منگل، 11 اپریل، 2023

حضرت ہود علیہ السلام 6 Story of Prophet Hood



حضرت ہود علیہ السلام

سلسلہ نمبر05

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 6

وفد کے مقصد کی طرف اشارہ

قوم عاد کا وفد اپنے مقصد کو بھول کر عیش و عشرت میں مبتلا ہو گیا تھا۔ معاویہ بن بکر قوم عاد قبیلے سے اپنے قبیلے کی محبت اور شفقت کی وجہ سے انہیں کچھ کہہ نہیں پا رہا تھا۔ وہ سوچتا تھا کہ وہاں ان کے عزیز و اقارب ہلاکت کے قریب پہنچ چکے ہیں اور یہ لوگ اپنے مقصد کو بھول کر عیش و عشرت میں مگن ہیں۔ یہ میرے مہمان ہیں اس لئے صاف کہہ بھی نہیں سکتا کہ کہیں یہ لوگ یہ نہ سوچیں کہ معاویہ ان سے تنگ آگیا ہے۔ آخر اس نے کافی سوچ بچار کے بعد اس نے چند اشعار لکھے۔ اور اپنی دونوں باندیوں کو دے دیا کہ آج رات یہ اشعار گا کر وفد کو سنانا۔ لونڈیوں نے وفد کے سامنے یہ اشعار پڑھے۔ ترجمہ ۔ سنو اے قیل (ستر آدمیوں کے سردار) تجھ پر افسوس ہے ۔ اٹھ اور کعبتہ اللہ کو جا۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بادل عطا کر دے۔ اور وہ بادل عاد کی سر زمین کو سیراب کر دے۔ عاد کی قوم قحط کی وجہ سے آنکھ اٹھانے سے بھی قاصر ہے۔ سخت پیاس کی وجہ سے نہ تو اب ہمیں کسی بوڑھے کی زندگی کی امید ہے اور نہ بچے کی۔ حالانکہ قبیلے کی عورتیں بیمار نہیں ہیں۔ لیکن بھوک اور پیاس کی وجہ سے وہ حالت یاس کو پہنچی دکھائی دیتی ہیں۔ اور وحشی ( جانور) علی اعلان اُن کے پاس دوڑتے آتے ہیں اور اب درندوں کو ان کے تیروں کا کوئی خوف نہیں رہا ہے۔ اور تم ( اے وفد کے ارکان) یہاں رات دن مکمل عیش میں بسر کر رہے ہو۔ تم سے برا کسی قوم نے وفد نہیں بھیجا ہوگا۔ اور نہ کسی قوم نے اس وفد سے بڑھ کر برے وفد کو خوش آمدید کہا ہوگا۔ ( تاریخ امم والملوک المعروف تاریخ طبری علامہ محمد بن جریر طبری ، قصص الانبیاءعلامہ عماد الدین ابن کثیر)

بادل کا انتخاب

قوم عاد کے وفد نے جب یہ اشعار سنے تو انہیں اپنا مقصد یاد آگیا۔ دوسرے دن صبح وفد کے سردار قیل بن عنز نے وفد کے تمام ارکان کو حکم دیا کہ دعا کے لئے چلیں۔ سب لوگ حرم پاک گئے اور ان میں سے دعا کرنے والے نے دعا کی۔ یعنی وفد کے پانچ منتخب افراد میں سے قیل بن عنز نے دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے تین بڑے بڑے بادل ظاہر فرمائے۔ ایک کا رنگ سفید تھا ۔ دوسرے کا رنگ سرخ تھا۔ اور تیسرے کا رنگ سیاہ یعنی کالا گھنا بادل تھا۔ پھر آسمان سے آواز آئی ۔ ان میں سے اپنے لئے کسی ایک رنگ کے بادل کا انتخاب کر لو۔ (یعنی قوم عاد کے لئے ) قیل بن عنز نے کہا کہ میں کالے گھنے بادل کا انتخاب کرتا ہوں۔ کیوں کہ اس میں بارش زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے بعد آواز آئی تو نے نہایت جلی ہوئی راکھ کا انتخاب کیا ہے۔ قوم عاد کا کوئی فرد نہیں بچے گا۔ سب فنا ہو ں گے۔ نہ باپ بچے گا اور نہ ہی بیٹا۔ تو نے تمام لوگوں کے لئے ہلاکت مانگ لی ہے۔ ہاں بنو لوذیہ اس قہر وغضب سے بچ جائیں گے۔ بنو لوذیہ کے لوگ بھی عاد کی نسل سے تھے۔ اور مکہ مکرمہ میں مقیم تھے۔ یہ عذاب ان لوگوں پر عذاب نہیں ہوگا۔ امام محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عاد کی قوم سے جتنے لوگ اس عذاب کی ہلاکت خیزی سے محفوظ رہے انہی کو ” عاد ِ آخرہ یا عادِثانیہ “ کہا جاتا ہے۔ (قصص الانبیاءعلامہ عما دالدین ابن کثیر) ایک اور روایت میں ہے کہ قوم عاد کے وفد نے مکہ مکرمہ کے ایک بڑے آدمی کو دعا کرنے کے لئے بھیجا۔ جب مکہ مکرمہ کے ایک بڑے آدمی نے مکہ مکرمہ کے پہاڑ پر جا کر دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے تین باد ل ظاہر فرمائے۔ ایک کا رنگ سفید تھا۔ دوسرے کا رنگ سرخ تھا۔ اور تیسرے کا رنگ کالا تھا۔ پھر آسمان سے آواز آئی۔ ان میں سے کسی بھی بادل کا انتخاب کر لے۔ قوم عاد کے لئے ۔ اس نے کہا میں کالے بادل کا انتخاب کرتا ہوں کیوں کہ اس میں بارش زیادہ ہوتی ہے۔ تو آسمان سے آواز آئی۔ تو نے جلی ہوئی راکھ کا انتخاب کیا ۔ قوم عاد کا کوئی فرد زندہ نہیں بچے گا۔ سب فنا ہو ں گے۔ یہ بات سن کر اس شخص نے اس بات کو چھپا لیا۔ او قوم عاد کے وفد سے کہا۔ جاﺅ کالا گھنا بادل آئے گا اور بارش لائے گا۔ ابو کریب رحمتہ اللہ علیہ ایک اور روایت میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ کہ جب اُن میں سے ایک شخص مہرہ کے پہاڑوں پر چڑھ گیا اور دعا مانگنی شروع کی ۔ اے اللہ ، میں تیرے پاس کسی قیدی کی رہائی یا کسی مریض کی شفا کا سوال کرنے نہیں آیا ہوں۔ بلکہ اس لئے آیا ہوں کہ تو عاد پر بارش برسا اورانہیں سیراب کر دے۔ جس طرح تو انہیں پہلے سیراب کیا کرتا تھا۔ جب یہ شخص دعا مانگ کر اٹھا تو آسمان پر ایک ایک کر کے بادل آتے جاتے اور اس شخص کو انتخاب کا اختیار دیا جاتا تھا۔ جو بادل چاہے قوم عاد کے لئے پسند کر لے۔ تو جو بھی بادل آتا تھا وہ شخص اسے دوسری قوموں کی طرف بھیج دیتا تھا۔ یہاں تک کہ ایک سیاہ کالا گھنا بادل آیا تو اس شخص نے کہا قوم عاد کی طرف چلا جا اور وہاں برس ۔ تو آواز آئی کہ تو قوم عاد کو راکھ کا ڈھیر بنا دے اور عاد میں سے کسی کو نہ چھوڑ ۔ یہ کلام سن کر وہ شخص واپس پلٹا تو اپنی قوم کے وفد کو دیکھا کہ وہ معاویہ بن بکر کے یہا ں شراب نوشی کر رہے ہیں۔ (تاریخ اُمم والملوک المعروف تاریخ طبری علامہ محمد بن جریر طبری)

حضرت مرثد بن سعد نے وفد کو اسلام کی دعوت دی

قوم عاد کے وفد کو معاویہ بن بکر نے اشعار میں ان کے مقصد کی یاد دلائی تو وفد کے لوگوں نے ایک دوسرے سے کہا ۔ کہ ہمیں بارش کی دعا کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے اور ہم نے یہاں بہت سستی کر لی۔ پس حرم پاک میں داخل ہو جاﺅ اور اپنی قوم کے لئے بارش کی دعا کرو۔ اس وفد میں حضرت مرثد بن سعد نام کے ایک جوان بھی شامل تھے۔ انہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا مگر اپنے اسلام کو چھپائے ہوئے تھے۔ انہوں نے وفد سے کہا۔ اللہ کی قسم، تم کو اس وقت تک بارش سے سیراب نہیں کیا جائے گا جب تک کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں لاﺅ گے اور ان کی فرماں برداری نہیں کرو گے۔ یہاں ظاہر ہو گیا کہ حضرت مرثد بن سعد نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ یہ سنتے ہی جلہمہ بن خیری نے کہا۔ اے ابو سعد تو ایک مکرم قبیلے سے ہے۔ اور تیری والدہ ثمود سے ہے۔ جب تک ہم زندہ ہیں ہرگز تیری اطاعت اور فرماں برداری نہیں کریں گے۔ اور وہ کام نہیں کریں گے جو تو چاہتا ہے۔ کیا تو ہمیں حکم کرتا ہے کہ ہم آلِ رفد، زمل ، صد اورعبود دیں اور ہم چھوڑ دیں اپنے محترم باپ دادا کے دین کو۔ ( رفد ، زمل ، صد اور عبود تمام کے تمام قوم عاد کے قبائل ہیں) پھر وفد کے لوگوں نے معاویہ بن بکر اور اس کے والد بکر کو کہا کہ تم مرثد بن سعد کو یہیں روکے رکھو اور اسے مکہ مکرمہ آنے مت دینا کیوں کہ اس نے ہود ( علیہ السلام ) کی پیروی شروع کر دی ہے ۔ ( یعنی اسلام قبول کر لیا ہے اور حضرت ہود علیہ السلام کی طرح یہ بھی اسلام کی دعوت دینے لگا ہے) جب یہ لوگ مکہ مکرمہ جانے لگے تو مرثد بن سعد بھی معاویہ بن بکر کے گھر سے نکل پڑے اور انہیں حرم پاک میں دعا مانگنے سے پہلے ہی ان کے پاس پہنچ گئے۔ انہوں نے وفد کے لوگوں کو پھر سمجھایا لیکن وہ نہیں مانے تو حضرت مرثد بن سعد نے وہیں کھڑے ہو کر دعا مانگی۔ اے اللہ تعالیٰ ، تو میری حاجت کو پورا کر دے اورمجھے اس وفد کی طرف سے بری کر دے۔ ( تاریخ اُمم والملوک المعروف تاریخ طبری علامہ محمد بن جریرطبری)

بادل کا انتخاب اور تین افراد کی دعا

قوم عاد کے وفد کا قائد قبیل بن عنز تھا۔ اس نے بھی دعا مانگی ۔ اے اللہ تعالیٰ ، ہود علیہ السلام سچے ہیں پس تو ہمیںسیراب کر دے۔ اس دعا کے بعد اللہ تعالیٰ نے تین بادل سفید ، سرخ اور سیاہ (کالا) اُن کی طرف بھیجے۔ پھر بادلوں میں سے آواز آئی ۔ اے قبیل تو اپنے لئے اور قوم عاد کے لئے اس میں سے پسند کر لے تو اس نے کہا میں کالے بادل کا انتخاب کرتا ہوں۔ اس لئے کہ یہ زیادہ پانی والاہے۔ تو آواز آئی ۔ اے باد ل تو عاد کو راکھ کا ڈھیر بنا دے اور عاد میں سے کسی کو نہ چھوڑنا۔ نہ کسی باپ کو اورنہ ہی کسی بیٹے کو سوائے بنو لوذیہ کے۔ بنو لوزیہ سے مراد لقیم بن ہزل بن ہزیل بن ہزیلہ بنت بکر ہے۔ یہ لوگ عاد کے ساتھ نہیں رہتے تھے۔ بلکہ مکہ مکرمہ میں اپنے ماموں کے ساتھ رہتے تھے۔ یہ بھی عاد تھے لیکن ان کا تعلق ہلاک ہونے عاد سے نہیں تھا۔ اس لئے انہیں محفوظ رکھا گیا۔ اس کے بعد حضرت مرثد بن سعد ، لقمان بن عاد اور قیل بن عنزل کو اختیار دیا گیا کہ تم تینوں میں سے ہر شخص اپنے لئے جو چاہے پسند کر لے حضرت مرثد بن سعد نے کہا اے اللہ تعالیٰ ، آپ مجھے نیکی اور سچائی عطا فرمائیں۔ پس وہ انہیں عطا کر دی گئیں۔ لقمان بن عاد نے کہا۔ اے اللہ مجھے لمبی عمر عطا فرمائ۔ اس سے کہا گیا کہ ایک بکری کی عمر کو پسند کر لے یا جنگلی بھیڑیا کی عمر کو یا پھر سات گدھوں کی عمر کو اختیار کر لے ۔ لیکن یاد رکھنا اس کے بعد موت ہے۔ اور قیل بن عنز سے کہا گیا کہ تو بھی کسی چیز کو اپنے لئے منتخب کر لے تو اس نے کہا۔ مجھے وہی عطا کیا جائے جو میر ی قوم کو عطا کیا گیا ہے۔ کیوں کہ مجھے زندہ رہنے کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ (تاریخ طبری جلد نمبر1علامہ محمد بن جریر طبری) 

حضرت مرثد بن سعد کا ایمان اور قوم عاد کی مذمت

اللہ تعالیٰ نے جب حضرت مرثد بن سعد کو نیکی اور سچائی عطا فرمائی تو انھوں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور فرمایا۔ حضرت ہود علیہ السلام نے قوم عاد کو اسلام کی دعوت دی لیکن انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا تو ان پر قحط مسلط کر دیا گیا۔ تو انہوں نے حرم پاک ایک وفد بھیجا کہ وہ اپنی قوم کے لئے پانی کی دعا کرے۔ اور موسلا دھار بارش برسنے والا بادل اُن کے ساتھ تھا۔ لیکن رسول علیہ السلام کو جھٹلانے کی وجہ سے وہ بارش سے محروم کر دیئے گئے۔ انہوں نے اعلانیہ اپنے رب سے کفر کیا۔ اس لئے تباہی اور بربادی اُن کا مقدر کر دی گئی۔ سُن لو اے لوگو، اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کی عقلیں سلب کر لی تھیں۔ کیوں کہ ان کے قلوب ( دلوں میں ) خواہشات کے گھر تھے۔ اور وہ واضح خبر ( اسلام کی دعوت) سننے سے بھی عاجز تھے۔ اسی لئے کوئی بھی نصیحت انہیں خیر (بھلائی) پر نہیں لا سکی۔ میری جان، میرا مال اور میرے بیو ی بچے اور میرے والدین سب کے سب حضرت ہود علیہ السلام پر قربان ہوں۔ جب وہ ہماری طرف مبعوث کئے گئے۔ (یعنی جب انہوں نے اعلان نبوت کیا) تو اس وقت ہم ظلم کیا کرتے تھے۔ اور لوگ دین کی روشنی سے محروم تھے۔ ہمارا ایک ہی معبود صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ جب کہ کافروں کے کئی خدا جیسے صد اور ہباءوغیرہ ہیں۔ ہمارے خدا کو اسی نے دیکھا (یعنی پہچانا) جس نے سنگدلی ( کفر و شرک) کو جھٹلایا اور بدی ( لڑائی) سے توبہ کی۔ میں عنقریب آل ہود اور اپنے مسلمان بھائیوں سے ملوں گا۔ جب ( عذاب کی) شام گزر چکی ہوگی۔ ( تاریخ امم والملوک تاریخ طبری علامہ محمد بن جریر طبری)

کالا گھنا بادل اور قوم عاد کا خوشیاں منانا

قوم عاد کے وفد نے عذاب کی بات کو چھپا لیا۔ اور وہ وفد یہ خبر لے کر قوم عادکے پا س واپس آیا اور بتایا کہ کالا گھنا بادل آئے گا جس سے بارش ہوگی۔ جب اللہ تعالیٰ کا عذاب کالے گھنے بادل کی شکل میں قوم عاد جہاں رہتی تھی وہاں آسمان کے کنارے سے نمودار ہونا شروع ہوا۔ تو قوم عاد نے جب آسمان کے کنارے پر اسے دیکھا تو انہیںکالا گھنا بادل ہی دکھائی دیا۔ لیکن وہ کالا گھنا بادل نہیں تھا۔ بلکہ انتہائی تیز و تند خوفناک آندھی تھی۔ قوم عاد نے اسے دیکھا تو بادل سمجھ کر خوشیاں منانے لگے۔ اور ناچنے گانے لگے۔ کہ اب ہم پر بارش ہوگی۔ اور قحط دور ہو جائے گا۔ اپنے بتوں کی زور و شور سے پوجا کرنے لگے۔ اور فریاد کرنے لگے کہ وہ بادل ہماری طرف ہی آئے ورنہ وہ کہیں اور چلا گیا تو ہم بارش سے محروم رہ جائیں گے۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” پھر جب انہوں نے عذاب کو بادل کی صورت میں اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگے یہ بادل ہم پر برسنے والا ہے۔ ( نہیں ) بلکہ در اصل یہ بادل وہ (عذاب) ہے جس کی تم جلدی کر رہے تھے۔ ( یہ) ہوا ہے جس میں درد ناک عذاب ہے۔“ (سورہ الاحقاف آیت نمبر23)

بادل دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیفیت

اُم المومنین حضرة عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی اس طرح کھلکھلا کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ حلق کا کوّا بھی نظر آجائے۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف تبسم فرماتے تھے۔ ( یعنی صرف مسکراتے تھے۔ ) اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بادل دیکھتے تو چہرہ مبارک پریشانی کے آثار صاف نظر آتے تھے۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، لوگ جب بادل دیکھتے ہیں تو وہ اس امید پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں کہ بارش برسے گی۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بادل دیکھتے ہیں تو پریشانی اور گھبراہٹ کے آثار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر نظر آتے ہیں۔ تو رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اے عائشہ ( رضی اللہ عنہا) مجھے یہ خوف ہو جاتا ہے کہ کہیں اس میں عذاب ہی نہ ہو کیوں کہ ایک قوم کو ہوا کے ساتھ عذاب دیا گیا ہے۔ بے شک جب اس قوم ( عاد) نے ( بادل کی صورت میں ) عذاب دیکھا تو کہنے لگے یہ بادل ہم پر برسنے والا ہے۔ ( صحیح بخاری امام محمد بن اسماعیل بخاری ، صحیح مسلم امام مسلم بن حجاج ، سنن ابو داﺅد امام ابو داﺅد ، تفسیر در منشور امام جلال الدین سیوطی) اُم المومنین حضرة عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ جب تیز ہوا چلتی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح دعا مانگتے تھے۔ اے اللہ تعالیٰ، میں تجھ سے اس کی بھلائی ، جو خیر اس میں ہے ، اور جس خیر کے ساتھ تو نے اسے بھیجا ہے اس کا سوال کرتا ہوں۔ اور اس کے شر، جو شر اسمیں ہے اور جس شر کے ساتھ تو نے اسے بھیجا ہے اس سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔ پس جب آسمان پر بادل آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ ¿ مبارک پر پریشانی کے آثار آجاتے ۔ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے جاتے اور کبھی اندر تشریف لاتے۔ اور کبھی چہرہ مبارک ایک طرف پھیرتے کبھی دوسری طرف۔ اور جب بارش برس جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت ختم ہو جاتی۔ میں نے اس کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمای۔ اے عائشہ ( رضی اللہ عنہا ) شاید بات اسی طرح ہو جس طرح قوم عاد نے کہا تھا یہ بادل ہم پر برسنے والا ہے۔ ( صحیح مسلم امام مسلم بن حجاج ، جامع ترمذی امام محمد بن عیسیٰ ترمذی، سنن نسائی امام احمد بن شعب نسائی ، تفسیر در منشور امام جلال الدین سیوطی)ب

اقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں ر 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں