منگل، 4 اپریل، 2023

حضرت آدم علیہ السلام 6 Story of Adam AS 6


سلسلہ انبیائے کرام علیہم السلام

سلسلہ نمبر1۔ حضرت آدم علیہ ا لسلام

قسط نمبر 6

حضرت آدم علیہ السلام کی اپنی اولاد کے لئے دعا

حضرت آدم علیہ السلام اپنی زوجہ کے ساتھ ہندوستان آکر رہنے لگے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو زمین پر بھیجا۔ جبرئیل علیہ السلام نے تمام عالم کے جانوروں کو آواز دی کہ اے جانورو۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر اپنا خلیفہ بھیجا ہے۔ اس کی اطاعت اور فرماں برداری کرو۔ دریائی جانوروں نے سر اٹھا کر اطاعت ظاہر کی اور خشکی کے جانور حضرت آدم علیہ السلام کے آس پاس جمع ہو گئے۔ آپ علیہ السلام نے اُن پر ہاتھ پھیرا جس جس جانور تک آپ علیہ السلام کا ہاتھ پہنچا وہ انسان سے مانوس ہو گئے اور پالتو بن گئے۔ جس جس جانور تک آپ علیہ السلام کا ہاتھ نہیں پہنچا وہ جنگلی اور وحشی رہ گئے۔ اس کے بعد حضرت آدم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، میری اولاد بہت کمزور ہے۔ اور ابلیس شیطان کا فریب بہت سخت ہے۔ اگر تو ان کی مدد نہیں کرے گا تو وہ ابلیس شیطان سے کیسے بچ سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے آدم ( علیہ السلام) تمہارے لئے احکامات اور ہیں اور تمہاری اولاد کے لئے اور آسان احکام ہوں گے اور ہم ہر انسان کے ساتھ ایک فرشتہ رکھیں گے۔ تب آپ علیہ السلام خوش ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کا شکر اد اکیا۔

حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد

حضرت آدم علیہ السلام اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا ساتھ میں رہنے لگے۔ ان کے بہت سے بیٹے بیٹیاں ہوئیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو زمین پر اتارا تو آپ علیہ السلام کی اولاد کثیر ہو گئی اور بڑھ گئی۔ ایک دن آپ علیہ السلام کے بیٹے ، پوتے ،پڑ پوتے وغیرہ سب آپ علیہ السلام کے پاس جمع ہوئے اور آپ علیہ السلام کے ارد گر بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔ لیکن حضرت آدم علیہ السلام خاموش بیٹھے تھے۔ بالکل بات نہیں کرتے تھے۔ آپ علیہ السلام کی اولاد نے کہا۔ کیا وجہ ہے آپ علیہ السلام خاموش کیوں ہیں؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اے میرے بیٹو، پوتو اور پڑپوتو! اللہ تعالیٰ نے جب مجھے اپنے جوار سے نکال کر زمین کی طرف اتارا تو مجھ سے عہد لیا تھا کہ اے آدم ( علیہ السلام ) کم سے کم بات کرنا۔ یہاں تک کہ تو میرے جوار کی طرف جنت میں لوٹ آئے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو زمین پر اتارا تو آپ علیہ السلام ٹھہرے رہے جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا ۔ پھر بیٹوں نے ان سے کہا۔ اے ہمارے والد محترم کلام فرمائیے۔ تو حضرت آدم علیہ السلام کھڑے ہوئے اور چالیس ہزار 40000کے مجمع کو خطبہ دیا جو سب کے سب آپ علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ اے آدم ( علیہ السلام) تو کم باتیں کیاکر حتیٰ کہ تو میرے جوار کی طرف لوٹ آئے۔ 

قابیل کی ضد

حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں صرف اس وقت کے لئے بہن بھائی کا نکاح جائز تھا۔ اس کی بھی شرط یہ تھی کہ جس بیٹے کے بعد بیٹی پیدا ہوئی وہ بیٹا اس سے نکاح نہیں کر سکتا تھا۔ بلکہ اس کے بعد جو بیٹا ہوا ہوگا اور جو بیٹی پیدا ہوگی اس سے نکاح ہو سکتا تھا۔ یہ بات یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے صرف اسی وقت بہن بھائی کے نکاح کو حلال کیا تھا۔ وہ بھی اپنے ساتھ پیدا ہوئی بہن سے نہیں بلکہ جو دوسرے بھائی کے ساتھ پیدا ہوئی اس کے ساتھ نکاح ہو سکتا تھا۔ اس کے بعد بھائی بہن میں نکاح حرام ہو گیا۔ اس ترتیب سے حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے قابیل کا نکاح جس لڑکی سے ہونا تھا وہ عام صورت تھی اور اس کے چھوٹے بھائی ہابیل کا نکاح جس لڑکی سے ہونا تھا وہ بہت خوب صورت تھی۔ اس وقت تک حضرت آدم علیہ السلام اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کے بیٹے بیٹیاں ان میں پوتے پوتیاں پڑ پوتے شامل ہو چکے تھے۔ اور حضرت شیت علیہ السلام پیدا نہیں ہوئے تھے۔ قابیل نے حضرت آدم علیہ السلام سے کہا میں عام صورت والی لڑکی سے نہیں بلکہ خوب صورت لڑکی سے نکاح کروں گا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے سمجھایا کہ اس لڑکی کا نکاح ہابیل سے ہوگا۔ لیکن قابیل نہیں مانا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے ہاں جو بھی لڑکا پیدا ہوتا اس کے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوتی تھی۔ پس وہ پہلے حمل سے پیدا ہونے والے بچوں کا دوسرے حمل سے پیدا ہونے والے بچوں سے نکاح کر دیتے تھے۔ یہاں تک کہ قابیل اور ہابیل پیدا ہوئے۔ قابیل کسان اور ہابیل چرواہا تھا۔ قابیل بڑا تھا اور اس کے ساتھ پیدا ہونے والی بہن انتہائی حسین و جمیل تھی۔ ہابیل نے قانون کے مطابق قابیل کی بہن سے نکاح کرنا چاہا۔ مگر قابیل نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میرے ساتھ پیدا ہونے والی لڑکی تیرے ساتھ پیدا ہونے والی لڑکی سے زیادہ حسین و جمیل ہے۔ لہٰذا اس سے نکاح کرنے کا میں زیادہ مستحق اپنے آپ کو سمجھتا ہوں۔ ان دونوں کے باپ حضرت آدم علیہ السلام نے بھی قابیل کو حکم دیا کہ وہ قانون شکنی نہ کرے مگر قابیل نے انکار کر دیا۔ 

ہابیل کی قربانی قبول ہو گئی

اللہ تعالیٰ کے قانون اور حضرت آدم علیہ السلام کے حکم کو ماننے سے قابیل نے انکار کر دیا تو حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا اچھا تم دونوں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی اپنی قربانی پیش کرو۔ جس کی قربانی اللہ تعالیٰ قبول کرلیں گے۔ وہی اس لڑکی سے نکاح کرے گا۔ اس وقت قربانی قبول اس طرح سے ہوتی تھی کہ بندہ اپنی قربانی ایک پہاڑی پر رکھ کر ہٹ جاتا تھا اگر اللہ تعالیٰ کو وہ قربانی قبول کرنا ہوتی تھی تو آسمان سے ایک آگ آتی تھی اور اس قربانی کو کھا جاتی تھی ۔ لہٰذا دونوں بھائیوں نے الگ الگ پہاڑی پر اپنی اپنی قربانی رکھیں۔ آسمان سے آگ آئی اور ہابیل کی قربانی کھا گئی۔ جب کہ قابیل کی قربانی ویسے ہی باقی رہی۔ حضرت آدم علیہ السلام نے فیصلہ کر دیا کہ اس لڑکی کا نکاح ہابیل سے ہوگا۔ قابیل کو غصہ آگیا۔

قابیل کی دھمکی

اللہ تعالیٰ نے ہابیل اور قابیل کے واقعہ کو قرآن پاک میں بیان فرمایا ہے۔ ترجمہ ” اور آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم )انہیں آدم ( علیہ السلام ) کے دوبیٹوں کے ٹھیک ٹھیک حالات بیان فرما دیں۔ جب دونوں نے ( اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ) قربانی پیش کی تو ایک کی قبول ہو گئی اور دوسرے کی قبول نہیں کی گئی تو اس نے ( اپنے بھائی سے) کہا ۔ مجھے قسم ہے میں تمہیں قتل کر ڈالوں گا۔ ( جس کی قربانی قبول ہوئی اس نے ) کہا۔ اللہ تعالیٰ صرف پرہیز گاروں کی قربانی قبول فرماتا ہے۔ اگر تو مجھے قتل کرنے کے لئے ہاتھ بڑھائے گا ( تب بھی ) میں تیرے قتل کے لئے ہاتھ نہیں بڑھاﺅں گا۔ میں تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں جو سارے جہانوں کا مالک ہے۔ میں تو یہی چاہتا ہوں کہ تو میرے اور اپنے دونوں کے گناہوں کا بوجھ اٹھا لے۔ اور دوزخ والوں میں سے ہو جائے۔ پس ظلم کرنے والوں کی یہی سزا ہے۔ ( سورہ المائدہ آیت نمبر27سے 29تک) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب قابیل نے قانون کے خلاف اپنی پسند کی لڑکی سے نکاح کرنے کی ضد کی تو حضرت آدم علیہ السلام نے دونوں کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قربانی پیش کرنے کا حکم دیا۔ اسی دوران حج کے ایام آگئے تو آپ علیہ السلام حج کے لئے جانے لگے تو آسمانوں سے فرمایاکہ وہ ان کے بیٹوں کی حفاظت کریں لیکن انھوں نے انکار کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے زمین اور پہاڑوں سے فرمایا تو انھوں نے بھی انکار کر دیا۔ قابیل نے یہ ذمہ داری قبول کر لی اور آپ علیہ السلام اسے ذمہ دار بنا کر حج کرنے چلے گئے۔ اس کے بعد دونوں بھائیوں نے اپنی اپنی قربانی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کی ۔ ہابیل نے ایک موٹا تازہ جوان بکرا ایک پہاڑ پر رکھ دیا ۔ کیوں کہ وہ بکریاں چرایا کرتا تھا۔ اور قابیل ردّی اناج ( یعنی بچا کچھا اناج) کا ڈھیر پیش کیا اور دوسرے پہاڑ پر رکھ دیا۔ کیوں کہ وہ کسان تھا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے آگ آئی اور ہابیل کی قربانی کو کھا لیا۔ جب کہ قابیل کی قربانی ویسی کی ویسی ہی رکھی رہ گئی۔ قابیل ناراض ہو گیا اور غصے سے کہنے لگا۔ میں تجھے قتل کردوں گا۔ تا کہ تو میری بہن سے شاد ی نہ کر سکے۔ ہابیل بولا ۔ اس میں غصے کی کون سی بات ہے؟ قربانی تو صرف متقیوں کی قبول ہوتی ہے۔ 

دنیا میں سب سے پہلا قتل

اللہ تعالیٰ نے ہابیل کی قربانی قبول فرمائی اور قابیل کو غصہ آگیا۔ اس نے اپنے بھائی ہابیل کو دھمکی دی کہ میں تجھے قتل کر دوں گا۔ ہابیل نے جواب میں کہا کہ بھائی اگر آپ مجھے قتل کرنے کے لئے ہاتھ اٹھائیں گے تو میں آپ پر ہاتھ نہیں اٹھاﺅں گا۔ آخر کار اس بد بخت قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کر دیا۔ یہ اس نے اس وقت کیا جب حضرت آدم علیہ السلام مکہ مکرمہ حج کے لئے گئے ہوئے تھے۔ ( روایات میں آتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے چالیس حج کئے ہیں) اس دوران موقع پا کر بد بخت قابیل نے یہ کام کر ڈالا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ دنیا میں جب جب کوئی کسی کو قتل کرتا ہے ۔ تب تب قاتل کے عذاب میں سے کچھ حصہ قابیل کو دیا جاتا ہے۔ کیوں کہ دنیا میں سب سے پہلا قتل اسی نے کیا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پس قابیل کے نفس نے اس کو اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کر لیا۔ اور وہ اسے قتل کرنے کے لئے تلاش کرتا رہا۔ ہابیل پہاڑ کی چوٹی پر بکریاں چر اتا تھا۔ پس ایک دن تلاش کرتے کرتے قابیل اس کے پاس جا پہنچا ۔ بکریاں گھاس چر رہی تھیں اور ہابیل سویا ہوا تھا۔ قابیل نے ایک بڑا پتھر اٹھایا اور اس کا سر کچل دیا۔ اور ہابیل کا قتل کر دیا ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” پس اسے اس کے نفس نے اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کر دیا اور اس نے اسے قتل کر ڈالا۔ جس سے وہ نقصان پانے والوں میں سے ہو گیا۔ “ ( سورہ المائدہ آیت نمبر30) حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ اللہ کی قسم مقتول ( ہابیل ) قاتل سے کہیں زیادہ طاقتور تھا۔ لیکن اللہ کے خوف کی وجہ سے اس نے بھائی پر ہاتھ نہیں اٹھایا ۔ 

دنیا کا پہلا دفن

حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے قابیل نے ان کی غیر موجودگی میں اپنے بھائی ہابیل کو قتل کر دیا۔ لیکن ہابیل کو قتل کرنے کے بعد قابیل بہت پریشان ہو گیا اور ہابیل کی لاش کندھے پر لٹکائے گھومتا رہا۔ آپ جانتے ہیں؟ قابیل کیوں پریشان ہو گیا تھا۔ اصل وجہ یہ تھی کہ اس وقت تک کسی کا انتقال نہیں ہوا تھا اور قابیل نے کبھی مردہ نہیں دیکھا تھا۔ اور نہ ہی جانتا تھا کہ مردے کا کیا کرتے ہیں۔ اسی لئے وہ ہابیل کی لاش کندھے پر لٹکائے گھوم رہا تھا۔ اور اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ لاش کا کیا کرے۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کا رب ہے۔ ہر کسی کو سنبھالنے والا ہے۔ ہر کسی کی مدد کرنے والا ہے۔ اس دنیا میں چاہے نیک ہو یا برا ہو۔ مسلمان ہو یا کافر ہو۔ سب پر دنیا میں اللہ تعالیٰ رحم فرماتا ہے۔ اب چونکہ قابیل برا انسان تھااس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کے پاس فرشتہ نہیں بھیجا بلکہ اس کی مشکل کو آسان کر نے کے لئے اس کے سامنے دو کوّے بھیجے۔ قابیل ان کوﺅں کو دیکھنے لگا۔ دونوں کوّے لڑنے لگے۔ ایک نے دوسرے کو مار ڈالا۔ اور اس کے بعد زمین کو اپنے پنجوں اور چونچ سے کرید کرید کر کھودنے لگا۔ اور اس طرح دوسرے کوّے کو اس نے دفن کر دیا۔ یہ دیکھ کر قابیل بولا۔ ہائے افسوس ، میں تو اس کوّے سے بھی گیا گذرا ہوں ۔پھر اس نے بھی اپنے بھائی کو زمین کھود کر دفن کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” پھر اللہ تعالیٰ نے ایک کوّے کو بھیجا جو زمین کھودنے لگا تا کہ اسے دکھائے کہ وہ کس طرح اپنے بھائی کی لاش کو دفنا دے۔ وہ کہنے لگا ۔ ہائے افسوس، کیا میں ایسا کرنے سے بھی گیا گزرا ہو گیا ہوں کہ اس کوّے کی طرح اپنے بھائی کی لاش کو دفنا دیتا۔ “ تو (وہ بڑا ہی) پشیمان اور شرمندہ ہو گیا۔ اس کے بعد حضرت آدم علیہ السلام کے حج پر سے واپس آنے سے پہلے ہی قابیل وہاں سے بھاگ گیا۔

حضرت شیث علیہ السلام کی پیدائش

جب حضرت آدم علیہ السلام مکہ مکرمہ سے واپس آئے اور دیکھا کہ قابیل اپنے بھائی ہابیل کو قتل کر کے بھاگ گیا ہے تو آپ علیہ السلام اتنے غمزدہ ہو ئے کہ ایک سو سال تک نہیں مسکرائے۔ ایک سو سال کے بعد حضرت آدم علیہ السلام کو ایک نیک بیٹے کی بشارت اللہ تعالیٰ نے دی۔ اس پر آپ علیہ السلام مسکرائے اور اللہ تعالیٰ نے حضرت شیث علیہ السلام کو پیدا فرمایا۔ حضرت شیث علیہ السلام ہی حضرت آدم علیہ السلام کے جانشین رہے۔ اور تمام انتظامات حضرت شیث علیہ السلام نے سنبھال لئے۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی عمر ایک سو تیس سال ہونے کے بعد سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا۔ اور یہ ہابیل اور قابیل کے واقعہ کے پچاس برس بعد کا واقعہ ہے۔ اہل توریت کہتے ہیں کہ یہ بیٹا تنہا پیدا ہوا۔ اور شیث کے معنی اہل توریت ہبتہ اللہ بتاتے ہیں ۔ اور حضرت شیث علیہ السلام ہابیل کے بدل کے طور پر تھے۔ جیسے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ کہ سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کے بطن سے شیث نامی لڑکا اور غرورا نامی لڑکی ہوئی۔ اس لڑکے کی پیدائش پر جبرئیل علیہ السلام نے کہا تھا کہ یہ اللہ کا عطیہ یعنی ہبتہ اللہ ہے جو ہابیل کا بدل ہے۔ اس لفظ کو عربی میں شیرت ، سریانی میں شاث اور عبرانی میں شات کہتے ہیں۔ ان ہی کو حضرت آدم علیہ السلام کا جا نشین بنایا گیا۔ ان کی پیدائش کے وقت حضرت آدم علیہ السلام کی عمر ایک سو تیس سال تھی۔ 

حضرت آدم علیہ السلام کے جانشین 

حضرت شیث علیہ السلام بڑے ہوئے تو حضرت آدم علیہ السلام نے انہیں اپنا جانشین بنایا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں نبوت سے سرفراز فرمایا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے حضرت شیث علیہ السلام کو بلایا۔ اور ان سے عہد لیا۔ اور رات دن کی گھڑیاں اور اوقات سکھلائے اور ہر ساعت میں کسی نہ کسی مخلوق کا عبادت کرنا بتلایا۔ یعنی ہر گھڑی کوئی نہ کوئی مخلوق اللہ کی عبادت میں مصروف رہتی ہے۔ اور فرمایا۔ اے میرے بیٹے عنقریب زمین میں طوفان آئے گا۔ اور وہ سات سال ٹھہرے گا۔ اور اُن کو وصیت لکھوائی ۔ پس حضرت شیث علیہ السلام اپنے والد حضرت آدم علیہ السلام کے وصی اور جا نشین ہوئے۔ حضرت آدم علیہ السلام کے وصال کے بعد ساری حکومت و بادشاہت ان ہی کے لئے ہو گئی۔ حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ کہ میں نے عرض کیا ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ تعالیٰ نے کتنی کتابیں نازل فرمائی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سو چار سو کتابیں نازل ہوئی ہیں۔ اور حضرت شیت علیہ السلام پر پچاس صحیفے نازل فرمائے۔ 

حضرت آدم علیہ السلام کا وصال

اس طرح وقت گزرتا رہا اور پھر حضرت آدم علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے فرمایا۔ میں جنت کا پھل کھانا چاہتا ہوں۔ ان کے بیٹے کچھ نہیں سمجھ پائے کہ یہ ہمارے ابا جان کا آخری وقت ہے۔ اور ہمارے ابا جان دنیا سے آخرت کی طرف جانے کا اشارہ کر رہے ہیں۔ انھوں نے تو یہی سمجھا کہ ہمارے ابا جان کے لئے دنیا میں کہیں کے پھل لگے ہوں گے۔ اس لئے وہ جنت کے پھل کی تلاش میں نکل پڑے۔ ایک جگہ فرشتوں سے ملاقات ہوئی۔ ان کے پاس کفن ، خوشبوئیں ،بیلچے اور ٹوکریں تھیں۔ فرشتوں نے پوچھا ۔ اے آدم کے بیٹو ۔ کیا ارادے ہیں؟ کیا تلاش کر رہے ہو؟ انھوں نے بتایا ۔ ہمارے والد محترم جنت کے پھل کھانا چاہتے ہیں۔ وہ ہم تلاش کر رہے ہیں۔ فرشتوں نے کہا۔ واپس چلو تمہارے والد محترم کا انتقال ہو گیا ہے۔ وہ سب حضرت آدم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ اور حضرت آدم علیہ السلام کو فرشتوں نے دفن کیا ( جو انسانی شکل میں تھے) ایک روایت میں ہے کہ فرشتوں کو دیکھ کر سیدہ حوا رضی اللہ عنہا اور حضرت آدم علیہ السلام پہچان گئے۔ اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا اپنے شوہر کے پیچھے چھپ گئیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ مجھ سے دو ر ہٹ جاﺅ۔ میں تم سے پہلے آیا ہوں ۔ میرے اور میرے رب کے فرشتوں کے درمیان حائل نہ ہو۔ اور فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کی روح قبض کر لی۔ اور انہیں غسل دیا ، کفن پہنایا ۔خوشبو لگائی پھر ان کے لئے قبر کھودی اس کے بعد آپ علیہ السلام کی نماز جنازہ چار تکبیر کے ساتھ ادا فرمائی۔ اور آپ علیہ السلام کو قبر میں رکھا اور مٹی برابر کر کے دفن کر دیا۔ اور آپ علیہ السلام کے بیٹوں کو بتایا۔ یہ دفن کرنے کا طریقہ ہے۔حضرت آدم علیہ السلام کا انتقال جمعہ کے روز ہوا۔ اور اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر لگ بھگ ایک ہزار سال تھی۔ اس کے ایک برس بعد سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کا بھی انتقال ہو گیا ۔ حضرت آدم علیہ السلام کو کہاں دفن کیا گیا ہے۔ اس بارے میں مختلف روایات ہیں۔ مشہور یہی ہے کہ آپ علیہ السلام کو اسی پہاڑی کے نزدیک دفن کیا گیا جہاں پر ہندوستان میں آپ علیہ السلام کو اتا را گیا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ مکہ مکرمہ کے جبل ابو قبیس کے نزدیک آپ علیہ السلام دفن ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ طوفان نوح کے وقت حضرت نوح علیہ السلام نے حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی زوجہ کے جسم مبارک کو نکال کر تابوت میں رکھا تھا اور انہیں بیت المقدس میں دفن کر دیا ۔

قارئین کرام ، حضرت آدم علیہ السلام کا ذکر مکمل ہوا ۔ اب انشاءاللہ آپ کی خدمت میں حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں کچھ تفصیل پیش کریں گے۔ 

( ختم شدہ)

٭........٭........٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں