حضرت صالح علیہ السلام
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر 06
قسط نمبر 6
تم اس اونٹنی کو قتل کر دو گے
اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کی فرمائش پر انہیں ویسی ہی عجیب الخلقت اونٹنی عطا فرمائی جیسی انہوں نے مانگی تھی۔ لیکن ان بد بختوں نے اتنا صاف معجزہ ، اتنی صاف نشانی اور اتنی صاف دلیل دیکھنے کے باوجود اسلام قبول نہیں کیا ۔اوراللہ پراور آپ علیہ السلام پر ایمان لانے سے انکار کر دیا۔ اس کے باجود ان پر اللہ تعالیٰ کی یہ مہربانی رہی کہ اللہ تعالیٰ ان بد بختوں کو اس اونٹنی کے ذریعے اتنا دودھ عطا فرما دیتے تھے کہ پوری قوم ثمود کے لئے کافی ہوتا تھا۔ اس طرح اس نافرمان، سرکش اور وعدہ خلاف قوم کا اتنا بڑا فائدہ یہ ہوا کہ انہیں دودھ جیسی نعمت عطا فرما دی گئی۔ لیکن اس بد بخت قوم نے اس کی قدر نہیں کی۔ اور ان کے پنڈت ، پروہت، اور پجاریوں نے انہیں بھڑکانا شروع کر دیا۔ کہ یہ تمہاری فصل اور پھل فروٹ اور میوے اور جانوروںکا چارہ کھا جاتی ہے۔ اور ایک دن تم پانی سے محروم رہ جاتے ہو۔ دھیرے دھیرے قوم ثمود کے اندر اس اونٹنی سے نفرت پیدا ہونے لگی۔ جو مسلسل بڑھتی جا رہی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی۔ کہ عنقریب تمہاری قوم اس اونٹنی کو قتل کر دے گی۔ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو جمع کیا اور فرمایا۔ عنقریب تم اس اونٹنی کو قتل کر دو گے۔ انہوںنے جلدی سے کہا۔ نہیں با لکل نہیں ہم اسے قتل نہیں کریں گے۔ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تم میں ایک لڑکا پیدا ہو گا جو اس اونٹنی کو قتل کر دے گا۔ ( تاریخ امم والملوک المعروف تاریخ طبری علامہ محمد بن جریر طبری)
اللہ کی اونٹنی قوم ثمود کی آزمائش تھی
اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کی عجیب و غریب فرمائش کو پورا کر دیا۔ اور پہاڑ میں سے اونٹنی پید ا فرمائی۔ در اصل یہ قوم ثمود کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش تھی۔ اس امتحان میں حضرت جندع بن عمرواور ان کے خاندان والے یا ان کے ساتھ جو جماعت تھی انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور کامیاب ہو گئے۔ اور باقی قوم ثمود ناکام ہو گئی۔ تاریخ ابن خلدون کے حاشیہ میں لکھا ہے ۔ قوم ثمود نے حضرت صالح علیہ السلام سے کہا۔ اگر تم اللہ کے بر حق رسول ہو تو کوئی معجزہ دکھلاﺅ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تم کیا چاہتے ہو ؟ قوم ثمود نے کہا۔ اس پہاڑ سے ایک اونٹنی پیدا ہو اور اس کے ساتھ اس کا بچہ بھی ہو جس کے بال سرخ ہوں تا کہ ہم اس کا دودھ استعمال کر سکیں۔ آپ علیہ السلام نے دعا کی اسی وقت پہاڑ سے آواز آئی اس کے بعد ایک پتھر کا ٹکڑا درمیان سے شق ہو گیا اور اونٹنی نکل آئی۔ بد نصیب تباہ ہونے والی قوم نے بے تعمل کہنا شروع کر دیا کہ پتھر سے اونٹنی پیدا ہونا بالکل عقل کے خلاف ہے۔ صالح ( علیہ السلام ) رسول نہیں ہیں۔ بلکہ ( نعوذ باللہ) بہت بڑے ساحر ہیں۔ کفار آپس میں باتیں کر ہی رہے تھے کہ اونٹنی دومرتبہ بولی اور بچہ کے ساتھ چرنے لگی۔ قوم ثمود کے کافر سردار یہ دیکھ کر بولے کہ صالح ( علیہ السلام) کا اس سے زیادہ جادو اور کیا ہو سکتا ہے کہ اونٹنی کو پہاڑ سے پیدا کیا اور پھر اس کا بچہ بھی چرنے لگا۔ انہوں نے ہمارے اوپر جادو کر دیا ہے۔ ان لوگوں میں یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ اونٹنی اپنے بچے کے ساتھ اس کنویں پر آئی جس سے پوری قوم ثمود پانی لیتی تھی۔ اور اس کا سارا پانی پی گئی۔ اس دن تو یہ خاموش رہے۔ دوسرے روز آپ علیہ السلام سے شکایت کی۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ایک دن اس کنویں سے تم لوگ پانی پیﺅ گے اور دوسرے دن یہ اونٹنی پیئے گی۔ لیکن دیکھو بھول کر بھی اس اونٹنی کو مارنے کا خیال اپنے دل میں نہیں لانا۔ کیوں کہ جب تک یہ اونٹنی زندہ رہے گی تب تک تم اللہ کے عذاب سے محفوظ رہو گے۔ ( تاریخ ابن خلدون جلد نمبر1علامہ عبدالرحمن بن خلدون حاشیہ حکیم حسین احمد الہ آبادی) علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ یہ اونٹنی قوم ثمود کے لئے ایک امتحان تھی۔ یعنی آزمائش تھی۔ یہ دیکھنا مقصود تھا کہ کون اس معجزہ کی حقانیت پر ایمان لاتا ہے اور کون انکار کی روش اختیار کرتا ہے۔ جب ان لوگوںنے اس اونٹنی کو دیکھا تو انہیں اونٹنی کی صورت میں ایک عظیم معاملہ ، حیران کن منظر، قدرت ظاہرہ، دلیل قاطعہ اور برہان ِ ساطعہ نظر آیا۔ یہ دیکھ کر ان میں سے کئی تو ایمان لے آئے اور اسلام قبول کر لیا۔ ان میںحضرت جندع بن عمرو تھے۔ اور لوگ زواب بن عمرو اور حباب جو پجاری اور پنڈت تھے اور صمعر بن جلمس جو پروہت تھا ۔ ان کے بہکاوے میں آکر باقی لوگ کفر پر ڈٹے رہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” کہ انہوں نے اس پر زیادتی کی اور معجزہ دیکھ لینے کے باوجود بھی حق کو قبو ل نہیں کیا۔ “ (قصص الانبیاءعلامہ عماد الدین ابن کثیر)
حضرت جندع بن عمرو نے اپنے چچا زاد بھائی کو اسلام کی دعوت دی
اونٹنی کا معجزہ دیکھنے کے بعد جن لوگوں نے اسلام قبول کیا ان کے سردار حضرت جندع بن عمر و تھے۔ قوم ثمود کے باقی سب لوگوں نے بھی اسلام قبول کر نے کی طرف رغبت ظاہر کی اور قریب تھا کہ پوری قوم ثمود اسلام قبول کر لیتی لیکن حضرت جندع بن عمرو کا سگا بھائی زواب بن عمرو قوم ثمود کا سب سے بڑے مندر کا پجاری تھا۔ اور سب سے بڑا مذہبی رہنما یعنی پروہت اور پنڈت تھا۔ اس کےساتھ ایک اور پجاری حباب تھا اور ایک کاہن یعنی پروہت صمعر بن جلمس تھا۔ ان تینوں کا قوم ثمود پر بہت اثر تھا۔ جب کہ حضرت جندع بن عمرو قوم ثمود کے حکمراں تھے۔ ان تینوں پنڈتوں ، پجاریوں نے جب دیکھا کہ قوم ثمود اونٹنی کے معجزہ سے بر ی طرح متاثر ہو گئی ہے انہوں نے بھڑکانا شروع کیا۔ اور اپنی لچھے دار باتوں سے انہیں اسلام قبول کرنے سے روک دیا۔ اور قوم ثمود کی اکثریت کافر ہی رہی۔ اس طرح ایک بھائی حضرت جندع بن عمرو اسلام کے سب سے بڑے علمبردار بنے۔ اور دوسرا بھائی کفر کا سب سے بڑا علمبردار بنا۔ حضرت جندع بن عمرو نے اپنے چچا زاد بھائی شہاب بن خلیفہ کو بلایااور وہ بھی سردار تھا۔ انہوں نے اسے اسلام کی حقانیت سمجھائی اور دعوت دی کہ اسلام قبول کر لو۔ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کر لو گے۔ لیکن ان کا کافر بھائی اپنے ساتھیوں کے ساتھ مسلسل اس کے کان بھرتا رہا۔ آخر وہ ان باتوں میں آگیا اور کفر پر ہی ڈٹا رہا۔ اس کے بارے میں ایک مسلمان مہرش بن غنمہ نے یہ کہا۔ آلِ عمرو کے ایک گروہ نے شہاب بن خلیفہ کو نبی علیہ السلام کے دین کی طرف بلایا۔ جو پوری قوم ثمود کا سردار ہے۔ اور اس نے دین ( اسلام ) کو قبول کرنے کا ارادہ کیا اور اگروہ مان جاتا تو حضرت صالح علیہ السلام ہم پر غلبہ پا لیتے اورلوگ اپنے کافرسردار زواب کی وجہ سے منہ نہیں موڑتے۔ لیکن آلِ حجر کے سرکشوں نے ہدایت کے بعدپیٹھ پھیر لی اور بدقسمت بن گئے۔ ( قصص الانبیاءعلامہ عماد الدین ابن کثیر)
اونٹنی کو قتل کرنے والا پیدا ہو گا
اللہ کی اونٹنی قوم ثمود کے درمیان رہ رہی تھی۔ اور وہ لوگ اس سے فائدہ بھی اٹھا رہے تھے۔ لیکن قوم کے کافر سرداروں یعنی پنڈتوں ، پجاریوں وغیرہ کو اس بات کا ڈر تھا کہ کہیں قوم ثمود حضرت صالح علیہ السلام اور اونٹنی سے متاثر نہ ہو جائے۔ اسی لئے وہ لگاتار عوام کو اونٹنی کے خلاف بھڑکاتے رہتے تھے۔ اس طرح کافی وقت گزر گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کیطرف وحی فرمائی کہ تمہاری قوم اونٹنی کو ذبح کر دے گی۔ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا۔ تم لوگ اونٹنی کو ذبح کرنے کا ارادہ رکھتے ہو۔ تو قوم کے لوگوں نے انکار کیا اور کہا کہ ہم ہرگز یہ کام نہیںکریں گے۔ لیکن آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تم میں ایک بچہ پیدا ہوگا۔ جو اس اونٹنی کو ذبح کردے گا۔ پوری قوم کے لوگوں نے بیک آواز کہا۔ آپ علیہ السلام ہمیں بچے کی علامت بتائیں ہم اسے قتل کر دیں گے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اس بچہ کا رنگ سرخ ، زردی و سفیدی مائل ہوگا۔ اور کچھ نیلا ہوگا اور کچھ سرخ ہوگا۔ ( تاریخ امم والملوک المعروف تاریخ طبری علامہ محمد بن جریر طبری) ایک اور روایت میںہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اس کا رنگ سرخ ہوگا اور آنکھیں بلی کی طرح ہوں گی۔ ( حاشیہ تاریخ ابن خلدون ) تفسیر در منشور میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح علیہ السلام کیطرف وحی فرمائی کہ عنقریب تمہاری قوم اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالے گی۔ جب آپ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا تو انہوں نے کہا۔ ہم اس طرح بالکل نہیں کریں گے۔ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ عنقریب ایک بچہ پیدا ہوگا جو اس کی کونچیں کاٹ ڈالے گا۔ انہوں نے کہا۔ اس پیدا ہونے والے بچہ کی علامت کیا ہے؟ اللہ کی قسم ،جوں ہی ہم اسے پائیں گے تو قتل کر ڈالیں گے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ وہ بچہ اشقر یعنی زرد سرخ رنگ والا، ازرق یعنی نیلا، اصہب یعنی سرخی ملا سفید رنگ اوراحمر یعنی سرخ رنگ والا ہے۔ ( تفسیر درمنشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی)
اونٹنی کے قاتل کی پیدائش
حضرت صالح علیہ السلام نے قوم ثمود کو بتا دیا تھا کہ فلاں مہینے میں یہ لڑکا پیدا ہوگا۔ قوم ثمود کے دو بڑے سرداروں کی ایک مجلس میں یا پھر کسی میلے میں یا پھر کسی مندر میںملاقات ہوئی۔ ایک بہو کی تلاش میں تھا اور دوسرا داماد کی تلاش میں تھا۔ ان دونوں نے ایک دوسرے کو اپنی اپنی پریشانی بتائی۔ اور ایک دوسرے کے سمدھی بن گئے۔ یعنی دونوںاپنی اولاد کی شادی کرنا چاہتے تھے۔ دونوںنے پوچھا کہ تم نے اپنی اولادکی شادی کیوں نہیں کی تو دونوںکا ایک ہی جواب تھا کہ مناسب رشتہ نہیں مل رہا ہے۔ بس دونوںنے اپنی اولاد کی شادی کر دی۔ اور ان دونوں کے یہاں وہ لڑکا پیدا ہوا۔ جس کے بارے میں حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ وہ اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالے گا۔ ( تاریخ امم والملوک المعروف تاریخ طبری علامہ محمد بن جریر طبری ، تفسیر در منشور جلد نمبر3)
قاتل بچے کی تلاش
حضرت صالح علیہ السلام سے قوم ثمود کے لوگوں نے اونٹنی کے قاتل بچے کے بارے میں پوچھا کہ اس کے ساتھ کیا کریں۔ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ کہ اسے تلاش کر کے قتل کر دو۔ اور بتایا کہ فلاں مہینے میں یہ بچہ پیدا ہوگا۔ قوم ثمود کے حکمراں نے اپنے سپاہیوںکے ساتھ آٹھ خرانٹ عورتوںکو اس قاتل بچے کی تلاش میں بھیجا۔ وہ ہر جگہ جاتیں جہاں بچے کی پیدائش ہوتی تھی۔ اگر لڑکی ہوتی توچھو ڑ دیتیں۔ جس مہینے کی آپ علیہ السلام نے نشاندہی کی تھی اس مہینے میں قوم ثمود کے نوسرداروں کے یہاں لڑکے پیداہوئے۔ جن میں سے آٹھ کو قتل کر دیا گیا۔ نویں بچے کے پاس جب سپاہی اور عورتیں پہنچیں تو صاف صاف نشانیوں سے پہچان لیا۔ اور شور مچانے لگیں کہ یہی وہ بچہ ہے۔ جس کے بارے میں صالح ( علیہ السلام ) نے خبر دی ہے۔ جب سپاہیوں نے اس بچے کو لے جانا چاہا تو اسکا دادا جو قوم ثمود کا ایک بڑا سردار تھا وہ درمیان میں آگیا۔ اور بچے کو لے جانے نہیں دیا۔ یہ بچہ تمام بچوںمیںسب سے زیادہ شرارتی تھا۔ اس بچے کی افزائش اتنی تیز تھی کہ جتناکوئی بچہ ایک ہفتہ میں بڑھتاتھا یہ صرف ایک دن میں بڑھ جاتا تھا۔ اور ایک ہفتے میں اتنا بڑا ہوتا تھا جتنا دوسرے بچے ایک مہینے میں بڑھتے تھے۔ اور ایک مہینے میں اتنا بڑا ہوتا تھا جتنا دوسرے بچے ایک سال میں بڑے ہوتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ بہت بے رحم اور وحشی بھی تھا۔ ( تاریخ امم والملوک المعروف تاریخ طبری علامہ محمد بن جریر طبری)
حضرت صالح علیہ السلام پر قاتلانہ حملہ کا منصوبہ
حضر ت صالح علیہ السلام دن میں اپنی قوم والوں کو اسلام کی دعوت دیتے تھے اور رات کو اپنی مسجد میں چلے جاتے تھے جو بستی سے ذرا دور ایک پہاڑی کے دامن میں تھی۔ ابن جریح کی روایت میں ہے کہ جب حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم میں ایک بچہ پیدا ہوگا جو اس اونٹنی کو ذبح کر دے گا تو پوری قوم نے پوچھا کہ آپ ہمیں اس لڑکے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میں تمہیں قتل کا حکم دیتا ہوں۔ اب قوم ثمود کو جس بچے پر بھی شبہ ہوتا تو وہ اسے قتل کر دیتے تھے۔ لیکن وہ اس بچے کو قتل نہیں کر سکے جس کو قتل کرنے کا آپ علیہ السلام نے حکم دیا تھا۔ اور صرف اسی بچے کو چھوڑ دیا۔ پھر جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں ۔یہ بچہ بہت جلد جوان ہو گیا۔ جب قوم ثمود نے اس بچے کی جوانی دیکھی تو آپس میں کہنے لگے کہ اگر صالح ( علیہ السلام ) ہمیں بچوں کے قتل کا حکم نہیں دیتے توہمارے بھی تمام بچے اس بچے کیطرح جوان ہو چکے ہوتے۔ ان میں وہ آٹھ سردار بھی تھے جن کے بچے قتل کئے جا چکے تھے۔ ان لوگوں نے ایک منصوبہ طے کیا کہ ہم میں سے چند لوگ سفر کے بہانے علانیہ بستی سے باہر نکلیں گے۔ اور رات کو دوبارہ بستی میں داخل ہوکرصالح( علیہ السلام) کو قتل کر دیں گے۔ اور لوگ ہمارے بارے میں گمان یہ کر یں گے کہ ہم تو سفر میں ہیں اور ہم پر شک نہیں کیا جائے گا۔
اللہ نے کافروں کی چال انہیں کو لوٹا دی
حضر ت صالح علیہ السلام کے قتل کا منصوبہ قوم ثمود کے کافروں نے بنایا ۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ النمل میں فرمایا ۔ ترجمہ ” اس بستی میں نو سردار تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے رہتے تھے۔ اور اصلاح نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے آپس میںبڑی قسمیں کھا کھا کر عہد کیا کہ رات ہی کو صالح ( علیہ السلام) اور اس کے گھر والوں پر ہم چھاپہ ماریں گے۔ اور اس کے وارثوں سے صاف کہہ دیں گے کہ ہم ا س کی ہلاکت کے وقت موجود نہیں تھے۔ اور ہم بالکل سچے ہیں۔ انہوں نے مکر ( خفیہ تدبیر) کیا۔ اور ہم نے بھی خفیہ تدبیر کی۔ اور وہ اسے سمجھتے ہی نہیں تھے۔ ( سورہ النمل آیت نمبر49اور 50) اُن آٹھ سرداروں جن کے بچوں کا قتل ہو چکا تھا انہوں نے اپنے ساتھ ایک اور سردار کو لیا۔ ان میں پنڈت اور پجاری زیادہ تھے۔ یہ نو سردار اپنے منصوبے کے مطابق حضر ت صالح علیہ السلام کی مسجد کے قریب چھپ گئے۔ آپ علیہ السلام کی مسجد پہاڑی کے دامن میں تھی۔ اور جہاں یہ لوگ چھپے ہوئے تھے وہاں ڈھلان پر ان سے کچھ دور پر ایک بہت بڑا گول پتھر یا چٹان پڑی ہوئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا اور وہ چٹان لڑھک کر ان نو سرداروں کے اوپر آگئی۔ اور یہ سب اس کے نیچے دب کر ہلاک ہو گئے۔ صبح ہوتے ہی بستی کے لوگ اس امید میں آئے کہ آپ علیہ السلام ( نعوذ باللہ) قتل ہو چکے ہوں گے۔ لیکن وہاں انہوںنے ان نو سرداروں کو کچلا ہوا پڑے دیکھا تو شور مچانے لگے کہ صالح ( علیہ السلام ) کو ہمارے بچوں کو قتل کر اکے بھی صبر نہیں آیا اور ہمارے نو سرداروں کو بھی قتل کر دیا۔ یہ خبر پوری قوم ثمود میں پھیل گئی اور وہ سب مشتعل ہو گئے۔ کیوں کہ ان کے مذہبی رہنماﺅں یعنی پنڈتوں اور پجاریوں کا قتل ہو اتھا۔ سب لوگ اونٹنی کو قتل کرنے کے ارادے سے اس کے پاس جمع ہو گئے۔ ( قصص الانبیاءعلامہ محمد بن جریر طبری تفسیر در منشور جلد نمبر5امام جلال الدین سیوطی، تفسیر انوارالبیان مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی) کچھ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اونٹنی کو قتل کرنے کے بعد حضر ت صالح علیہ السلام کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں