ہفتہ، 15 اپریل، 2023

حضرت صالح علیہ السلام 5 Story of Prophet Saleh



 5 حضرت صالح علیہ السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 06

قسط نمبر 5

پہاڑ میں سے اونٹنی کا پیدا ہونا

حضرت صالح علیہ السلام سے ان کی قوم کے لوگوں نے ان کی رسالت کے ثبوت معجزے کی یعنی اللہ کی طرف سے نشانی کے طور پر ایک عجیب و غریب اونٹنی کی مانگ کی اور وہ بھی پہاڑ میں سے پیدا کرنے کی فرمائش کی۔ آپ علیہ السلام نے پہلے انہیں سمجھایا کہ اس طرح فرمائش مت کرو۔ کیوں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے تمہاری فرمائش کو پورا کیا تو اللہ کی بھی کچھ شرائط ہوں گی۔ اور اگر تم ان شرائط کو پورا نہیں کر سکے تو تم پر اللہ کا عذاب آسکتا ہے۔ لیکن قوم ثمود اپنی ضد پر اڑی رہی اور معجزے کی فرمائش کرتی رہی۔ آخر کار آپ علیہ السلام نے تمام قوم کے لوگوں سے یہ پکا وعدہ اور عہد لیا کہ اگر تمہاری فرمائش اللہ تعالیٰ پوری کر دے گا تو تم سب اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آﺅ گے۔ ان سب نے اسلام قبول کرنے کا وعدہ کیا تو حضرت صالح علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی۔ اور فرمایا کہ اپنی پوری قوم سے کہو کہ فلاں دن فلاں پہاڑ کے سامنے جمع ہو جائےں ۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق آپ علیہ السلام نے اس دن پوری قوم کو جمع کیا۔ اور دو رکعت نماز پڑھ کر دعا مانگنے لگے۔ قوم ثمود کے تمام لوگ کبھی آپ علیہ السلام کو دیکھتے کبھی اس پہاڑ کی طرف دیکھتے ۔ کچھ دیر بعد اس پہاڑ میں اچانک زلزلہ آگیا اور وہ لرزنے لگا۔ تمام قوم ثمود پوری طرح پہاڑ کی طرف متوجہ تھی۔ اچانک تیز کھڑ کھڑا ہٹ کی آواز کے ساتھ پہاڑ پھٹ گیا اور اس کے پتھر ادھر ادھر گرے اور پہاڑ کے درمیان میں ایک بہت بڑا غار کا دہانہ دکھائی دینے لگا۔ اس دہانے میں سے وہ عجیب و غریب اونٹنی باہر آئی جس کی قوم ثمود نے مانگ کی تھی۔ اونٹنی بالکل ویسی ہی تھی جیسی انہوں نے فرمائش کی تھی۔ تمام قوم ثمود کے لوگ حیرت سے آنکھیں پھاڑے اونٹنی کو حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ وہ اونٹنی باہر آئی اور اس نے ویسا ہی بچہ دیا جیسا کہ قوم ثمود نے فرمائش کی تھی۔

کافر سرداروں نے جادو گر کہا 

حضرت صالح علیہ السلام اب قوم ثمود کی طرف متوجہ ہوئے اور بلند آواز سے فرمایا۔ اے میری قوم، تمہاری فرمائش کے مطابق یہ اللہ کی نشانی آگئی ہے۔ اب تم لوگ بھی اپنے وعدے کے مطابق اسلام قبول کرلو۔ پوری قوم کے لوگوں میں سناٹا چھا گیا۔ اور کوئی کچھ دیر تک کچھ نہیں بولا۔ آخر کار ایک سردار کھڑا ہوا اور اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اسلام قبول کر لیا۔ ( ان کے اسلام قبول کرنے کے واقعہ کو انشاءاللہ ہم آگے پیش کریں گے) لیکن اسی وقت پنڈتوں اور پجاریوں اور کافر متکبر سرداروں نے عوام کو زور زور سے پکار کر بھڑکانا شروع کر دیا اور کہنے لگے کی یہ نعوذ باللہ اللہ کے رسول نہیں ہیں بلکہ جادو گر ہیں اور یہ جادو دکھا رہے ہیں۔ اس لئے تم لوگ اسلام قبول مت کرنا اور اپنے بتوں کی پوجا کرتے رہنا۔ آخر کار قوم ثمود کی اکثریت نے اسلام قبول نہیں کیا۔ اور کفر و شرک میں ہی مبتلا رہے۔ لیکن اس واقعہ کے بعد آپ علیہ السلام کی عزت کرنے لگے یا پھر ڈرنے لگے۔ اس کے بعد بھی آپ علیہ السلام اپنی قوم کو سمجھاتے رہے اور محبت سے اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح ( علیہ السلام ) کو بھیجا ۔انہوں نے فرمایا۔ اے میری قوم ، تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہار معبود نہیں ہے۔ تمہارے پاس تمہارے رب ( اللہ تعالیٰ) کی طر ف سے ایک واضح دلیل ( صاف نشانی) آچکی ہے۔ یہ اللہ کی اونٹنی ہے جو تمہارے لئے دلیل ( نشانی یا معجزہ ) تو اس کوچھوڑ دو کہ اللہ تعالیٰ کی زمین میں کھاتی پھرے اور اس کو برائی کے ساتھ ہاتھ بھی مت لگانا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کودرد ناک عذاب آپکڑے۔ ( سورہ الاعراف آیت نمبر73)

اللہ کی نشانی

سورہ الاعراف کی اس آیت نمبر73کی تشریح میں تفسیر بصیرت القران میں لکھا ہے کہ قوم ثمود ہی کی قوم کے ایک فرد حضرت صالح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے اپنا رسول بنا کر بھیجا۔ آپ علیہ السلام نے جب اپنی قوم سے فرمایا کہ میں اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا رسول ہوں اور انہیں کفر اور شرک سے روکنا چاہا تو قوم کے لوگوں نے کہا۔ اے صالح ( علیہ السلام) ہم اس وقت تک آپ کو اللہ کا رسول نہیں مانیں گے جب تک اپنی آنکھوں سے کوئی معجزہ نہیں دیکھ لیں گے۔ ہمیں نشانی کے طور پر ایک بہت ہی اونچی اور بہت موٹی تازی اونٹنی سامنے والی پہاڑی سے پیدا کر کے دکھادو۔ اس کے جسم پر خاص نشانات ہوں ۔ پھر وہ اونٹنی فوراً ایک نر بچہ جنے وہ بھی خوب اونچا اور موٹا تگڑا ہو۔ اس کے جسم پر بھی خاس نشانات ہوں ۔ اگر آپ ( علیہ السلام ) ایسا معجزہ کر کے دکھا دیں تو ہم ایمان لے آئیں گے۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اللہ کے حکم سے سامنے والی پہاڑی سے ایسی اونٹنی بھی پیدا ہو گئی اور اس کا بچہ بھی پیدا ہو گیا۔ مگر چند خاص لوگوں کے سوا کوئی بھی ایمان نہیں لایا۔ ( تفسیر بصیرت القران جلد نمبر2مولانا محمد آصف قاسمی)

پنڈتوں اور پجاریوں نے عوام کو روک دیا

سورہ الاعراف کی آیت نمبر73کی تشریح میں تفسیر معارف القران میں لکھا ہے۔ کہ حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی جوانی میں اپنی قوم کو دعوت توحید دینی شروع کی اور برابر لگے رہے۔ یہاں تک کہ بڑھاپے کے آثار شروع ہو گئے۔ آپ علیہ السلام کی بار بار اسلام کی دعوت سے تنگ آکر ان کی قوم نے آپس میں یہ طے کیا کہ ان سے ایسا کوئی مطالبہ کرو جس کو یہ پورا نہ کر سکیں۔ اور ہم ان کی مخالفت میں سرخ رو ہو جائیں۔ مطالبہ یہ کیا کہ اگر آپ علیہ السلام واقعی اللہ کے رسول ہیں تو ہماری فلاں پہاڑی جس کانام کاتبہ ہے۔ اس کے اندر سے ایک ایسی اونٹنی نکال دیں جو دس مہینے کی گابھن ہواور قوی و تندرست ہو۔ آپ علیہ السلام نے پہلے تو ان سے عہد اور وعدہ کیا کہ اگر میں تمہارا یہ مطالبہ پورا کردوں تو تم سب اسلام قبول کر لوگے۔ جب سب نے معاہد کر لیا تو آپ علیہ السلام نے دو رکعت نماز پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ دعا کرتے ہی پہاڑی کے اندر حرکت پیدا ہوئی اور اس کی ایک بڑی چٹان پھٹ گئی اور اس میں سے اونٹنی نکل آئی۔ جیسا کہ مطالبہ کیا تھا۔ حضرت صالح علیہ السلام کا یہ کھلا ہوا حیرت انگیز معجزہ دیکھ کر ان میں سے کچھ لوگ تو مسلمان ہو گئے۔ اور باقی قوم نے بھی ارادہ کر لیا کہ اسلام قبول کر لیں اور اللہ پر اور آپ علیہ السلام پر ایمان لے آئیں۔مگر قوم کے چند سردارجو بتوںکے خاص پجاری اور بت پرستی کے امام یعنی پنڈت تھے انہوں نے ان کو بہکا کر اسلام قبول کر نے سے روک دیا۔ 

حضرت جندع بن عمرو کا قبول اسلام 

سورہ الاعراف کی آیت نمبر73کی تشریح میں تفسیر انوار البیان میں لکھا ہے۔ کہ قوم ثمود کے لوگ بھی بڑے ضدی تھے۔ کہنے لگے کہ ہم تو تب ( آپ علیہ السلام کو رسول) مانیں گے جب تم پہاڑ میں سے اونٹنی نکال کر دکھاﺅ گے اگر پہاڑ میں سے اونٹنی نکل آئی تو ہم مان لیں گے کہ تم اللہ کے نبی ہو۔ آپ علیہ السلام نے انہیں بہت سمجھایا کہ دیکھو اپنے منہ سے مانگا ہوا معجزہ فیصلہ کن ہوتا ہے۔ اگر اونٹنی تمہارے مطالبے پر پہاڑ سے نکل آئی اور پھر بھی ایمان نہیں لائے تو سمجھ لو کہ پھر جلدی ہی عذاب آجائے گا۔ وہ لوگ ضد پر اڑے رہے اور یہی مطالبہ کرتے رہے کہ اونٹنی پہاڑ سے نکال کر بتاﺅ۔ اگر اونٹنی نکل آئی تو ہم ایمان لے آئیں گے۔ حضرت صالح علیہ السلام نے دو رکعت نماز پڑھی اور اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی۔ اسی وقت ایک پہاڑی پھٹ گئی اور اس کے اندر سے اونٹنی نکل آئی۔ یہ ماجرا دیکھکر حضرت جندع بن عمرو ( جو ثمود کے سردار تھے) اور ان کے ساتھ تھوڑے سے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔ قوم کے دوسرے بڑے لوگوں اور عوام نے بھی اسلام قبول کرنے کا ارادہ کیا۔ لیکن اُن کے بتوں کے پجاریوں اور پنڈتوں نے انہیں بہکا کر اسلام قبول کرنے سے روک دیا۔ ( تفسیر انوارالبیان جلد نمبر 2مولانا محمد عاشق الٰہی مہاجر مدنی) اس آیت کی تشریح میں تفسیر نعیمی میں لکھا ہے کہ ایک بار آپ علیہ السلام کی قوم نے کہا ہم ہم لوگ اپنے ایک میلہ میں جا رہے ہیں۔ وہاں جا کر اپنے بتوں سے دعا کریں گے۔ آپ علیہ السلام اپنے رب سے دعا کریں اگر آپ کی دعا آپ کے رب نے قبول کر لی تو ہم اسلام قبول کر لیں گے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ بتاﺅ میں کیا دعا کروں تو قوم کے سردار جندع بن عمرو نے ایک پہاڑ کی طرف اشارہ کیا جس کا نام کاتبہ تھا کہ آپ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس چٹان سے ایک حاملہ اونٹنی خوب موٹی تازی نکالے جو نکلتے ہی بچہ دے۔ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم سے عہد و پیمان لیا کہ اگر میں نے یہ معجزہ تم کو دکھا دیا تو تم سب اسلام قبول کر لینا۔ سب نے عہد کیا۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کی ۔ دعا کرتے ہی چٹان میں سے آواز آئی جیسے جانور بچہ جنتے وقت آواز نکالتا ہے۔ پھر پتھر پھٹا اور ایک عظیم الجثہ موٹی تازی حاملہ اونٹنی اس میں سے نکلی ۔ا س نے نکلتے ہی بچہ جنا جو خود اس کے برابر تھا۔ ( تفسیر روح البیان ، تفسیر صاوی) آپ علیہ السلام نے اس کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ ہے وہ اللہ کی طرف سے پیدا شدہ اونٹنی جو تم نے مانگی تھی۔ یہ معجزہ دیکھ کر حضرت جندع بن عمرو اور ان کے خاندان کے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔ اور باقی قوم کافر رہی۔ ( تفسیر نعیمی پارہ نمبر8مفتی احمد یا ر خان نعیمی ) تفسیر جلالین میں ہے کہ آپ علیہ السلام نے نماز پڑھ کر دعا مانگی تو اس پتھر سے ان کی مانگ کے مطابق اونٹنی کی باقاعدہ ولادت ہوئی اور پھر اس اونٹنی سے اتنا ہی بڑا بچہ پیدا ہوا۔ سب لوگ یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ اور جندع بن عمرو اس سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیا اپنی جماعت کے ساتھ لیکن دوسرے لوگ ذواب بن عمرو اور حباب وغیرہ جو پجاری تھے اور رباب بن صمعر کاہن یعنی پنڈت وغیرہ تھے ایمان نہیں لائے۔ ( تفسیر کمالین شرح تفسیر جلالین)

اللہ کی اونٹنی معجزات کا مجموعہ

اسی آیت کی تشریح میں تفسیر نعیمی میں آگے لکھا ہے کہ اس اونٹنی کو چند وجوہات سے آیت فرمایا گیا ہے۔ ( ۱) یہ بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئی۔ (۲) پتھر میں سے نکلی۔ (۳) خوب موٹی تازی اور جوان پیدا ہوئی۔ (۴) حاملہ ہی پیدا ہوئی اور پیدا ہوتے ہی بچہ دیا۔ ( ۵) بچہ چھوٹا سا نہیں دیا بلکہ اپنے برابر کا دیا۔ (۶) ایک دن چھوڑ کر پانی پیتی تھی اور سارا کنواں پی جاتی تھی۔ (۷) جب اس کے پانی پینے کی باری ہوتی تھی تو اس دن کوئی جانور پانی پینے نہیں آتا تھا۔ (۸) وہ اتنا دودھ دیتی تھی کہ ساری قوم ثمود کو کافی ہوتا تھا۔ اور اس کی باری کے دن وہ لوگ اس دودھ سے گزارہ کرتے تھے۔ (۹) جن کھیتوں ، باغوںمیں چر لیتی تھی اس کے سبزہ اور پھل میں بہت برکت ہوتی تھی۔ ان وجوہات کی وجہ سے وہ ایک نشانی نہیں بلکہ نشانیوں کا مجموعہ تھی۔ یا یوں کہیں کہ وہ ایک معجزہ نہیں بلکہ معجزات کا مجموعہ تھی۔ ( تفسیر خازن ، تفسیر نعیمی پارہ نمبر8مفتی احمد یار خان نعیمی)

اونٹنی کے بارے میں ہدایات

قوم ثمود نے اللہ تعالیٰ سے عجیب و غریب معجزہ کی مانگ کی تھی اور یہ سوچا تھا کہ اس طرح حضرت صالح علیہ السلام سے جان چھوٹ جائے گی ۔ لیکن وہ عجیب و غریب مانگ یعنی کہ اونٹنی ان کے لئے مصیبت بن گئی۔ حالانکہ وہ اس سے فائدہ بھی اٹھاتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود اسے اپنے لئے مصیبت سمجھتے تھے۔ کیوں کہ حضرت صالح علیہ السلام نے صاف صاف فرما دیا تھا کہ اس اونٹنی کو کوئی نہ روکے اور ٹوکے۔ اس کا جہاں جی چاہے گا چرے گی اور ایک بات یہ کہ جس دن یہ اونٹنی پانی پیئے گی اس دن تم لوگ اپنے جانوروں کو پانی نہیں پلا سکتے۔ اور دوسرے دن یہ اونٹنی پانی نہیں پیئے گی تو اس دن تم اپنے جانوروں کو پانی پلانا۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” (حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا۔)یہ اللہ کی اونٹنی ہے جو تمہارے لئے ( اللہ کیطرف سے ) دلیل ہے۔ تو اس کو چھوڑ دو کہ اللہ تعالیٰ کی زمین میں کھاتی پھرے۔ اور اس کو برائی کے ساتھ ہاتھ بھی مت لگانا۔ ورنہ تم کو درد ناک عذاب آپکڑے گا۔ “ (سورہ الاعراف آیت نمبر73) اللہ تعالیٰ نے اس اونٹنی کے بارے میں سورہ ہود میں فرمایا۔ ترجمہ ” (حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا) اے میری قوم کے لوگو، یہ اللہ کی بھیجی ہوئی اونٹنی ہے۔ جو تمہارے لئے ایک معجزہ ہے۔ اب تم اسے اللہ کی زمین میں کھاتی ہوئی چھوڑ دو۔ اور اسے کسی طرح کی بھی تکلیف نہیں پہنچانا۔ ورنہ فوری عذاب تمہیں پکڑ لے گا۔ “ ( سورہ ہود آیت نمبر64) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں بھی اسی اونٹنی کے بارے میں بتایا۔ ترجمہ ” آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ یہ اونٹنی ہے۔ پانی پینے کی ایک باری اس کی ہے۔ اور ایک مقررہ دن کی باری تمہاری ہے۔ ( خبردار) اسے برائی سے ہاتھ نہیں لگانا۔ ورنہ ایک بڑے بھاری دن کا عذاب تمہیں اپنی گرفت میں کر لے گا۔ “(سورہ الشعراءآیت نمبر155اور156)

اونٹنی سے قوم ثمود کا فائدہ

حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم والوں کی مانگ پر اللہ تعالیٰ سے اونٹنی کی دعا کی۔ جو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی۔ اور پہاڑ سے ویسی ہی عجیب الخلقت اونٹنی پیدا فرمائی جیسی قوم ثمود نے مانگ کی تھی۔ تفسیر در منشور میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ایک اونٹنی پیدا فرمائی۔ پانی پینے کے لئے ایک دن اس کے لئے مقرر تھا اور ایک دن قوم ثمود کے لئے مقرر تھا۔ پس جب اس کے پانی پینے کا دن ہوتا تو وہ اسے کھلی فضا میں علحیدہ لے جاتے تھے اور اس کا دودھ دو ہ لیتے تھے۔ اور اپنے چھوٹے بڑے سب برتن اور مشکیزے وغیرہ بھر لیتے تھے۔ اور جب ان کے پانی پینے کا دن ہوتا تھا تو اسے پانی سے دور بھگا دیتے تھے۔ اور وہ کوئی پانی نہیں پی سکتی تھی۔ جب کہ وہ خود اپنے چھوٹے بڑے سب برتن اور مشکیزے وغیرہ پانی سے بھر لیتے تھے۔ تفسیر انو ارالبیان میں لکھا ہے۔ چونکہ یہ اونٹنی دوسری اونٹنیوں سے مختلف تھی ۔ا سلئے اس کا کھانا ور پینا بھی دوسری اونٹنیوں سے مختلف تھا۔ یہ اونٹنی جنگلوں میں چلتی پھرتی تھی اور ایک د ن چھوڑ کر پانی پیتی تھی۔ جب پانی پینے لگتی تھی تو کنویں میں سر لٹکا کر سارا پانی پی جاتی تھی۔ تفسیر معارف القران میں لکھا ہے کہ اس اونٹنی کو اللہ کی اونٹنی اس لئے کہا گیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی دلیل کے طور پر اور حضرت صالح علیہ السلام کے معجزہ کے طور پر پیدا ہوئی ہے۔ اس لئے آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ تمام زمین اللہ تعالیٰ کی ہے اس لئے تمہارے کھیت اور چراگاہیں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہیں عطا فرمائی گئی ہیں۔ اس لئے یہ اللہ کی اونٹنی کہیں بھی پھرے تم اسے روکنا نہیں اور نہ ہی اسے مارنا پیٹنا۔ قوم ثمود کے لوگ جس کنویں سے پانی پیتے اور اپنے جانوروںکو پلاتے تھے اسی سے یہ اونٹنی بھی پانی پیتی تھی۔ مگر یہ عجیب الخلقت اونٹنی جب پانی پیتی تھی تو پورے کنویں کا پانی پی لیتی تھی۔ آپ علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے یہ فیصلہ سنا دیا تھا کہ ایک دن تم اور تمہارے جانور پانی پیئں گے اور ایک دن یہ اونٹنی پانی پیئے گی۔ جس دن اونٹنی پانی پیتی تھی تو اس دن قوم ثمود کو اس اونٹنی کااتنا دودھ مل جاتا تھا کہ و ہ پوری قوم کے لئے کافی ہوتا تھا۔ اور وہ سارے برتن اس سے بھر لیتے تھے۔ تفسیر نعیمی میں لکھا ہے کہ آپ علیہ السلام نے اسی قسم کی اونٹنی پتھر سے نکال کر بتا دی جیسی قوم ثمود نے مانگی تھی۔ اور فرمایا کہ دیکھو یہ اونٹنی تمہارے لئے میری نبوت اور اللہ کی قدرت کی ایک دو نہیں بلکہ بہت سی نشانیا ں ہیں اب تم پر یہ پابندی ہے کہ یہ جہاں کہیں جانا چاہے اسے جانے دو۔ اورجہاں کہیں بھی کھانا چاہے اسے کھانے دو۔ کسی کے کھیت یا باغ میں چرنے کے لئے گھس جائے تو اسے مت نکالو۔ وہ خود ہی کھا کر نکلے گی۔ تم اسے ہانکنا نہیں اور نکالنا نہیں ۔ اور ساتھ ہی اس بات کا بھی خیال رکھو کہ اس کی کسی قسم کی بے ادبی نہیں کرنا۔ اور اسے کسی قسم کی تکلیف نہیں پہنچانا۔ نہ ہی اسے ڈانٹنا اور نہ ہی اسے مارنا۔ اور نہ ہی اسے زخمی کرنا اورنہ ہی اسے ذبح کرنا۔ ورنہ خیال رکھو تم پر درد ناک عذاب آجائے گا۔ ( تفسیر در منشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی، تفسیر انوار البیان جلد نمبر2مولانا محمد عاشق الٰہی مہاجر مدنی ، تفسیر معارف القران جلد نمبر3مولانا مفتی محمد شفیع ، تفسیر نعیمی پارہ نمبر8مفتی احمد یا ر خان )

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں