہ تنے ہون۔ “ ( سورہ الحاقہ آیت نمبر7) ترجمہ ” ہم نے دائمی نحوست کے دنوں میں سخت طوفانی ہوا اُن پر بھیج دی جو لوگوں کو اٹھا اٹھا کر پھینک رہی تھی۔ جیسے وہ جڑ سے اکھڑے ہوئے کھجور کے تنے ہوں۔ “ ( سورہ القمر آیت نمبر19اور 20) ترجمہ ” اور عاد ایک بڑی شدید طوفانی آندھی سے تباہ کر دیئے گئے۔ “ (سورہ الحاقہ آیت نمبر6) عبدا لصمد کہتے ہیںکہ جب عاد پر ہوا کا عذاب مسلط کیا گیا تو یہ اتنی شدید تھی کہ اس نے بڑے قد آور درختوں کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا اور ان کے گھروں کو تباہ و برباد کر دیا۔ اور کسی چیز کو باقی نہیں چھوڑا اور تمام چیزوں کو تباہ کر دیا۔ ( تاریخ اُمم والملوک المعروف تاریخ طبری علامہ محمد بن جریر طبری)
قوم عاد کو دنیا کے لئے عبرت بنا دیا
اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر جب اپنا عذاب بھیجا تو وہ انہیں بادلوں کی شکل میں نظر آیا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں جب قوم عاد نے دیکھا کہ گھٹا فضا میں پیدا ہو رہی ہے تو وہ اسے رحمت کا بادل سمجھ بیٹھے کہ بس اب کچھ ہی دیر میں بارش ہوگی۔ لیکن سحاب رحمت نہیں تھا بلکہ اللہ کا عذاب تھا جو بادل کی صورت میں ان کی وادیوں کی طرف بڑھتا چلا آرہا تھا۔ جسے وہ رحمت سمجھ رہے تھے وہ انہیں ہلاک کرنے آرہا تھا۔ جب وہ خوشیاں منا رہے تھے تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ یہ رحمت کا بادل نہیں بلکہ اللہ کا سخت عذاب ہے۔ اس عذاب سے مراد وہ تیز و تند، مہلک ٹھنڈی ہوا مُراد تھی جو سات راتیں اور آٹھ دن تک مسلسل چلتی رہی۔ اور جس نے قوم عاد کے ایک شخص کو بھی زندہ نہیں چھوڑا بلکہ جب ان لوگوں نے پہاڑوں کے غاروںمیںپناہ لی اور ٹھنڈک و برودت سے بچنے کی کوشش کی تو یہ ہوا وہاں بھی پہنچ گئی۔ اور انہیں غاروں سے نکلنے پر مجبور کر دیا۔ اور پھر انہیں فضا میں اچھا ل کر زمین پر یوں پٹکا کہ وہ نیست و نابود ہو گئے۔ جو اپنے گھروں میں چھپ گئے تھے انہیں وہیں ہلاک کر کے اوپر سے بلند و بالا محلات کو مٹی کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔ اور انہیں آنے والی قوموں کے لئے سامانِ عبرت بنا دیا۔ وہ لوگ جو کل تک ” ان ولا غیری“ کا نعرہ لگاتے تھے اور ببانگ دہل کہا کرتے تھے کہ ہم سے بڑھ کر بھی کوئی قوم طاقت و قوت کی مالک ہو گی۔ آج اللہ تعالیٰ نے ان پر ایسی ہوا مسلط کر دی تھی جو واقعی ان سے کہیں زیادہ طاقتور اور شدید تھی۔ اور اس ہوا میں ہلاکت ہی ہلاکت تھی۔ اور کچھ بھی بھلائی نہیں تھی۔ ( قصص الانبیاءعماد الدین ابن کثیر) اس طرح اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو دنیا کے لئے عبرت بنا دیا۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں