جمعرات، 6 اپریل، 2023

حضرت نوح علیہ السلام 6 Story of Nooh AS



حضرت نوح علیہ السلام 

تحریر:شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر4

قسط نمبر 6

کشتی کہاں بنائی 

تفسیر نعیمی میں ہے کہ کشتی بنانے کے دوران جب کبھی حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے مغرور رئیس لوگ وہاں سے گزرتے تو ان سے کشتی کے بارے میں سوال کرتے یا اس طرح کہ انھوں نے کشتی کبھی دیکھی نہیں تھی۔ اور ساحل سمندر بہت دور تھے۔ اور دریا تو اس طرف تھے ہی ہیں ۔ کیوں کہ قوم نوح کا علاقہ موصل ، بابل اور مضافات تھے۔ اس کی مشرقی جانب پانچ سو 500میل کے فاصلے پر دریائے دجلہ اور مغربی جانب سات سو 700یا ایک ہزار 1000میل کے فاصلے پر دریائے فرات ہے۔ کوہ ِ جودی ، موصل سے دو سو200میل کے فاصلے پر ہے اور اس کی بلندی سطح سمندر سے تیرہ ہزار 13000فٹ ہے۔ جب کافر یہ لکڑی کا ڈھانچہ دیکھتے تو ہنس کرپوچھتے۔ اے نوح( علیہ السلام ) یہ کیا بنا رہے ہو؟آپ علیہ السلام فرماتے ۔ یہ گھر ہے جو پانی پر چلے گا ۔ تو کہتے ۔ پانی کہاں ہے؟ یا پھر یہ کہ انہوں نے کشتیاں تو دیکھی تھیں مگر اس شکل کی بھی کشتی تھی۔ لہٰذا حیرانی سے اس کے بارے میں پوچھتے اور جب آپ علیہ السلام بتاتے کہ یہ کشتی ہے تو وہ مذاق اڑاتے اور کہتے کہ بھلا اس شکل کی بھی کشتی ہوتی ہے۔ اور یا پھر یہ کہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ کشتی ہے۔ مگر جب خشک ریگستان کو دیکھتے کہ یہاں کشتی کا کیا مقصد تو مذاق کرتے کہ اے نوح ( علیہ السلام ) کل تک تو تم نبوت کا دعویٰ کر تے تھے۔ اب نجار یعنی بڑھئی بن گئے ہو اور جس پانی کے عذاب کی بات تم کرتے تھے وہ تو آیا ہی نہیں ہے۔ اب تم کشتی بنا کر ہمیں ڈرا رہے ہو۔ ( تفسیر نعیمی پارہ نمبر12مفتی احمد یار خان نعیمی)

حضرت نوح علیہ السلام کا جواب 

اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں حضرت نوح علیہ السلام ، جبرئیل علیہ السلام اور دوسرے فرشتوں اورمسلمانوں کےساتھ مل کر پوری توجہ اور انہماک سے کشتی بنانے میں مصروف تھے۔ ان کی قوم کے کافر اور ان کے سردار آتے جاتے آپ علیہ السلام کا مذاق اڑاتے رہتے تھے۔ حضرت نوح علیہ السلام بڑے صبر سے ان کافروں کی باتوں کو سنتے اور چپ چاپ کشتی بنانے میں مصروف رہتے۔ جب آپ علیہ السلا م نے دیکھا کہ ان بد بختوں کا مذاق کچھ زیادہ ہی ہو گیا ہے تو جواب میں فرمایا۔ ترجمہ ” آپ علیہ السلام کہتے ابھی تم ہمارا مذاق اڑا رہے ہو تو ( ایک دن) ہم بھی تمہارا مذاق اڑائیں گے۔ جس طرح تم مذاق اڑا رہے ہو۔ اور تم جان لو گے کہ کس پر رسوا کر دینے والا عذاب آئے گا۔ اور کون ہے جو ہمیشہ عذاب میں رہے گا۔ “ (سورہ ہود آیت نمبر) تفسیر انورا لبیان میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے فرمایا۔ اگر آج تم ہم پر ہنس رہے ہو تو سمجھ لو کہ وہ دن بھی آنے والا ہے کہ ہم تم پر ہنسیں گے جیسا کہ آج تم ہنس رہے ہو۔ اور عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا کہ کس پر رسوا کرنے والا اور ہمیشہ کا عذاب آتا ہے۔ ( تفسیر روح البیان مولانا عاشق الہٰی مہاجر مدنی)

کافر خود مذاق بن جائیں گے

تفسیر معارف القران میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے ان کے جواب میں فرمایا۔ اگر تم ہم سے مذاق کر رہے ہو تو یاد رکھو کہ ایک دن ایسا آنے والا ہے جب ہم تم سے مذاق کریں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حالات ایسے پیش آئےں گے جو خود تمہارے مذاق کا سبب بنیں گے۔ کیوں کہ حقیقتاً مذاق اور استہزاءانبیائے کرام کی شان کے خلاف ہے۔ اس لئے اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب تم عذاب میں گرفتار ہو جاﺅ گے تو ہم تمہیں بتائیں گے کہ یہ تمہارے مذاق کا انجام ۔ اور تم پر یہ دردناک عذاب صرف دنیا میں نہیں ہوگا بلکہ آخرت میں بھی ہمیشہ ہمیشہ کے عذاب میں گرفتا رہو گے۔ ( تفسیر معارف القران جلد نمبر4مولانا مفتی محمد شفیع) تفسیر مظہری میں ہے کہ جب تم دنیامیں غرق ہو نے اور آخرت میں جلنے کے عذاب میں مبتلا ہو گے تب ہم اسی طرح تمہارا مذاق اڑائیں گے۔ جس طرح تم ابھی ہمارا مذاق اڑا رہے ہو۔ بعض علمائے کرام فرماتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ آج تم مجھ سے ناواقف بنے ہوئے ہو تو جس دن اللہ تعالیٰ کا عذاب تم پر نازل ہو گا تو میں بھی انجان بن جاﺅں گا۔ بعض علمائے کرام فرماتے ہیں اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم ہم سے جو مذاق کر رہے ہو بہت جلد اس کا انجام دیکھ لو گے۔ ( تفسیر مظہری جلد نمبر5قاضی ثناءاللہ پانی پتی) تفسیر قرطبی میں ہے کہ جس طرح آج کشتی بناتے وقت تم ہم سے مذاق کر رہے ہو کل غرق کے وقت ہم تم سے مذاق کریں گے۔ یہاں مذاق سے مراد حقیر سمجھنا ہے۔ اور اس کا معنی یہ ہو گا کہ اگر تم ہمیں حقیر سمجھو گے تو ہم بھی تمہیں حقیر سمجھیں گے۔ ( تفسیر الجامع الاحکام القران المعروف تفسیر قرطبی امام محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی) تفسیر لبیان القران میں ہے کہ انہوں نے کہا کہ آج تم میرا مذاق اڑا رہے ہو تو اڑا لو،کل طوفان میں تمہارے ڈوبنے کا نظارہ ہم سب مسلمان کریں گے۔ اور اس وقت تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ دنیا میں رسوا کن اور آخرت میں ہمیشہ ہمیشہ کے عذاب کا مستحق کون ہے۔ ( تفسیر تیسرالرحمن لبیان القران ،محمد لقمان سلفی) تفسیر نعیمی میں ہے کہ یعنی ہم تم سے اس نوعیت کا مذاق نہیں کریں گے جس طرح آج تم کر رہے ہو کیوں کہ مذاق کرنا انبیائے علیہم السلام اورمومن کی شان کے خلاف ہے۔ بلکہ اس کے بدلے میں جب تم پر دنیا اور آخرت کا عذاب آئے گا تو ہم تم کو دیکھ رہے ہوں گے اور تم ہم کو دیکھ رہے ہو گے۔ اس وقت تمہاری ذلت اور ہمارا دیکھنا تمہارے اس مذاق کا بدلہ ہوگا۔( تفسیر نعیمی پارہ نمبر12مفتی احمد یا ر خان نعیمی)

کشتی کی بناوٹ اور سائز

اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بتایا کہ کشتی کا اگلا حصہ مرغ کے سر کی طرح بنانا ، اور درمیانی حصہ پرندوں کے پیٹ کی طرح بنائیں۔ اور پچھلا حصہ مرغ کی دم کی طرح بنائیں۔ اس کے اطراف میں دروازے لگائیں۔ میخوں سے مضبوط کریں اور سوائے نچلے حصے کے ہر طرف سے تارکول کی لپائی کر دو۔ کشتی کی لمبائی تین سو300 ذرع ( ساڑھے چار سو 450فٹ چوڑائی پچاس ذراع75فٹ اور اونچائی تیس ذراع45فٹ)تھی۔ اس کشتی کو تیار کرنے میں دو سال لگے ۔ کشتی تین منزلہ تھی۔ سب سے نچلی منزل وحشی جانور درندے اور حشرات الارض ( کیڑے مکوڑے) کے لئے تھی۔ درمیانی ( بیچ والی ) منزل پالتو جانور اور چوپائے وغیرہ کے لئے تھی۔ اور سب سے اوپر والی منزل حضرت نوح علیہ السلام اور ایمان والوں کے لئے تھی۔ تفسیر نعیمی میں ہے کہ کشتی کی شکل جوان مرغ کی طرح تھی۔ حضرت نوح علیہ السلام نے اس کے لئے لکڑی کی تلاش کروائی تو مناسب لکڑی تیار وافر مقدار میں نہیں ملی ۔ لہٰذا آپ علیہ السلام نے خود ساگوان کے بے شمار درخت لگائے جو تفسیر روح البیان کے مطابق بیس 20سال میں اور تفسیر خازن ، تفسیر روح المعانی اور تفسیر صاوی کے مطابق 100سال میں پختہ لکڑی بنے۔ اور یہی صحیح ہے کیونکہ ساگوان یعنی شیشم ( ٹالی) بیس سال میں پختہ نہیں ہوتی۔ آپ علیہ السلام بقدر ضرورت لکڑی کٹوا کر منگواتے رہے۔ اس طرح آپ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے اُمتی مسلمانوںنے سو100سال میں مکمل کشتی تیار کر لی۔ اس کی لمبائی بارہ سو 1200گز تھی۔ اور چوڑائی چھ سو600گز یعنی اس سے آدھی اور اونچائی تیس30گز تھی۔ کشتی تین منزلہ تھی نیچے کی منزل میں درندے چرندے، بیچ کی منزل میں پرندے اور اوپر کی منزل میں آپ علیہ السلام اور تمام مسلمان مرد ،عورت تھے۔ باقاعدہ اترنے چڑھنے کےلئے سیڑھیاں اور گزرگاہیں تھیں۔ ہر منزل کے درمیان میں دروازہ تھا۔ صحیح یہ ہے کہ بابل شہر میں کشتی بنائی گئی۔ تفسیر روح المعانی میں جزیرہ ابن عمر کو کشتی بنانے کا مقام بتایاہے۔ کشتی بنانے میں حضرت نوح علیہ السلام کی مدد مسلمانوںاور آپ علیہ السلام کے تین بیٹوں سام، حام اور یافث نے کی۔ آپ علیہ السلام کا چوتھا بیٹا کنعان جو سب سے بڑا کافر تھا۔ اس لئے اس نے حصہ نہیں لیا۔ ( تفسیر نعیمی پارہ نمبر12مفتی احمد یا ر خان نعیمی)

کشتی پر والی تھی

تفسیر در منشور میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت نوح علیہ السلام نہیں جانتے تھے کہ کشتی کیسے بنائی جائے۔ تو اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی کہ وہ اسے پرندے کے سینے کی طرح بنائیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کہ حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کے پر تھے۔ پروں کے نیچے کمرے تھے۔ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ سام ابو العرب ( عربوں کا باپ) ہے۔ حام ابو الحبش( حبثیوں، افریقیوں ، اور ایشائیوں کا باپ )ہے۔ اور یافت ابوالروم ( رومیوں یعنی یورپ والوں کا باپ) ہے۔ اور فرمایا۔ کشتی کی لمبائی تین سو300گز تھی۔ چوڑائی پچاس50گز تھی اور اونچائی تیس30گز تھی۔ اور اس کا دروازہ اس کی چوڑائی میں تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اسے تین صورتوں پر بناﺅ۔ اس کا سر ( سامنے والا حصہ) ہو۔ پھر اس کے طبقات بنا دو۔ اس کے اطراف میں دروازے بنا لو۔ اور لوہے کی میخوں کے ساتھ اسے مضبوط اور پختہ جوڑ دو۔

تارکول کا چشمہ 

اللہ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو بھیجا اور انہوں نے مل کر کشتی بنوائی۔ پس آپ علیہ السلام نے کشتی بنا لی۔ اس کی لمبائی چھ سو600گز تھی۔ ساٹھ 60گززمین میں تھی۔ اور اس کی چوڑائی تین سو 300گز تھی ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ تارکول کے ساتھ طلا ءکریں۔ زمین پر تارکول نہیں تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے لئے تارکول کا چشمہ پیدا کردیا۔ آپ علیہ السلام نے طلاءکر لیا۔ پس جب آپ علیہ السلام اس سے فارغ ہوئے تو اس میں تین دروازے بنائے اور انہیں ڈھانپ دیا۔ حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کی لمبائی بارہ سو1200گز تھی۔ اور چوڑائی چھ سو600گز تھی۔ ( تفسیر طبری علامہ محمد بن جریر طبری ، تفسیر دُر منشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی ) تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کشتی کی لمبائی بارہ سو1200ہاتھ تھی۔ اور چوڑائی چھ سو600ہاتھ تھی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ لمبائی دو ہزار 2000ہاتھ تھی اور چوڑائی ایک سو100ہاتھ تھی۔ واللہ اعلم ۔ اس کی اندرونی اونچائی تیس 30ہاتھ تھی۔ اس میں تین درجے تھے اور ہر درجہ دس 10ہاتھ اونچا تھا۔ سب سے نیچے کے حصے میں چوپائے اور جنگلی جانور تھے۔ درمیان کے حصے میں انسان تھے۔ اوپر کے حصے میں پرندے تھے۔ ان میں چوڑا دروازہ تھا۔ اوپر سے کشتی بالکل بند تھی۔ 

کشتی تین منزلہ تھی

تفسیر معارف القران میں ہے کہ بعض تاریخی روایات میں کشتی کی لمبائی تین سو300گز ، چوڑائی پچاس50گز اور اونچائی تیس30گز تھی۔ یہ سہ ( تین )منزلہ جہاز تھا۔ اور اس میں روشن دان تھے جو دائیں بائیں کھلتے تھے۔ ( تفسیر معارف القران جلد نمبر 4مولانا مفتی محمد شفیع) تفسیر مدارک میں ہے کہ روایت میں ةے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے ساج( ساگوان) کی لکڑی سے دو سال میں کشتی تیار کی۔ اس کی لمبائی 300تین سو ہاتھ تھی۔ یا بارہ سو1200ہاتھ تھی۔ اس کی چوڑائی پچاس50ہاتھ یا چھو سو600ہاتھ تھی۔ اور بلندی تیس30ہاتھ تھی۔ اس کے تین طبقات بنائے ۔ سب سے نچلے حصے میں وحشی جانور، درندے اور حثرات الارض ( کیڑے مکوڑے) رکھے۔ درمیانے طبقے میں چوپائے، پالتو جانور کھے۔ اور تیسری بالائی منزل یا طبقے میں حضرت نوح علیہ السلام ایمان والوں کے ساتھ کھانے پینے کا سامان لے کر سوار ہوئے۔ اور حضرت آدم علیہ السلام کا جسم مبارک بھی ساتھ لیا۔ اور اس کو مردوں اور عورتوں کے درمیان روک بنا دیا۔ ( تفسیر مدارک تفسیر نسفی امام عبداللہ بن احمد بن محمود نسفی) تفسیر مظہری میں ہے کہ امام بغوی فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ حضرت نوح علیہ السلام نے کشتی دو سال میں تیار کی۔ اس کی لمبائی تین سو300ہاتھ اور چوڑائی پچاس50ہاتھ اور اونچائی تیس30ہاتھ تھی۔ اور وہ شیشم کی بنی ہوئی تھی۔ اس میں تین درجے تھے۔ نچلی منزل ، درندوں اور خونخوار جانوروں کے لئے تھی ۔ درمیانی منزل چوپایوں کے لئے اور سب سے اوپری منزل انسانوں اور کھانے پینے کے سامان کے لئے تھی۔ ( تفسیر بغوی، تفسیر مظہری ، جلد نمبر 5قاضی ثنا اللہ پانی پتی)

حضرت آدم علیہ السلام کو کشتی میں رکھا

تفسیر قرطبی میں ہے کہ کشتی کے تین دروازے تھے۔ ایک دروازے میں درندے اور پرندے، دوسرے دروازے میں جانور اور چوپائے اور تیسرے دروازے میں انسان سوار ہوئے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے ساتھ حضرت آدم علیہ السلام کے جسم مبارک کو بھی لیا۔ اور مردوں اور عورتوں کے درمیان رکھ دیا۔ پھر بعد میں بیت القدس میں دفن کر دیا۔ ( تفسیر الجامع الاحکام القران المروف تفسیر قرطبی امام محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی) تفسیر تبیان القران میں ہے کہ پھر حضرت نوح علیہ السلام نے اُجرت پر کچھ لوگوں کو کام پر لگایا۔ اور مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ان کے بیٹوں میں سے سام ، حام اور یافث بھی کشتی بنا رہے تھے۔ انہوں نے وہ کشتی چھو سو600ہاتھ لمبئی بنائی اور اس کی چوڑائی اور اونچائی تینتیس 33۔ تینتیس ہاتھ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین سے تارکول نکالا۔ جس کو انہوں نے کشتی پر لگایا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ کشتی میں تین منزلیں تھیں۔ سب سے نچلی میں وحشی جانور ، درندے اور حشرات الارض تھے۔ درمیانی منزل میں چوپائے اور حیوان تھے۔ اور سب سے اوپری منزل میں آپ علیہ السلام ایمان والوں کے ساتھ تھے۔ امام فخر الدین رافی لکھتے ہیں ۔ کشتی کی سائز کے بارے میں جو مختلف اقوال ہیں ان کی معرفت کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ اور نہ ہی اس کی معرفت میں کوئی فائدہ ہے۔ اور اس میں غورو فکر کرنا فضول ہے۔ جب کہ ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے جس سے صحیح مقدار یا صحیح مدت معلوم ہو سکے۔ اور جس چیز کا ہمیں علم ہے وہ یہ ہے کہ کشتی میں اتنی گنجائش تھی کہ اس میں حضرت نوح علیہ السلام ایمان والوں کے ساتھ آسکیں۔ اور جن جانداروں کو وہ اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے وہ بھی آسکیں۔ کیوں کہ یہ چیز ہمیں قرآن پاک سے معلوم ہے۔ رہا سائز کیا تھی اور اسے بنانے میں کتنی مدت لگی؟ اس کا قرآن پاک میں ذکر نہیں ہے۔ ( تفسیر کبیر جلد نمبر6امام فخر الدین رازی، تفسیر تبیان القران علامہ غلام رسول سعیدی)

تنور سے پانی نکلناطوفان آنے کی پہچان

حضرت نوح علیہ السلام اور ان پر ایمان لانے والے کشتی تعمیر کرتے رہے اور کافر ان کا مذاق اڑاتے رہے۔ اور ان پر ہنستے رہے۔ آپ علیہ السلام فرماتے آج تم ہم پر ہنس رہے ہو ایک وقت آئے گا جب ہم تم پر ہنسیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ جب تنّور سے پانی نکلنا شروع ہو جائے تو تم اپنے ساتھ ایمان والوں اور تمام جانوروں کا ایک ایک جوڑا اور پرندوں کا ایک ایک جوڑا لے کر کشتی میں سوار ہو جانا گویا کہ تنور سے پانی نکلنا طوفان آنے کی پہچان تھی۔ آپ کو تنور تو معلوم ہی ہوگا۔ اور آپ نے دیکھا بھی ہوگا۔ جسے ہم لوگ تندور کہتے ہیں۔ وہی تنور ہے۔ آپ نے ہوٹلوں میں دیکھا ہوگا ان ہوٹلوں میں جہاں تندوری روٹیاں بنتی ہیں۔ وہ لوگ کیا کرتے ہیں کہ ایک مٹکا بے پیندے کو زمین میں فٹ کر دیتے ہیں۔ اس کے اندر آگ لگاتے رہتے ہیں۔ اور اس کے کناروں پر روٹیاں چپکا کر پکاتے ہیں۔ ایسے ہی تنور حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے میں بلکہ ہمارے وقت کے تنور سے بہت بڑے بڑے تنور تھے۔ ایسا ایک تنور حضرت نوح علیہ السلام کے پاس بھی تھا۔ بلکہ لگ بھگ ہر گھر میں تھا۔ کیوں کہ اس زمانے میں چپاتیاں پکانے کا رواج شروع نہیں ہوا تھا۔ تنور کون سا تھا اور کہاں تھا اس بارے میں مختلف روایات ہیں۔

تنور کہا ں تھا

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ تنور سے مراد ہندوستان میں ایک کنواں ہے۔ شعبی کہتے ہیں کہ یہ کوفہ میں ایک چشمے کا نام ہے۔ قتادہ سے روایت ہے کہ یہ ایک کنواں ہے جو الجزیرہ میں واقع ہے۔ ( قصص الانبیاءعلامہ عماد الدین ابن کثیر تفسیر ابن کثیر پارہ نمبر12) تفسیر در منشور میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آپ علیہ السلا م اپنے گھر والوں کے تنور میں دیکھیںکہ اس میں سے پانی نکل رہا ہے تو یہ آپ علیہ السلام کی قوم کی ہلاکت اور بربادی کی علامت ہے۔ (تفسیر طبری) علامہ محمد بن جریر طبری نے حضرت حسن رضی اللہ سے یہ قول نقل کیا ہے کہ وہ تنور پتھر سے بنا ہوا تھا۔ اور وہ حضرة حوا رضی اللہ عنہا کے لئے تھا۔ حتیٰ کہ وہ حضرت نوح علیہ السلام تک جا پہنچا۔ (تفسیر طبری) حضرت عکرمہ نے فرمایا کہ تنور سے مرادسطح زمین ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تنور سے مراد ، زمین کا اعلیٰ اور بلند حصہ ہے اور اسکا علم حضرت نوح علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے درمیان راز ہے۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا تنور زمین کا اعلیٰ اور اشرف حصہ ہے۔ اور ساتھ ہی کہا اللہ بہتر جانتا ہے۔ تفسیر جلالین میں ہے کہ بعض نے کہا ہے کہ یہ تنور حضرت آدم علیہ السلام کا تھا اور پتھر کا تھا۔ تنور کی جگہ میں بھی اختلاف ہے۔ بعض نے بتایا کہ حضرت نوح علیہ السلام کے گھر میں تھا۔ اور بعض نے بتایا کہ زمین کے اوپری حصہ کو تنور کہا ہے۔ عرب زمین کی سطح کو تنور کہتے ہیں۔ ( تفسیر جلالین جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی اور امام جلال الدین محلی) 

تنور کئی معنوںمیں استعمال ہوا

تفسیر مدارک میں ہے کہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ روٹی کے تنور سے پانی نے جوش مارا۔ یہ پتھروں کا تنور تھا۔ جس کو حضرة حوارضی اللہ عنہا نے بنایا تھا۔ اور یہ اس زمانہ سے ( ہاتھوں ہاتھ چلتے چلتے) حضرت نوح علیہ السلام تک پہنچا تھا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ تنور سطح زمین کو کہتے ہیں۔ ( تفسیر مدارک تفسیر نسفی جلد نمبر2امام عبداللہ بن احمد بن محمود نسفی)تفسیر معارف القران میں ہے کہ لفظ تنور کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ سطح زمین کو بھی تنور کہتے ہیں۔ روٹی پکانے کے تنور کو بھی تنور کہتے ہیں۔ زمین کے بلند حصے کو بھی تنور کہتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام سے فرمایا تھا کہ جب آپ علیہ السلام دیکھیں کہ آپ علیہ السلام کے گھر کے تنور سے پانی ابلنے لگا تو سمجھ لیں کہ طوفان آگیا ہے۔ ( تفسیر قرطبی، تفسیر مظہری) مفسر امام قرطبی نے فرمایا کہ اگر چہ تنور کے معنی میں مفسرین کے اقوال مختلف نظر آتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ کوئی اختلاف نہیں ہے۔ جب طوفان کا پانی نکلنا شروع ہوا تو روٹی پکانے کے تنور سے بھی نکلا۔ سطح زمین سے بھی نکلا، ملک شام میں ” عین الورد“ کے تنور سے بھی نکلا۔ جیسا کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے۔ ترجمہ ” ہم نے آسمان کے دروازے موسلا دھار بارش کے لئے کھول دیئے اور زمین سے چشمے ہی چشمے پھوٹ پڑے۔“ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں