حضرت ہود علیہ السلام
سلسلہ نمبر05
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 7
حضرت ہود علیہ السلام نے بتایا یہ اللہ کا عذاب ہے
جب اللہ تعالیٰ کا عذاب کالے گھنے بادل کی شکل میں قوم عاد کی وادیوں کے آسمان کے کنارے پر نمودار ہوا تو قوم عاد کے لوگ اسے دیکھ کر خوشی سے ناچنے لگے اور کہنے لگے کہ یہ وہ کالا گھنا بادل ہے جو ہم پر بارش برسائے گا۔ اس وقت حضرت ہود علیہ السلام اپنے قوم میں تشریف فرما تھے۔ آپ علیہ السلام نے قوم عاد کو بتایا کہ یہ برسنے والا بادل نہیں ہے بلکہ یہ تو وہ عذاب ہے جس کے لئے تم جلدی مچا رہے تھے۔ لیکن قوم عاد نے آپ علیہ السلام کی طرف توجہ نہیں کی۔ اور بدستور ناچتے گاتے خوشیاں مناتے رہے۔ یہ دیکھ کر آپ علیہ السلام مسلمانوں کو لے کر وہاں سے دور چلے گئے۔ پس وہ ہوا آئی اور خیموں اور محلو ں کو اکھاڑ نے لگی۔ اور چھپے ہوئے لوگوں کو بھی نکال کر ہلاک کر دیا۔ ( مصنف امام بن ابی شیبہ، تفسیر طبری علامہ محمد بن جریر طبری، تفسیر در منشور جلد نمبر6امام جلال الدین سیوطی) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمای۔ قوم عاد پر میری مہر کی انگوٹھی کے برابر اللہ تعالیٰ نے ہوا بھیجی تھی۔ تو وہ بِدوﺅں ( جو لوگ کسی بھی جگہ خیمے گاڑ کر رہنے لگتے ہیں) کو شہریوں کی طرف اٹھا لائی۔ پس جب شہریوں نے ( آسمان کے کنارے پر اس تیز آندھی کو بادل کی صورت میں ) دیکھا تو کہا ۔ یہ وہ بادل ہے جو ہم پر برسنے والا ہے۔ وہاں بایہ نشین ( خیمے والے) بھی تھے۔ تو اس ہوا نے اہل بادیہ کو شہریوں پر پھینک دیا۔ یہاں تک ہو وہ ہلاک ہو گئے اور وہ آندھی اُن کے تہ خانوں پر بھی چلی اور انکے دروازوں کے درمیان سے نکل گئی۔ ( المعجم طبرانی امام طبرانی ، مجمع الزوائد کتاب التفسیر ، تفسیر در منشور جلد نمبر6امام جلال الدین سیوطی المستدرک امام حاکم)
قوم عاد پر عذاب کا بادل
اللہ تعالیٰ کا عذاب کالے گھنے بادل کی شکل میں دھیرے دھیرے قوم عاد کی طرف آرہا تھا۔ تفسیر معارف القران میں ہے کہ عذاب کا سامان اس طرح شروع ہوا کہ پہلے ایک بادل اٹھا تو ان لوگوں نے جب اس بادل کو اپنی وادی کی طرف آتا دیکھا تو کہنے لگے یہ تو بادل ہے جو ہم پر برسے گا۔ ارشاد ہو اکہ نہیں یہ برسنے والا بادل نہیں ہے۔ بلکہ یہ وہی عذاب ہے جس کی تم جلدی مچاتے تھے۔ کہ وہ عذاب جلدی لاﺅ۔ اور اس بادل میں ایک آندھی ہے جس میں دردناک عذاب ہے۔ وہ آندھی ہر چیز کو جس کو ہلاک کرنے کا حکم ہو گا اسے اپنے کے حکم سے ہلاک کر دے گی۔ چنانچہ وہ آندھی جھپٹی اور آدمیوں اورمویشیوں کو اٹھا اٹھا کر پٹک دیتی تھی۔ جس سے وہ ایسے تباہ وہ ہلاک ہو گئے کہ سوائے ان کے مکانوں کے کھنڈرات کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ ( تفسیر معارف القران جلد نمبر7مولانا مفتی محمد شفیع) تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ جب عذاب آیا تو انہوں نے (قوم عاد نے ) دیکھا کہ ایک کالا گھنا بادل ان کی طرف بڑھتا چلا آرہا ہے۔ چو نکہ خشک سالی ( قحط) تھی گرمی سخت تھی۔ بادل دیکھ کر یہ خوشیاں منانے لگے کہ اچھا ہوا بادل چڑھا ہے اور اس کا رخ ہماری طرف ہے۔ اب بارش برسے گی۔ لیکن در اصل وہ بادل کی صور ت میں اللہ کا قہر تھا۔ جس کے آنے کی وہ جلدی مچا رہے تھے۔ اس میں وہ عذاب تھا جسے وہ حضرت ہود علیہ السلام سے طلب کر رہے تھے۔ وہ عذاب ان کی بستیوں کی تمام ان چیزوں کو جن کی تباہی و بربادی ہونے والی تھی تہس نہس کرتا ہوا آیا اور اسی کا حکم اسے ملا تھا۔ ( تفسیر ابن کثیر پارہ نمبر26علامہ عماد الدین ابن کثیر) تفسیر مظہری میں ہے کہ وہ عذاب بادل کی شکل میں تھا۔ اور آسمان کے عرض سے نمودار ہوا اور انکی وادیوں کی طرف بڑھنے لگا۔ دو سال سے ان کے یہاں بارش نہیں ہو رہی تھی۔ ( اور یہ تیسرا سال تھا) بادل کو دیکھ کر وہ بڑے خوش ہوئے اور کہنے لگے یہ بادل ہے جو ہم پر بارش برسائے گا ۔اللہ تعالیٰ نے یا حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا۔ یہ بارش برسانے والا باد ل نہیں ہے۔ بلکہ جس عذاب کی تم جلد ی کر رہے تھے یہ وہ عذاب ہے یہ تیز و تند ہوا ہے جو ان میں سے جس پر گزرے گی اسے ہلاک اور تباہ و برباد کر کے رکھ دے گی۔ شدید آندھی آئی جس نے خیموں اور مویشیوں اور سواروںکو اٹھا لیا۔ یوں دکھائی دیتا تھا کہ یہ سب چیزیں ٹڈی دل ہیں۔ سب سے پہلے ان لوگوں نے اس عذاب کو پہچانا جنہوں نے یہ دیکھا کہ ان کے وہ اموال جو شہر سے باہر تھے ہوا انہیں زمین و آسمان کے درمیان اڑا رہی تھی۔ وہ لوگ واپس پلٹ آئے اور اپنے محلات کے دروازوں کو بند کر لیا۔ سخت آندھی آئی اور اس نے ان کے دروازوں کو توڑ دیا۔ اور انہیں اٹھا کر زمین پر پٹخ دیا۔ ( تفسیر مظہری جلد نمبر8قاضی ثناءاللہ پانی پتی) تفسیر قرطبی میں ہے کہ جب انہوں نے بادل کو دیکھا تو ایسا خیال کیا یہ ان پر پانی برسائے گا۔ بارش ہوئے کافی عرصہ ہو چکا تھا۔ جب انہوں نے بادل کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو وہ بہت خوش ہوئے کیوں کہ وہ بادل اس طرف سے آرہا تھا۔ جس طرف سے عام طور پر بارش برسانے والے آتے تھے۔ وہ ہوا جس کے ساتھ انھےں عذاب دیا گےا تھا وہ اسی بادل سے پید ا ہوئی تھی ۔ جس کو انہوں نے دیکھا تھا۔ حضرت ہود علیہ السلام ان کے درمیان سے نکل گئے ۔ وہ ہوا خیموں ، اونٹوں ، گھوڑوں اور میویشیوں اور انسانوں کو اس طرح اٹھاتی تھی اور بلند کر تی تھی جیسے وہ مکڑیاں ہوں۔ پھر انہیں چٹانوں پر زور سے پٹخ دیتی تھی۔ ( تفسیر الجامع الحکام القران المعروف تفسیر قرطبی امام محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی)
ایک بوڑھی نے اللہ کے عذاب کو دیکھا
اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر انتہائی تیز و تند اور شدید ہوا یعنی آندھی کا عذاب بھیجا۔ وہ آندھی جب آسمان کے کنارے سے نمودار ہوئی تو قوم عاد نے اسے دیکھا تو انہیں آسمان کے کنارے سے انہیں ایک کالا گھنا بادل دکھائی دیا۔ لیکن یہ بادل نہیں تھا۔ بلکہ انتہائی تیز آندھی تھی جو اپنے ساتھ گرد وغبار اور نہ جانے کیا کیا لے کر آرہی تھی۔ اور چونکہ بہت دور تھی اسی لئے قوم عاد کو بادل کی شکل میں دکھائی دے رہی تھی۔ وہ لوگ اسے بارش والا بادل سمجھ بیٹھے اور خوشیاں منانے لگے۔ اور اپنے بتوں کی پوجا کرکے دعا کرنے لگے کہ یہ بادل ہماری طرف ہی آئے۔ افسوس وہ کم عقل یہ نہیں جانتے تھے کہ وہ خود اپنی تباہی کو بلا رہے ہیں۔ وہ بادل دھیرے دھیرے قوم عاد کے قریب آتا جا رہا تھا۔ اور قوم عاد خوش ہو کردیکھ رہے تھے۔ اور ناچ گا رہے تھے۔ ایک بوڑھی عورت نے جو بہت دیرسے اس پر نگاہیں جمائے ہوئی تھی۔ جسے وہ لوگ بادل سمجھ رہے تھے۔ اس نے اس میں کچھ دیکھا اور دہشت سے گر کر بے ہوش ہو گئی۔ قوم عاد کے لوگوں نے بوڑھی کو دیکھا تو ہوش میں لائے اور بے ہوشی کی وجہ پوچھی۔ تو اس نے بتایا کہ یہ بادل نہیں ہے۔ بلکہ یہ بہت تیز آندھی ہے۔ جس میں آگ ہی آگ ہے۔ اور کچھ لوگ ( فرشتے) اسے لے کر آرہے ہیں۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ سب سے پہلے جس نے اس عذاب کو دیکھا اور بادل کی بجائے ( آندھی) کا جھکڑ یقین کیا ۔ وہ ایک عورت تھی۔ اس عورت کا تعلق قوم عاد سے تھا اور اس کا نام ” مہد “ بتایاجاتا ہے۔ جب اسے پتہ چلا کہ یہ عذاب الہٰی ہے رحمت کا بادل نہیں ہے۔ تو اس کی چیخ نکل گئی اور وہ بے ہوش ہو کر گر گئی۔ جب ہوش میں آئی تو لوگوں نے پوچھا ۔ اے مہد کیا ہوا؟ وہ بولی ۔ میں نے ایک ہوا دیکھی ہے جس میں آگ ہی آگ ہے۔ اور کچھ لوگ اسے لے کر ہماری طرف آرہے ہیں۔ ( قصص الانبیاءعلامہ عماد الدین ابن کثیر) علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ سب سے پہلے اس ہوا کے عذاب کو ”مپدر “ نام کی عورت نے دیکھا۔ جس کا تعلق قوم عاد سے تھا۔ جب اس پر ظاہر ہو گیا کہ بادل میں کیا ہے تو اس نے زور دار چیخ ماری اور بے ہوش ہو گئی۔ جب ہوش میں آئی تو لوگوں کے دریافت کر نے پر بتایا کہ بادل کے اندر آگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور اس کے آگے آگے چند آدمی اس کا ہنکار ہے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے مسلسل آٹھ دن اور سات راتیں ان پر یہ آندھی مسلط کی۔ جس سے پوری قوم ہلاک کر دی گئی ۔( تاریخ اُمم والملوک المعروف تاریخ طبری علامہ محمد بن جریر طبری)
قوم عاد اللہ کے عذاب کی لپیٹ میں
اللہ تعالیٰ کا عذاب جو قوم عاد کو بادل کی شکل میں دکھائی دے رہا تھا دھیرے دھیرے قریب آتا جا رہا تھا۔ اس بوڑھی عورت نے انہیں ہوشیار کرنے کی کوشش کی لیکن قوم عاد کی عقل پر پردے پڑ گئے تھے۔ ان بد بختوں نے ا س بوڑھی عورت کا مذاق اُڑایا۔ کہ بڑھاپے میں سٹھیا گئی ہے۔ اور خوشیاں منانے لگے۔ جیسے جیسے وہ چیز جسے وہ بادل سمجھ رہے تھے قریب آتی جا رہی تھی۔ویسے ویسے ہوا ٹھنڈی اور تیز ہوتی جا رہی تھی۔ پہلے تو قوم عاد کو ٹھنڈک اور فرحت کا احساس ہوا۔ لیکن دھیرے دھیرے ہو اکی تیزی اور ٹھنڈک بڑھتی جا رہی تھی۔ اور جب بادل جیسی شئے ان کے اوپر آئی تو اس وقت تک یہ عالم ہو چکا تھا کہ ہوا کی تیزی اور ٹھنڈک ناقابل برداشت ہو چکی تھی۔ اور لوگ خوشیاں منانے کے بجائے اپنی جان بچانے کے لئے اپنے اپنے گھر وں میں گھس گئے تھے۔ جو لوگ باہر رہ گئے تھے ۔ تیز اور ٹھنڈی ہوا انہیں لپیٹے میں لے کر اٹھا اٹھا کر پٹک رہی تھی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود حضرت عبداللہ بن بن عباس رضی اللہ عنہم اور کئی تابعین فرماتے ہیں۔ کہ ہوا شدید تیز و تند ہونے کے ساتھ ساتھ سخت ٹھنڈی بھی تھی۔ ( قصص الانبیاءعلامہ عماد الدین ابن کثیر) حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ قوم عاد پر اللہ تعالیٰ نے جو ہوا بھیجی جس سے وہ لوگ ہلاک ہوئے وہ صرف انگوٹھی کے حلقے کے برابر کھولی گئی تھی۔ یہ ہوا جب دیہات کے لوگوں پر سے گزری تو انسانوں کو ، اُن کے جانوروں کو اور مال و متاع کو زمین و آسمان کے درمیان اٹھا لیا۔ جب شہر کے لوگوں نے جن کا تعلق قوم عاد سے تھا ہوا اور اس کے اندر جو کچھ تھا دور سے دیکھا تو کہنے لگے یہ بادل ہے۔ یہ ہم پر بارش برسائے گا ۔ تو اللہ تعالیٰ نے ہوا کو حکم دیا تو اس نے دیہاتیوں اور ان کے مویشیوں کو شہر کے لوگوں پر دے مارا۔ ( تفسیر الجامع الحکام القرآن المعروف تفسیر قرطبی جلد نمبر8امام محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی، تفسیر در منشور جلد نمبر 6امام جلا ل الدین سیوطی، قصص الانبیاءعماد الدین ابن کثیر)
قوم عاد کی تیز و تند اور سخت ٹھنڈی ہوا سے ہلاکت
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” پس ہم نے بھیج دی اُں پر سخت ٹھنڈی اور تیز و تند ہوا منحوس دنوں میں ” (سورہ حم السجدہ آیت نمبر16) اللہ تعالیٰ نے ایک اور جگہ فرمایا۔ ترجمہ ۔ ”ہم نے ان پر تیز و تند اور سخت ٹھنڈی ہو ا بھیجی دائمی نحوست کے دن ۔“ ( سورہ القمر آیت نمبر19) مولانا مودودی لکھتے ہیں طوفانی ہوا کے لئے ” ریح صر صر“ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ اس کے معنی میں اہل لغت کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد سخت لوہے۔ بعض کہتے ہیںکہ اس سے مراد سخت ٹھنڈی ہوا ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد ایسی ہوا ہے جس کے چلنے سے سخت شور برپا ہوتا ہے۔ بہر حال تمام لوگوں کا اس معنی پر اتفاق ہے کہ یہ لفظ بہت تیز طوفانی ہوا کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ( تفہیم القران سورہ حم السجدہ آیت نمبر16مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی)حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔باد صبا کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے اور قوم عاد باد ِ سموم سے ہلاک کی گئی ہے۔ ( صحیح بخاری، صحیح مسلم)
مسلسل آٹھ دن اور سات رات تک چلنے والی آندھی
قوم عاد پر جب وہ بادل نما شئے آئی تو اس میں بہت تیز آندھی تھی۔ یہ سخت اور تیز اور ٹھنڈی آندھی قوم عاد کی بستیوں پر مسلسل آٹھ دن اور سات راتیں چلتی رہی۔ آندھی اتنی تیز ہو گئی تھی کہ قوم عاد کے اونچے اونچے محل کی مضبوط چھتیں اڑتی جا رہی تھیں۔ اور جس کے محل کی چھت اڑ تی وہ اس کے گھر والے اور خاندان والے اور جو لوگ محل میں چھپے ہوتے تھے وہ سب سخت تیزا ور ٹھنڈی آندھی کی زد (لپیٹے ) میں آجاتے۔ اور آندھی انہیں اوپر تک اٹھا کر لے جاتی اور نیچے لا کر پٹک دیتی تھی۔ اور ان کے چھیتڑے اڑ جاتے تھے۔ باقی دوسرے لوگ اپنے اپنے محلوں میں سے اس خوفناک منظر کو دیکھتے رہتے تھے۔ پھر ان کی بھی باری آتی تھی۔اس طرح جب تک قوم عاد کے تمام لوگ ختم نہیں ہو گئے توتب تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ مسلسل آٹھ دن اور سات راتو ں تک چلنے کے بعد جب آندھی تھمی۔ اور سورج نکلاتو قوم عاد کی تمام بستیاں تباہ ہو چکی تھیں ان کے محل ٹوٹ پھوٹ کر کھنڈر ہو چکے تھے۔ ( دیواریں تک ریزہ ریزہ ہو چکی تھیں ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور عاد بے حد تیز و تند ہوا سے ہلاک کر دیئے گئے۔ جسے ان پر برابر لگا تار یعنی مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک مسلط رکھا۔ پس تم دیکھتے کہ یہ لوگ اس طرح زمین پر گرے پڑے تھے جیسے کہ کھجور کے کھوکھلے تنے ہوں۔ ُُ (سورہ الحاقہ آیت نمبر ,6اور نمبر7) اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ایک جگہ فرمایا۔ ترجمہ ” قوم عاد نے بھی (ا پنے رسول کو ) جھٹلایا ۔ پس ( دیکھو ) کیسا ہے۔ ہمار ا عذاب اور ڈرانے والی باتیں۔ ہم نے ان پر تیز وتند ( طوفانی ) مسلسل چلنے والی ہوا۔ ایک دائمی منحوس دن میں بھیج دی۔ جو لوگوں کو اٹھا اٹھا کر پٹخ دیتی تھی۔ ( اس کے بعد) ایسا لگتا تھا جیسے کہ وہ جڑ کٹے ہوئے تنے کھجور کے تنے پڑے ہوئے ہیں۔ ( سورہ القمر آیت نمبر18سے 20تک) تفسیر بصیرت القران میں لکھا ہے کہ قوم عاد جن کو اپنی طاقت اور مال و دولت پر بڑا ناز تھا ۔ ان کو شدید طوفانی آندھیوں سے تباہ کیا گیا۔ ان پر مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک اس طرح طوفان مسلط کیا گیا کہ وہ طوفانی ہوائیں ان کواس طرح اٹھا اٹھا کر پٹک رہی تھیں کہ ان کے جسم کھجور کے کھوکھلے تنوں کی طرح ہر طرف بکھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اور آج ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں بچا ہے۔ ( تفسیر بصیرت القران جلد نمبر 6مولانا محمد آصف قاسمی)
٭ قوم عاد اپنے زمانے میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ قوم تھی
اللہ تعلایٰ نے سورہ القمر کی آیت نمبر 18سے20تک میں جو فرمایا اس کی تفسیر میں تفسیر بصیرت القران میں لکھا ہے۔ قوم عاد جنہوں نے سینکڑوں سال تک حکومت کی تھی اور ہر طرح کی دنیاوی ترقیات میں وہ سب سے آگے تھے۔ ( یعنی اس زمانے کی سوپر پاور تھے) وہ اپنی طاقت وقوت کے سامنے کسی قوم اور کسی ملک کو کوئی حیثیت نہیں دیتے تھے۔ جب یہ لوگ کفر و شرک اور ظلم و زیادتی کی انتہاپر پہنچ گئے تو اللہ تعالیٰ نے اس قوم کی اصلاح کے لئے حضرت ہود علیہ السلام کو بھیجا۔ انہوں نے دن رات سمجھانے کی کوشش کی اور ان کو کفر و شرک اور اللہ کی مخلوق پر ظلم و ستم کرنے سے روکا تو پوری قوم ان کی دشمن بن گئی۔ اور انہوں نے حضرت ہود علیہ السلام کی بات ماننے سے صاف انکار کر دیا۔ اور ان کی ہر بات کا مذاق اڑایا۔ جب اس قوم نے کفر و شرک کا راستہ چھوڑنے سے انکار کر دیا تو اللہ کا فیصلہ آگیا۔ اس قوم کی تباہی کا آغاز ایک ایسی تیز و تند آندھی سے ہوا جس سے لوگوں کا زمین پر کھڑا رہنا مشکل ہو گیا۔ آندھی میں تیزی ہوتی گئی اور کوئی دیوار سے ٹکرا کر کوئی درخت سے اور کوئی پتھر ( چٹان ) سے ٹکر کر مرگیا۔ اور کسی پر اس کی چھت آگری وہ لمبے تڑنگے اور بے حد طاقتور تھے۔ مگر تیز ہوا ان کو اس طرح اٹھا اٹھا کر پھینک رہی تھی جیسے وہ کھجور کے اکھڑے ہوئے تنے ہوں۔ اس طرح وہ تمام عرصہ اور مدت جب عذاب نازل ہو رہا تھا ہمیشہ کے لئے نحوست بھرا یاد گار دن بن گیا۔ ( تفسیر بصیرت القران جلد نمبر5مولانا محمد آصف قاسمی)
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں