حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام
سلسلہ نمبر 5
قسط نمبر 6
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
مچھروں کا عذاب
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بار بار سمجھانے پر بھی نمرود ،پنڈتوں پجاریوں اور عوام نے اسلام قبول نہیں کیا۔تب اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو فرمایا کہ اب انہیں اِن کے حال پر چھوڑدو اور ہجرت کر جاو¿۔آپ علیہ السلام کی ہجرت کے بارے میں ہم انشاءاﷲ آگے بتائیں گے۔پہلے ہم نمرود اور اُس کی قوم کے بارے میں بتاتے ہیں۔علامہ ابن کثیر،مفتی احمد یار خان نعیمی اور علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔اﷲ تعالیٰ نے اِس سرکش بادشاہ کی طرف ایک فرشتہ بھیجا،تاکہ وہ اسے ایمان با اﷲ کا حکم دے،لیکن نمرود نے انکار کر دیا۔دوسرے دن بھی بھیجا،لیکن نمرود نے انکار کیا،تیسرے دن بھی نمرود نے انکار کیا تو فرشتے نے کہا۔اب اﷲ تعالیٰ لشکر بھیجے گا،اور اُس لشکر سے مقابلہ کرنے کے لئے اپنے لشکر کو جمع کر لو۔نمرود نے اپنے لشکر کو جمع کر لیا،اور پوری تیاری کے ساتھ اﷲ کے لشکر کا انتظار کرنے لگا۔سورج طلوع ہوا تو اﷲ تعالیٰ نے مچھروں کا لشکر بھیج دیا۔اتنے مچھر آئے کہ پورا آسمان مچھروں سے ڈھک گیا،اور سورج بھی اُن کے پیچھے چھپ گیا۔مچھروں نے نمرود کے پورے لشکر پر حملہ کر دیا ،اور اُن کا خون پینے لگے۔وہ مچھروں کو مارنے لگے ،لیکن مچھر اتنے زیادہ تھے کہ وہ لگاتا اُن کا خون پیتے جا رہے تھے۔اور ساتھ ہی اُن کا گوشت بھی کھاتے جارہے تھے۔مچھروں نے نمرود پر بھی حملہ کیا،لیکن یہ حملہ اتنا شدید نہیں تھا۔نمرود مچھروں کو مارتے جا رہا تھا،اور اپنے لشکر کو حیرت سے دیکھے جارہا تھا۔جن کو مچھر ہڈیوں کے ڈھانچے میں تبدیل کرتے جارہے تھے،یہاں تک کہ نمرود کی پوری فوج ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گئی ،اور ختم ہوگئی۔پھر ایک مچھر نمرود کی ناک میں گھس گیا،اور اُس کے بھیجے یعنی دماغ میں کاٹنے لگا،اور نمرود اذیت سے تڑپنے لگا۔جب ذرا درد کم ہوا تو اُس نے دیکھا کہ اُس کی پوری فوج میدان میں ہڈیوں کے ڈھانچے کی شکل میں پڑی ہوئی ہے۔وہ مچھر جو نمرود کے سر میں گھسا تھا،جب وہ کاٹتا تو نمرود سے اس کی اذیت برداشت نہیں ہوتی تھی۔اور وہ دیواروں سے سر ٹکراتا تھا تو مچھر کاٹنا بند کر دیتا تھا۔اب نمرود اپنے دربار میں لوگوں سے کہتا کہ میرے سر پر جوتا مارو،کیونکہ جوتا مارنے کے بعد کافی دیر تک مچھر نہیں کاٹتا تھا۔اِس طرح اس بد بخت کو اﷲ تعالیٰ چار سو سال تک ذلیل کرتا رہا،اور پھر آخر کار اسے ہلاک کر دیا۔
فرعون کو اسلام کی دعوت
حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی قوم کو اُن کے حال پر چھوڑ کر ہجرت کر گئے،اور اسلام کی دعوت دینے کے لئے ملک مصر کی طرف روانہ ہوئے۔راستے میں چلتے چلتے مقام”حران“کی بستی میں پہنچے،اور وہاں کچھ عرصہ قیام کر کے انہیں اسلام کی دعوت دیتے رہے۔اِس کے بعد آگے بڑھ گئے،اور ہجرت کر کے ملک مصر پہنچے،اور وہاں لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے لگے۔آپ علیہ السلام کے کردار اور اسلام کی دعوت سے لوگ متاثر ہونے لگے۔دھیرے دھیرے آپ علیہ السلام کے بارے میں ملک مصر کے بادشاہ فرعون کو خبر ہوئی۔آگے بڑھنے سے پہلے ہم یہ سمجھ لیں کہ جس طرح رومیوں کت بادشاہ کو قیصر یا ہرقل کہا جاتا تھا،فارسیوں کے بادشاہ کو کسریٰ کہا جاتا تھا،حبشہ کے بادشاہ کو نجاشی کہا جاتا تھا،یمن کے بادشاہ کوتُبع کہا جاتا تھا،اُسی طرح ملک مصر کے بادشاہ کو فرعون کہا جاتا تھا۔اِس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے کے فرعون کا نام الگ تھا۔اور حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے کے فرعون کا نام الگ تھا۔اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کے فرعون کا نام الگ تھا۔اِس طرح یہ تین الگ الگ زمانوں میں الگ الگ فرعون تھے۔جب فرعون کو آپ علیہ السلام کے بارے میں معلوم ہوا تو اُس نے دربار میں طلب کیا۔آپ علیہ السلام نے اُسے اسلام کی دعوت دی ،اور وہ آپ علیہ السلام کی دعوت سے بہت متاثر ہوا۔اور اپنی بیٹی سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا سے آپ علیہ السلام کا نکاح کر دیا۔بائیبل میں یہودیوں اور عیسائیوں نے ملاوٹ کر دی ہے،اور لکھا ہے کہ نعوذ باﷲ سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا کو سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا کی کنیز بنا دیا تھا۔تاکہ بنی اسرائیل کے مقابلے میں بنی اسماعیل کمتر ثابت ہوں۔با ئیبل کی اِن باتوں کی کوئی حقیقت نہیں ہے،اور اصل بات یہ ہے کہ سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا شہزادی تھیں۔اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا ،تب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اُن سے نکاح کیا۔
ملک کنعان کی طرف ہجرت
حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی دونوں بیویوں اور بھتیجے کے ساتھ ملک مصر سے روانہ ہوکر اُس وقت کے ملک کنعان (حالیہ فلسطین) کی طرف روانہ ہوئے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں فلسطین،لبنان ،اُردن،اور ملک شام کا کچھ حصہ ”ملک کنعان“کہلاتا تھا۔بعد میں ملک کنعان کو ملک شام میں ضم کر دیا گیا،اور ملک کنعان کا نام و نشان مٹ گیا۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میںملک شام میں فلسطین،لبنان اور اُردن صوبے کے طور پر شامل تھے۔بعد میں شام کے ٹکڑے کر دیئے ،اور فلسطین،لبنان اور اُردن کا الگ الگ ملکوں کی شکل دے دی۔ اِس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اُن کی اولاد کے ذکر میں جب بھی ملک کنعان کا ذکر آئے گا تو اِس کا معنی فلسطین اور اُس کے آس پاس کا علاقہ ہو گا۔آپ علیہ السلام اپنی دونوں بیویوں اور بھتیجے کے ساتھ ملک کنعان کی طرف جارہے تھے کہ اﷲ تعالیٰ کے حکم کے مطابق آپ علیہ السلام نے اپنے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام کو ملک کنعان کے ایک علاقے (حالیہ اُردن) کی طرف اسلام کی دعوت دینے کے لئے بھیجا۔اور خود ملک کنعان کے دوسرے علاقے (حالیہ فلسطین) میں پہنچے،اور وہاں کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی۔انہوں نے اسلام قبول کر لیا،اور آپ علیہ السلام اپنی دونوں بیویوں کے ساتھ وہیں قیام پذیر ہو گئے۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ملک کنعان کے ایک دیہاتی علاقے میں رہائش اختیار کی،اور وہاں ایک کنواں کھودا،اور مسجد کی تعمیر فرمائی۔کنویں کا پانی بہت زیادہ میٹھا اور شیریں تھا،آپ علیہ السلام کی بکریاں ، گائے ، گھوڑے اور اونٹ وغیرہ اِسی کنویں سے سیراب ہوتے تھے۔آپ علیہ السلام چند سال وہاں رکے،پھر وہاں کے لوگوں نے آپ علیہ السلام کو اذیت دی تو آپ علیہ السلام نے وہاں سے بھی ہجرت کی۔اور ”رملہ“اور ”ایلیاہ “کی درمیانی بستی ”قط“میں آکر رہائش پذیر ہو گئے۔جب آپ علیہ السلام وہاں سے قط آگئے تو وہاں کا کنواں خشک ہو گیا۔یہ حال دیکھ کر بستی والوں کو بہت ندامت ہوئی،اور وہ لوگ آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے،اور عرض کیا؛”آپ علیہ السلام واپس چلیں۔“لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا؛’[میں جس شہر سے نکالا جاو¿ں تو وہاں واپس نہیں جاتا ہوں۔‘]انہوں نے عرض کیا؛”آپ علیہ السلام کا وہ کنواں خشک ہو گیا ہے۔،۔“آپ علیہ السلام نے انہیں ایک بکری کا بچہ دیا،اور فرمایا؛”اِسے لے جاو¿،اور کنویں پر چھوڑ دینا تو پانی جاری ہو جائے گا۔“انہوں نے ایسا ہی کیااور اُس کنویں کا پانی پھر سے جاری ہوگیا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ملک کنعان میں رہتے ہوئے لگ بھگ بیس سا ل گزر چکے تھے،اور آپ علیہ السلام کو کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی۔آپ علیہ السلام نے اﷲ تعالیٰ سے دعا کی کہ مجھے ایسی نیک اور صالح اولاد عطا فرما جو اسلام کی دعوت کے کام کوجاری رکھ سکے۔اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا کو قبول فرمایا،اور آپ علیہ السلا م کی دوسری بیوی سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا حاملہ ہو گئیں۔جب آپ رضی اﷲ عنہا نے حمل کی گرانی محسوس کی تو بہت زیادہ ڈر گئیں۔اﷲ تعالیٰ نے ایک فرشتہ اُن کے پاس بھیجا ۔اُس نے کہا؛”ڈریں نہیں،اﷲ تعالیٰ اِس بچے کو خیر کا ذریعہ بنائے گا۔“اور بشارت دی کہ بیٹاپیدا ہو گا،اور اُس کا نام ”اسماعیل“رکھنا۔اور وہ تمام لوگوں سے زیادہ قوی ہو گا۔اس کا ہاتھ سب (کافروں) کے خلاف ہو گا،اور سب(کافروں) کا ہاتھ اُس کے خلاف ہو گا۔اور وہ اپنے بھائیوں کے تمام شہروں کا مالک بنے گا۔اِس پر اﷲ تعالیٰ کا سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے شکر ادا کیا۔
سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کی بشارت
اﷲ تعالیٰ نے فرشتے کے ذریعے سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ ساتھ سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کی بھی بشارت دی ہے۔فرشتے نے کہا تھا کہ وہ تمام لوگوں سے زیادہ قوی ہو گا،یعنی حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں وہ شخص پیدا ہوگا،اور یہ ساری دنیا جانتی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم تمام انسانوں میں سب سے زیادہ ”قوی اور طاقتور“ہیں۔رکانہ پہلوان جسے چالیس لوگ ملکر ہلا نہیں سکتے تھے ،اُسے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے تین مرتبہ اٹھا کر پٹک دیا تھا۔ فرشتے نے کہا تھا کہ اُس کا ہاتھ سب(کافروں) کے خلاف ہو گا۔تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے پوری دنیا کے کافروں کے خلاف ”اعلانِ جنگ“کیا تھا،اور آج بھی پوری دنیا کے کافر اور یہودی اور عیسائی اپنا سب سے بڑا دشمن سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کی اُمت کو تسلیم کرتے ہیں۔اور فرشتے نے جو کہا تھا کہ وہ اپنے بھائیوں کے تمام شہروں کا مالک بنے گا،تو یہ ہر کوئی جانتا ہے کہ بنی اسماعیل کے بھائی بنی اسرائیل (یہودی)ہیں۔اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اور اُن کی اُمت نے اپنے بھائیوں یعنی یہودیوں اور عیسائیوں کے ملکوں پر قبضہ کر لیا تھا۔یہ الگ بات ہے کہ ہماری نالائقی کی وجہ سے بہت سے علاقے یہودیوں اور عیسائیوں اور ہندوو¿ں کے قبضے میں چلے گئے ہیں۔علامہ ابن کثیر فرشتے کی بشارت کو لکھنے کے بعد لکھتے ہیں کہ یہ بشارت آپ علیہ السلام کے بیٹے سیدنا محمد صلی اﷲ علیہ وسلم پر منطبق ہوئی ہے۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی وجہ سے آج عربوں(یاد رہے یہ لگ بھگ سات سو سال پہلے لکھا گیا ہے)کو عزت نصیب ہے،اور وہ مشرق و مغرب کے تمام ملکوں کے حکمراں ہیں۔اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم ہی کے طفیل اِس اُمت کو ”علم نافع“اور ”عمل صالح“سے نوازا ہے کہ ایسا ”علم“اور ”عمل“کسی اور اُمت کو نصیب نہیں ہو سکا ۔اور توحید کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو تمام رسولوں پر فضیلت حاصل ہے،اور کمال وشرف وکرامت حاصل ہے۔اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی رسالت کی برکت اور پیغام کا کمال یہ ہے کہ روئے زمین کے تمام انسانوں کے لئے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے نبی ہونے کی وجہ سے آج عربوں کو وہ اقتدار حاصل ہےک کہ اِس سے قبل کسی کو یہ توقیر اور سعادت نصیب نہیں ہوئی ہے۔
مکۂ مکرمہ کو آباد کرنے کا ارادہ
اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کو قبول فرمایا۔علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ؛”میں نے اسماعیل علیہ السلام کے بارے میں آپ علیہ السلام کی دعا قبول کر لی،اور میں نے اُس کو برکت دی،اور میں اس کو ایک بڑی قوم بناؤں گا۔اور اُس کی اولاد کو بہت زیادہ بڑھاؤں گا۔حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے بارہ بادشاہ ہوں گے،اور میں اسے ایک عظیم قوم کا سردار بناؤں گا۔“یہ بشارت بھی اِسی اُمت ِعظیمہ کے مطابق ہے۔اہل کتاب کہتے ہیں کہ جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش ہوئی تو اُس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عُمر ستاسی(87)سال تھی ،یعنی حضرت اسحاق علیہ السلام کی پیدائش سے تیرہ (13)سال پہلے حضرت اسماعیل علیہ السلام پید ہوئے۔یا یوں کہیں کہ حضرت اسحاق علیہ السلام کی پیدائش کے وقت حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عُمر تیرہ (13) سال تھی۔جب حضرت اسماعیل علیہ السلام پید ہوئے تو اﷲ تعالیٰ نے مکۂ مکرمہ کو آباد کرنے کا ارادہ فرمایا۔آپ کو یاد ہو گا ہم نے حضرت آدم علیہ السلام کے حالات میں لکھا تھا کہ اُن کے زمانے میں خانۂ کعبہ تعمیر ہو چکا تھا، اور ہم نے یہ بھی بتایا تھا کہ حضرت آدم علیہ السلام ہندوستان میں رہتے تھے۔اور آپ علیہ السلام نے ہندوستان سے پید ل چالیس حج کئے تھے ۔جب طوفان نوح آیا تو وہ خانۂ کعبہ اوپر اُٹھا لیا گیاتھا،اور ساتویں آسمان کے اوپر رکھ دیا گیا تھا۔اور وہی ”بیت المعمور“ہے ،اور فرشتے اِسی کا طواف کرتے ہیں۔طوفان نوح کے بعد مکہ¿ مکرمہ سے کچھ دور (یعنی لگ بھگ سو ڈیڑھ کلو میڑ دور)آس پاس قبائل آباد ہوگئے تھے۔لیکن جہاں آج خانہ¿ کعبہ ہے ،وہ جگہ مسلسل سنسان اور ویران رہے،وجہ یہ تھی کہ وہاں اور اس کے آس پاس دور دور تک پانی نہیں تھا۔لیکن تمام اقوام کو یہ بات معلوم تھی کہ یہ امن کی جگہ ہے ،اور یہاں انسان کی دعائیں قبول ہوتی ہیں ۔اِسی لئے ”قوم عاد“کا وفد یہاں دعا کرنے آیا تھا،اور قوم ثمود ابو رغال بھی بھاگ کر یہاں آیا تھا۔لیکن اِن واقعات کو سینکڑوں برس گزر چکے تھے،اور مکہ¿ مکرمہ بالکل غیر آباد علاقہ تھا۔چاروں طرف پہاڑیاں تھیں ،اور اِن کے درمیان ریت(بالو) کی بنجر وادیاں تھیں۔نہ تو کہیں سایہ کے لئے کوئی درخت تھا،اور نہ ہی کہیں کوئی سایہ دار جگہ تھی۔ بس ہر طرف گہرائی یا اونچائی پر یعنی نشیب و فراز میں ریت ہی ریت یعنی ہماری زبان میں بالو ہی بالو تھی۔جب اﷲ تعالیٰ مکۂ مکرمہ آباد کرنے کا ارادہ فرمایا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو فرمایا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام اور سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا کو لے جاکر اُس سنسان اور ویران وادی میں صفا اور مروہ پہاڑیوں کے درمیان چھوڑ آؤ۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں